سلطان صلاح الدین ایوبی کی فراغ دلی۔۔القلبی

یروشلم کی یورپین فتح کے دوران ١٠٩٩ سن عیسوی میں صلیبی جنگجوؤں نے کئی مسلمان اور یہودی مرد عورتیں بچوں سمیت قتل کیے، جس کے 28 سال بعد صلاح الدین ایوبی کی فتحِ یروشلم کے دوران صلاح الدین نے کسی بھی عیسائی کا اس طرح قتلِ عام نہیں کیا بلکہ ان کو امن کے ساتھ یروشلم چھوڑنے کی اجازت دی۔ یروشلم فتح ہونے کے بعد عیسائی ڈر رہے تھے کہ اب صلاح الدین بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو ہم نے مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ 28 سال پہلے کیا تھا مگر معاملا کچھ اور ہی نکلا ،اُس نے بیواؤں بوڑھوں اور بچوں کا خاص خیال کیا کہ کہیں یہ زندگی بھر کے لیے غلام نہ بنالیے جائیں۔ صلاح الدین نے یروشلم ہفتہ کے دن فتح کیا اور اتوار کو چرچ کھولے رہنے کی ہدایت کی۔ مغرب اور مشرق دونوں ہی کے مؤرخین نے صلاح الدین کے فراخ دلی کے واقعات بیان کیے ہیں۔ ان واقعات میں ایک مشہور واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ:

یروشلم کامیابی کے ساتھ فتح کرنے کے بعد صلاح الدین کے پاس ایک فرانسیسی خاتون آئی اور صلاح الدین سے مدد طلب کرنے لگی ،معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس خاتون کا بچہ اغوا کر لیا گیا ہے جیسے غلامی میں بیچ دیا گیا ہے۔ صلاح الدین نے اس عورت کی یہ اِلتجا سن کر حکم دیا کہ اس عورت کے بچے کو ڈھونڈا جائے۔ صلاح الدین کے سپاہیوں کی کوشش کے بعد آخر کار اس بچے کا پتہ چل ہی گیا جس کے بعد صلاح الدین نے اس فرانسیسی خاتون کو اس کا بچہ واپس دلوایا۔
مورخ رینی گروسسیٹ نے کہا ، “[صلاح الدین کی] فراخ دلی ، ان کی پرہیزگاری ، جنونیت سے مبرا ہے ۔۔۔ انہوں نے اسلام کی سرزمین کے نسبت میں فرانس، شام میں کوئی کم مقبولیت حاصل نہیں کی” ۔

جہاں لوگ صلاح الدین ایوبی کو ظالم قرار دیتے ہیں وہیں پر اُن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صلاح الدین مغرب میں نہ صرف اپنی یروشلم کی فتح کے باعث مشہور تھا بلکہ ان کی فراخ دلی اور عادل لیڈر ہونے کی خوبی بھی ان کی وجہ شہرت بنی۔

اَلقلبی
اَلقلبی
تاریخ کا طالبِ علم، سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنا کا شوق حاصل ہے. پاکستان کا باشندہ اور مذہبِ اسلام کا پیرو کار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *