تزکیہ نبویؐ ۔۔۔ مسکین جی

( قسط اول بسلسلہ ماہ ربیع الاول )
پیغمبرِ اسلام جنابِ محمد عربی صلی الله عليه وسلم تمام انبیائے کرام میں سب سے زیادہ کامیاب و کامران رہے۔ نبوت کا فریضہ دنیا کے ہر فریضے کے مقابلے مشکل ترین فریضہ ہے لیکن خدائے بزرگ و برتر کی نرالی شان دیکھیئے کہ اس نے اس مشکل ترین کام میں سب سے زیادہ کامیابی اپنے اس بندے کو عطا کی جس کے پاس بظاہر کامیابی کے اسباب و وسائل تقریباً ناپید تھے۔
پیدا ہوئے تو یتیم، لڑکپن بکریاں چراتے ہوئے گذرا، جوان ہونے پر فکرِ معاش ایسی دامن گیر ہوئی کہ ایک دن بھی اطمنان سے بیٹھنے کو نہ ملا۔ اس بے سر و سامانی کے عالم میں نوشت و خواند کا کیا اہتمام ہوتا؟ لکھنے پڑھنے سے قطعاً ناواقف رہے۔ قوم بھی ایسی ملی کہ جو اپنی گمراہی کو ہی عین آگہی سمجھتی تھی۔ پھر بھی آپ صلی الله عليه وسلم نے خدا کا پیغام بندگانِ خدا تک پہنچانے میں وہ شاندار کامیابی حاصل کی جو آپ اپنی مثال ہے۔
بحیثیتِ مجموعی گر دیکھا جائے تو آپ علیہ السلام نے ہر شخص پر کامل محنت کی۔ لیکن فطری سرشت کے پیشِ نظر حضور کی یہ محنت ہر شخص میں علیحدہ اور امتیازی صورت میں نکھر کر سامنے آئی۔ تکمیلِ ذات کا کام تو ہر ایک کا ہوا لیکن خصوصیت کسی ایک پہلو میں نمایاں نظر آئی ۔ چنانچہ تزکیہ نفس کی محنت ہر صحابی پر کی گئی ۔ خدا خوفی کا درس ہر ایک صحابی کو دیا، راستی و سچائی کا پاٹ ہر ایک کو پڑھایا، بہادری ہر ایک کو سکھائی، شرم و حیا کی شیرینی ہر ایک کو پلائی۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کسی خاص وصف میں کامل بن کر ابھرا۔۔
اس موقع پر حضرت مناظر احسن گیلانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ
“تم دیکھتے ہو کہ عرب کے ایک ساحلی شہر طیبہ میں نبوی آفتاب چمک رہا ہے۔ اس کے ارد گرد سینکڑوں دل اور ہزاروں روحوں کا اجتماع ہے۔ لیکن وہ جنہیں لوگ افضل البشر بعد الانبیاء کہتے ہیں صدیقیت کے رنگ کو اپنے اندر اس (نبیؐ) کی کرنوں سے پختہ کر رہا ہے ۔ کسی میں فاروقیت یا حق و باطل میں قوتِ ممیزہ شدت پذیر ہو رہی ہے۔ کوئی ہے جو اپنے روح و جسم میں حیا کے تمام شعبوں کی تکمیل میں مصروف ہے ۔ کسی کا سینہ علوم و معارف کے لیے یوما فیوما منشرح ہو رہا ہے”

جہاں آفتاب نبوت سے یہ مندرجہائے صداقت و شجاعت کے نموذج سامنے آئے بالکل اسی طرح ان پروانوں میں ایک غفاری پروانہ بھی تھا۔ جس پر غفاریوں کی خاندانی درندگی، قومی غیض وغضب، نسلی خونریزی کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ جو قبیلے کے لحاظ سے ایک لٹیرا تھا۔ لیکن اس لٹیرے کے جگر گوشے میں ایک صالحیت کی شمع بھی تھی جو آفتاب نبوت کے سائے میں آئی تو زہد و رشد کا نمونہ بن گئی۔ اور ایسی اصلاحی تکمیل ہوئی کہ زبانیں گواہی دینے لگیں۔
“من سره أن ينظر إلى زهد عيسي بن مريم فلينظر إلى أبي ذر ”
جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زہد و تقوی کو دیکھ کر سرشار ہونا چاہتا ہے وہ حضرتِ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔
بلاشبہ ان زمینی ستاروں کی چمک نبی اکرم کی صحبتِ پاک کی کرنوں کی ہی مرہونِ منت ہے لیکن اگر بغور دیکھا جائے، اسباب و علل تلاش کیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ستاروں کے چمکنے میں بہت بڑا دخل حضورۖ اکرم کے حسنِ انتخاب کو حاصل ہے۔ آپ نے ہمیشہ سامنے والے کی طبعیت کے موافق اس پر محنت کی۔ چنانچہ جب پیکرِ شرم و حیا جناب سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ دربارِ نبوت میں داخل ہونے لگتے ہیں تو حضورۖ اپنی غیر مستور پنڈلی بھی کپڑے سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ اور پھر جب باری آتی ہے ایک شاہکارِ تزکیہ ایجاد کرنے کی تو حضورۖ خصوصی طور پر اپنی توجہ کا مرکز ابو ذر غفاری کو بناتے ہیں اور تربیت کا آغاز کچھ یوں کرتے ہیں کہ سب سے پہلے ان کے قلب سے دنیا کی محبت کو نکال باہر پھینکتے ہیں ۔ ہر وقت، ہر موقع اور ہر پہلو میں دنیا کی بے ثباتی ان کے سامنے رکھتے ہیں۔ کہ دنیا کی محبت ہی اس امت کی بڑی آزمائش ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *