اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط2

تصوف کی دنیا کی پہلی پرت یا پہلادائرہ (جسے میں “گرین زون” کا نام دیتا ہوں)، اسکا ہدف ہے “ایک اچھے انسان کی تشکیل”- ظاہر ہے کہ یہ چیزہرزمان ومکان میں (بلکہ مذہب وعقیدہ سے ماورا بھی) جاری وساری رہی ہے اور ہربنی آدم کیلئے یہ ضروری چیز ہے- تاہم،زیرنظرمضمون میں “اسلامی تصوف” کے حوالہ سے گفتگو ہورہی ہے-

چند مختصر سوالات کو چھیڑ کرآگے چلتے ہیں-

1- “اچھا انسان” بننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟-

جواب: ہرانسانی سوسائٹی میں ” امن وسلامتی” مطلوب ہے- ہرسماج ، افراد سے ہی تشکیل پاتا ہے پس فرد اگر” برا” ہوگا توسماج کا”امن” خطرے میں پڑجائےگا-

2- ” اچھا انسان” کون ہوتا ہے؟-

جواب: انسان کا ایک “ہارڈ ویئر” ہوتا ہے( بدن ) اورایک “سافٹ ویئر” ہوتا ہے(صفات)- جیسے خون میں سرخ اور سفید خلیے مہیا کئے گئے ہیں ویسے ہی مشیت ایزدی نے انسان کے سافٹ ویئر میں بھی اچھی وبری صفات رکھ دی ہوئی  ہیں- (ان صفات میں سے کسی ایک کا بالکل ختم ہوجانا بھی مضر ہے-خدا کودنیا میں خطاکاربھی رکھنے ہیں)- ان صفات کو بینلس رکھنے میں ہی صحت ہے- ان صفات کی “گرومنگ” کو آپ جو بھی نام دیں مگراسلام اسکو ” تزکیہ” کہتا ہے جو ہرانسان کیلئے ضروری ہے-بالفاظ دیگر، انسان کے اخلاق اچھے کرنے کا نظام تصوف کہلاتا ہے-

3- “اچھے اخلاق” کیا ہوتے ہیں؟

جواب: اخلاق کا مطلب عاجزی یا “صلح کل بن کررہنا” نہیں ہوتا بلکہ ہروہ کردار، برتاؤ، پالیسی یا سٹریٹجی “اخلاق” کہلائی  جائیگی جسکا ہدف ، فرد یا سماج میں امن وآشتی کا پھیلاؤ ہو-(میٹھے بول سے مقصود،کسی کودغا دینا ہوتو اسکو اخلاق نہیں کہا جائے گا)-

فرد ہو یا سماج، اگراسکی سلامتی مطلوب ہے تو آپکو اپنی سٹریٹجی میں کبھی “بیک فٹ” پرجانا پڑے گا تو کبھی جارحانہ پیشقدمی کرنا پڑے گی- لہجے کی گرمی وسردی تو الگ رہی، کبھی کبھار ہاتھ و لاٹھی کا استعمال بھی” اخلاق” کا تقاضہ ہوا کرتا ہے- (البتہ یوں ہے کہ “کامل امن” کے حصول کا طریقہ بھی اگر “کامل پرامن” ہو تواسے”احسن اخلاق” کہا جائے گا)-

4- ایک انسان کے برے اخلاق کو اچھا کیسے بنایا جاسکتا ہے؟-

جواب: ہر انسان میں بری صفات بھی موجود ہوا کرتی ہیں اگرچہ مقدارمیں فرق ہوتا ہے-( بزدلی، کنجوسی، خود غرضی، لالچ، وغیرہ)-اگریہ بری صفات بھی توازن میں ہوں تو بہترہے مگرحد سے زیادہ ہوجائیں توامن کیلئے خطرہ بنتی ہیں-( انسان کی بری صفات کو صوفی لوگ”روحانی امراض ” کا نام دیتے ہیں)-

سب انسانوں کا ظاہری یا مادی وجود ایک جیسا ہوتاہےتوانسان کے” ہارڈویئر” کو ٹھیک کرنے کا ایک ہی فارمولا وضع کیا جاسکتا ہے-مگر اندرونی صفات (یا سافٹ ویئر)، ہر انسان کا ایسے ہی جدا جدا ہوتا ہے جیسا کہ فنگر پرنٹ- پس اسکا کوئی  ایک فارمولا وضع نہیں کیا جاسکتا –یہ کیس ٹو کیس بات ہوتی ہے جسےانسانی نفسیات کا ایکسپرٹ ہی سمجھ سکتا ہے( نفیساتی ایکسپرٹ کو تصوف میں ” شیخ” کا نام دیا گیا ہے)-

5- کیا مسلمانوں کے علاوہ بھی کسی سماج میں اچھے انسان تخلیق کرنے کا تصورموجودرہا ہے؟-

جواب: امن ہرانسان کی فطری ضرورت ہے پس ہرزمان اور ہرسماج میں ایسے لوگ رہے ہیں جوانسانی سماج کی ظاہری صحت کے علاوہ، باطنی صحت بارے مصروف کار رہے ہیں- جدید دور میں تو” سائیکاٹری” بطورسبجیکٹ پڑھائی  جاتی ہے- (البتہ ہرسماج میں “اچھے انسان” کی تعریف، وہاں کی مروجہ ایسی اقدار پرہوگی جن اقدار کو وہاں کے امن کا ضامن سمجھا گیا ہوگا)-

اسلامی تصوف کے پہلے سٹیج میں سائیکاٹری ہی کے اصول ہیں- (ایلوپیتھی بھی دراصل طب یونانی کی اگلی شکل ہے-مزید یہ کہ میڈیکل سپشلسٹ مہیا ہونے کا مطلب یہ نہیں حکیم صاحبان کی مکمل نفی کردی جائے)- اسلامی تصوف کی پہلی نشست میں بھی ہر”مریض” کے علاج کیلئے وہی تین طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جوقدیم وجدید، ہرنوع کے علاج میں رائج رہے ہیں- بات سمجھانے کیلئے میں ایک “مریض” کا کیس لیتا ہوں جو”بہت کم زور دل ” ہے اور اسے بہادر بنانا پے- یعنی اسکی صفت بزدلی کو “بیلنس ” کرکے ، اس میں کچھ جرات کو بیدار کرنا ہے-

مرض کی تشخیص ہوجانےکے بعد، اس مریض کا علاج تین طرح سے کیا جائے گا-

1- ذاتی سجیشن- اذکار

اس آدمی کو کہا جاتا ہے کہ روزانہ اپنی تنہائی  میں، قدآدم آئنہ کے سامنے کھڑے ہوکر،اپنی انکھوں میں دیکھ کر خود سے باربار کہے کہ میں ایک بہادر آدمی ہوں- (جدید نفسیات میں ایسے ہی چند طریقے مزید بھی ہیں)- صوفی مگر یہ کرتے ہیں کہ “دل سخت” کرنے کیلئے ایک “تسبیح” مشہور کررکھی ہے (تیسرا کلمہ-جلالی) اور”دل نرم” کرنے کیلئے بھی ایک “تسبیح” مشہور کررکھی ہے( دروددشریف-جمالی)- اب “بزدلی” والے کیس کو اسم ذات کا ورد دیا جاتا ہے جو کہ خود کوبہادربنانے کا ایک “سجیشن” ہے-

اسی طرح، جدید نفیسات میں مریض کی بحالی کیلئے اس کے فیملی فرینڈزسے بھی مدد لی جاتی ہے( دوچار دوست روزانہ اسکو کہیں کہ تم میں بڑی تبدیلی نظر آرہی تو وہ آدمی ویسا ہی فیل کرنے لگے گا)- یہی کام “خانقاہ میں “پیربھائیوں” سے لیا جاتا ہے-

2- ایکسرسائز – اشغال

اندرونی کیفیات کو کنٹرول کرنے، بیدارکرنے یا انکی نشو نما کیلئے انسان کے بیرونی اعضاء سے بھی مدد لی جاتی ہے- یوگا کے خاص آسن وضع کئے گئے ہیں کہ اس پوزیشن میں “انرسیلف” پرارتکازبڑھ جاتا ہے- موسیقی شناس لوگ سمجھتے ہیں کہ” شام کا راگ” گانے میں آواز کے زیروبم کو” خیال” سے ہم آہنگ کرنے، ہاتھ اور آنکھوں کی مخصوص حرکات سے راگ کا” زندہ اثر”پیدا کیا جاتا ہے جس سے لوگ وجد میں آتے ہیں- ( گائیک کے سامنے پڑا شیشہ بھی ٹوٹ سکتا ہے)-

بس اسی بدنی ایکسرسائز کا تصوف میں “اشغال” کہتے ہیں- دل پر”توحید” کا اثر پیدا کرنے، صوفی لوگ “ضربیں” لگاتے ہیں-( توحید کیا ہے؟ کہ میرا خالق ومالک جو کہ سپریم پاور رکھتا ہے اور مجھ پرسب سے زیادہ مہربان ہے، وہ ہروقت بذات خود،میرے ساتھ موجود ومددگار ہے)-

3-میڈیسن- غذا

نفسیاتی علاج میں تیسری چیز دوائی ہے- غذا میں بعض چیزوں کی ممانعت کے علاوہ ، کچھ ٹیبلیٹس بھی دی جاتی ہیں- تصوف میں بھی یہی طریقہ ہے- بعض اغذیہ سے منع کرنا، کچھ پہر کوفاقہ کشی کرانا بھی ہوتا ہے-اسکے علاوہ “میڈیسن” بھی دی جاتی ہے-صوفیوں کی میڈیسن ،”دم شدہ پانی” یا “تعویذ” وغیرہ ہوتا ہے-

(اگرمیں سائیکالوجسٹ اورسائیکاٹرسٹ کا فرق درست سمجھا ہوں تو پہلے دومراحل، اول الذکرکا فیلڈ ہیں)-

آمدم برسرمطلب!

امید ہےکہ” سالک” کیلئے پہلے سٹیج کا فلسفہ آپ سمجھ گئے ہونگے- مگرمذکورہ بالا علاج میں ضروری عنصر کیا ہے؟-

وہ ہے کچھ وقت کیلئے ایک خاص “ماحول” کامیسر ہونا جسکے لئے ” خانقاہ ” وجود میں آئی ہے- خانقاہ فقط ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے-جیسے کسی کو تعلیم دینے کیلئے مدرسہ نامی عمارت کی ضرورت نہیں، ویسے ہی کسی کی “اصلاح ” کیلئے خانقاہ نامی ادارے کی بھی ضرورت نہیں- مگرایسا ہوجائے تواس میں کوئی  حرج بھی نہیں( بلکہ یہ زیادہ کارآمد ہے)- اصل چیزمدرسہ یا خانقاہ نہیں ہے کیونکہ انسان کی فطرت، کسی خاص جگہ یا کتابوں سے نہیں بلکہ”ماحول” سے بدلاکرتی ہے-( یاد رہے کہ کسی کی فطرت ختم نہیں کی جاسکتی- صرف اسکا رحجان بدلا جاسکتا ہے)-

اپنی بات کی وضاحت کیلئے ایک واقعہ عرض کرتا ہوں-ایک بار ڈاکٹر اسرارمرحوم کا قاصد بن کرخانقاہ سراجہ کندیاں شریف گیا تو وہاں ایک صوفی صاحب نے مجھے نیا شکار سمجھ کرطبع آزمائی شروع کردی- تصوف کی اہمیت بتانے ایک نوجوان کی طرف اشارہ کیا جواسلام آباد میں اپنا گھربار چھوڑ کرگذشتہ کئی  ماہ سے خانقاہ میں مقیم تھا- عرض کیا حضور، کسی کو تیراکی سکھانا ہوتودریا میں اتارا جاتا ہے نہ کہ کونے میں بٹھا کرآموختہ سنایا جاتا ہے- اگر اس نوجوان کوغیبت وغصہ جیسے امراض سے نجات دلانی ہے تویہاں خانقاہ میں کیسے علاج ہوگا جہاں نہ کوئی بندہ نہ کوئی جھگڑا؟- اسکو دس مختلف المزاج آدمیوں کے ساتھ ایک ماہ کیلئے تبلیغی جماعت میں بھیج دیں، خود ہی طبیعت نارمل ہوجائے گی-( خیر، اسے میرا ذاتی رحجان سمجھ کرنظر اندازکردیجئے)-

لگے ہاتھوں یہ بھی عرض کردوں کہ اسلامی معاشرے میں اجتماعی طورپربھی صوفیاء کاکردار، علماء سے کم اہم نہیں ہے-

ہرانسانی سماج کا مشترکہ ہدف “بقائے باہمی” یعنی سماجی امن ہے-اسی کی خاطرقوانین بنائے جاتے ہیں-مگرہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے-سب انسانوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جاسکتا -ایک جاگیردار نے کسی “ہاری” کو تھپڑ مارا تو قرآن کا فیصلہ ہے کہ جواب میں وہ اسکو تھپڑ مارے- یہ شرعی قانون ہے جس سے مراد امن کا حصول ہے- ہرجگہ اور ہرحالت میں اس قانون کو لاگوکرنے سے خود ہاری کیلئے مسائل بڑھ سکتے ہیں-چنانچہ قرآن ایک اخلاقی قانون بھی بیان کرتا ہے کہ ” اگر معاف کردو تو بہتر ہے”- ظاہر ہے کہ سماج نہ تو حال میں “بدلہ” لینے کے بل پہ پرامن چل سکتا ہے اور نہ ہروقت معاف کردینے سے- دونوں قوانین کو ساتھ ساتھ چلانا ہوگا-

پہلے قانون کی وضاحت اور نفاذ کیلئے علماء حضرات کی ضرورت ہے- دوسرا قانون ، انسان کے اندر سے پیدا ہوتا ہے اوراسکو پیدا کرنے کیلئے صوفیاء حضرات کی ضرورت ہے-( ایک مکمل عالم دین کوشرعی قانون کے دونوں پہلوسے آشنا ہونا چاہیے)-

بہرحال، ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ فی زمانہ، ہرسماج کیلئے “اچھا انسان” کون ہوگا؟ اور مختلف سماج میں اسکے مناسب “بااخلاق” آدمی کون تیار کرسکتا ہے؟-

ہماری رائے تویہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے گھر، محلے ، ملک اور ساری دنیا کیلئے امن وبھلائی  کا سوچتا ہے، وہ ” مسلم “ہے کیونکہ امن کی کامل شکل کوعربی میں” اسلام” کہتے ہیں- (مسلم ، مشرک، کافر وغیرہ کے بھی درجات ہوا کرتے ہیں- حدیث میں ریاکار نمازی کو “مشرک” بولاگیا تواسکا مطلب “مشرکین” مکہ نہیں ہے)-

جہاں تک تصوف کے اس پہلےدائرےکا تعلق ہے تواس میں مسلم وغیرمسلم سب برابر ہیں- سماجی سلامتی کی سوچ کوعملی انسانی شکل دینے/ ڈھالنے والا آدمی،” مرشد یا شیخ” کہلانے کے قابل ہے چاہے وہ اشرف علی تھانوی ہو، گاندھی جی ہو، نیلسن منڈیلا ہو یا پھریورپ کا ایک موٹیویشنل سپیکر ہو-

اس اخلاقی تربیت کیلئے جو پلیٹ فارم مہیا کیا جائے گا، اسکو میں ” خانقاہ” ہی سمجھتاہوں چاہے وہ کربوغہ شریف ہو، رائے ونڈمرکزہو، انٹرنیٹ پرموجود”ہیومنزم” کی کوئی سائٹ ہویا ہفتہ واری ادبی بیٹھک ہو-(اس میں کوئی  شک نہیں کہ صحبت صالح ترا صالح کند-مگر صالح کون ہوتا ہے؟ اس پہ سوچ وبچار کی ضرورت ہے)-

ہمارے مضمون کے اگلے صفحہ سے اسلامی تصوف، ایک جداگانہ رنگ اختیار کرلے گا جو صرف مسلمانوں کیلئے خاص ہوگا- تاہم، میری گذارش یہ ہے کہ پاکستان کےہرشہری کوتصوف کے اس پہلے سٹیج سے ضرور گذرنا چاہیئے کیونکہ ہم سب “روحانی مریض” ہیں- پاکستان میں صوفی شیوخ کہاں رہتے ہیں؟- انکی خانقاہیں کہاں ہیں؟ خاکسارکواس بارے زیادہ علم نہیں ہے مگرجو”ناموراہل تصوف” میڈیا پہ نظر آتے ہیں ، اس سے تو یہی تاثر نکلتا ہے کہ خود انکو کسی روحانی علاج کی اشد ضرورت ہے- اگرچہ پاکستان میں اسلام کے ہرشعبہ پرکمال زوال چھایا ہوا ہے تاہم، یہ خاکسار اپنے ہردوست کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ “موبائل خانقاہ” یعنی تبلیغی جماعت کے ساتھ وقتا” فوقتا” کچھ نہ کچھ ٹائم لگالیا کریں( بشرطیکہ موبائل فون ساتھ نہ لے جائیں)-

پاکستان میں بسنے والے غیرمسلم حضرات بھی اپنے اپنے مذہبی “صوفیوں” کے ساتھ ربط رکھ کر،اپنے طریق سے یہ بنیادی ورکشاپ لے سکتے ہیں- -(اپنا موقف تو یہ ہے کہ ہرمذہب کی “اصلی تعلیم” ایک اچھا انسان ہی بنایا کرتی ہے)-

میرے وہ غیرمسلم دوست جو چند باتوں کو اگنور کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں توانکو مشورہ دونگا کہ ایک دودن اپنی شناخت چھپا کرتبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگا کردیکھیں کہ آپکے اندرکی طاقت بیدار ہوجائے گی-(ایک ایسا تجربہ یہ خاکسارکروا چکا ہے)-

اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط1

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *