اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط1

اوائل جوانی میں مولانا اشرف سلیمانی مرحوم کی خانقاہ(پشاور) میں آنا جانا رہتا تھا تاہم تصوف والی لائن کبھی پسندیدہ نہیں رہی- وجہ شاید یہ ہو کہ اس فیلڈ بارے زیادہ آگاہی نہیں رہی ہے( اور نہ کبھی اسکی ضرورت محسوس ہوئی ہے)- ایک زمانہ تھا کہ تصوف کو اسلام کے مقابل ایک متوازی دین سمجھ کراس سے ازحد بیزاررہتا تھا مگرمولانا نذرالرحمان کی وجہ سے اس موضوع کوقدرے سنجیدہ لینا شروع کردیا –

میرا خیال ہے کہ اس واقعہ کوتفصیل سے عرض کردیا جائے-

مولانا نذرالرحمان صاحب، تبلیغی جماعت پاکستان کے موجودہ امیر ہیں-سنہ 2001ء میں رائے ونڈ سے اس خاکسار کو ایک جماعت کا امیر بناکرپاک پتن بھیجا گیا تھ- میری جماعت میں مولانا نذرالرحمان صاحب بھی شامل تھے( صوفیاء کے ہاں ایک ٹرم”داداپیر” استعمال ہوتی ہے- اس ناطے بے تکلف تبلیغی دوستوں سے خود کوانکا”دادا امیر” کہہ کرمتعارف کرایا کرتا ہوں)-

برسبیل تذکرہ، مولانا نذرالرحمان صاحب دوسال قبل ہی رائےونڈ میں امیرمقرر ہوئے ہیں- اگرچہ وہ مولانا طارق جمیل کے استاد رہے ہیں مگراصلاً صوفی بزرگ ہیں جوخواجہ خان محمد صاحب کے خلیفہ ہیں- ویسے توخاکسار کودیگربزرگوں کی صحبت بھی میسر رہی مگرمولانا ذرا منفرد تھے-(ہرپھول کی خوشبو ہے الگ، رنگ جدا ہے)- نماز میں گھنٹہ بھر لگاتے اورقیام میں لکڑی کی طرح گڑے رہتے- دن میں ایک ٹائم کھانا کھاتے تھے- ایک عدد کرتا، لنگی اورعمامہ ،کل اثاثہ رکھا ہوا تھا- ہرجمعہ کےدن انکا کرتا دھویا جاتا تو جیکٹ نما بنیان میں بیٹھے اسکے خشک ہونے کا انتظار کرتے- لنگی ہردوہفتہ بعد اورعمامہ ہرتین ہفتہ بعد دھونے کاروٹین تھا-(اس زہدکےباوجود، اگرمجھے اختیارحاصل ہوتا تو انکی بجائے مولانا احسان الحق کوامیرِجماعت مقرر کرتا)-

خاکسارکو تبلیغی جماعت سے دیرینہ لگاؤ رہا ہے اوراس بنا پراس جماعت کے فلسفہ سے اچھی خاصی آگاہی رکھتا ہے- ماضی میں صورتحال یہ تھی کہ ایک طرف مروجہ تصوف کو”غیراسلامی ” سمجھا کرتا تھا تو دوسری طرف، اس جماعت کو “درست تصوف” کا مظہرگردانتا رہتا تھا- تبلیغی علماء کی دین فہمی کا بہرحال معترف رہا ہوں- اب ہوا یوں کہ ہماری جماعت کی تشکیل پاک پتن شریف کو ہوگئی( ڈیرہ اسماعیل خان تبلیغی مرکز کے موجودہ صدرمدرس ، مولانا مسعودصاحب اس وقت رائے ونڈ مدرسہ کے سال آخر کے طالب علم تھے اوروہ بھی ہماری جماعت میں شامل تھے)-میرا جی چاہتا تھا کہ پاک پتن دربار کی زیارت کی جائے(یہ خواہش کسی برکت سمیٹنے کی خاطرنہیں تھی بلکہ مشہور عالم “بہشتی دروازہ” دیکھنے کیلئے تھی جس میں سے گذرکر بخشش پانے کیلئے سینکڑوں مردوزن بھگدڑ میں کچلے گئے تھے)-ایک مسئلہ یہ تھا کہ بطور امیر، جماعت سے “کنی “مارنا مشکل تھا ، دوسرا یہ کہ مولانا نذرالرحمان جیسے” موحد” عالم ساتھ تھےتو”دربار” جانے میں انکی ناراضی کا خطرہ تھا- ایک مقامی ساتھی سے اپنی مشکل ڈسکس کی تو اس نے انکشاف کیا کہ کل رات ہی تومولانا نذالرحمان، خود مزار پرجاکرایک گھنٹہ مراقبہ فرماچکے ہیں- مزید یہ بتایا کہ اکابرین رائے ونڈ، اس مزار پرآتے رہتے ہیں- یہ وہ لمحہ تھا جب خاکسار نے تصوف بارے سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا-

طول طولانی بحث سے بچتے ہوئے، مروجہ تصوف بارے اپنی رائے عرض کرتا ہوں-

دیکھئے، قرآن میں تصوف کی کوئی اصطلاح نہیں ہے- درحقیقت، قرآن میں اسکے لئے “تزکیہ” کی ٹرم استعمال ہوئی ہے- صوفی کہتے ہیں گدڑی پوش کو- صوفی لوگوں کو زاہد ( یعنی تارک الدنیا) کہا جاتا تھا-یہ لوگ عموماًپھٹے پرانے موٹے جھوٹے لباس میں پھراکرتے تھے توانکے خرقہ( گدڑی) کی نسبت سے انکو صوفی کہا جانے لگا اور پھرانکے فلسفہ کو تصوف کا نام دے دیا گیا-

موجودہ تصوف کی آگاہی بارے چند بنیادی ٹرمزکو سمجھ لیجئے-

یہاں طالب یا شاگرد کو”مرید” کہتے ہیں- استاد کو” پیر” ( یا شیخ) بولا جاتا ہے- تصوف سیکھنے کی جگہ کو” خانقاہ” کہا جاتا ہے- جیسے سنی فقہ کے چارمعروف امام ہیں- ویسے ہی سنی صوفیوں کے چارمشہور سلسلے ہیں-اس میں سے قادریہ، چشتیہ، سہرووردیہ توحضرت علی سے جاملتے ہیں جبکہ نقشبندیہ ،حضرت ابوبکر سے( یہ صوفیاء کے دعوے ہیں)-ہمارے اہل حدیث حضرات کے طرح ، بن استاد کا ایک صوفی سلسلہ “نوربخشیہ” بھی موجودہے-

ان بنیادی سلسلوں کی کوکھ سے کئی دیگرصوفی سلسلے وجود میں آئے(فی زمانہ تقریباً 300 صوفی سلسلے ریکارڈ میں ہیں)-یہ سارے صوفی سلسلے، تین بنیادی باتوں میں متفق ہیں- یعنی شیخ کا تقدس- قبروں/مزاروں کا تقدس اور وحدت الوجود-باقی ذکراذکار، یونیفارم اور اشغال( صوفی ایکسرسائز) وغیرہ مختلف ہوتے ہیں-ان میں سے باقی باتیں آپ سمجھ چکے ہونگے مگر”وحدت الوجود” کی تشریح عرض کردیتا ہوں( جوعلمائے دیوبند کا عقیدہ بھی ہے)-وحدت الوجود کامطلب ہے کہ جو کچھ نظر آرہا ہے ، وہ خدا کی ذات کا ہی حصہ ہے- یعنی ساراکون ومکان، خدا کا جزو ہے-

اسی نظریہ کو لیکر، بادشاہ اکبر نے دین الہی تشکیل دیا تو شیخ مجد الف ثانی نے “وحدت الوجود” کے بجائے وحدت الشہود” کا صوفی فلسفہ پیش کیا – اس فلسفہ کی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ کائنات خدا کی صفات کا مظہر ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے مگرخدا کی ذات اپنی جگہ الگ حقیقت ہے-جیسا کہ سورج ایک ذات ہےاوراسکی شناخت اسکی ذیلی صفات یعنی سایہ اور دھوپ سے ہوتی ہے-(سورج نہ ہو توسایہ اور دھوپ بھی نہ ہو)-

ویسے توحضرت مجدد والی بات زیادہ بہتر لگتی ہے مگردراصل دونوں فکروں کا حاصل ایک ہی ہے- وحدت الوجود کا مطلب ہے کہ خدا کو عرش سے اتار کر، ہرمخلوق میں ضم کر دکھایا جائے- وحدت الشہود کا مطلب ہے کہ مخلوق کو زمین سے اٹھا کرخدا میں ضم کردیا جائے(جیسے مناسب وقت پرسایہ و دھوپ، سورج میں مدغم ہوجاتا ہے- اسی طرح انسان بھی ترقی کرکے فنا فی اللہ ہوجاتا ہے)-

علمائے دیوبند نے اپنے خاص گول مول انداز میں (جسکو افراط وتفریط سے پاک رویہ کہا جاتا ہے) اسکی تشریح یوں کی ہے اللہ کی ذات اور صفات ہی حقیقی ذات وصفات ہیں- مخلوق کی ذات وصفت عارضی ہے- (ظاہر ہے کہ یہ بات بھی مبہم ہے)-

خدا بڑے بول سے بجائے مگراپنی سمجھ دانی بخوبی اس بات کوہضم کررہی ہے- اس لئے خاکسار کو منطقی طور پرنہ تو وحدت الوجود پہ اعتراض ہے اورنہ وحدت الشہود پہ- اعتراض صرف یہ ہے کہ انسانی عقل کی حدبندی سے ماوار بھی ایک نظام ہے جس کو واصف صاحب نے یوں بیان کیا تھا” اتنا حسن ہے کہ حسنِ بیان عطا ہوجائے تو بھی بیانِ حسن ممکن نہیں- اتنی وسعت ہے کہ وسعتِ بیان عطا ہوجائے تو بھی بیانِ وسعت ناممکن ہے”- پس خاکسار کو صوفیاء سے ایک ہی گلہ ہے کہ اپنی محسوسات وکیفیات اور واردات ومکشوفات کو قلم بند کرتے ہی کیوں ہو؟- ایک نابالغ لڑکے کو”بلوغ” کے رموزبھلا کیسے سمجھائے جاسکتے ہیں؟-

بہرحال، “ہم نہ صوفی ہیں نہ درویش نہ ملا نہ فقیر” بلکہ خود کو سیکولرمسلمان ڈکلئیرکیا کرتے ہیں- تصوف ہمارے سکوپ سے باہرکی چیز ہے- ایک یارطرحدارکے حکم کی تعمیل میں چند بے ربط سطور پیش خدمت ہیں-گرقبول افتد-

یہ خاکسارمروجہ تصوف کومندرجہ ذیل چارمراحل (چار سٹیجز) میں تقسیم کرتا ہے-

تصوف کا ایک زاویہ ہے ” اچھے انسان کی تشکیل”-(گرین زون)

تصوف کا دوسرا مقصد ہے” خدا کے غیبی نظام سے ارتباط”-(گرے زون)

تصوف کا تیسرا طریقہ ہے” کسی شیخ کے ہاتھ پربیعت کرنا”-( ریڈ زون)

تصوف کا چوتھا رخ ہے” علم لدّنی اور اسکے حصول کا طریقہ”-(بلیک زون)

مذکورہ بالا چاروں شکلوں کا آگے صفحات میں ایک مختصرتعارف پیش کیا جائے گا- فی الحال یہ عرض ہے کہ ان میں سے پہلے سٹیج کو ہرانسان کیلئے ضروری خیال کرتا ہوں- دوسرے کو ہرمسلمان کیلئے لازمی سمجھتا ہوں– تیسرے سٹیج بارے “نوکمنٹس “ہیں یعنی اسکوبرا بھی نہیں خیال کرتا مگر چوتھے سٹیج کومضر سمجھتا ہوں-

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *