ہمارا کائناتی مقام۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی

ہماری کائنات یقیناً حیرتوں کا سمندر ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کے نظریہ اضافت کے باعث ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ ہماری کائنات دراصل زمان و مکاں کی چادر پہ مشتمل ہے، یا اگر یہ کہا جائے کہ بنانے والے نے ہماری کائنات کو زمان و مکاں کے جالوں سے بُنا ہے تو شاید ٹھیک ہوگا،کیونکہ جب کوئی مادہ اِن جالوں میں آتا ہے تو اِن جالوں کے تانے بانے میں کھِچاؤ پیدا ہوتا ہے جسے ہم کشش ثقل کہتے ہیں۔

ہماری کائنا ت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہم جب بھی کسی کائناتی گوشے کا مطالعہ کررہے ہوتے ہیں تو دراصل ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں کیونکہ زمان و مکاں کے اِس سمندر میں کوئی بھی شے روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر نہیں کرسکتی اور ہم چونکہ کسی بھی واقعے کو دیکھنے کے لئے روشنی کے محتاج ہوتے ہیں لہٰذا ہم کبھی بھی کائنات کی موجودہ حالت نہیں دیکھ پاتے۔ یہاں تک کہ ہم جو سورج دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی 8 منٹ “قدیم” ہوتا ہے ، کیونکہ سورج سے چلنے والی روشنی 8 منٹ اور 20 سیکنڈ بھی ہم تک پہنچتی ہے، اگر کبھی سورج اچانک سے بُجھ جائے تو 8 منٹ اور 20 سیکنڈز تک ہمیں علم ہی نہیں ہوپائے گا کہ سورج بُجھ چکا ہے۔جہاں کائنات کی موجودہ حالت ہمیں ورطہ حیرت میں ڈبوئے ہوئے ہے بالکل ویسے ہی کائنات کا ماضی بھی حیران کن ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ آج سے 13.8 ارب سال قبل کچھ بھی نہیں تھا، ہماری کائنات کا وجود اُن کوانٹم لہروں کے باعث ہوا جو ایٹم سے کروڑوں گنا چھوٹی ہوتی ہے اور کائنات میں ہر مقام پہ بنتی رہتی ہیں۔ اِس دوران کسی “انفلیٹان” نامی ذرے نے اُن کوانٹمی لہروں کو مائیکرو لیول سے بڑھا کر کائناتی لیول تک بڑا کردیا۔اِس واقعے کو بِگ بینگ کہا جاتا ہے، اسی خاطر آپ کو سائنسی طالبعلم کبھی بھی بِگ بینگ کو دھماکہ کہتا دکھائی نہیں دے گا، بلکہ وہ اِس واقعے کو زمان و مکاں کا اچانک سے پھیلاؤ کہے گا۔ بگ بینگ کے پہلے سیکنڈ میں یہ کوانٹمی لہریں جنہیں quantum fluctuations کہا جاتاہے،اپنے سائز سے بڑھ کر کائنات جتنی بڑی ہوگئیں۔

بگ بینگ واقعے کے بعد کائناتی کا درجہ حرارت لامتناہی حد تک گرم تھا جس وجہ سے کائنات پہ لاکھوں سال تک اندھیرے کا راج رہا، یہ کائنات کا تاریک دور کہلاتاہے، اس دوران کائنات مکمل طور پہ اندھیرے میں ڈوبی رہی، لیکن 3 لاکھ 80 ہزار سال بعد کائنات پھیل کر اس حد تک ٹھنڈی ہوگئی کہ ہائیڈروجن کے ایٹمز کو stable ہونے کا موقع ملا۔جس وجہ سے ہائیڈروجن کے ایٹمز نے مل کر پہلا ستارہ بنایا ،یوں کائنات میں ہر سُو روشنی کی کرن پھیل گئی اِس پہلی روشنی کو آج بھی ہم حساس حالات کی مدد سے نوٹ سکتے ہیں۔ کائنات کے پھیلاؤ کے باعث روشنی کی یہ لہریں بہت کمزور ہوچکی ہیں، اِن کو “کائناتی ریزموجی پس منظر تابکاری” یاCosmic Microwave Background Radiationsکے نام سے جانا جاتا ہے، کچھ سائنسدان اِنہیں بگ بینگ کی گُونج بھی قرار دیتے ہیں کیونکہ جب آپ کا ٹی وی یا ریڈیو خراب ہوتا ہے تو اس دوران جو آواز آپ کو سنائی دیتی ہے وہ اِنہی لہروں کی ہوتی ہے۔

پہلے ستارے نے کائنات میں ایک نئے عہد کی نوید سنائی اور اس کے بعد سے آج تک ستارے پیدا ہورہے ہیں اور ختم ہوکر اپنے وجود سے کائنات کو رنگین بناتے جارہے ہیں۔ ہمارا اندازہ کہتا ہے کہ ایک انسان رات کو عام آنکھ سے 4500 ستارے دیکھ سکتا ہے اور یہ سب کے سب ایک ہزار نوری سال کے احاطے میں آتے ہیں، یاد رہے کہ ہماری کہکشاں ملکی وے تقریباً 2 لاکھ نوری سال تک وسیع ہےاور ہماری کائنات میں 2 ہزار ارب کہکشائیں موجود ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم عام آنکھ سے کائنات کو تو چھوڑیں، صرف اپنی کہکشاں ملکی وے کا ایک فیصد حصہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔

یہ حقیقت ہے کہ کائنات کی وسعتیں اِس کو پُراسرار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ہماری کائنات کتنی وسیع ہے؟ اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ ہماری زمین جس ستارے کے گرد چکر لگارہی ہےاُس کو ہم سورج کہتے ہیں۔ جب اربوں ستارے ملکر کوئی گروپ بناتے ہیں تو اس کو کہکشاں کہا جاتا ہے، ہم “ملکی وے” نامی کہکشاں میں رہتے ہیں اس میں سورج جیسے 400 ارب ستارے موجود ہیں ،یوں یہ ایک درمیانے سائز کی کہکشاں ہے۔ ہماری پڑوسی کہکشاں کا نام “اینڈرومیڈا” ہے، جس میں ایک ہزار ارب ستارے موجود ہیں اور ہم سے دُگنے سائز کی ہے۔ بہرحال، جیسے ستارے ملکر کہکشاں بناتے ہیں ویسے ہی کہکشائیں ملکر ایک لوکل گروپ بناتی ہیں۔ مجموعی طور پہ کائنات پھیل رہی ہے مگر لوکل گروپ میں موجود کہکشائیں ایک دوسرے کی کشش ثقل میں جکڑی ہوتی ہےجس وجہ سے یہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور نہیں ہورہیں، یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِن کہکشاؤں کے مابین کشش ثقل اتنی زیادہ ہے کہ یہ فی الحال ڈارک انرجی (کائنات پھیلانے والی قوت) کو شکست دے رہی ہیں۔ہم جس لوکل گروپ کا حصہ ہیں اِس میں 54 کہکشائیں دریافت ہوچکی ہیں اور یہ سب ایک دوسرے کی جانب 123 کلومیٹر فی سیکنڈکی رفتار سے بڑھ رہیں ، ہمارا اندازہ ہے کہ اگلے ایک کھرب سال میں ان سب کا ٹکراؤہوجائے گا اور ایک دیوہیکل کہکشاں وجود میں آجائے گی۔

جیسے کہکشائیں ملکر لوکل گروپ بناتی ہیں ویسے ہی لوکل گروپس ملکر کلسٹرز بناتے ہیں، ہمارا لوکل گروپ “وِرگو کلسٹر” کاحصہ ہے جو 100 لوکل گروپس پہ مشتمل ہے۔ ایک عرصے تک ہمارا گمان تھا کہ “وِرگو کلسٹر” سے آگے ایسا کچھ دریافت نہیں ہوپائے گا لیکن 2014ء میں سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد اعلان کیا کہ ہمارا “وِرگو کلسٹر “بھی دراصل ایک عظیم سُپر کلسٹر کا چھوٹا سا حصہ ہے، اِس عظیم سُپر کلسٹرکو لانیاکیا (Laniakea) نام دیا گیا۔2015ء کی تحقیق کے مطابق ہماری قابل مشاہدہ کائنات میں ایسے 1 کروڑ سُپر کلسٹر موجود ہوسکتےہیں، قابل مشاہدہ کائنات سے باہر کے علاقے میں کتنے سُپر کلسٹر موجود ہیں اِس متعلق ہمیں نہیں معلوم!

سو اب اگر کبھی آپ سے آپ کا کوئی پتہ معلوم کرے تو آپ لازمی بتائیے گا کہ ہم قابل مشاہدہ کائنات میں ، “لانیاکیا سُپر کلسٹر “کے کنارے پہ موجود “وِرگو کلسٹر”کے ایک “لوکل گروپ” میں “ملکی وے” نامی کہکشاں کے کنارے پہ موجود “سورج” نامی ستارے کے تیسرے سیارے “زمین” پہ “پاکستان” نامی ملک میں رہتے ہیں۔ہماری کائنات پُراسراریت کا منبع ہے ، اِس کی وسعتیں دیکھ کر پہلا سوال یہی ذہن میں آتا ہے کہ ہم اتنی بڑی کائنا ت میں کیسے پہنچے؟ ہمارا یہاں مقصد کیا ہے؟زندگی صرف زمین پہ کیوں موجود ہے؟کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ ہم رات کو جب آسمان دیکھتے ہیں دکھائی دینے والے تمام ستارے کائناتی صحرا میں ریت کے ذرے کی مانند ہیں۔ اصل کائنات تو اِن سے زیادہ خوبصورت اور رنگین ہے، اُن علاقوں میں کیا راز چھپے ہوسکتے ہیں ہمیں اِن کا اندازہ تک نہیں ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *