تیس لاکھ کا دھرنا اور چودہ کروڑ سکھ۔۔۔اعظم معراج

SHOPPING

ہمارے دفتر میں سعود نام کا  ایک آفس بوائے  تھا،نام تو اس کا وجے کمار تھا لیکن وہ بتاتا تھا کہ ہمارے قبیلے کے سارے نوجوانوں نے دو دو نام رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک علیحدہ پورے مقالے کی تحقیق کا موضوع ہے، کہ برصغیر میں یوسف خان دلیپ کمار ، موسیٰ رضا سنتوش کمار اور وجے سعود کیوں بنتے ہیں۔ گوکہ  بغیر تحقیق ہی دسیوں این جی  اوز اسے اپنے اپنے مقاصد اور انداز کے مطابق پیش کرتی ہیں۔ خیر انیس بیس سال کا بھولا بھالا یہ نوجوان سعید غنی کے محلے چینسر گوٹھ کا رہائشی تھا، اپنے محلے اور دفتر کی دنیا کے علاوہ اسے کچھ پتہ نہیں تھا ،اسکی سادگی کا یہ عالم تھا کہ وہ کسی بھی دفتری منیجر کو سیٹھ کا بیٹر  ہی سمجھتا تھا۔ کیونکہ ان کے محلے میں منشیات فروشوں کی بھرمار کی وجہِ سے پولیس کے بیٹروں کی آمد بھی رہتی تھی ۔اس لئے  اگر کبھی ہمارے کسی کلائنٹ کا منیجر وغیرہ ہماری غیر موجودگی میں کوئی کاغذ پتر دے جاتا، تو سعود ہمیں بتاتا کہ فلاں صاحب کا بیٹر آیا تھا ۔

مجموعی طور پر وہ ایک مصوم نوجوان تھا، بس اسے ایک بری عادت تھی کہ وہ اکثر غلط بیانی کرتا دفتر میں وہ جھوٹامشہور تھا،ایک دن اسے پولیس نے پکڑا ،ہم اسے چھڑوانے گئے تو پولیس نے کافی سارے جھوٹے الزامات اس پر لگا رکھے تھے جب کہ وہ سائیکل پر سودا لینے مارکیٹ جارہا تھا۔ خیر معاملہ رفع دفع ہوا ،دفتر آنے کے بعد سعودبڑا خوش تھا،جب اس سے پوچھا کیوں بھائی اتنے خوش کیوں ہو۔؟ تو وہ مسکراتے ہو بولا سر آپ ہمیشہ کہتے ہو میں بڑا جھوٹا ہوں۔ لیکن آپ نے دیکھا پولیس والے مجھ سے کہیں بڑے جھوٹے ہیں۔ ساتھ ہی وہ بھولا بادشاہ اس بات پر پکا ہو گیا، کہ پولیس کا ایک ذمہ دار  عہدے دار اگر اتنا جھوٹ بول سکتا ہے،تو یہ کوئی بُری بات نہیں،پھر جب بھی ہم اسے ٹوکتے وہ کہتا سر آپ نے پولیس والوں کو نہیں ٹوکا تھا۔پھر وہ نوکری چھوڑ گیا.اس بات کو کئی سال گزر گئے ہیں۔مجھے سعود کچھ دنوں سے بڑا یاد آ رہا ہے۔وجہ جس کی یہ ہے۔۔کہ کچھ  دن پہلے راجہ اشرف جو کچھ  دن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم بھی لگے رہے ہیں۔مولانا صاحب کے دھرنے میں فرما رہے تھے،یہ جو پچیس تیس لاکھ کا مجمع ہے،مجھے یقین ہے ان کے کسی حواری یا بڑوں نے انھیں اس پر نہیں ٹوکا ہو گا۔کیوں کہ جھوٹ پر ہم صرف اپنے معاشرے کے سعودوں کو ہی ٹوکتے ہیں،کسی اینکر کو بھی توفیق نہیں ہوئی دینا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے سلیکٹڈ بھی نہیں بلکہ باقاعدہ عوام کے الیکٹڈ ( منتخب ) اور بلاول کے ابا کے سلیکٹڈ حلف یافتہ وزیراعظم کی اس دروغ گوئی کا ذکر کرتے، کہ بھائی آپکے باقی سارے کارنامے اپنی جگہ لیکن بندے تو ذرا کم کر لوں۔ مجھے راجے وزیر اعظم کی اس تقریر کو سننے کے بعد سے سعود بہت یاد آرہا تھا، کہ ہمارے ملک کے نوجوان بچے جو ٹی وی چینل پر ٹاک شوز بھی ذرا دھیان سے دیکھتے ہیںِ اور جنھیں اس دروغ گوئی کی شدت کا بھی ادراک ہوگا۔ وہ کیا سبق لیں گے،ایسی دروغ گوئی سے خاص کر نوجوان بلاول جیسے وہ نوجوان جنھوں نے ابھی سیاست میں قدم رکھا ہے۔وہ اپنے ایسے بڑوں سے کیا سیکھیں  گے۔

خیر ہمارے لئے یہ المیہ اور ایسوں کے لئے اب یہ شغل بن چُکا ہے۔اور وہ اپنی ایسی حرکتوں پر اب ذرا بھی ندامت محسوس نہیں کرتے۔ رات نوجوت سدھو کو کرتار پور میں تقریر کرتے سنا۔سدھو مشہور کرکٹر ٹی وی اسٹار اور سب سے بڑ ھ کر ایک سیاستدان بھی ہے۔اور آج کل کرتار پور کی وجہِ سے برصغیر کی سیاست میں ایک خاص مقام حاصل کر چکا ہے۔ وہ کرتار پور راہداری کی انتہائی اہم تقریب میں اپنی غیر سنجیدہ قسم باقی یبلیوں کے ساتھ بار بار چودہ کروڑ سکھوں کی بات کر رہا تھا۔میں نے ازراہ چسکا تھوڑی تحقیق کی تو پتہ چلا پوری دنیا میں سکھوں کی تعداد کسی بھی طرح تین کروڑ سے زیادہ نہیں ،میں سوچ رہا تھا کہ سدھو جب تقریر کرکے نیچے اُترا ہوگا۔شاید ہی اسکے کسی حوار یا سوار نے اسے ٹوکا ہو ۔نہ ہی ہمارے کسی اینکر نے جو بار بار اسکی اوور ایکٹنگ سے بھری تقریر ہمیں سنا رہے ہیں۔ اس طرف دس سیکنڈ کے لئے بھی توجہ دی ہو۔یا اپنے کسی ریسرچر کو کہا ہو کہ بھئی چیک کرو، یہ سدھو پا ءجی جو تعداد بتا رہا ہے یہ صحیح ہے یا یہ بھی اسکی دوسری یبلیوں جیسی ہی بات ہے ہے۔جھوٹ معاشروں کے لئے کتنی بڑی بیماری ہے۔یہ ہر سادہ سے سادہ انسان کو بھی پتہ ہے ۔ اور بڑوں کے جھوٹ اگلی نسل میں کیسے منتقل ہوتے ہیں اس کی ایک تازہ مثال ایم این رمیش کمار نے کئی مہینے پہلے سہیل وڑائچ کے پروگرام میں پاکستانی ہندؤں کی تعداد جو کہ دو ہزار سترہ کی افراد شماری کے مطابق تقریبا اڑتیس لاکھ ہے کو اسّی لاکھ بتایا کچھ دن پہلے مہندر سنگھ ممبر پنجاب اسمبلی یہ ہی غلط تعداد ایک ٹی وی چینل پر بڑی خوشی سے بتا رہا تھا۔جبکہ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے۔ جھوٹ پھیلنے کی رفتار کی ایک اور مثال دیکھیے، 9 نومبر کی  سہ پہر کو سدھو نے کرتار پور میں تین کروڑ سکھوں کو اپنے زور خطابت سے چودہ کروڑ بنایا ،اور 10نومبر کو پبلک ٹی وی پر سکھوں کی اس تعداد کو  ذرا محتاط رہتے ہوئے ایک سنجیدہ سینئر تجزیہ نگار جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے 12 سے 13 کروڑ بنا دیا۔وجہ اسکی یقیناً یہ ہے ،کہ سنی سنائی آگے بڑھاتے ہوئے ہمارے انتہائی ذمہ دار سمجھے جانے والے افراد بھی اس کار خیر میں حصہ لیتے ہیں اور دوسرا اگر ہمیں شک یا یقین بھی ہو کہ  سامنے والا غلط بیانی کر رہا ہے، تو بھی ہم کسی جھوٹے کو ٹوکتے ہی نہیں، میں پولیس والوں کو نہیں ٹوک سکا ، سہیل وڑائچ رمیش کو چیلنج نہیں کرتا،راجے کے حواری بھی مجبور سدھو کے یار بھی چپ اور برصغیر کا جو حال ہے وہ سعود جیسے بھگت رہے ہیںِ دونوں طرف بلکہ ہر طرف جو جھوٹ نوجوت رمیش اور راجے جیسے بڑے بولتے ہیںِ ۔اور میرے اور سہیل وڑائچ جیسے دیگر انھیں ٹوکتے نہیں، انکا خمیازہ سعود، وجے، ڈیوڈ جسونت اور دیگر کروڑوں بھگت رہے ہیںِ۔

SHOPPING

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *