• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہواؤں کا رُخ بدل رہا ہے اور حکومت کی کَشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ۔غیور شاہ ترمذی

ہواؤں کا رُخ بدل رہا ہے اور حکومت کی کَشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ۔غیور شاہ ترمذی

بالآخر صرف 15/16 مہینوں کے بعد ہی وہ وقت آ گیا ہے جب تحریک انصاف حکومت کی کشتی اپنے لاابالی پن، ناقص ترین کارکردگی، سیاسی مخالفین کے خلاف نفرت انگیز رویوں اور جھوٹ کی بنیاد پر ووٹروں اور عوام کو گمراہ کرنے کی وجہ سے اُس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں طوفان کے تھپیڑوں سے وہ شدید ترین ہچکولے کھا رہی ہے۔ مخالفین تو یقیناً تحریک انصاف کی معیشت کو تباہ کرنے والی پالیسیوں پر شدید تنقید کر رہے تھے، مگر اب بلوچستان نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور مسلم لیگ قاف نے بھی میڈیا کے سامنے تحریک انصاف اور عمران خان پر تنقید شروع کر دی ہے۔ پچھلے دنوں مسلم لیگ قاف کے راہنماء چوہدری پرویز الٰہی نے سلیم صافی کو جو انٹرویو دیا اس میں انہوں نے واضح کہہ دیا کہ مولانا فضل الرحمنٰٰ دھرنے سے خالی ہاتھ نہیں گئے اور جو انہیں چاہئیے تھا اُس کے بارے انہیں یقین دہانی کروا دی گئی ہے۔ اس سے پہلے عمران خان حکومت کی واضح مخالفت کے باوجود بھی چوہدری برادران نے میاں نواز شریف کو علاج کے لئے باہر بھیجے جانے کی حمایت کی۔

مسلم لیگ قاف کے علاوہ ایم کیو ایم کے بھی تحریک انصاف سے شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نےکراچی پیکیج کے لئے کچھ نہیں کیا جبکہ صوبائی حکومت نے بھی کراچی کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کچھ عرصے سے کراچی پیکیج پر زور دے رہی تھی تاہم اب اس کے لہجے میں تلخی کا عنصرنمایاں ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ بھی رہا ہے کہ انہیں ان کے پارٹی دفاتر واپس کیے جائیں تاکہ وہ کارکنوں اور عوام سے رابطے میں رہے تاہم اس مطالبے کو بھی پس پشت ڈالاگیا ہے۔ ایم کیو ایم کے علاوہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی شکوہ شکایت بھی عام ہیں اور سندھ میں اُن کے راہنماؤں نے ”احساس” اور “صحت انصاف” پروگرامز کو اندرون سندھ تک وسعت دینے کے مطالبات پیش پردہ پریس کانفرنس میں بیان کر دئیے ہیں اور دیگر پس پردہ مطالبات کے سلسلہ میں تحریک انصاف کے ساتھ کشمکش میں مصروف عمل ہیں۔ جی ڈی اے کی طرف سے پیر پگاڑہ نے حکومت سے مطالبہ کردیا ہے کہ حکومت نے جو وعدے کیے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا، لہذا ہمیں اب حکومت سے مفاہمت کے حوالے سے سوچنا پڑے گا۔ تحریک انصاف کے ایک اور اہم حامی اختر مینگل بھی وزیراعظم عمران خان سے لاپتہ افراد کے معاملے، پانی کی قلت، سرکاری اداروں میں بلوچ نوجوانوں کے کوٹے اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی پر عمل درآمد نہ ہونے پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اختر مینگل کو شکایات ہیں کہ حکومت نے اپنے اس وعدہ پر عمل نہیں کیا کہ وہ گوادر بندرگاہ کی ترقی کے عمل میں مقامی افراد کو نوکریوں اور روزگار کے معاملہ میں اہمیت دے گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے بلوچستان میں 2 ڈیموں کی تعمیر کے لئے کوئی اقدامات بھی نہیں کیے۔

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد اور اپنی اتحادی جماعتوں کی اَن گنت شکایات پر بظاہر پریشان دکھائی نہیں دے رہی لیکن خود ان کی اپنی جماعت کے اراکین بھی اپنی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔حکمراں جماعت کے ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی وفاقی وزراء کی کارکردگی پر شدید نالاں ہیں اور سرِعام کہتے ہیں کہ حکومت کی موجودہ اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں اور اُن کے حلقوں کے لوگ اس بارے میں سوالات بھی کرتے ہیں جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ تحریک انساف کے ممبران اسمبلی اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں بھی اب شکوہ کرتے ہیں کہ وفاقی وزراء اُنھیں بھی ملاقات کا وقت نہیں دیتے تو عام سائلین اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہوں گے۔ اراکین کی طرف سے شکایات کے انبار لگانے پر عمران خان نے فیصلہ کیاہےکہ ہر ہفتے ایک وفاقی وزیر اپنے محکموں کی کارکردگی کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو بریفنگ دے گا۔

قومی اسمبلی میں جس طرح کی پارٹی پوزیشن ہے، اُس کے حساب سے پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد پر شاید فوری طور پر حکمراں جماعت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کیا تو وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو دے گی۔اسی لئے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان کے تحفظات سنے گی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب اور جہانگیر ترین نے اس سلسلہ میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور ایم کیو ایم قیادت کے ساتھ سندھ بالخصوص کراچی کے ترقیاتی مسائل،باہمی امور، ایم کیو ایم کے 13 نکاتی ایجنڈے اور تمام نکات پر تیزی کے ساتھ عملدرآمد کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیاہے۔ اس ملاقات میں حکومتی کمیٹی نے اتحادی جماعت کے کراچی پیکیج سمیت دیگر اہم معاملات پر تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اگلے مرحلہ میں ایم کیو ایم کا وفد وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرنے آ رہا ہے جس میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید اور امین الحق شامل ہوں گے، ایم کیو ایم حکومتی کمیٹی کے سامنے 162 ارب کے پیکج کا مطالبہ کرے گی۔ ایم کیو ایم کا وفد شہری ترقیاتی پیکج ، حیدرآباد یونیورسٹی اور پلوں کی تعمیر کا معاملہ اٹھائے گی۔دوسری طرف بلوچستان نیشنل پارٹی، مسلم لیگ قاف اور جی ڈی اے کی لیڈرشپ سے بھی جہانگیر ترین اور پرویز خٹک تیزی سے رابطہ کر رہے ہیں اور اُن کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں۔

اتحادی جماعتوں کی طرف سے تحریک انصاف سے دوری ایک سنگین مسئلہ تھی تو اس کے اوپر طاقتور حلقوں کی طرف سے تحریک انصاف کو حالات بدلنے کی خبریں سنا رہے ہیں۔ چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دو روز پہلے نیب راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے ہم 25 سے 30 سال پرانے مقدمات نمٹاتے رہے جس پر ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اب ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حکمران جماعت بری الذمہ ہے یا کوئی صاحب اقتدار ہے اس لئے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اب ہم دوسرے محاذ کی طرف جاکر یکطرفہ احتساب کا تاثر دور کریں گے۔ جس نے کرپشن کی اسے حساب دینا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بی آر ٹی پشاور پر سپریم کورٹ کا حکم امتناعی ختم کرانے کی کوشش کریں گے۔ واضح رہے کہ ایشین ڈویلپمنٹ فنڈ والے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بی آر ٹی پشاور میں ناقص میٹریل استعمال ہوا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کا یہ منصوبہ بھی اپنی طرز کا ایسا اچھوتا منصوبہ ہے جس میں سڑکوں کی چوڑائی اس پر چلائی جانے والی بسوں سے کم ہے۔چئیرمین نیب کے اس بیان کے بعد تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک تو تحریک انصاف حکومت نیب کے ہاتھوں اپوزیشن کی چیخیں سن کر مزے لے رہی تھی لیکن اب خطرہ ہے کہ چیخیں حکومت اور حکومتی پارٹی کے رہنماؤں کی نکالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔

چئیرمین نیب کے اس بیان سے ابھی حکومت سنبھلنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم طاقتوروں کا طعنہ ہمیں نہ دیں، ہمارے سامنے کوئی طاقتور نہیں، جن کو باہر بھیجا گیا ان کو آپ نے اجازت دی، ہائیکورٹ میں صرف طریقہ کار پر بحث ہوئی۔ ہمارے سامنے کوئی طاقتور نہیں سب برابر ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کا یہ بیان اتنا بڑا دھچکا تھا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے انچارج باباکوڈا کی بھی چیخیں نکل پڑیں اور اُس نے جج صاحبان کو قانون کے تحت ملنے والی مراعات پر شدید تنقید شروع کر دی اور مضمون لکھ ڈالا کہ ہمارے یہاں کے معزز جج صاحبان اعلیٰ ترین مراعات لینے کے باوجود کام کچھ بھی نہیں کرتے اور بلاوجہ بیان دیتے ہیں کہ اُن کو سہولیات کی شدید کمی ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللّٰہ نے اینٹی نارکوٹکس بورڈ کی طرف سے اُن کی گرفتاری کے وقت بنائی جانے والی مبینہ ویڈیو بارے وزیر انٹی نارکوٹکس شہریار آفریدی کے بیان کی ساڑھے چار مہینوں کے بعد تردید نشر ہوتے ہی ضمانت پر رہائی کےلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔عدالت نے درخواست ضمانت سماعت کے لئے مقرر کردی ہے جسے جسٹس چوہدری مشتاق احمد جمعرات کی صبح سماعت شروع بھی کر چکے ہیں۔ رانا ثنا اللّٰہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت پر سخت تنقید کی وجہ سے سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ رانا ثنا اللّٰہ نے مزید کہا کہ ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمے کو مشکوک ظاہر کرتی ہے، ایف آئی آر میں 21 کلو ہیروئن اسمگلنگ کا لکھا گیا جبکہ بعد میں اس کا وزن 15 کلو ظاہر کیا گیا۔ اگر رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور ہو جاتی ہے تو یہ تحریک انصاف کی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے لئے ایک بہت بڑا دھچکہ ثابت ہو گا۔

یہ سارے معاملات تو چلتے ہی رہے ہیں اور مزید چلیں گے مگر جو معاملہ وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے سب سے سنگین اور لٹکتی ہوئی تلوار ہے وہ پی ٹی آئی کے سابق بانی رکن و عمران خان کے سابق دیرینہ دوست اکبر ایس بابر کی طرف سے سنہ 2014ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خاں نے تحریک انساف کے لئے غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے استعمال ہونے والے غیر ملکی اکاؤنٹس کو ای سی پی میں جمع سالانہ آڈٹ رپورٹس سے چھپایا گیا۔ یادرہے کہ پاکستان کے انتخابی قوانین کے مطابق سیاسی جماعتیں غیرملکی شہریوں سے فنڈز حاصل نہیں کر سکتیں۔اس کیس سے بچنے کے لئے تحریک انصاف نے گزشتہ 5 سالوں کے دوران سینکڑوں دفعہ مختلف عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کیا مگر اب وہ مرحلہ آ ہی پہنچا ہے جب تحریک انصاف کو اپنے فنڈز کے آڈٹ کروانے سے گزرنا ہی پڑے گا۔ چونکہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا 5 دسمبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں اس لئے پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے راہنماؤں اکرم خان درانی ،احسن اقبال، طاہر بزنجو، نیئر بخاری، میاں افتخار، عثمان کاکڑ اور فرحت اللہ بابر نے پی ٹی آئی کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کرانے کے لئے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک احتجاج کیا اور درخواست دی کہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈنگ کیس پچھلے 5 سال سے چل رہا ہےمگر اس میں تحریک انصاف تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ اس لئے چیف الیکشن کمشنر اس کیس کو جلد نمٹانے کے لئے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریں اور کیس میں تاخیر سے ملک کو نقصان سے بچائیں۔ اپوزیشن کی اس درخواست کو منظور کر لیا گیا ہے اور یہ صاٖ ظاہر کرتا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے۔ اگرچہ عمران خاں کہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں کچھ نہیں ہے تو پھر عمران خان اس کے التواء کے لئے تمام درخواستیں واپس لے کر مثال قائم کرسکتے ہیں اور خود اپنی پارٹی کے تمام اکاؤنٹس آڈت کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔

عمران خان اقتدار میں آئے تو ہوائیں ان کے حق میں چل رہی تھیں۔ عمران خان نے پہلے اپوزیشن، پھر میڈیا اور اب عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پی ٹی آئی کے اندر بھی گروپنگ نظر آرہی ہے۔ عمران خان جائز وقت ملنے کے باوجود ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے اور اُن کا تمام زور کارکردگی دکھا کر عوام کا دل جیتنے کی بجائے سیاسی مخالفین کی سرکوبی پر ہی مرکوز رہا۔ جب مخالفین کی آواز دبائی جاتی ہے تو انہیں ہمدردی ملنا شروع ہوجاتی ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمنٰ کا دھرنا ایک مہینہ تاخیر سے ہوتا تو حکومت مزید کمزور ہوجاتی۔ پاکستان میں ڈیلیور کرنے والی حکومتیں بھی چلی جاتی ہیں تو کچھ بھی ڈیلیور نہ کرنے والے عمران خاں حکومت کیا وزن رکھتی ہے۔ کوئی تو ہو جو وزیر اعظم عمران خاں کو یہ سمجھائے کہ بھارتی، اسرائیلی شہریوں سے تحریک انصاف کے لئے فنڈز جمع کرنے، سپریم کورٹ میں چندہ دینے والوں کی جعلی فہرستیں دینے، الیکشن کمیشن سے ان فنڈز کو خفیہ رکھنے جیسے بڑے الزامات کے بعد چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی طرف سے روزانہ کی سماعت پر اس کیس کی سماعت کی منظوری دئیے جانے کے بعد تحریک انصاف کا کسی سخت عدالتی کاروائی سے بچ سکنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ان الزامات کے ثابت ہونے پر نہ صرف تحریک انصاف کی رجسٹریشن منسوخ کر دے بلکہ پارٹی کے ساتھ ساتھ اس کے چیئرمین اور ممبران پارلیمنٹ کو بھی ڈس کوالیفائی کر دے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *