بحران سنگین ہوتا جائے گا۔۔۔اسلم اعوان

وزیراعظم سے استعفی طلب کرنے کی دو روزہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اتوار کی شب دھرنا کے شرکاءسے مولانا فضل الرحمٰن کا جذباتی خطاب بیم و رجا کے دومیان لڑکھڑاتی سوچ کی غماضی کر رہا تھا،کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے،مولانا ایسی بند گلی میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نامطلوب کشمکش نے صرف مولانا ہی کو نہیں بلکہ اپوزیشن سمیت پوری ریاستی مقتدرہ کو دو راہے پہ لاکھڑا کیا۔زمان و مکاں کے حساب سے مولانا کا آزادی مارچ ایسی اثرانگیز سرگرمی ثابت ہوا،جس نے التباسات کی ساری دھند صاف کر کے جمہوریت اورآمریت کے درمیاں خطِ امتیازکھینچ کے سواد اعظم کے سیاسی شعور کو جِلا بخشی لیکن یہی مزاحمتی سرگرمی حکمراں اشرافیہ کی ساکھ کوبربادکر کے عملاً حکومتی رٹ کے خاتمہ پہ منتج ہوگی،شاید اسی امکان کو بھانپ کے مولانا فضل الرحمٰن کہہ گزرے کہ”یہ ہجوم اتنی قدرت رکھتا کہ وہ آگے بڑھ کے وزیراعظم کو گرفتار کر لے“۔

بہرحال،اب اس مہلک وار سے حکومت اگر بچ بھی گئی تو وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔یہ سچ ہے کہ مولانا کےلئے اب واپسی کی راہیں مسدود ہیں اور اگر اسے کوئی محفوظ راستہ نہ ملا تو وہ زندگی بھر کی سیاسی کمائی گنوا بیٹھیں گے۔لیکن دوسری طرف ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت کے خلاف اٹھنے والی سیاسی تحریک کا سامنا مقتدرہ کو کرنا پڑے گا،ورنہ ماضی میں ایسی صورت حال میں اسٹبلشمنٹ نہایت آسودہ ہوتی تھی،باہم دست و گریباں فریقین یعنی حکومت اور اپوزیشن،دونوں فوجی قیادت کی حمایت کے طلبگار اور انکی ثالثی ماننے کو تیار ہو جاتے تھے۔مگر آج صرف مقتدرہ ہی نہیں سارے آئینی ادارے ایک جیسی مشکلات سے دوچار ہیں۔جب حکمراں جماعت کی طرف سے اپوزیشن کو حق مانگنے کےلئے عدالت یا پھر الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا تو مولانا فضل الرحمٰن نے یہ کہہ کہ انکار کر دیا کہ،سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لے جانے کی غلطی دہرائیں گے نہ الیکشن کمیشن میں جائیں گے،وہ الیکشن کمیشن جو پچھلے چھ سالوں میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہ کر سکا وہ عام انتخابات میں وسیع پیمانے پہ کی گئی دھاندلی جیسے پیچیدہ تنازعات کو کیسے نمٹائے گا۔اپوزیشن نئے انتخابات کا مطالبہ تو کرتی ہے مگر وہ ماضی کے تلخ تجربات کے باعث فوج کی نگرانی میں الیکشن کرانے کو تیار نہیں لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن سمیت دیگر ریاستی ادارے فوج کی مدد کے بغیر انتخابات کرانے کی طاقت نہیں رکھتے۔مولانا فضل الرحمٰن جب وزیراعظم کا استعفی مانگتے ہیں تو ریاست کے پاس اس کا معقول جواز موجود ہے کہ وہ چند ہزار لوگوں کے دھرنے سے ڈر کے کسی وزیراعظم سے استعفٰی  کیسے لے سکتے ہیں؟

اگر اس طرح حکومتیں گرانے کی روایت پڑ گئی تو یہ ملک اورخود جمہوریت کے مستقبل کےلئے مہلک ثابت ہو گی۔مولانا کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں آرمی چیف نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کے پاس 171 ووٹ ہیں اپوزیشن والے 172 ووٹ برابر کر لے، تو وزیراعظم گھر چلے جائیں گے لیکن اپوزیشن کہتی ہے کہ اس آئینی عمل کا انجام وہ سینٹ میں سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران دیکھ چکے ہیں،اس لئے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ڈیڈلاک کا خاتمہ ممکن نہیں۔فوج کی طرف سے آئینی حدود میں رہ کرجمہوری عمل کی حمایت کے اعادہ کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن سمیت پوری اپوزیشن کسی ضمانت پہ اعتبارکرنے کو تیار نہیں۔خود اپوزیشن پارٹیوں کے مابین بھی دھرنا میں پُرتشدد سرگرمیوں اور مشتعل ہجوم کو ڈی چوک تک لے جانے پہ اختلاف پایا جاتاہے۔نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اٹھنے والی اس اینٹی گورنمنٹ تحریک کی کامیابی کو سیاسی نظام پہ مذہبی قوتوں کی بالادستی کے طور پہ دیکھتی ہے،اس لئے دونوں بڑی جماعتیں پھونک پھونک کے قدم رکھ رہی ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں آئین کی اسلامی شقوں کا تحفط اور مدارس میں اصلاحات کو روکنا شامل ہے لیکن عالمی برادری،ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے گُلو خلاصی اور ورلڈ بنک کی مالی معاونت کے عوض مدرسہ اصلاحات اور آئین میں شامل چند مذہبی شقوں میں مناسب ترامیم کا تقاضا کر رہی ہے،گورنمنٹ عالمی اداروں کے تحفظات دور کرنے کا عہد کیے بیٹھی ہے،اسی عہد وپیماں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ٹیم کو منی لانڈرنگ کی مانٹرنگ کےلئے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں باقاعدہ سیکریٹریٹ کھولنے کی اجازت دے دی۔ادھرآئی ایم ایف کی ٹیم بھی مالی امداد کی اگلی قسط کے اجراءکی پیشگی شرائط پہ عملدرآمدیقینی بنانے کےلئے پچھلے ایک ہفتہ سے حکومتی اہلکاروں کے ساتھ مصروف ہے۔

ان حالات میں تو یہی لگتا ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی مزاحمت صرف مولانا فضل الرحمٰن کو ہی بند گلی تک نہیں لے آئی بلکہ حکومت اور اپوزیشن سمیت پوری ریاستی مشینری کو ایسے دلدل میں اتار چکی،جس سے نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔فی الوقت ملکی نظام سیاسی ڈیڈ لاک کی گرفت میں ہے۔اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اِن ہاؤس تبدیلی کے آئینی عمل سے مایوس۔فوج حکومت کی حمایت پہ مجبور۔متحارب فریقین میں ثالثی اور اس پہ عمل درآمدکرانے والی تیسری قوت ناپید۔الیکشن کمیشن نامکمل اورسیاسی تناؤ کی وجہ سے آئینی طور پہ اسکی جلد تشکیل کے امکانات معدوم۔فوجی نگرانی میں انتخابات کے انعقاد کو اپوزیشن مانتی نہیں مگر الیکشن کمیشن سمیت تمام سرکاری ادارے فوج کے بغیر الیکشن کرانے کی ہمت سے محروم۔ایک ایسا مشتعل ہجوم پارلیمنٹ کے دروازے پہ بیٹھا وزیراعظم سے استعفی مانگ رہا ہے،جسکے خلاف طاقت کا استعمال کبھی نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں بدل سکتا ہے لیکن مجمع کے دباؤ پہ وزیراعظم کا مستعفی ہونا حالات کو مزید خراب کرنے کاسبب بنے گا۔اگر بالفرض وزیراعظم رضاکارانہ طور پہ مستعفی ہو جائے  اور اسکے بعد اپوزیشن ان ہاوس تبدیلی کے ذریعے کوئی مخلوط حکومت بنا بھی لے تو عالمی مالیاتی اداروں کے تقاضے کون پورے کرے گا؟

کیا مولانا فضل الرحمٰن،پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی مخلوط حکومت کو عالمی اداروں کی ایما پہ مدرسہ اصلاحات کی اجازت دے سکیں گے؟کیا نئی حکومت پچھلی گورنمنٹ کے عالمی اداروں کے ساتھ کئے گئے معاہدات کو پس پشت ڈال سکے گی؟ ہرگز نہیں! اگر عمران خان کے استعفی کے باوجود بھی سیاسی بحران ختم نہیں ہوتا تو پھر ان سے استعفی مانگنے کی منطق کیا ہے؟۔اگر کل جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی قوتیں پی ٹی آئی کو ساتھ لیکر اگلی منتخب حکومت کے خلاف مزاحمت پہ اتر آئیں تو سسٹم انہیں کیسے سنبھالے گا،علی ہذالقیاس!یہ اور ایسے ہی کئی خطرناک سوالات ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑے ہیں،جن کا کسی کے پاس معقول جواب نہیں۔ہمارے خیال میں اس پورے تنازعہ کا سنٹر آف گرویٹی نوازشریف ہیں،اگر ہماری حکمراں اشرافیہ صرف انہیں سنبھال لیتی تواداروں سمیت سسٹم کو بچانا آسان ہوتا بصورت دیگر حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے،صرف نوازشریف ہی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ باآسانی آگے،پیچھے اور دائیں،بائیں پیشقدمی کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سہولت دے سکتے ہیں۔آپ دیکھ لیں چوہدری شوگر ملز کیس میں احتساب عدالت میں پیشی کے دوران جب نوازشریف نے مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کی تو اسی دن یہ موہوم سرگرمی موثر ہو گئی،ورنہ اس سے قبل تو یار لوگ مولانا کا مذاق اڑاتے رہے۔سوئے اتفاق سے اب پھرجس دن مریم نوازکو ضمانت ملی اسی دن مولانا کی پسپا ہوتی سوچ ایک بار پھر حوصلہ پا کے برسرمیدان آ گئی۔کہنہ مشق سیاستدان محمود اچکزئی نے درست کہا،نوازشریف ہی اس وقت ملک کے وہ مقبول لیڈر ہیں جو پبلک سینٹی  منٹ کو کمانڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *