فیمینزم کیا ہے۔۔فرید مینگل

بلوچستان یونیورسٹی کے حالیہ اسکینڈل کے بعد جہاں یونیورسٹی انتظامیہ اور اس پر تحقیق کےلیے تشکیل کردہ پارلیمانی کمیٹی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تو وہیں طلبا میں بھی عورت کی نماٸندگی پر ایک خاص بحث چھڑ گٸی ہے۔ مردانہ سماج میں جہاں طلبا کا ایک حلقہ عورت نماٸندگی کو غیر ضروری سمجھ کر اس واقعے کو کالونیل استحصال کا تسلسل قرار دے رہی ہے تو وہیں ان کا ایک اور اسکول آف تھاٹ اس بدترین اور شرمناک واقعے کو قومی استحصال کے ساتھ ساتھ عورت کے دوہری استحصال سے جوڑ کر عورت کی نماٸندگی پر زور دے رہا ہے۔ کوٸی فیمینزم کو سامراجی پیداوار، مددگار اور انقلاب دشمن کہہ کر دھتکار رہا ہے تو کوٸی اسے قومی سوال سے جوڑ کر اسے تحریک کےلیے ایک مددگار ٹول ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ایسے میں ہم لاعلم طلبا سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی کوشش کرینگے کہ فیمینزم از خود کیا ہے۔۔؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ آیا فیمینزم اجتماعی جبر کو بڑھاوا دینے کی وکالت کرتا ہے یا پھر معاشرے کی آدھی آبادی (عورت) کو دوسری آدھی آبادی (مرد) کے استحصال سے نجات دلا کر اسے (عورت کو) قومی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے کےلیے مرد کے برابر لاکھڑا کر کے اجتماعی جبر سے نجات کی بات کرتا ہے۔

ڈکشنری بریٹانیکا کے مطابق:
”فیمینزم تمام تر جنسوں کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی برابری پر یقین رکھتی ہے۔“

ڈکشنری میریم ویبسٹر اس کی دو طرح کی تعریفیں پیش کرتا ہے:
1 ”فیمینزم وہ نظریہ ہے جو تمام جنسوں کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی برابری کی وکالت کرتا ہے۔“

2 ”عورتوں کے حقوق و فاٸدے کےلیے کیا جانے والا منظم عمل فیمینزم کہلاتا ہے۔“

فوربز میگزین کا ویب ساٸٹ بھی کچھ اس ہی طرح کے چار تعریفیں پیش کرتا ہے۔

کیمبرج ڈکشنری فیمینزم کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے:
”یہ یقین کہ عورتوں کو بھی وہی حقوق، اختیارات اور مواقع حاصل ہوں جو مردوں کو ملی ہیں۔
یا پھر اس مقام کے حصول کےلیے کی جانے والی جدوجہد کا نام فیمینزم ہے۔“

مندرجہ بالا تعریفوں کی روشنی میں ہم اخذ کر سکتے ہیں کہ فیمینزم سامراجیت کا پرچارک، ہمایتی، مددگار اور انقلاب دشمن نظریہ ہرگز نہیں۔ بلکہ فیمینزم آدھی انسانی آبادی کے سیاسی، سماجی و معاشرتی آزادی و برابری کی بات کرتا ہے۔ جس کی ہر ذی شعور انسان ہمایت کرنا چاہے گا۔ البتہ فیمینزم بعض مذاہب کے آدھی انسانی آبادی یعنی عورت کے متعلق رجعت پسند نظریات کو ضرور مسترد کرتا ہے۔

جیسے کہ باٸبل کے (نیو انٹرنیشل ورژن) میں بیان کیا گیا ہے:
”میں تمہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہر عورت کا سردار مرد ہے اور ہر مرد کا سردار کرسٹ (عیسٰی ابن مریم ) ہے۔ جب کہ کرسٹ کا سردار خود خدا ہے۔“

لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ فیمینزم ایک ایسا نظریہ، ایک ایسی تحریک اور اقدامات کا مجموعہ ہے جو عورت کے بنیادی حقوق کی دفاع اور ان کے حصول کی جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔ اسے انسانی سماج میں سیاسی، سماجی اور معاشی طورپر آزادی اور برابری عطا کرنے کی تگ و دو کرتا ہے۔ فیمینزم عورت بمقابلہ مرد نہیں بلکہ عورت کو پدرشاہی زنجیروں، اور استحصال سے آزاد کر کے مرد کے برابر لا کھڑا کرنے کا نام ہے۔ تاکہ پوری کی پوری انسانیت یکساں طورپر سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی آزادی کے ثمرات سے فاٸدہ اٹھا کر آگے بڑھ سکے اور انسانیت کی تعمیر و ترقی میں مشترکہ طورپر حصہ لے سکے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *