عروج اورنگزیب سے دلچسپ گفتگو۔۔۔۔توقیر کھرل/انٹرویو

SHOPPING

فیض ادبی میلے کے موقع پر لاہور کے یونیورسٹی طلبہ کی اپنے حقوق کے لیے نعرے بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہو ئی ہے اس ویڈیو میں طلبہ جوش و جذبہ سے ڈھول کی تھاپ پر سرفروشی کی تمنا گاتے نظر آرہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ فیض فیسٹول کے باہر طلبہ اور کارکنوں نے لوگوں کو 29 نومبر کے طلبہ مارچ میں شامل ہونے کی بھی دعوت دی۔ان طلبہ کا کیا مطالبہ ہے اور یہ نعرے کیوں لگا رہے ہیں
ویڈیو میں شامل طالبہ عروج اورنگزیب پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو، فیمینسٹ کلیکٹو اور حقوقِ خلق تحریک کا حصہ ہیں ان کا مختصر انٹرویو پیش خدمت ہے

س: گزشتہ دنوں وائرل ویڈیو میں طلبہ کی جانب سے آزادی کا نعرہ لگایا گیا آخر آپ کس قسم کی آزادی کے خواہاں ہیں؟
ع:زندگی جینے کی آزادی ،تعلیم حاصل کرنے کی آزادی،ڈنڈے نہ کھانے کی آزادی،جیون کو اپنے مطابق تخلیق کرنے کی آزادی،پیار کی آزادی اظہار کی آزادی۔۔۔
س: کشمیر اور فلسطین کے طلباء آزادی کی جدوجہد میں صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن لاہور کے طلباء کس کی آزادی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں؟
ع: بنیادی طور پہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ ہم کشمیر یا فلسطین کی بات نہیں کررہے، جیسے ہم یہاں کے طلباء کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو پہلے ہم اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں ۔گزشتہ سال ہم نے طلبہ کے حقوق کے لئے مارچ کیا اور اس سال بھی ہم یہ مارچ29نومبر کو لاہو ر میں کرنے جارہے ہیں جو ملک کے دیگر شہروں اسلام ،کوئٹہ حیدر آباد ،لاڑکانہ ،کراچی جامشورو مظفر آباد،کشمیر،گلگت بلستان اور بلوچستان میں ہوگا۔ہم جب آزادی کی بات کرتے ہیں تو یہ  ہم کوئی مخصوص یا ذاتی آزادی نہیں چاہتے ،آزادی یعنی زندگی سکون سے جینے کی آزادی کہ ہم ہر وقت قیدیا لاش کی صورت یا مُردوں کی طرح زندگی نہ گزاریں ، یہ بات قطعی طور پر قبول نہیں کریں گے کہ آزادی ذاتی چاہیے  بلکہ ہمیں مجموعی طور پر پورے سماج کے لیے آزادی چاہیے اور یہ طلباء مارچ اس نعرہ کا عملی ثبوت ہوگا ۔
س:کبھی عورت مارچ، کبھی آزادی کے دلفریب نعرے ،نعروں میں اس قدر بغاوت کس سے ہے؟
ع: مشہور نظم ہے کہ
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
تو ہم سب باغی ہیں طبقوں اور تاجوں سے،جس میں کسی غریب کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں ہے جس میں صحت کے لئے علاج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ہم جھوٹی شہرت سے باغی ہیں ہم صرف اور صرف سچ اور حق کی بات کرتے ہیں۔
س: سرخ ایشاء ہوگا کا نعرہ کیا اپنی وقعت کھو نہیں چکا ؟
عروج:سرخ کا مطلب یہ ہے کہ مفت تعلیم ،روزگاراور مستعفین کو اُن کا بنیادی حق ملتا رہے یہ کوئی غیر متعلقہ ایشونہیں ہے جب تک یہ دنیا ہے ، نعرہ موجود رہے گا۔سرخ اسی ہدف و مقصد کا نعرہ ہے جس کے لیے ہم جدوجہد کر رہے ہیں ۔ہمیں طبقاتی طور پر تقسیم کردیا گیا ہے امیر وغریب میں تقسیم کیا گیا جبکہ ہم سب کا خون تو ایک ہی ہے اور وہ سرخ ہے ۔سرخ   رنگ بغاوت کا استعارہ ہے، ایسی بغاوت جس میں بنیادی حقوق مانگنے کی بات ہے ۔ہمیں سماج میں رشتوں کی پیچیدگیوں میں الجھادیا گیا ہے۔میں اور میرے ساتھی صرف عام سے انسان ہیں جو اپنی زندگیوں سے تنگ ہیں، خود کشیاں نہیں کرنا چاہتے بس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ہم غیر طبقاتی معاشرے اور غیر طبقاتی تعلیمی نظام کا قیام چاہتے ہیں۔ سب کے لیے تعلیم ایک جیسی ہوگی تو ہی ہم ایک جیسے بن سکتے ہیں۔ہم تو چاہتے ہیں اِسی دیس کے ہیروز کا تعارف ہو ہم کوئی یہاں امریکہ نہیں بنانا چاہتے ہیں ہمیں اپنے حقیقی ہیروز کا علم ہونا چاہیے۔آئیے شاہ عنایت اور جھوک کی بات کریں ،دیس کی بات عام کریں۔

س: 29نومبر کے طلبہ مارچ میں کیا مذہبی سیاسی طلبہ تنظیموں کو بھی اس مارچ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے؟
عروج:29نومبر کو طلبا مارچ میں تمام طلبہ تنظیموں سمیت تمام طبقات کو دعوت دی گئی ہے کیونکہ یہ مطالبات سبھی کے ہیں سڑک سب کی ہوتی ہے اور ہم احتجاج بھی سڑک پر کر رہے ہیں ۔جب سے طلباء یونین پرپابندی عائد ہوئی ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف جمعیت ہی طلباء برادری کا چہرہ ہے جب کہ وہ ڈنڈے کے زور پر اپنی دہشت کی بنیاد پراپنے نظریات کا استعمال کریں ۔اسلام امن کا گہوارہ ہے اور اسلام کا نام استعمال کرکے کوئی استعمال کرے تو وہ شعر ہے نا کہ ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔

SHOPPING

ہم ایسی پر تشدد طلبہ تنظیموں کو طلباء کا نمائندہ نہیں سمجھتے جو کبھی کسی نہ کسی طور پر سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ہم اسی کو طلبا کا ترجمان کہتے اور سمجھتے ہیں جو طلباء حقوق کی بات کریں اور کسی سیاسی پارٹی کے مفادات کے لئے استعمال نہ ہو ۔بلوچستان یونیورسٹی ،سندھ یونیورسٹی اور ہمارے پنجاب یونیورسٹی میں جو شدت پسند سرگرمیاں کی جاتی ہیں جو طلبہ و طالبات کو خوف زدہ رکھنے کے لئے کی جاتی ہیں یہ سب قابل قبول نہیں ہیں ۔ اس مظاہرے کے لیے سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت چاروں صوبوں سے نوجوان اپنے جمہوری حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں۔اس تحریک کے بنیادی مطالبات میں پاکستان میں طلبہ یونینوں پر پابندی کا خاتمہ اور قومی سطح پر ان کے انتخابات ہیں۔ یہ تحریک تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اور مفت تعلیم کے حق میں ہے۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *