• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آصف زارداری کے خلاف جاری انتقامی کاروائیاں اور تاریخ کی درست سمت۔ ۔غیور شاہ ترمذی

آصف زارداری کے خلاف جاری انتقامی کاروائیاں اور تاریخ کی درست سمت۔ ۔غیور شاہ ترمذی

اصل میں لوگ ذیابیطس سے نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے مرتے ہیں۔‏ ماہر امراضِ شوگر ڈاکٹر شوگر کے شکار اپنے مریض کی شوگر کی وجہ سے پیدا ہونے والی ان بیماریوں کو روکنے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔‏ لیکن جب لوگ ان بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں توپھر اُن کا مناسب علاج ڈاکٹروں کے بس سے باہر ہوتا ہے۔شوگر کے ہر مریض کا علاج مختلف طریقے سے ہوتا ہے کیونکہ ہمارے جسم میں شوگر پیدا کرنے والے لبلبہ کا رویہ ہر مریض میں مختلف ہوتا ہے۔ شوگر کنٹرول کرنے میں ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ہر مریض کو بھی بہتیری باتیں اپنے ذہن میں رکھنی پڑتی ہیں۔‏ بےشک ڈاکٹر اور نرسیں ہی شوگر کے مریض کی دیکھ‌بھال کر رہے ہوتے ہیں لیکن مریض کو بھی یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ اُس کا علاج کس طریقے سے ہونا چاہیے۔‏جب ایک ڈاکٹر شوگر کے مریض کو عرصہ دراز سے دیکھ رہا ہوتا ہے تو وہ دراصل اُس کے لبلبہ کے رویہ کو سمجھ چکا ہوتا ہے۔ اپنے پرانے معالج کو چھوڑ کر نئے معالج کی طرف جانا بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ نئے ڈاکٹر کو مریض کے ساتھ نئے سرے سے دوبارہ شروع سے سیکھنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے مریض کا علاج کیسے کر سکتا ہے ورنہ وہ مریض کا علاج ٹھیک طرح سے نہیں کر سکتا۔ یہ بات خصوصا‘‘ اُس وقت بہت اہم ہو جاتی ہے جب مریض شوگر کی وجہ سے بلڈ پریشر، دل کے امراض، نسوں کے امراض اور ریڑھ کی ہڈیوں میں درد کا شکار ہو جاتا ہے۔

نیب کی حراست میں راولپنڈی میں قید سابق صدر آصف علی زارداری کا بھی یہی مسئلہ ہے۔اُن پر بنکوں میں کروڑوں، اربوں کے جعلی اکاؤنٹس کھولنے کے مقدمات نیب نے درج کئے ہیں جن میں نیب نے اُن سے جو پوچھنا تھا، وہ پوچھ چکی ہے۔ زارداری صاحب کو نیب کی حراست میں 5 مہینوں سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس عرصہ میں نیب نے زارداری صاحب سے تفتیش کے لئے جتنا ریمانڈ عدالتوں سے لینا تھا، وہ لے چکی ہے۔ ابھی تک زارداری صاحب کے کیس کی عدالت میں باقاعدہ سنوائی بھی شروع نہیں ہو سکی۔ زارداری صاحب کسی بھی کیس میں نہ تو سزا یافتہ ہیں اور نہ ہی مفرور ہیں مگر انہیں عدالت کے فیصلہ اور کیس کی سماعت سے پہلے ہی جیل میں رکھا ہوا ہے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے کہ ایک جرم کا وقوعہ صوبہ سندھ میں ہوا ہے مگر اس کے ملزم کو نیب نے پنڈی میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ یوں کسی دوسرے صوبہ سے ایک ملزم کو دوسرے صوبے میں حراست میں رکھا گیا ہو۔ جس طرح کی بیماریوں کا شکار اپنی ضعیفی میں زارداری مبتلا ہیں، انہیں مسلسل میڈیکل نگہداشت کی ضرورت ہے۔ زارداری صاحب نے ضمانت کی درخواست نہیں دی بلکہ وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے جو میڈیکل بورڈ اُن کے علاج کے لئے تشکیل دیا ہوا ہے، اُس میں وہ زارداری صاحب کے اُن 2 ڈاکٹروں کو بھی شامل کر لیں جو کئی سالوں سے اُن کا علاج کر رہے ہیں اور اُن کے امراض کی ساری ہسٹری کو سمجھتے ہیں۔

اپنی نفرت اور اندھے انتقام میں مبتلا تحریک انصاف کی حکومت اور نیب زارداری صاحب کی اس درخواست کو بھی قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ نفرت اور انتقام میں جنونی ہوئے ایسے لوگوں کی داستان ہے جو سیاسی مخالفت کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنے کے بعد یہ سمجھ رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں وہ کبھی بھی اقتدار سے دور نہیں ہوں گے اور ہمیشہ اقتدار کا ہما اُن کے سر پر منڈلاتا رہے گا۔ افسوس اُن کا یہ جنون بھی اُن کی باقی غلط بیانیوں اور جھوٹے دعوؤں کی طرح غلط ثابت ہو تا ہے کیونکہ ہر بستی، ہر محلہ کے نواح میں آباد شہر خموشاں ایسے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ ملک و قوم کے لئے ناگزیر ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ مخالف سیاستدانوں کو جیلوں میں بند کر دینے سے وہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے۔ ویسے بھی تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ جیت ہمیشہ اُس کی ہوتی ہے جو تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہوتا ہے۔ آج سے پچاس /سو سال بعد ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ تاریخ ہمیں روندتی ہوئی آگے نکل جائے گی۔ آج یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہے اور کون تاریخ کے غلط دوراہے پر ہے. کون حق کا ساتھی ہے اور کون باطل کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے، کون سچائی کا علمبردار ہے اور کون جھوٹ کی ترویج کر رہا ہے، کون دیانت دار ہے اور کون بے ایمان، کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ ہم میں سے ہر کوئی خود کو حق سچ کا راہی کہتا ہے مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، کیونکہ اگر ہر شخص نے حق کا علم تھام لیا ہے تو پھر اس دھرتی سے ظلم اور ناانصافی کو اپنے آپ ختم ہو جانا چاہیے لیکن سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اُس منزل سے کہیں دور بھٹک رہے ہیں۔

یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقتور تھی مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقتور تھا۔ ولیم والس کی دردناک موت کے بعد اس کا نام لیوا بھی نہیں ہونا چاہیے تھا مگر آج ابیرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں ہیں، تاریخ میں ولیم والس امر ہو چکا ہے۔ گلیلیو پر کفر کے فتوے لگانے والی چرچ اپنے تمام فتوے واپس لے چکی ہے، رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور اُس وقت کے پادری غلط۔ برونو کو زندہ جلانے والے بھی آج یہ بات مانتے ہیں کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا اور اسے اذیت ناک موت دینے والے تاریخ کے غلط دوراہے پر کھڑے تھے۔آج سے سو برس بعد البتہ جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا، مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بے رحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہوگا۔ سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بے رحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم پاکستان میں بھی اُس یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا، کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے۔۔کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔ وقت تو گزر ہی جاتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *