بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط7)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ سے پیوستہ

اس کے بعد۔میجر صاحب نے بڑے ادب سے باوا جی سےاختلاف کیا، اور بات گاؤں کی گدی نشینی سے شروع کی۔کہنے لگے ، بھائی  جان آپ نے بڑے بیٹے اکبر شاہ کو گدی کا جانشین بنا کے گاؤں میں دربار، مریدوں ، زمینوں سمیت ہر شے سونپ دی ہے، جعفر شاہ فوج میں میجر ہے ان میں سے کوئی  بھی نہ یہاں آ کے رہ سکتا ہے نہ یہاں کے ماحول اور مسائل سے واقف ہے، اصغر آپکی نظر میں بچہ ہے، گھر میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہ بچہ ہی رہے گا۔لیکن دو سال میں میں نے اس کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اسکی ٹریننگ بھی کی ہے، معذرت کے ساتھ یہ آج بھی بڑے بھائیوں سے زیادہ ذمہ دار، سمجھدار، دنیا دار اور ہشیار ہے، آپ کی اولاد ہے آپ میرے بڑے بھائی  ہیں مجھے تینوں برابر عزیز ہیں، میرا مشورہ ہے آپ یہ کرم شاہ مرحوم والا مربعہ ، دکان اور حاطہ اس کے نام کر دیں۔
بلکہ بہتر ہے گاؤں والی زمین بڑے بیٹوں کے نام کرا دیں، حساب کتاب سے کمی بیشی جمع تفریق کر کے حصے کر دیں، اصغر کو آپ نے یہاں جانشین کرنا ہے، تو یہ فیصلہ کریں، اسکی تعلیم شادی اور گھر بنانے کے اخراجات بھی اٹھانے    ہیں، گاؤں میں آبائی  حویلی اور ملحقہ زمین بیٹیوں اور اصغر کو دیں ، اپنا مربعہ بھی شاید آپکو اس کے حصے میں دینا پڑے گا۔

باوا جی دم بخود بات سنتے رہے شاید ساتھ ذہن میں حساب بھی لگا رہے ہوں۔۔کہنے لگے باقی تقسیم رہنے دیں ، کل کرم شاہ کی وراثت تو اس کے نام کرتے ہیں یہ آپکی رائے احسن ہے۔
میں نے مان لی۔
میجر صاحب نے اضافہ کر دیا، کل میں آپ اور اصغر تحصیل جائیں گے، منشی کو ساتھ نہیں  لائیے گا،وفادار سہی لیکن ملازم ہے۔ اسے ان امور سے باہر رکھیں، وہ یہاں چک میں خود کو ملازم نہیں  مالک سمجھتا ہے

نئی قسط ۔۔۔
اگلے دو دن منشی مانے پر بہت بھاری گزرے۔۔۔کہاں باوا وقار شاہ کے ساتھ ہر کام میں ساتھ رہنا۔ کہاں مربعہ انتقال کراتے اسے بالکل نظرانداز کیا جانا۔باوا جی اور اصغر شاہ دونوں باپ بیٹا صبح تیار ہو کے جیپ پر میجر صاحب کی طرف روانہ ہوئے تو منشی گیٹ کے باہر ان کو جاتے حسرت سے دیکھتا رہا ۔
تحصیل میں کرم شاہ مرحوم والا مربعہ ،حاطہ اور دکان اصغر شاہ کے نام منتقل ہو گئے، میجر صاحب اور الطاف شاہ گواہان تھے، پہلے روز دفتری کاروائی  تو مکمل ہو گئی لیکن نقل انتقال کے لئے ڈی سی صاحب کی بااختیار ڈسٹرکٹ کلکٹر منظوری درکار تھی، جو اگلے روز مکمل ہوئی ، اصغر شاہ نے سرکاری فیس اور واجبات کے ساتھ تحصیل آفس کے سٹاف کی مروجہ حق خدمت بھی الطاف شاہ کی وساطت سے ادا کر دی،الطاف شاہ تو اپنی وثیقہ نویسی کی فیس بھی لینے کو تیار نہیں  تھے، لیکن اصغر نے جب یہ توجیح پیش کی کہ “انکل جی اگر ہم ہی آپ کو اور سٹاف کو خرچہ پانی نہ دیں تو دیگر لوگ کیوں دیں گے ؟” تو وہ لاجواب ہو گئے۔۔
یہ کاروائی  شاہ جی کے پھٹے پہ  ہوئی ، جب میجر صاحب اور باوا جی تحصیلدار کے دفتر میں گپ لگا رہے تھے۔الطاف شاہ نے اصغر شاہ کی فیس کی ادائیگی سے ممنون ہو کر اس سے یہ راز  بانٹا کیا کہ کل انکے جانے کے بعد تاجی شاہ تحصیل آیا تھا۔ اس نے دفتری سٹاف سے انتقال کی کاپی لینے کی بات کی، پیسے بھی آفر کیے لیکن سٹاف نے معذرت کر لی کہ ڈی سی، اور ناظر صاحب کے اس کیس میں آرڈر کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔۔۔
دوسرے دن جب تمام دستاویزات کی مصدقہ نقول مل گئیں۔ اور ڈی سی آفس جا کے ناظر صاحب کا شکریہ ادا کر کے میجر صاحب کے ساتھ ان کے گھر میں ایک اور تفصیلی نشست ہوئی ،تو اس میں تاجی شاہ پر بات ہوئی ۔۔میجر صاحب نے باوا جی کو مشورہ دیا کہ آنے والے اتوار کو تاجی شاہ کو ڈیرے پر بلائیں ۔ وہ بھی آ جائیں گے۔
باوا جی پوچھا تاجی شاہ کو کیسے بلوایا جائے گا ؟
اصغر عام طور پر ان بزرگوں کی باتیں خاموشی سے سنتے بس مسکراتا رہتا، اس سوال کے جواب میں اس نے بتایا  کہ وہ منشی کی وساطت سے تاجی شاہ سے رابطے میں ہیں۔ اس پر میجر صاحب نے درشت لہجہ میں پوچھا کہ کیوں ؟
اصغر شاہ نے ادب سے بتایا کہ تاجی شاہ علاقے میں آئل کمپنی کا چلتا پھرتا پرزہ ہے، اس وجہ سے ہر محکمے میں رسائی  رکھتا ہے ! اندیشہ تھا کہ وہ کوئی  بھی پھڈا ڈال سکتا ہے !
باوا جی بھی تھوڑے سے پریشان لگ رہے تھے، کہنے لگے ، تم چچا بھتیجا جس طریقے اور سپیڈ سے کام کرتے ہو اور ہر ایک پر شک باندھتے ہو اس سے مسائل پیدا ہوں گے !میجر اور اصغر چُپ رہے تو باوا جی نے بات بدل دی۔
میجر صاحب سے پوچھا کہ ان کے بھائی  کرنیل صاحب زیارات سے کب واپس آئیں گے ؟ ساتھ یہ اضافہ کر دیا “کہ سنا تھا ان کو خانیوال میں دو مربعے الاٹ ہونے تھے۔ کیا بنا ؟
میجر صاحب کے بچے سکول سے واپس آ گئے سلام کرنے بھی  آئے، بیٹا بڑا اور ایف اے میں تھا، اصغر اس کے ساتھ گول کمرے سے یوں اجازت لے کے نکل گیا، کہ آپ لوگ ڈسکس کریں میں ذرا بھائی  سے پڑھائی کی باتیں پوچھ لوں۔
اب میجر صاحب سے باوا جی نے کھل کے بات کی، کہ اصغر کے نام مربعہ کرنے سے بڑے بیٹے معترض ہو سکتے ہیں !
منشی کی اصغر کو اب زیادہ ضرورت ہو گی۔ اس نے آگے بی اے بھی کرنا ہے !
میجر صاحب نے بڑے تحمل سے کہا،، بھائی  جان میں بھی یہ مسائل جانتا ہوں۔ سمجھتا ہوں ،آپ سارے خاندان کے بڑے ہیں سربراہ ہیں ،ہمارا فخر ہیں، آپ دعا کریں ، اتوار کو ہم سب لنچ آپ کے ڈیرے پر کریں گے، بچوں کی آؤٹنگ بھی ہو جائے گی، تاجی شاہ کا قضیہ بھی آپ نپٹا دیں گے، باقی معاملات آپ کے حکم کے مطابق طے ہوں گے۔
کرنل صاحب کی واپسی دو ہفتے بعد ہے، انکو راجن پور میں زمین آفر ہوئی  تھی، وہ خانیوال میں لینا چاہتے ہیں ۔
واپسی پہ  یہاں ہی آئیں گے،۔

ڈائیننگ روم سے کھانا لگ جانے کی آواز آئی ، وہاں بچوں اور خاندان برادری میں منگنی اور رشتے پر باتیں ہوتی رہیں ۔
رخصت ہوتے  وقت باوا جی نے میجر صاحب کو کہا کہ وہ اصغر سے اس مربعے کا اپنے نام مختار نامہ بھی بنوانا چاہتے ہیں !

کینٹ سے نکلتے مین روڈ پر بیکری کے سامنے اصغر نے اچانک جیپ روکی، بچوں جیسی ایکسائٹمنٹ میں بولا ،ابا جی آپ کوناظر صاحب کے بیٹے اور میرے ہم جماعت ذیشان حیدر سے ملواتا ہوں ،
بیکری کے سامنے کھڑی بائیک اس نے پہچان لی تھی، اتر کے بیکری میں گیا، اور ذیشان کو پکڑے واپس آیا۔۔باوا جی سے تعارف کرایا، انہوں نے حیرانی اور شفقت سے اسے پیار کیا ، دعا دی، دونوں دوست خوش ہوئے۔
ذیشان نے کہا گھر چلیں، اصغر نے باوا جی کی طرف دیکھا ، انہوں نے کہا ناظر صاحب سے ملاقات طے کر کے سلام کرنے حاضر ہوں گے، اس طرح مناسب نہیں ، لیکن بچے بہت دنوں بعد ملے تھے، پُر جوش تھے، ذیشان نے کہا کہ ساتھ چلو، بائیک اور شاپنگ میں گھر چھوڑتا ہوں آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔ تم پھر مجھے ڈراپ کر جانا،پانچ منٹ کی ڈرائیو پہ  تو بنگلہ تھا، ذیشان جلدی سے گھر بتا کے ان کے ساتھ جیپ میں سوار ہو گیا،باوا جی ساتھ بات چیت میں پتہ چلا کہ وہ بی اے کا امتحان دینے والا ہے، باوا جی کو اصغر کا بچپنا عرصے بعد دیکھنا بہت اچھا لگا، راستے میں ہی طے ہو گیا کہ اصغر بھی پرائیویٹ بی اے کا امتحان  ذیشان کیساتھ تیاری کر کے دے گا۔

ڈیرے پہ  پہنچے ، جگہ ذیشان کی دیکھی بھالی تھی، ایف اے کرتے وہ یہاں آتا رہتا تھا۔ چائے پہ  باوا جی کیساتھ باتیں کرتا رہا، وہ اس کی بھی اصغر جیسی میچؤر سوچ سے خوش بھی ہوئے اور مطمئن بھی کہ بیٹے کی دوستی قابل بچے کیساتھ تھی۔ باوا جی نمازیں پڑھنے لگے تو اصغر ذیشان کو چھوڑنے جاتے وقت  یہ بتا گیا کہ شام تک ذرا دیر سے لوٹے گا۔
اب بیٹھک کے برآمدے میں باوا جی اکیلے پلنگ پہ  لیٹے تھے، تھوڑی دیر میں منشی نازل ہو گیا۔
اب جو اس نے مجلس پڑھنی شروع کی تو باوا جی بھی گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئے،منشی نے فرش پر بیٹھے روتے بسورتے بات مربعہ لینے اور اس کی آباد کاری سے شروع کی، کیسے زمین ہموار کی ۔آم کا باغ لگایا ۔راجباہ سے کھال بنی، موگھے کیسے لگائے، ڈیرہ تعمیر ہوا، بیٹھک ، چک کے حاطہ منڈی کی دکان ، گائیں گھوڑی پالنے۔۔غرض اصغر کی پیدائش اور اس وقت زمین کی الاٹ منٹ سے دو دن پہلے تک کی ساری داستان اس نے روتے دھوتے بیان کی، باوا جی یک ٹُک اسے دیکھتے اور سنتے رہے۔
نہ روکا نہ ٹوکا، نہ مداخلت کی، منشی نے خود وقفہ لیا ، چہرہ پرنے سے صاف کیا اٹھ کے پانی پیا، موڑھا لے کے بیٹھا اور ہاتھ جوڑ کے کہنے لگا، مُرشد ! اس سارے عرصے میں مجھ سے کیا قصور ہوا ؟
باوا جی بھی بزرگ گدی نشین روحانی ہستی تھے ، منشی کے دل کے وسوسے اور دماغ کے خوف سمجھ رہے تھے ،آخر مسکرا کے کہنے لگے، مانیا ہوا کیا ہے ؟ سارے کام تو اسی طرح ہو رہے ہیں تو پریشانی کیا ہے ؟
مانا اپنی بھڑاس تو نکال چکا تھا ، ذہن خالی ہو جائے تو بندہ اپنے جرائم کے اعتراف کا سہارا لیتا ہے !
اپنے خوف زبان پہ لے آتا ہے !
منشی نے بھی پہلے مربعے پہ  لین دین میں چھوٹے موٹے کیے ہوئے فراڈ گنوائے ۔
باوا جی نے  ہنس کے کہا یہ تو ہوتا ہے گندم کی فصل تیار ہوتی ہے تو سٹے تک چرند پرند انسان حیوان سب کھاتے ہیں۔منشی اپنی ترنگ میں کہہ گیا، مُرشد میرے ہاتھوں آم کی جھاڑ سے لے کر پیٹیاں بھرنے تک یہاں لوگ کام کرتے  ہیں !
باوا جی کے چہرے پر جلال منشی نہ دیکھ پایا۔
انہوں نے دبدبے والی آواز میں کہا، مانیا تم جو بتانا چاہتے ہو وہ بتاؤ ۔ میں سب جانتا ہوں !
منشی گھبرا کے کہنے لگا۔ سرکار کرم شاہ والے مربعے کے انتقال پر مجھے کچہری نہ لے کے جانا میری غلطی کی سزا تھی ناں؟
مُرشد میں نے گناہ کیا تھا۔ تاجی شاہ نے مجھے لالچ دیا کہ اسے یہ مربعہ مل گیا تو وہ صرف پمپ والی جگہ رکھے گا باقی زمین مجھے کاشت کے لئے فری دے گا۔ میں بہک گیا تھا، وہ بھی تو اپنے علاقے کا ہے ناں، میں اسکی بولی سے دھوکہ کھا گیا۔
میں نے ہی اسے ساری تفصیل بتائی، اس نے فائرنگ بھی مجھے بتا کے کرائی،
یہ سب میں آپ کو بتانا چاہتا تھا، لیکن چھوٹے شاہ جی نے مجھے منع کر دیا۔ مُرشد پرسوں تاجی شاہ منڈی میں مجھے ملا تھا۔۔لیکن میں نے اسے کچہری کا کچھ نہیں  بتایا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ بھابھی سے مقدمہ کرا کے مربعہ لے لے گا۔
اب منشی دھاڑیں مار کے رونے لگا، اٹھ کے پاؤں پکڑنے لگا تو باوا جی نے جھٹک دیا،
باوا جی نے اپنے جلال پہ  قابو رکھتے لیکن سخت لہجے میں کہا کہ چُپ کر جاؤ۔ جو ہوا سو ہو چکا ، تم آرام سے اپنے کام کرتے رہو۔ اب جب تک کہا نہ جائے تاجی شاہ سے ملنے کی کوشش مت کرنا، وہ بلائے تو مجھے بتا دینا۔
باوا جی نے واقعات کا ادراک کر لیا ۔ لیکن حالات کی نزاکت کو سمجھتے ماحول سازگار رکھنے کو منشی سے دوا منگوائی۔پانی لانے کو کہا ۔ منشی بھی نارمل ہو گیا۔ باوا جی مغربین کی نمازیں پڑھنے لگے تو وہ ڈنر کا بندوبست کرانے چلا گیا۔

اصغر اور ذیشان واپسی ڈرائیو میں بے اے کے امتحان بارے پلان بناتے رہے کہ مضامین ، بکس ۔نوٹس، داخلہ پرائیویٹ امتحان کے فارم اور دیگر کام کیسے کریں گے کالج میں کلاسز اور ٹیوشن کیسے ممکن ہو گی، راستے میں اصغر کے ذہن میں جھماکہ  ہوا کہ وہ دن کو اپنی ڈائری اور پاؤچ تو  رولے میں میجر صاحب کے گھر بھول آیا۔ اس نے ذیشان کو ڈراپ کیا اور سیدھا میجر صاحب کے بنگلے پر پہنچا۔ ڈرائیو وے پر جیپ پارک کی تو وہ فیملی لان میں ٹی پارٹی کر رہے تھے۔
اسے دیکھ کر سب خوش ہوئے بیگم صاحبہ نے تالی بجا کے کہا کہ میں شرط جیت گئی۔۔
انہوں نے پاؤچ۔ڈائری سنبھالی تھی ، اعلان کیا کہ اصغر آج دوبارہ آئے گا میجر صاحب نہ مانے، شرط لگ گئی اور اب وہ جیت گئیں۔۔ برادری اور خاندان میں مل جل کر رہنے کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچے سب بڑوں کی محبت اور تربیت سے فیضیاب ہوتے ہیں، ۔۔۔بیگم صاحبہ نے پاؤچ ڈائری اصغر کو لا کے دی اور شرط جیتنے پر دعاؤں سے بھی نوازا ۔
باوا جی کے سامنے تو ماحول پر تکلف اور مؤدبانہ ہوتا۔ لیکن ویسے میجر صاحب کے ہاں اصغر گھر کا فرد ہوتا۔
میجر صاحب سے اس نے کہا کہ انکل اس تاجی شاہ کا باوا جی سے مکُو آپ نے ٹھپوانا ہے، اور منشی انکل کی ڈھبریاں بھی ٹائیٹ ہونی چاہیئں ۔۔ اتوار کو میں صبح آ کے آنٹی اور بچوں کو لے جاؤں گا۔ آپ تاجی شاہ کو لائن اپ کریں
اور آپ اسے اپنے ساتھ لائیں گے۔
جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *