بحران سنگین ہوتا جائے گا۔۔۔اسلم اعوان

تاریخی اعتبار سے خیبر پختون خوا کا دوسرا بڑا ڈسٹرک ڈیرہ اسماعیل خان اپنے سماجی روّیوں اور سیاسی فعالیت کی بدولت ہمیشہ برصغیر پاک و ہند کی سیاست کے مرکزی دھارے پہ اثر انداز ہوتا رہا اور یہاں کے عظیم سیاسی کارکنوں اوربلند قامت رہنماوں نے قومی سیاست پہ ناقابل فراموش نشانات مرتب کئے۔ہرچند کہ روایتی اعتبار سے شہر کی مقامی سیاست نوابوں،سرداروں اور جاگیرداروں کے گرد گھومتی رہی لیکن قومی اور نظریاتی سیاست کے حوالہ سے یہ بیدار شہر روز اول سے ہی جمیعت علماءہند کا سیاسی گڑھ تھا۔تاہم 1931 کے ہندو مسلم فسادات کے بعد پہلی بار یہاں کے سیاسی تمدن میں آل انڈیا مسلم لیگ کو قدم جمانے کے مواقع ملے۔(یہ اچانک کایا کلپ جس جامع بحث کی متقاضی ہے اسکی ان صفحات میں گنجائش نہیں)سنہ1937 کے الیکشن میں یہاں کی تمام صوبائی نشستیں آزاد امیدواروں نے جیت لیں تاہم کانگریس نے آل انڈیا قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں جمعیت علماءہند کے کوٹہ میں سرداراسد جان گنڈہ پورکو ایم ایل اے منتخب کرا لیا،اس نشست کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابی مہم چلانے کےلئے مولانا حسین احمد مدنی خود ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تھے۔

اسی سال ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اورنگ زیب خان گنڈہ پور نے صاحبزادہ عبدالقیوم خان کے ساتھ مل کر این ڈبلیو ایف پی(اب خیبر پختوں خوا )مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور اپنی چھوٹی سی مورس گاڑی پہ مولانا شوکت علی خان کو پورے این ڈبلیو ایف پی کا دورہ کرایا۔صاحبزادہ عبدلقیوم کی وفات کے بعد 1938 میں مسلم لیگ کی طرف سے سردار اورنگ زیب خان کو صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا گیا۔اسی سال مقامی صحافی شہزادہ فضل داد خان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی،انہی دنوں ڈیرہ اسماعیل خان مسلم لیگ کی دعوت پہ(صدراتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس فائز عیسی کے والد)قاضی فائز عیسی نے ڈی آئی خان کا دورہ کر کے لیگی کارکنوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔1939 کے ہندومسلم فسادات کے بعد مسلم لیگ اس خطہ کی مقبول ترین جماعت بن کے ابھری،مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر کانگریسی قیادت1941 میں موہن چندگاندھی کو ڈیرہ اسماعیل خان لائی لیکن گاندھی جی کی بھاری بھرکم شخصیت بھی مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی پذیرائی کی راہ روک نہ سکی۔1946 میں کانگریسی وزیراعلی ڈاکٹر خان کی دعوت پہ وزیراعظم ہند،جواہرلعل نہروں،ڈی آئی خان تشریف لائے تو لیگی کارکنوں نے انکے خلاف زبردست مظاہرے کر کے نہرو کو جلوس منسوخ کرکے واپس پلٹنے پہ مجبور کر دیا۔

اپریل1948 میں گورنر جنرل قائد اعظم محمدعلی جناح جب پہلی بار ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو یہاں کے مشتعل سیاسی کارکنوں نے انہیں گارے کے تھال میں چارہ پیش کر کے تقسیم ہند کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بدحالی پہ انوکھے انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈکرایا۔1964 کے صدراتی الیکشن میں مولانا مفتی محمود نے عورت کی حکمرانی خلاف اسلام قرار دینے کا فتوا دیکر جنرل ایوب خان کی حمایت کی تو یہاں کے جمہوریت پسند باسیوں نے محترمہ فاطمہ جناح کا فقید المثال استقبال کر کے تاریخ رقم کر ڈالی،اِس دورہ کے موقعہ پہ سابق وزیراعظم،چوہدری محمدعلی اورعوامی لیگ پنجاب کے صوبائی صدر ملک حامد سرفراز بھی مادر ملت کے ہمراہ تھے۔1968 میں ذولفقار علی بھٹو صدرایوب خان کے خلاف اپنی سیاسی مہم کے سلسلہ میں پہلی بار ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو معروف سیاسی کارکن حقنوازگنڈہ پور نے انہیں شیشے کی بوتلوں میں ان بارشی جوہڑوں کا کیڑوں والا پانی پیش کیا جہاں سے انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پینے پہ مجبور ہوتے تھے۔ڈیرہ اسماعیل خان ہی میں پہلی بار ذولفقار علی بھٹو کے جلسہ پہ آنسو گیس کی شلنگ اور فائرنگ کی گئی،اس خبر کو بی بی سی سمیت عالمی ذرائع ابلاغ نے اٹھایا تو مسٹر بھٹو کی سیاسی تحریک راتوں رات مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگی۔شاید اسی لئے 1970 میں ذولفقار علی بھٹو نے لاڑکانہ،کراچی(لیاری)،ملتان اور لاہور کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 13 سے الیکشن لڑ کے اس خطہ کی سیاسی حیثت کو تسلیم کرنا ضروری سمجھا۔این ڈبلیو ایف پی کے اس دورافتادہ حلقہ میں بھٹو کی طرف سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد کونسل مسلم لیگ کے صدر ممتازدولتانہ،یوسف خٹک،بہرور سعید اور سرانجام خان جیسے انٹی بھٹو رہنماوں نے بھی یہاں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔

اگرچہ مولانا فضل الرحمٰن کے والد گرامی مولانا مفتی محمود نے اس حلقہ میں مسٹر بھٹو کو شکست کا مزہ چکھایا (بھٹو کے مقابلہ میں مفتی محمودکی کامیابی کا اصل راز کیا تھا اس پر سے کسی مناسب وقت پر پردہ اٹھائیں گے)تاہم انتخابی شکست کے باوجود مسٹر بھٹو نے اس خطہ سے اپنی ذہنی اور سیاسی وابستگی کو کبھی کمزور نہ ہونے دیا۔وزیراعظم بننے کے فوری بعد زیڈ اے بھٹو نے ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل یونیورسٹی کے قیام کے علاوہ سی آر بی سی کینال کی تعمیر کی بنیاد رکھ کر اس خطہ کی تقدیر بدل ڈالی،گومل یونیورسٹی کی بدولت غیریب و نادر خاندانوں کے ہزاروں ذہین طلبہ اعلی تعلیم حاصل کر کے بہترین روزگار کے علاوہ معاشرے باعزت مقام پاچکے ہیں اور سی آر بی سی کینال نے ساڑھے تین لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کے وسائل مہیا کر کے یہاں کے دیہی سماج سے غربت و افلاس کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا،ڈیرہ اسماعیل خان کے باسی مسٹر بھٹو کے ان احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔پھر قومی تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی آیا،جب پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد ایوان ذولفقار علی بھٹو اوراپوزیشن لیڈر مفتی محمود مغفور دونوں کا انتخابی حلقہ ڈیرہ اسماعیل خان تھا۔پھر 1977 میں بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک کی قیادت ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ایم این اے مفتی محمود مرحوم کے حصہ میں آئی۔بدقسمتی سے نظام مصطفےﷺ کی یہ تحریک ضیا الحق کے مہیب مارشل لاءپہ منتج ہوئی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سنہ 1997 کے انتخابات میںوزیراعظم عمران خان بھی اسی حلقہ سے مولانا فضل الرحمٰن کے مقابلہ میں الیکشن لڑ چکے ہیں،اس الیکشن میںمسلم لیگ نواز کے عمرفاروق بیاسی ہزار ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے تھے،مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان دونوں الیکشن ہار گئے۔آج گردش ایام ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے مولانا فضل الرحمٰن کو،1997 میں ڈیرہ اسماعیل خان ہی سے اپنے مقابلہ میں الیکشن لڑنے والے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ویسی ہی ملک گیر تحریک اٹھانے کےلئے میدان میں لائی جیسی سنہ 1977 میں وزیراعظم ذولفقارعلی بھٹو کے خلاف ان کے والدگرامی مفتی محمود نے چلائی تھی۔لیکن تاریخ کس طرح تقدیر کی مجبوریوں کو بے نقاب کرتی ہے،بیالیس سال قبل جس مفتی محمود مرحوم نے تحریک نظام مصطفےﷺ چلا کر منتخب وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کے ضیا الحق کے مارشل لاءکی راہ ہموار بنائی تھی آج اسی مفتی محمود کا بیٹا مولانا فضل الرحمٰن ایک پردہ نشیں مارشل لاءکے خلاف سویلین بالادستی کی تحریک منظم کر کے اپنے والد گرامی کی ہاتھوں سے لگائی گئی گانٹھوں کو اپنے دانتوں سے کھولنے کی کوشش میں مشغول ہیں۔ستم ظریقی کی انتہا دیکھئے کہ جنرل ضیا لحق کے مارشل سے سب سے زیادہ فیض پانے والے شریف خاندان کی عورتیں،مرد اور بچوں سمیت سب لوگ اس وقت آمریت کے خاتمہ اور سویلین بالادستی کی خاطر ناقابل فراموش قربانیاں دےکر اپنے گناہوں کی تلافی کرنے پہ ویسے ہی مجبورنظر آتے ہیں،جیسے ایوبی آمریت سے فیضیاب ہونے والے ذولفقار علی بھٹو اور اسکے خاندان کو جمہوریت کی بحالی کےلئے لازوال قربانیاں دینا پڑی تھیں۔سیزر نے کہا تھا کہ”میں حیران ہوں کہ مختلف طریقے اختیار کرنے کے باوجود لوگ ایک ہی جیسے انجام سے دوچار کیوں ہوتے ہیں“۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *