• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے۔۔۔اسلم اعوان

پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے۔۔۔اسلم اعوان

فی الحال اگرچہ میاں نوازشریف کی علاج کی غرض سے بیرون ملک روانگی سے جڑی خبریں مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی پسپائی پہ سایہ فگن رہیں گی اور مرکزی دھارے کے میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا بھی سیاست میں انسانی مجبوریوں کے استحصال کے خلاف جذباتی فضا بنانے میں مشغول نظر آئے گا۔لیکن یہ عارضی عوامل سیاسی بساط پہ مولانا فضل الرحمٰن کی شکست کے مہلک اثرات کو زائل نہیں کر سکتے۔بلاشبہ مولانا صاحب نے چالیس سالوں پہ محیط اپنی سیاسی متاع کو صرف ایک ہی داؤمیں ہار کے زندگی کا سب سے بڑا جُوا کھیلا،دونوں بڑی جماعتوں،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن مولانا طوفان اٹھانے کا جو تہیہ کئے بیٹھے تھے سو وہ کر گزرے،انہوں نے اس آزمائش کی خود آرزو کی اور مصائب سے پنجہ آزمائی کا شوق پورا کیا،اگر وہ حسینؓ ابن علی کی مانند اپنے ہی منتخب کردہ راستے پہ ثابت قدم رہ کر زندگی کی بازی ہار دیتے تو اُس متاع غرور کو بچا سکتے تھے جوانہیں اپنے اکابرین سے ورثہ میں ملی تھی۔لیکن شاید وہ کسی اعلی ترین مقاصد کےلئے نہیں بلکہ اپنے حریف کو سبق سیکھانے یا پھر کچھ سیاسی کامیابیوں کے حصول کی توقع پر برسرمیدان آئے،اس لئے کچھ ہاتھ نہ آنے کی صورت میں وہ سرجھکائے بے نیل و مرام واپس لوٹ گئے۔اقبال نے کہا تھا۔
متاعِ بے بہا، لٹ گئی ،اللہ والوں کی۔
یہ کس کافر ادا کا غمزہ خوں ریز ہے ساقی۔

سیاسی ہزیمت کی خفت کم کرنے کی خاطر مولانا فضل الرحمٰن نے پلان بی کے تحت اپنے اجڑے ہوئے کارکنوں کو نظم و ضبط قائم رکھتے ہوئے ملک کی دور افتادہ بستیوں میں علامتی احتجاج اور سڑکیں بلاک کرنے کی تلیقن کے ساتھ رخصت کیا،حالانکہ ایک اچھا جرنیل کی مانند لمبی مزاحمت کےلئے وہ اپنی پوری قوت کو ایک مرکز پہ یکجا کرکے خود سے بڑی طاقت کے ساتھ مقابلہ کرسکتے تھے،اب ملک کے طول و ارض میں بکھرے ہوئے یہ مضمحل کارکن ریاست کے طاقتور انتظامی ڈھانچہ کے مقابلہ میں خود کو زیادہ کمزور اور بے بس پائیں گے۔پشین،لورالائی لکیمروت،کوٹ ادو اور تونسہ جیسے دور افتادہ علاقوں میں ہونے والے مظاہرے مرکزی دھارے کی میڈیا میں جگہ بنا پائیں گے نہ حکومت پہ اثرانداز ہونے کے قابل رہیں گے۔جیسا بھی تھا اسلام آباد میں مولانا کے دھرنا کو عالمی میڈیا کافی اہمیت دے رہا تھا اور دنیا بھر کے سفارت کار اپنے ملکوں کو روزانہ کی بنیاد پہ دھرنا کی لمحہ بہ لمحہ رپوٹس بھجواتے دیکھائی دیتے تھے۔اسلام آباد سے دھرنا والوں کی رخصتی حکومت کا نفسیاتی بوجھ ہلکا کرگئی۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگلے چند روزمیں نیب مولانا فضل الرحمٰن کے متعمد خاص سابق وزیراعلی اکرم درانی کو غیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں گرفتار کرنے کے علاوہ خود مولانا فضل الرحمٰن کو کسی صحت افزاءمقام پر نظر بند کرکے راہ راست پہ لانے کی کوشش کرے۔مولانا سیاست میں نو وارد نہیں تھے،بلاشبہ جہاں دیدہ اور بالغ النظر سیاستدان کی طرح انہیں معلوم ہو گا کہ سیاست میں تبدیلیاں ہمیشہ طاقت کی ایما پہ آتی ہیں،اس لئے مطلق العنانی کا مقابلہ نظم و ضبط سے نہیں بلکہ بدنظمی اور بے ترتیبی سے کیا جا سکتاہے،اگر دور دراز کی سڑکیں بلاک کرنے کی بجائے دھرنے والے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہنگامہ آرائی کرتے تواشرافیہ کی شلواریں گیلی ہو سکتی تھیں۔لیکن اس قدر آسانی کے ساتھ دھرنا کی تحلیل نے حکمراں اشرافیہ کے حوصلے بڑھا دیئے،اب حکومت کو سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر ریفرنس کو پایا تکمیل تک پہنچانے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع جیسے مشکل فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دشواری محسوس نہیں ہو گی۔اس سے قبل قاضی حسین احمد مرحوم کی ایسی ہی غیرمعمولی فعالیت جماعت اسلامی جیسی منظم اورکہنہ مشق جماعت کو سیاست کے مرکزی دھارے سے جدا کر کے خیبر پختون خوا کے مالاکنڈ ڈویژن تک محدود کرنے کا سبب بنی،اب مولانا فضل الرحمٰن جیسے عملیت پسند سیاستدان کے ذہنی اضطراب نے جے یو آئی جیسی قومی سطح پہ ابھرتی ہوئی مذہبی قوت کو سیاست کے قومی دھارے سے الگ کر کے تنہائی کی تاریکیوں میں دھکیل دیا۔بلاشبہ مولانا سیاسی تنہائی کے ان اندھیروں سے ٹٹول ٹٹول کے نکلنے کی کوشش ضرور کریں گے لیکن اسلام آباد دھرنا میں مولانا کا آخری خطبہ یقین کی قوت سے عاری شخص کی جذباتی التجاوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔
کسے معلوم ہے اس کا مقدر پھر کہاں ہو گا۔
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے۔

لگتا ہے 1977کی تحریک نظام مصطفے کے نتیجہ میں قومی سطح پہ ابھرنے والی مذہبی جماعتیں اب واپس اپنے تنگ دائروں میں سمٹتی جائیں گی اور بساط سیاست پہ ایک بار پھر سیکولر جماعتوں کے آشفتہ سر کارکنوں کی راہیں کشادہ ہوتی جائیں گی۔سویلین بالادستی کی خاطر مقتدرہ کے خلاف مزاحمت کی تحریک ختم نہیں ہو گی تاہم اب اسکی عنان ایک بار پھر نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کے ہاتھ آ جائے گی اور یہی مہیب پسپائی بہت جلد قومی سیاست سے جے یو آئی کے تذکرہ کو محو کر کے خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں سیکولر جماعتوں کو آگے بڑھنے کے مواقعے فراہم کرے گی،بظاہر مولانا فضل الرحمٰن کی ناکامی کے سب سے پہلے بینافشری وہ بلوچ اور پختون قوم پرست قوتیں ہوں گی،جنہوں نے انہیں اسلام آباد کے پشاور موڑ تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔لاریب!سویلین بالادستی کے حصول کی یہ پیچیدہ جدوجہد،جس نے دوستی ودشمنی کے علاوہ سماجی رشتوں کے مفاہیم بدل دیئے،دراصل ایک ایسے آزاد اور روشن خیال معاشرے کی تشکیل کا ٹول بنتی نظر آتی ہے،جس سے مذہبی سیاست کی مضمرات کو سنبھالنے میں مدد ملے گی،لحاظہ مقتدرہ کے خلاف جوں جوں یہ جدوجہد آگے بڑھتی جائے گی توں توں سیاست میں مذہبی قیادت کا کردار گھٹتا جائے گا۔بائیں بازو کےلئے مولانا صاحب کا یہ یادگار کردار اس لحاظ سے قابلِ صد تحسین سمجھا جائے گا کہ سماجی آزادیوں اور جمہوری حقوق کے حصول کی خاطر ان کی جماعت بارش کا پہلا قطرہ بن کے اس دھرتی کے سینہ میں تڑپتی پیاس کو کچھ کم کرنے کا سامان ضرور بن گئی۔بلاشبہ قومی سیاست میں برپا یہ ناشائستہ اوراعصاب شکن کشمکش اس جمود پرورمعاشرے کی فکری حرکیات کو بدلنے کے اسباب بھی مہیا کر رہی ہے،آج سوشل میڈیا پر ہماری نوخیزنسلیں،خونی رشتوں کی نزاکتوں،پاور پالیٹیکس کے تقاضوں،انسانی رویوں کے ساتھ بدلتی خیر وشر کی صورتیں اور اجتماعی زندگی کے اعلی اخلاقی اصولوں کے درمیان توازن تلاش کرنے کی بحث میں مصروف نظر آتی ہیں،یہ صحت مند سرگرمی شاید مذہبی تعصبات سے آلودہ سیاسی نظریات اور نسلی و گروہی عصبیتوں سے ممّلو سماجی رویوں کو معمول پہ لانے میں مددگار ثابت ہو۔تاہم فطرت اپنی تدبیر مخفی سے زندگی کی بوقلیمونی اور انسانی رویّوں میں پائے جانے والے بے پناہ تنوّع کو دلچسپی اور مقصدیت سے ہم آہنگ رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے،شاید اسی لئے یہ ناتواں انسان دکھوں سے لبریز اس مختصر سی زندگی کو خوشگوار بنانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔(تصحیح،گزشتہ کالم میں قائداعظم محمدعلی جناح کی ڈیرہ اسماعیل خان آمد کی تاریخ سہواً اکتوبر1948 لکھی گئی،دراصل بابائے قوم اپریل1948 میں ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تھے،اس غلطی کی جانب توجہ مبذول کرانے پہ راقم محترم الطاف حسن قریشی صاحب کے ممنون رہیں گے)

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *