ایک رات کی ہمبستری۔۔۔۔احسن علی خان

چاہتوں کے نام پر جسموں کو پامال کرنا
یہ کہاں کی محبت ہے، یہ کہاں کی پاسداری ہے،
اندھیروں کے بوسے، پھر اک رات کی ہمبستری۔۔
بھوک ہے ہوس کی، کہاں اک جسم سے پوری ہوپانی ہے،
دو روز کی قربت، پھر کوئی دوجا۔۔
کیا ساری عمر ایسے ہی گزار  جانی ہے؟

حوّا کی بیٹی ہے، آدم کا بیٹا ہے تُو
روز محشر کس منہ سے نظر ملانی ہے؟
آخر کس غلط فہمی کا شکار ہے تو؟
یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے،آخر کو تیری نسل بھی تو آنی ہے۔۔
مٹی سے تراشا ،مٹی میں مل جائے گا،
کبھی یہ بھی تو سوچ، تجھے بھی تو موت آنی ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایک رات کی ہمبستری۔۔۔۔احسن علی خان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *