کُتے اور شوہر میں فرق واضح کریں۔۔۔عارف خٹک

بڑے بوڑھے جو بھی کہتے ہیں واللہ سچ ہی کہتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں میرصاحب خان مستری فرماتے تھے،کہ عورت کی مثال جُوتے جیسی ہے۔ اگر کاٹے تو دوسری پہن لو۔ پُرانی ہوجائے تو بدلوا کر نئی لے آؤ۔یہ قولِ زرین سُن کر ہم اُن کا مذاق اُڑاتے۔۔کہ میر صاحب خان مستری پُرانی سوچ سمیت کیا بے پرکی اُڑا رہا ہے۔ اگر آج کے فیمینسٹوں کو میرصاحب خان کی قبر کا معلوم ہوجائے۔باخدا اگلے دن کپڑے اُتار کر چچا کی قبر پر احتجاج کر آئیں۔

جب خود شادی گزیدہ ہوگئے،تو ہمیں پتہ چلا کہ میر صاحب خان چچا کی بیوی نے اُس کی زندگی کس طرح عذاب بنائی ہوئی تھی۔ بیچارا مرتے دم تک محنت مزدوری سے جان نہیں چُھڑا سکا۔ کیوں کہ اُس کے چالیس سالہ بیٹے کی اولاد کو بھی چچا جان ہی پالتے تھے۔ بیوی کہتی تھی ابھی زرولی خان کی عمر ہی کیا ہے،جو وہ کام کاج میں لگ جائے۔یہ الگ بات کہ چچا جان آج تک اپنی کہی ہوئی ایک بھی کہاوت پر عمل نہیں کر پائے۔
اپنے گھر میں ذرا نظر دوڑائیں، اور میرے مضمون کو مدنظر رکھ کر مُجھے گالیاں دیتے ہوئے ذرا ایک لمحے کو سوچیے۔۔کہ کیا میر صاحب خان چچا غلط کہتے تھے؟
شُکر ہے میر چچا گاؤں سے تھے۔ورنہ اگر آپ ہم جیسے شہری شوہروں کی زندگی دیکھ لیں۔تو قسم سے ساری زندگی رنڈیوں پر پیسے خرچ کرنا احسن جانیں،لیکن کبھی نکاح نہ  پڑھوائیں۔ ساس نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہوتی ہے،کہ اُس کے ذریعے اپنے شوہر کا انتقام وہ داماد سے لے لیتی ہے۔ شادی کے اگلے ہفتے بیوی اپنا ادب و آداب اور تمیز والا چولا اُتار کر رکھ دیتی ہے۔ بلکہ میں نے تو ایسی پڑھی لکھی بیویاں بھی دیکھی ہیں۔جو مُنہ پر گالی دے کر بعد میں یہ تاویلات پیش کرتی ہیں،کہ وہ تو وقتی ردعمل تھا۔
یا پھر غصے میں دماغ کام نہیں کررہا تھا۔بیوی کی اجازت ہوگی تو ہم جیسے زنخے اپنے دوستوں سے مل سکیں گے۔ بیوی کا مُوڈ ٹھیک ہوگا،تو ہماری ماں رات گُزارنے ہمارے گھر آسکے گی۔ بیوی کو ناگوار نہ گُزرے،تو ہمارے بہن بھائی ہمارے گھر ایک وقت کا کھانا کھا سکیں گے۔اور اگر بیوی کی مرضی ہوگی تو ہم کسی خاتون کو فرینڈ لسٹ یا کمنٹ باکس میں بہن بول کر بات کرسکتے ہیں۔ورنہ ٹھرکی مرد کہہ کر لعن طعن کیا جاتا ہے۔اور موقع بے موقع گالیاں سُنتے اور بیعزتی سہتے رہتے ہیں۔
مہینے کے تیس دن باس کی جھڑکیاں اور گالیاں شوہر سہتا ہے۔جب تنخواہ آتی ہے تو بیگم ایک ایک روپے کا ایسے حساب کرتی ہے۔ جیسے یہ تنخواہ اس کے ابا نے اُس کے خرچ و اخراجات واسطے بھجوائی ہو۔ مہینے کی دسویں تک تنخواہ کا آدھا حصہ اس کے فیشن،اُس کی بہنوں کے تحائف،اور ماں کی دوائیوں پر خرچ ہوچُکا ہوتا ہے۔ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کے کپڑے بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ پچھلے سال کی شرٹس اور پینٹس اپنا رنگ کھو چکی ہیں۔اور شوہر پُورا پُورا دن دفتر کی مُفت وائی فائی پر شہر بھر میں موجُود گارمنٹس کی تصاویر کو چاٹتا رہتا ہے۔اور دُکانوں پر 70 فی صد سیل دیکھ دیکھ کر خریدنے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اُس کی خریداری کے یہ منصوبے کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپاتے۔
ان سب کے باوجود ہم شوہر خودغرض، مطلبی، احسان فراموش اور بد کردار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے سوا باقی سب کو معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانی میں ان کے افیئرز مظہر حسین بودلے جیسے حرامی ولی اللہ کے ساتھ زبانِ زدِ خاص و عام تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ان کی کنوارگی کا بھرپور احساس ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے تو بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ بے خبری بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت تصور کی جاتی ہے۔
پشتون دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں،کبھی پنجابی لڑکی سے شادی نہ کریں۔کیوں کہ پنجابی لڑکیاں مُنہ پر ایسی ایسی گالیاں دیتی ہیں،کہ اگر ان گالیوں کے بعد آپ دس قتل بھی کردیں،تو بھی مُنہ کی کڑواہٹ ختم نہیں ہوتی۔ البتہ پشتون لڑکیاں گالیاں نہیں دیتیں بلکہ دو فٹ کا ڈنڈا اندر کردیتی ہیں۔ کم از کم چس تو آجاتی ہے۔ اور یہی مشورہ پنجابی دوستوں کےلئے ہے،کہ بھلے مُنہ کا زیادہ کڑوا ہو تو خیر ہے۔بس ڈنڈے لینا آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں۔

میاں بیوی کے بیچ میں ایک رشتہ ہوتا ہے،وفاداری اور عزت کا۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی ختم ہو جائے تو دونوں کو الگ ہو جانا چاہیے۔

میرے دادا کو اللہ جنت نصیب کرے۔ فرماتے تھے کہ مرد اگر صحیح معنوں میں مرد ہو،تو چار چار کو ایک ہی چھت کے نیچے سُلاتا ہے۔اور چاروں میں ایک بھی چُوں تک نہیں کرتی۔ پُوچھا دادا یہاں تو ایک کو سنبھالنا عذاب ہورہا ہے۔ جلالی نظروں سے مُجھے دیکھا اور گویا ہوئے،کہ بیٹا جب سے آدابِ مُباشرت میں مرد نیچے لیٹنے لگے ہیں اور عورتیں اُوپر چڑھنے لگیں ہیں،تو مردانگی  ویسے گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ایسے مرد کو پھر مرجانا چاہیے۔
تو بھائیوں اتنی لمبی تحریر کا مقصد مظہر حسین بودلے کی مشہوری نہیں کرنی تھی۔ بلکہ آپ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اپنی بیویوں کو خود پر نہ چڑھائیں۔ بلکہ کوشش کریں کہ آپ چڑھ جایا کریں۔

چہ کیمہ دو

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کُتے اور شوہر میں فرق واضح کریں۔۔۔عارف خٹک

  1. لالہ عارف خٹک .. بیویوں سے متعکق تمہاری ہر تحریر ایسی ہوتی ہے کہ دل کرتا ہے کہ بیوی کو پڑھوا دوں مگر اس میں بیوی کی حاکمیت کی وہ وہ مثالیں تم نے دی ہوتی ہیں کہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں بیوی کو نئے آئیڈیاز ہی نہ مل جائیں ….

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *