آج  گرو نانک دیو جی مہاراج کی جیت کا دن ہے۔۔منور حیات سرگانہ

کرت کرنا ،نام جپنا ،تے ونڈ کے چکنا’

یعنی محنت کرنا ہے،ایک رب کی عبادت کرنا ہے،اور مل بانٹ کر کھانا ہے۔یہ تھیں بابا گرو نانک دیو جی مہاراج کی بنیادی تعلیمات۔ اس سے سادہ،عام فہم اور امن و آشتی و مساوات کا پرچار کرنے والا پیغام اور کوئی ہو نہیں سکتا۔
 تاریخ کے مطابق بابا جی 15 اپریل1469 کو تلونڈی (موجودہ ننکانہ صاحب) میں پیدا ہوئے اور 22 ستمبر 1539 میں کرتار پور صاحب میں وفات ہوئی۔لیکن روائتی طور پر ان کا جنم دن دیسی کیلینڈر کے حساب سے کاتک کے مہینے کی پوری چاند رات کو منایا جاتا ہے ،جو کہ انگریزی کیلینڈر کے حساب سے اکتوبر اور نومبر میں آتا ہے۔ بابا جی کی پیدائش تو ہندو گھرانے میں ہوئی،لیکن عربی اور فارسی زبان سیکھنے کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے بھی متعارف ہوئے۔انہوں نے حق کی تلاش میں اور بعد ازاں ایک ہی سچے رب کا پیغام دنیا تک پہچانے کے لئے دنیا بھر میں چہار اطراف سفر کیے،جن کو ان کی’اداسیاں’ کہا جاتا ہے،اپنی آخری اداسی میں وہ عرب ملکوں،اور خاص کر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی قیام پذیر رہے۔
اس سارے سفر کے بعد گرو نانک جی کرتار پور تشریف لے آئے۔یہاں پر کرتار پور کے نام سے ایک قصبہ آباد کیا ،اور اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ سال یہیں پر قیام پذیر رہے۔کھیتی کرتے رہے،جو کچھ کماتے اس سے لنگر چلاتے اور سب کو بلا تفریق کھلاتے۔یہی پر سکھی کی بنیاد رکھی گی ،اور گرو جی اپنے معتقدین کو وحدانیت،عدم تشدد،مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتے رہے۔مسلمان رباب نواز بھائی مردانہ جی تمام عمر آپ کے ساتھی رہے۔اپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے بھائی لہنا جی، جن کو گرو انگد جی بھی کہا جاتا ہے کو اپنا جاں نشین مقرر کیا اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد اس دنیا سے ابدی دنیا کو روانہ ہو گئے۔آپ کے مریدین میں ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے،آپ کی آخری رسومات کو لے کر ان میں آپس میں جگھڑا ہو گیا۔ہندو ان کو کے جسد کو جلانا چاہتے تھے،جبکہ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ گرو جی ہندو دھرم کب کا ترک کر چکے تھے اور اب موحد تھے،اور انہیں اسلامی طریقے سے دفنایا جانا چاہیے تھا۔اس اثنا میں میں ان کے جسد مبارک پر ایک چادر ڈال دی گئی تھی۔جب دونوں گروہ لڑتے جھگڑتے چادر کو اپنی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرنے لگے تو چادر دو حصے ہو گئی،چادر کے نیچے جسد مبارک کی جگہ صرف پھولوں کا ڈھیر پڑا ہوا ملا،جسے دونوں گروہوں نے برابر بانٹ لیا۔ہندووں نے اپنے حصے کے پھول جلا کر ان کا انتم سنسکار کر لیا ،اور اس جگہ پر ان کی سمادھی بنا دی،جبکہ مسلمانوں نے اپنے حصے کے پھول اسلامی طریقے سے دفن کر کے ان پر ان کا مزار بنا دیا۔کچھ روایات کے مطابق بابا جی نے یہاں اپنے گھر سے متصل ایک مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔بہرحال کرتار پور کی پرانی آبادی راوی میں آنے والے سیلاب کی نذر ہو گئی تھی۔موجودہ گردوارہ کرتار پور صاحب مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ نے 1930 کی دہائی میں دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔1947میں قیام پاکستان کے وقت سکھوں کی غالب آبادی ترک وطن کر کے بھارت میں جا بسی،جبکہ ان کے لئے مکہ و مدینہ کی حیثیت رکھنے والے ننکانہ صاحب اور کرتار پور صاحب پاکستان میں ہی رہ گئے۔
بہت عرصہ تک  سکھی کا یہ انتہائی مقدس مقام  نظر انداز کیا جاتا رہا۔1995 میں اس کی مرمت شروع کروائی گئی اور 2004 میں اسے مکمل طور پر بحال کر کے یاترا کے لئے کھول دیا گیا۔
یہ گردوارہ پاکستانی ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں ہندوستانی سرحد سے صرف 4 کلو میٹر دور  واقع ہے۔سکھ اپنے اس انتہائی مقدس مقام کی زیارت ہندوستانی بارڈر پر آ کر ڈیرہ بابا گرو نانک پر بنائے گئے درشن استھان سے دور بینوں کے ذریعے سے کرنے پر مجبور تھے۔
سکھوں کی ہر ‘ارداس’ میں بچھڑے ہوئے گردواروں کے درشن کی دعا کی جاتی تھی۔
پاکستان اور ہندوستان کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے سکھوں کی اس ارداس کو پورا ہونے کے لئے 72 سال کا عرصہ لگا۔اور یہ معاملہ بھی شائد دوسرے زیر التوا معاملوں کی طرح ابھی مذاکرات اور بیٹھکوں کی نذر ہوتا رہتا ،اگر دو دوست ایک سال پہلے ایک دوسرے سے اس راستے کے کھولنے کا عہد وپیمان نہ کرتے۔
بلا شبہ کرتار پور صاحب کا راستہ کھلنے کا کریڈٹ صرف دو شخصیات پاکستانی وزیراعظم جناب عمران خان اور ان کے ہندوستانی دوست سابقہ کرکٹر اور حالیہ کانگریسی سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کو جاتا ہے۔
آج کرتار پور صاحب دنیا کے سب سے بڑے گردوارے کا روپ دھار چکا ہے۔ایک بہت بڑا کمپلیکس تعمیر کیا جا چکا ہے۔جس میں پانچ ہزار سے زائد زائرین کے ٹھہرنے اور لنگر پانی کا انتظام بھی ہو گا۔بعد ازاں یہاں شاندار ہوٹلوں اور مارکیٹوں کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اور یہ سب کچھ معجزاتی طور پر صرف نو ماہ کے قلیل عرصے میں وقوع پذیر ہوا ہے،کیونکہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے گرو نانک جی کے 550 یوم پیدائش پر سکھ قوم کو کرتار پور کوریڈور تحفے میں دینے کا وعدہ کیا تھا،جو انہوں نے آج پورا کر دیا۔
آج ایک ایسے وقت میں جبکہ ہندوستان میں ایک کٹر فرقہ پرست اورہندو انتہا پسند حکومت قائم ہے،جس نے ایک طرف 80 لاکھ کشمیریوں۔پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے،جبکہ دوسری طرف پورے ملک میں اقلیتیوں خصوصاً مسلمانوں،دلتوں اور اور عیسائیوں پر زمین تنگ ہو رہی ہے،اور انتہا پسند ہندو ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کے درپے ہیں،وہاں دوسری طرف ایک اسلامی شناخت رکھنے والا ملک پاکستان گردواروں کو بحال کر رہا ہے اور مندروں کی تعمیر نو کی جا رہی ہے۔
اس موقعے پر ایک طرف جہاں عام طور پر پاکستان اور پوری دنیا میں سکھ برادری میں خوشی کی لہر  دوڑ گئی ہے اور ایک جشن کا سا سماں ہے ،وہی دوسری طرف بدقسمتی سے پڑوسی ملک ہندوستان کے میڈیا میں،اس خیر سگالی کے اقدام کے موقع پر بھی پاکستان کے خلاف دن رات زہر اگلا جا رہا ہے۔
ایک ایسے نفرت کے ماحول میں جہاں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ڈاک سروس تک بند کر دی گئی ہے۔ایک کمیونٹی کے لئے پاکستانی سرزمین پر ویزا کے بغیر آمد کے دروازے کھولے گئے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا اقدام ہے۔امن کے لئے کی گئی کوششوں کے نتیجے میں یہ پھوٹنے والی یہ وہ کونپل ہے،جسے ایک دن تناور درخت بننا ہی ہے۔امید ہے آگے چل کر اسی راستے سے پاکستانی سکھوں کو بھی ڈیرہ بابا نانک ،جو کہ سرحد کے اس پار صرف  ڈیڑھ کلومیٹر پر واقع ہے،کے درشن کا ویزہ فری موقع دیا جائے گا،اور دیگر راستے جیسا کہ کشمیریوں کو آپس میں ملانے والے راستے بھی کھول دیے جائیں گے۔اس راستے کا کھلنا نفرت،مذہبی انتہا پسندی اور جنونیت کی ہار ہے،اور بابا گرو نانک دیو جی کی امن،بھائی چارے اور مساوات کی تعلیمات کی جیت ہے،اور  ان کی جیت کا یہ شبھ دن سب سکھوں اور پورے برصغیر کے امن پسند لوگوں کو مبارک ہو۔
منور حیات سرگانہ۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *