• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سرحدو ہٹ جاؤ، مجھے حامد سراج سے ملنا ہے ۔۔ مشرف عالم ذوقی/قسط1

سرحدو ہٹ جاؤ، مجھے حامد سراج سے ملنا ہے ۔۔ مشرف عالم ذوقی/قسط1

غیر آں زنجیرزلف دلبرم

گر دو صدزنجیر آری بردرم (رومی)

اگر دوسو زنجیریں بھی میرے پاؤں میں ڈال دو تو میں سب کو توڑ کر رکھ دوں گا۔
عشق کی زنجیر کے سوا کوئی زنجیر مجھے باندھ نہیں سکتی۔
تم عشق کےبحر بیکراں تھے حامد سراج۔ تم نے قسم توڑدی اور تم مجھ سے پہلے چلے گئے۔ تم سراپا عشق تھے اور میں ایک پیاسا کہ تمہارے نورانی چہرے میں سرحدوں کی زنجیروں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا کرتا تھا اورسوچتا تھا کہ تم اس صدی میں کیسے پیداہوگئے کہ میٹھے پانیوں کی آمد بند ہوگئی۔ ریگستانی گھوڑے روپوش ہوئے۔ صوفیوں کی آمد کا سلسلہ رک گیا۔ معجزوں کا سلسلہ ٹھہر گیا ۔ محبت کی بارشیں تھم گئیں۔ تم آئے اور تم نے لہروں کو جاگنے کا حکم دیا، تم خوشبودار درختوں اورشیریں چشمے سے محبت کو ڈھونڈ کر لے آئے۔ تم نے یا ران چمن کے لئے محفل سجائی اور موسم خزاں کو معجزے سے موسم بہارمیں تبدیل کردیا۔ تم اس دورمیں انسان کی عظمت کی مثال بن گئے جب تاریخ کے پتھریلے جسم سے لہو بہہ رہا تھا اور سرحدوں پر آگ روشن تھی۔ تم نے حضرت ایوب کی طرح اذیت کی پرورش کی اورصبر کو مہرباں ساعتوں کا کلمہ بنالیا۔ تم جا رہے تھے مگرتمھارے ہونٹوں پرحرف شکایت نہ تھی کہ ہزاروں لاکھوں شمعوں کو روشن کرنے کےبعد تم اس مقام پر تھے جہاں فرشتہ محبت کی کتاب میں سر فہرست تمہارانام لکھ رہے تھے۔۔ تم کیسے جا سکتے ہو حامد سراج۔۔
آج وہ تمام منظرزندہ ہیں اور ایک بانسری ہے جہاں سے درد کے نغمات ابھرتے ہیں۔ایک سمندر ہے جوخاموش ہے۔ ایک آہ ہے، جو فلک سے رحم لانے نہیں، تمھیں دیکھنے کی آرزو کرتی ہے اور بادلوں کوراستہ دینے کے لیے کہتی ہے۔ ۸۲۔۱۹۸۰، ہم کب ملے، کیوں یاد کروں۔۔کیوں تصورکروں کہ تم نہیں ہو۔ پاکستان کے رسائل میں شائع ہونا شروع کیا تو سب سے پہلے تم ملے۔تم ملے اور دوست بن گئے۔ ایک ماہانہ رسالہ تھا۔ اب نام یاد نہیں۔ میں مکتوب تمھارے نام لکھتا تھا اورتم میرے نام۔ پھرہماری گفتگوفون پرہونے لگی۔ ہر ملاقات میں تم کہا کرتے، ذوقی بھائی، چائے پی رہا ہوں۔ آپ کے لیے بھی منگواتا ہوں۔ ابھی دونوں بھائی مل کر گفتگو کرتے ہیں۔ حامد سراج، تم نے عشق میں محبت کا چراغ رکھ دیا اور سرحدوں کی زنجیریں اسی وقت توڑدیں جب ہم پہلی بار فون پر باتیں کرتے ہوئے اس طرح ملے جیسے کوئی اپنا بھی اپنوں سے نہیں ملتا۔ پھر سال گزرتے گئے۔ تم مجھ میں سماتے چلے گئے۔ اگر میں شرح عشق بیان کروں توخدشہ ہے کہ ایک قیامت آجائے گی۔ کیا تمہاری طرح کوئی اوربھی محبوب تھا۔ یاران چمن کی رونقیں وہی ہیں اورمیں سرحدوں کی زنجیروں کو وقت کی رومانی قندیل سے الگ کررہا ہوں، تم تہجد کی نمازمیں تھے اور تاریک فضا میں ایک دنیا کے لیے محبت کا صحیفہ لکھنے آئے تھے۔۔
حامد پیارے ۔۔تمہاری تمام کتابیں میرے پاس ہیں ۔ابھی بہت کچھ لکھنا ہے مجھے ۔ مجھے خیال ہے ، تم میا لکھنے کے دوران اداس تھے ، تم اس سو سال کی اداسی کے درمیان تھے ، جس کا حساب مارخیز نے بھی نہیں لگایا تھا . میا کی قرات کے دوران پتہ نہیں ، کیسی بے قراری میرے وجود پر مسلط تھی اور مجھے کیا خبر تھی کہ بس کچھ برسوں بعد ہی یہ بے قراری خزاں موسم میں تبدیل ہو جائے گی .
میا ۔۔ یاد ہے ، میں نے کیا لکھا تھا پیارے حامد سراج . ابھی یادوں کا وہ صفحہ کھولتا ہوں جن کے بارے میں یقین ہے کہ یہ صفحے کبھی بوسیدہ نہیں ہونگے ..نہ تمہاری یاد کی خوشبو سے خالی ہوں گے ۔۔پ

آنکیں کھلتے ہی، آنکھوں میں بسنے والا سب سے پہلا ”روپ متی“ چہرہ اِسی میّا کا ہوتا ہے۔ لیکن ماں کا دکھ کس نے دیکھا ہے۔ ماں کا سکھ کس نے جانا ہے____ شری کرشن کی بنسریا چپکے چپکے، ایک سفید جھوٹ کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے____
’میاّ موہے، میں نہیں ماکھن کھایو۔۔
لیکن میاّ تو صاف دیکھ رہی ہے۔ بال شری کرشن کے ہونٹوں پر مکھن لگا ہے۔اور شری کرشن اپنی میاّ سے صفائی پر صفائی دیے جارہے ہیں۔ ’میں تو گائے چرانے مدھوبن میں گیا ہوا تھا۔ دوستوں سے پوچھو___ سانجھ ڈھلے واپس آیا__میاّ موہے، میں نہیں ماکھن کھایو۔۔
محبوب نے اپنے عشق سے دریافت کیا____ بولو، تمہیں کیا چاہئے۔؟
عشق نے امتحان لیا____ ماں کا دل لے آﺅ
رات آدھی سے زیادہ گزر گئی۔ آسمان پر ستارے واپسی کے آدھے راستے طے کرچکے ہیں____ محبوب کے ہاتھوں میں خنجر چمکتا ہے____ ماں بستر پر غنودگی کے عالم میں سوئی پڑی ہے____ محبوب کا خنجر، ماں کے سینے کے آر پار اُتر جاتا ہے۔ ہاتھوں میں ماں کا دل ہے…. وہ ’دلِ بیتاب‘ سے ملنے کی آرزو لئے آگے بڑھتا ہے____ ٹھوکر لگتی ہے____ ماں کے دل سے آواز آتی ہے____ بیٹا، تمہیں چوٹ تو نہیں لگی____‘
پیار تو دونوں کرتے ہیں۔ باپ بھی اور ماں بھی____ لیکن ’میاّ‘ کی کہانیوں سے صفحے در صفحے آباد ہیں۔ باپ میں ایک ذمہ دار وجود سانس لیتا ہے تو ماں، بچے پرنہال ونہال____ بچہ چاہے جیسا بھی ہو، اچھا بُرا۔ چور ڈاکو یا پھر____ ماں تو ماں ہوتی ہے____ عمر کے ’ڈینے‘ نکلتے ہی، ہوا میں ہولے ہولے اُڑنے تک، بچہ، ماں کی نظر میں بچہ ہی رہتا ہے یعنی کائنات کا ایک ننھا سا کھلونا____ ماں دیکھتی ہے اور آنکھوں میں ایک نہ ختم ہونے والی چمک، ایک کبھی نہ بجھنے والی مسکان پیدا ہو جاتی ہے____
میاّ کے مطالعے سے گزرنے کے بعد میں ہفتوں سو نہیں پایا____ وہ رات بے قراری کی رات تھی۔ میں بالکنی پر آگیا۔ دیر تک ٹہلتا رہا۔ ہاتھوں میں سگریٹ مچلتا رہا۔ ایک کے بعد ایک____ سامنے آسمان کھلا تھا۔ ستاروں کی چادر تنی تھی۔ مگر میں کیا دیکھ رہا تھا بہت سے چمکتے، ننھے منے ستاروں میں سے، کسی ایک ستارہ میں، کس کی جھلک دیکھنے کو بیتاب تھا____ اندر کے کسی گوشے میں چپکے سے ایک آواز تھرائی____
ڈیر حامد سراج!
میں تو فکشن لکھتا تھا____
تم نے میاّ لکھ دی____ ماں کبھی فکشن، نہیں ہوتی۔ ماں تو بس ماں ہوتی ہے۔ صدیاں گزرجانے کے بعد بھی____
مومن کا زمانہ ہوتا تو کہتا____ ”میرا سارا دیوان لے جاﺅ۔ مجھے میاّ دے دو۔“
ڈئیر حامد سراج، جن کے پاس میاّ ہوتی ہے، وہی جانتے ہیں کہ اُن کے پاس دنیا کی کتنی بڑی طاقت ہے ____وہ کسی سے بھی مقابلے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں۔ برسوں پہلے سلیم جاوید نے ایک فلم لکھی تھی ____دیوار ____امیتابھ کی زندگی میں یہ فلم ایک میل کا پتھر ثابت ہوئی۔ اِس فلم میں دو بھائی تھے۔ مفلسی اور ظلم سے لڑتا ہوا ایک بھائی انڈرورلڈ کا سرغنہ بن جاتا ہے۔ دوسرا بھائی ششی کپور ایک پولیس انسپکٹر۔ سرغنہ کے پاس آرام وآسائش کے سب سامان ہوتے ہیں۔ ایک بار وہ اپنی دولت کی چمک، کو بھائی کے سامنے گنواتا ہوا پوچھتا ہے____ میرے پاس بنگلہ ہے، گاڑی ہے، دولت ہے، تمہارے پاس کیا ہے؟
بھائی جواب دیتا ہے____ ”میرے پاس ماں ہے۔“
شاید ماں پر لکھنا سب سے مشکل کام ہے۔ 1983 کے آس پاس کا زمانہ رہا ہوگا جب میری ماں دنیا کی تمام آرام وآسائش کو ٹھکراکر ہمیشہ کے لئے وداع کی گھاٹیوں میں اُتر گئی۔ عرصہ گزر گیا____ برسوں کی تھکن اوڑھنے کے باوجود آج بھی وداع کی گھاٹیوں میں پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی____ 21-22 برس گزرنے کے بعد بھی، آج بھی یہ عالم ہے کہ پلٹ کر البم سے ماں کی تصویر دیکھی نہیں جاتی۔ ماں چپکے سے، لاشعور کے ایک گوشے میں رکھ دی گئی ہے۔ یہ گوشہ کھولتے ہوئے بھی ڈر سا محسوس ہوتا ہے۔ ماں ہے، مگر نہیں ہے۔ ماں کہیں نہیں ہے۔ احساس اور البم کی تصویروں میں بھی____ کیونکہ وہاں سے ممتا کی جو سڑک شہر خموشاں تک جاتی ہے، وہاں تک تنہائی کے اداس قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے بھی ہول آتا ہے____!
لیکن مائی ڈیر حامد سراج، تم نے یہ معرکہ طے کیا ہے۔ گوکہ یہ کہانی ماں سے شروع ہوکر ماں پر ہی ختم ہوجاتی ہے اور کیسی نازک حقیقت کہ اِس کہانی میں جو جدوجہد ہے، کشمکش ہے، وہ سب ماں کے ئے ہے۔ _ شاید یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جہاں ایک بڑی جنگ صرف ماں کے لئے لڑی جارہی ہے____ ماں جو زندگی اور موت کی کشمکش میں بیٹے کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنگ بن گئی ہے____ اور ایسے موقع پر دنیا کے سارے فلسفے سو گئے ہیں اور اگر کوئی فلسفہ باقی ہے تو صرف ___ماں!
”میں نے لوح دل پر تیرا نام لکھا…. تم کو پکارا…. آواز دی
ماں….
اور میری آنکھوں میں سمندر اُتر آئے
قلم کی ناﺅ بے رحم سمندر کی سفاک موجوں کا کہاں تک مقابلہ کرے….؟
یوں لگتا ہے دل کے توے پر لفظ جل گئے ہیں۔
جلے ہوئے لفظوں کی راکھ میں انگلیاں پھیرتے ان گنت قرن گزر گئے۔
آج پھر….
میں دشت تنہائی میں سوچ رہا ہوں کہ ماں کے بعد بھی کیا کہیں کوئی سایہ ہوتا ہے؟‘’
” پیارے حامد سراج
تمہیں پت جھڑ کے موسموں میں ہی جانا تھا۔
تمہارے بعد موسم نہیں بدلیں گے
تمہیں لحد میں اُتار کر پلٹے تو زمانے بدل گئے تھے
ہم متروک عہد کے انسان دوبارہ غار کی تلاش میں ہیں۔
ایک ہی موسم ہے پت جھڑ…. کا….

ماں، جو زمین اوڑھ کر سوگئی____ جس کے جاتے ہی موسم پت جھڑ کا ہوگیا____ دھوپ غائب اور آنگن میں خاموشی اُتر آئی____پیارے حامد سراج ، تم نے اردو فکشن کی تاریخ میں ’میاّ‘ لکھ کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جو اِس سے قبل کسی بھی قلم کار کے حصے میں نہیں آیا تھا۔ فرانز کفکا اگر باپ کی یادوں کو تحریری شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو وہاں گلے شکووں کے ’طوفان‘ کے علاوہ احساس وجذبات کی وہ حکایت خونچکاں نہیں ملتی جو حامد سراج کی تحریر میں پائی جاتی ہے۔ میاّفکشن نہیں ہے۔ ایک ایسی درد بھری سچائی ہے، جس سے گزرنا بھی جگر والوں کا ہی کام ہے۔ میکسم گورکی کی ماں تو مزدوروں کی تھی ____
لیکن تمہاری میّا تو مزدوروں کی بھی اور ہم سب کی میّا ہے____
تم نے تو میّا میں ’صدیاں‘ رکھ دیں____
تم نے میّا کو فکشن کی لازوال بلندیوں پر پہنچادیا____
اب یہ باتیں کس سے کروں .. سانجھ بھیی چودیس ..چل خسرو گھر آپنے ….
( جاری ہے)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *