۱۲ نومبر ۲۰۰۹ تا ۱۲ نومبر ۲۰۱۹ ۔۔۔ ڈاکٹر رابعہ خرم

15 ستمبر کی صبح میں ابو کے پاس پہنچ گئی ۔ انہیں مختلف ڈاکٹرز کے پاس لے کر گئی کہ ان کے جسم میں موجود ٹیومر/ماس کی فائنل تشخیص اور علاج کا تعین کر سکوں ۔ کار چھوٹا بھائی چلا رہا تھا ہمارا رخ میو اسپتال کی طرف تھا ابو فرنٹ سیٹ پر نیم دراز تھے ۔ابو نے مجھ سے انگلش میں پوچھا ۔
what is a mass ?(ماس کیا ہے )
میں نے جواب دیا
something in a body which is not meant to be there.
(جسم میں موجودایک چیز جسے ادھر موجود نہیں ہونا چاہیے)
انہوں نے کہا
then it might be cancerous
( پھر تو یہ کینسر ہو سکتا ہے)
میں نے جواب دیا
that’s the fear!
(جی یہی خطرہ ہے)

ابو نے گہری سانس لی اور سر سیٹ کی بیک پر ٹیک دیا ان کا دایاں ہاتھ ڈرائیونگ سیٹ کی بیک پر دھرا تھا وہ ہمیشہ اسی پوز میں بیٹھتے تھے ۔ اور بائیں ہاتھ سے انہوں نے اپنی کنپٹی دبائی ۔ میں اپنی سسکیاں دبا رہی تھی بھائی چپ تھا سنجیدہ اور کار چلا رہا تھا ۔ میں نے ابو کا سر دبانا شروع کر دیا ۔ پھر انہیں بیگ سے ایک ٹافی نکال کر دی کہ شاید شوگر لو ہونے کی وجہ سے سر درد ہو رہا ہو اس ٹافی کا ریپر آج بھی میرے پاس موجود ہے ۔
آج سوچتی ہوں تو جدائی کا خوف اور موت ایک ساتھ میرے اندر اگنا شروع ہو چکے تھے ۔

ابو کو میو اسپتال لے گئی ۔ سرجن ڈاکٹر امیر افضل صاحب نے رپورٹس دیکھیں ۔ اور مجھے اسی روز کے ڈان اخبار میں چھپنے والا اشتہار دکھایا۔ جس میں لیور ٹرانسپلانٹ سرجن کی کراچی آمد اور تین روزہ قیام کے دوران مریضوں کو دیکھنے کا اعلان تھا وہیں کھڑے کھڑے میں نے فون پر ٹائم لے لیا ۔ صبح ابو کا اسپیشل الٹرا ساونڈ جو ٹیومر گریڈنگ کرتا ہے کروا چکی تھی اس رپورٹ کو لے کے سہہ پہر میں ابو کو ڈاکٹر آفتاب محسن صاحب کے کلینک پر لے گئی ۔ ابو اور بھائی کو ریسیپشن پر چھوڑ کر اندر ڈاکٹر صاحب کے پاس گئی ۔ انہوں نے رپورٹ میرے ہاتھ سے لی ۔ دیکھی پھر مجھے کہا آپ پہلے آرام سے بیٹھ جائیں ۔شاید انہیں لگا کہ اتنا بڑا بوجھ یہ سہار نہیں سکے گی بس گر جائے گی ۔ پھر میرے بدترین خدشات کی تصدیق کی کہ یہ کینسر ہے اور اتنا پھیل چکا ہے کہ بمشکل ابو کے پاس تین ماہ ہیں ۔ انہوں نے مجھے ایک دوا بتائی جو اس وقت پاکستان میں میسر نہیں تھی اس کی قیمت 26 لاکھ روپے تھی اور تین ماہ کا کورس تھا جس کے بعد ابو کی لائف ایکسپیکٹینسی چار ماہ تک تھی ۔ میں نے التجائیہ انداز میں پوچھا اور کچھ، اور کوئی چانس کچھ مزید ممکن ہے ۔۔ انہون نے نفی میں سر ہلایا ۔
یہ چند دنوں پر مشتمل ایک طویل ترین داستان ہے بس یہ کہ بڑے بھیا اور ڈاکٹر صاحب ابو کو کراچی لے گئے ۔ سنگاپورین ڈاکٹر نے ٹرانسپلانٹ کی آپشن بھی دی اور ایک طرح کی ریڈیوتھیراپی بھی جس سے کافی امید بندھی اس دوران کینسر ابو کے جگر کو کھاتا چلا جا رہا تھا ۔ ابو بہادری سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علاج کی رقم لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں میں جا چکی تھی ۔ زمینیں جائیدادیں بیچنا اور وصولیاں یہ سب وقت طلب پراسیس ہیں اور وقت ہی ہمارے پاس نہیں تھا ۔۔ میرے بہادر ترین والد ہمارے لیے ڈھال پہلے بھی تھے اس وقت آزمائش میں بھی ہمارا حوصلہ تھے ۔اپنی اولاد سے کچھ بھی قبول کرنے سے انکار کرتے رہے بلکہ محبت سے زور دے کے کہا اپنا کچھ بھی مت بیچنا سنبھال کے رکھو ۔ نہ بیٹے سے لیا نہ بیٹی سے نہ بہو سے نہ داماد سے نہ بھائی سے ۔۔ کسی کے زیربار احسان نہ ہوئے ۔
دنیا نے سمجھ لیا کہ انہیں ضرورت ہے اور وقت کی اہمیت ہے ۔ میں نے زمین کا سودا کرنے والے ایک صاحب کو ابو کو کہتے سنا پوری قیمت لینی ہے تو سال بعد ملے گی نصف پر سودا کر لیں یکمشت دیتا ہوں ۔۔ اس دنیا میں اپنے فائدے کا سودا کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ رب نہیں بھولتا ۔

قیمتی دن تھے ۔ ابو کے سامنے ہم مضبوط رہتے باہر آ کے روتے اور رونے والے کو کوئی چپ نہ کرواتا کہ یہی ہمارا علاج بھی تھا ۔ ہم سبھی گھربار والے تھے لیکن بچوں کی طرح بلک رہے تھے اور ڈرے ہوئے تھے ۔ ابو روزانہ کے حساب سے تین سے پانچ کلو وزن کھو رہے تھے ۔اندروں اندر گھل رہے تھے ۔ اسی تیزی سے میرے اندر جدائی کا خوف اگ رہا تھا۔اس دوران میرا دل ابو کے پاس رہتا اور ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر حاضر ہو جاتی ۔ ہر مریض کو دیکھتے ہوئے اندر ڈری سہمی بیٹی یہ سوچتی کہ یہ وقت یہاں رہنے کا نہیں ۔ لاہور پہنچنے میں تین سے چار گھنٹے لگتے تھے سڑکیں زیر تعمیر تھیں ۔روزانہ دو چار حادثوں کی خبریں آتیں ۔ میں صبح جاتی ابو کو ڈرپ لگا کے لوٹ آتی پھر شام کو بھاگتی اور ابو کے سرہانے جا بیٹھتی ۔ گھر بار جاب سب بھول چکی تھی ۔
ابو کو ایندرائیڈ موبائل کا شوق تھا ۔مجھے چھیڑتے کہ تیرے مووی کیمرے والے موبائل جیسا موبائل مجھے بھی چاہیے ۔ میں نے ابو کے لیے آخری تحفہ موبائل کا لیا ۔ جب اس کی قیمت ادا کی تو ہاتھ میں پکڑے کرنسی نوٹ ردی کاغذ لگتے تھے جو میرے محبوب رشتے کومجھ سے جدا ہونے سے نہیں روک سکتے تھے ۔ پھر دو چار روز میں نہ جا سکی کہ ڈاکٹر صاحب نے ابو کے ساتھ سنگاپور جانا تھا ان کی تیاری میں مصروف تھی۔ بالآخر 8 نومبر کا دن آیا ۔ ابو کا صبح صبح فون آ گیا کہتے ہیں ایک شعر سنو ۔ اور فارسی میں ایک بند سنایا ۔ میں درمیان میں بولی کہ مجھے فارسی نہیں آتی کہتے ہیں سن لو پھر ترجمہ بھی سناتا ہوں ۔
ے
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کارخواہی آمد

میری جان لبوں پر آ گئی ہے، تو آ کہ میں زندہ ہو جاوں
میرے مرنے کے بعد تو آیا تو تیرا آنا کس کام کا

میں برداشت نہ کر سکی اور مریض کے آنے کا بہانہ کر کے ابو کا فون بند کروا دیا ۔ اس شام تمام تیاری کے ساتھ لاہور پہنچے ۔ ابو کا جسم اور چہرہ سوج گیا تھا فورا سے مجھے صحت مند لگے تو میں چہکی کہ آج تو آپ اچھے لگ رہے ہیں تو اداسی اور کچھ رنج سے بولے تم اب آئی ہو ۔ جب کچھ باقی نہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے دیکھا تو سمجھ گئے کہ سسٹم فیلئیر میں ہیں ابو سمجھے دل فیل ہے ۔ انہیں کچھ ابتدائی طبی امداد دی ۔گھر سے چلنے لگے تو امی کو کہتے ہیں “لے بھلی لوک اب اللہ کے سپرد” امی رو پڑیں اور کہا میں نہیں بولتی ۔۔
میں نے دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے ملائے اور کہا
i announce u man and wife
ابو کہتے ہیں لو بھئی اسے آج پتا چلا ۔

گھر کے گیراج میں چھوٹے بھائی نے ابو کو گلے لگا کے اللہ حافظ کہا وہ امی کے پاس رک رہا تھا ۔میرے سسر کار چلا رہے تھے ابو اپنے مخصوص انداز میں فرنٹ سیٹ پر تھے میں ڈرائیور سیٹ کے پیچھے بیٹھی ابو کے برینولا میں ٹیکہ لگاتی گئی ۔ خرم عقبی سیٹ پر میرے ساتھ تھے ۔ بڑے بھیا چھوٹی بہن اور بہنوئی کے ساتھ ان کی کار میں تھے ۔

ائیر پورٹ پر کار روکی تو میں ڈرائیور سیٹ پر چلی گئی کہنا تو یہ چاہتی تھی کہ ابو کلمہ پڑھتے رہیں لیکن کیسے کہتی سو یہ بہانہ کیا کہ ابو پیر صاحب نے دعائیں بتائی ہیں یہ پڑھ لیں ۔کوئی پیر صاحب نہیں تھے بس ایک بیٹی تھی جو والد کو کلمہءشہادت پڑھانا چاہتی تھی ۔ پھر جو جو دعا یاد آتی گئی انہیں پڑھاتی گئی ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا اور برف ہو رہا تھا میں نے ابو سے پوچھا سردی لگ رہی ہے انہوں نے کہا ہاں تو اپنی شال ابو کے کندھوں پر لپیٹ دی ۔وہ شال ابو کی خوشبو سمیت میرے پاس ہے ۔ خوشبو باقی رہ جاتی ہے خوشبو جیسے لوگ اڑ جاتے ہیں۔

ائیر پورٹ پر شیشے کی دیواروں کے عقب سے جہاں تک ابو کی وہیل چیئر نظر آتی رہی انہیں ہم بہنیں دیکھتی رہیں جب وہ نظر آنا بند ہو گئے تو ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ہم جانتی تھیں کہ ہم ابو سے آخری بار مل لی ہیں ۔

جہازکے سفرکی ایک الگ داستان ہے کہ ابو اس بیماری میں بھی کتنے خوش مزاج رہے یا کتنی بار لڑکھڑا کر گرے اور سنبھالنے والے سنبھالتے رہے ۔۔
9 تاریخ کو ابو سنگاپور اسپتال پہنچے ۔ گردے فیل ہو چکے تھے ۔آئی سی یو میں داخل ہوئے ۔ گردے واش کیے گئے تو طبیعت سنبھل گئی ۔گیارہ تاریخ کو ابو سے میری آخری بات ہوئی۔ آئی سی یو میں ابو کے پاس فون نہیں تھا ڈاکٹر صاحب نے اپنے فون سے بات کروائی ۔ ابو نے مجھے کہا کہ میں بہتر ہوں ۔ لڑکے آج مارکیٹ گھومنے گئے تھے ۔ میں ڈسچارج ہونے کے بعد مارکیٹ دیکھوں گا تمہارے لیے کیا لاوں ۔ میں نے ابو سے جیولری کی فرمائش کی جو انہوں نے قبول کر لی ۔ پھر فون بند ہو گیا کبھی دوبارہ نہ آنے کے لیے ۔
اسی رات ابو کی حالت بگڑ گئی اور وہ وینٹیلیٹر پر چلے گئے ۔۔بارہ تاریخ ہو چکی تھی ۔ جب مجھے اطلاع ملی تو میں عصر کی نماز پڑھ رہی تھی۔ اس کے بعد مجھے اپنے آپریشن کے لیے اسپتال داخل ہونا تھا ۔ابو کی بیماری کے دنوں میں مجھے پیٹ کے دائیں طرف شدید درد رہنے لگا تھا جسے دردکش ادویات سے کنٹرول کر رہی تھی کہ وہ وقت میرے بیمار پڑنے کا نہیں تھا لیکن 11 نومبر کو درد انتہا پر پہنچ گیا تو چیک اپ پر پتا چلا کہ اپنڈکس پھٹ چکی ہے اگلے روز آپریشن کیا جانا تھا۔ بارہ تاریخ بوقت عصر مجھے دوران نماز اپنے سسر کی آواز آئی کہ بھائی صاحب وینٹی لیٹر پر ہیں ۔ وہیں میری ہچکیاں بندھ گئیں وہ نماز بہت مشکل تھی ۔ نماز کے بعد میری بہن سے بات ہوئی ہم دونوں سورہ یسین اور سورہ الرحمن پڑھ رہی تھیں اور ابو کو سب سے زیادہ پیار کرنے والے کے سپرد کر دینے پر راضی تھیں ۔
مجھے آپریشن کے لیے لے جایا گیا ۔

چھ بجے مجھے شفٹ کرنے لگے تو میں نے پوچھا مجھے میرے کسی عزیز سے تو ملا دیں۔ چھوٹے بھیا سسرالی عزیزوں کے ساتھ باہر تھے گمان تھا کہ وہ اندر آئینگے لیکن دیور اندر آئے۔ میں نے انہیں ٹائم نوٹ کروایا کہ چھ بجے ہیں جب مجھے لے کے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے سر ہلایا مجھے خدا حافظ کہا اور میں تھیٹر میں لے جائی گئی ۔

ہوش آیا تو آئی سی یو میں تھی ۔ ابو کا پوچھا تو پتا چلا طبیعت سنبھل گئی ہے ۔ میں خوش ہو گئی اور خواب آور دوا کے زیر اثر سو گئی ۔ اگلے روز میری ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی میں نے پوچھا ابو کیسے ہیں تو کہنے لگے۔ پین فری ہیں اور بہت بہتر ہیں میں نے کہا میری بات کروائیں تو کہنے لگے وہاں فون نہیں لے جانے دیتے ۔ اچھا فون بند کرو پھر بات کریں گے ۔
میرے چھوٹے بھائی میری عیادت کے لیے آئے تو ان سے پوچھا کہ ابو کیسے ہیں تو کہنے لگے وینٹی لیٹر پر ہیں لیکن انہیں واپس لا رہے ہیں ۔ یہیں رکھیں گے ۔ بڑے ماموں نے کسی اسپتال میں انتظام کر لیا ہے ۔ بہن بھی میری طرح مکمل بےخبر تھی۔
14 نومبر کی صبح ڈاکٹر صاحب کا فون ایا تو میں نے پوچھا خرم، ابو نہیں ہیں نا تو انہوں نے کہا تمہیں ایسا کیوں لگا تو میں نے کہا میرے دل کو ابو کی دھڑکن نہیں مل رہی اس لیے۔ تو مجھے یہ کہہ کے فون بند کر دیا کہ انکل ٹھیک ہیں آپ خود ہی دیکھ لو گی ۔کچھ دیر کی تو بات ہے ۔ پھر بہن کا فون آیا کہ امی کے گھر کے باہر ٹینٹ لگ گئے ہیں سڑک دھلائی جا رہی ہے ۔ میں نے کہا دلہا کے استقبال کی تیاری ہے اس نے کہا جی دلہا آ رہا ہے ۔ میں نے فون بند کر کے اکیلے ہی چپ چاپ آنسو بہائے ۔ میرے دیور وہیں موجود تھے انہوں نے مجھے رونے دیا۔
پھر میرے تمام سسرال والے آ گئے۔ انہیں پتا چلا کہ رابعہ کو علم ہو گیا ہے تو انہوں نے مجھ سے تعزیت کی تب مجھے علم ہوا کہ عین جس لمحے مجھے تھیٹر میں لے جایا گیا اسی لمحے ابو رخصت ہوئے۔چھوٹے بھیا آبدیدہ تھے اس لیے مجھے ملنے اندر نہیں آ سکے تھے ۔ پاکستان کے چھ بجے تھے جبکہ سنگاپور کے رات کے 9 بجے تھے شب جمعہ تھی جب ابو رخصت ہوئے۔ تو اسی لیے مجھے دو دن سے دھڑکن نہیں مل رہی تھی ۔ میں نے اپنے سسر کا شکریہ ادا کیا کہ دو روز یہ خبر مخفی رکھ کے انہوں نے مزید دو روز مجھے احساس یتیمی سے بچائے رکھا ۔
اس حالت میں کہ میرے آپریشن سے ڈرین پائپ لگا ہوا تھا میں اپنے والد سے ملنے گئی ۔ وہ میرون تابوت میں سفید کفن میں محواستراحت تھے ۔ مجھے لگا وہ پلکیں جھپک رہے ہیں۔ لیکن جب انہیں ہاتھ سے چھوا تو سخت سرد اور بےجان موت نے مجھے ٹچ کیا ۔ اور مجھے ابو کے چلے جانے کا یقین آ گیا ۔ میرے دل کا قبرستان آباد ہو گیا ۔
اس رات ابو گھر پر رہے اور میں ابو کے کمرے میں ۔ ان کی یادیں اکٹھی کرتی رہی ان کے ٹوتھ پکس۔ ان کی ہینڈ بیل کا بٹن ، ان کا ایش ٹرے اور ان کی سگریٹ کی ڈبیا میں موجود آخری سگریٹ ۔ یہ خزانہ میرے پاس ہے ۔ ابو کی رخصت کے چند ماہ بعد 17 اپریل 2010 رات 2 بجے کے قریب میں خواتین ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی تو  امیر خسرو  رح کا یہ مکمل کلام مجھے ملا جو ابو نے دم رخصت مجھے سنایا تھا اسے ڈائری میں لکھ رکھا ہے ڈائری کا یہ صفحہ میں کبھی خشک آنکھوں کے ساتھ نہیں پڑھ پاتی ۔

ے
خبرم رسیدہ مشب کہ نگار خواہی آمد
مژدہ سنا ہے کہ آج رات تو آئے گا
سر من فدائےراہے کہ سوار خواہی آمد
میرا سر ان راہوں میں قربان ہو جن سے تیری سواری گزرے گی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”۱۲ نومبر ۲۰۰۹ تا ۱۲ نومبر ۲۰۱۹ ۔۔۔ ڈاکٹر رابعہ خرم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *