جاگرز۔۔۔ یاسر جاپانی

آٹھویں کا بورڈ کا امتحان دیا تو پاس ہوگیا ۔
قریبی ہائی سکول میں نویں کلاس میں بھرتی ہوئے تو معلوم ہوا کہ نئے سکول میں یونیفارم کے ساتھ “ جوتے” بھی چاہیے  ہوتے ہیں۔
ہم سردی ہو یا گرمی “ پلاسٹک کے سلیپر” گھسیٹنے والے طبقے کے لوگوں کو “ جوتوں” سے واسطہ مار کھاتے وقت ہی پڑتا ہے ،پیر ڈالنے کیلئے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
جماعت نہم میں تھے تو ایک دن “ پی ٹی آئی “ صاحب نے کہا کہ “ واہ فیکٹری “ سے فوجی اور سٹوڈنٹ میراتھن دوڑ لگاتے ہوئے آئیں گے،اور ہمارے سکول سے بھی “تم” لوگوں نے شامل ہونا ہے۔
دیگر کے ساتھ میرا نام بھی “ زور “ سے پکارا گیا۔
معلوم ہوا کہ “ کاچھے اور شرٹ “ کے ساتھ “ جاگر” بھی لینے ہیں۔۔۔۔
ایک دوست کے پاس کا چھا پڑا تھا وہ ادھار لے لیا اور دوسرے سے شرٹ ادھاری مل گئی۔
اصل مسئلہ “ جاگر” کا تھا۔
اب کیا کریں۔۔۔۔باپ سے کہنے کی تو “تُک” ہی نہیں بنتی تھی معلوم تھا کہ “آٹا” پورا نہیں پڑتا تو جوتے کہاں سے لیکر دے گا۔
چند دن پہلے ہی “ مومی لفافے “ جمع کرکے “گیند “ بنانے والے “ علم “ کو استعمالت کرتے  ہوئے “ پلاسٹک کے سلیپر” گانٹھے تھے کہ دو قدم چلتے ہی “ چٹاخ” سے پھر ٹوٹ گئے تھے۔
پھر دماغ لڑا کر “ٹاکیاں “ پھاڑ کر سلیپروں کو گانٹھیں لگا کر قابل استعمال کرکے گھسیٹ رہا تھا۔
1987 میں “35 روپے” بہت بڑی رقم ہوتی تھی ۔
لیکن 35 روپے میں “ باٹا یا سروس “ کے جاگر خریدنا تو دور کی بات سوچنا بھی گناہ تھا۔
ہم اکثر” سروس اور باٹا” کی دکانوں کے سامنے سے حسرت سے گزر جایا کرتے تھے۔
تو ہمارے ہاتھ میں 35 روپے تھے۔
“دماغ “ نے کام کیا اور سمجھایا کہ “ایبٹ آباد” کا لنڈا بازار زندہ باد ۔۔۔کچھ نا کچھ اللہ سبب بنا ہی دے گا۔
ایبٹ آباد پہنچنے کے بعد پہلے تو دو روپے کی “ آلو گوشت” کی پلیٹ لی جس کے ساتھ روٹیاں فری ہوتی تھیں جتنی مرضی کھاؤ۔
دھان پان لاغر کمزور وجود کے باوجود میں چار پانچ روٹیاں تو آرام سے ایک پلیٹ سالن اور “گریوی” کے ساتھ کھا جاتا تھا۔
روٹیاں بھی آجکل کے پاپڑ نہیں ہوتے تھے۔
روٹی کھانے کے بعد ڈکار مارا۔
اور چہل قدمی کرتے ہوئے اِکا دُکا سڑک پر چلنے والی “ موٹراں” دیکھتے ہوئے اکا دکا دکھائی دینے والے برقی “ سائین بورڈ” سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ۔
لنڈے بازار پہنچ گئے۔
ابےےےےےےے
سالی ۔۔۔۔۔مہنگائی۔۔۔
جتنے پیسے جیب میں تھے اتنے میں تو لنڈا بھی ہمیں منہ نہیں لگا رہا تھا۔
ایک ریڑھی والے کے پاس دیکھا تو بڑے زبردست قسم کے جاگر پڑے تھے جلدی جلدی اٹھائے پہن کر دیکھے تو سائز بھی ایک دم فِٹ فاٹ تھا ۔
خوشی سے دل پھٹنے کے قریب تھا ہی کہ پوچھا
چاچا ۔۔۔ اس کی قیمت کیا ہے۔
چاچے نے پہلے میری مدقوق شکل دیکھی پھر میرے لاغر سے وجود پر اچٹتی سی نگاہ ڈالی اور بے نیازی سے بولا۔
ہیں تو مہنگے لیکن تیرے کو پینتالیس کے دےدوں گا۔۔۔
اوس ۔۔۔۔۔پڑنا اسے کہتے ہیں کم سنی میں ہی ایسے تجربے بار بار ہونے کے بعد ہمیں اس کیفیت سے گزرنے کا کرب ازبر ہو گیا تھا۔
خاموشی سے جاگرریڑھی پر واپس رکھے اور دو قدم آگے چل کر ۔۔۔۔
کچھ سوچے سمجھے بغیر جیب سے پیسے نکال کر گنے کہ شاید انڈے بچے دے کر پینتالیس ہوگئے ہوں ۔
نہیں ۔۔۔۔ بتیس ہی تھے۔۔
ٹھنڈی آہ بھری اور پھر پیسے جیب میں رکھ کر “ تلاش “ کیلئے آگے جانے لگا تو
ریڑھی والے نے زور سے آواز لگائی
اووو ہلکا۔۔۔۔
آواز کی طرف دیکھا تو مجھے اشارے سے بلا رہا تھا۔
ریڑھی کے پاس جاکر کر پوچھا
کیا ہے؟
چاچے نے جاگروں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کتنے کے لے گا؟
ترنت جواب دیا ۔
بیس کے ۔۔۔۔۔
چاچا مسکرایا ۔۔۔اور جاگر اٹھا کر مجھے تھما دیئے ۔
میں نے خوشی سے کانپتی آواز میں کہا ۔
چاچا ۔۔۔تونے تو پینتالیس روپے کہا تھا؟۔
بس ٹھیک ہے ۔۔ تو یہ لے جا۔۔ چاچے نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔
بیس روپے چاچے کو تھمائے اور جاگر سینے سے لگا کر بھاگنے لگا تو
کچھ سوچ کر پوچھ بیٹھا۔
چاچا ۔۔ تو نے یہ جاگر مجھے سستے کیوں دیئے؟
چاچا مسکرایا اور بولا۔
ادھر گاؤں سوات میں میرا ایک ہی بیٹا ہے اس کا شکل تیرے سے ملتا ہے بس اس لئے تجھے سستا دے دیا۔
اب جاؤ ۔۔ساتھ میں ہاتھ سے دفع  دور کا اشارہ بھی کر دیا۔
چاچے کی ہلکی ہلکی سفید داڑھی والی شکل ابھی بھی یاد ہے۔
رنگ اُڑے کپڑے اور چادر بھی یاد ہے ۔
جس سے اب اندازہ ہوتا ہے کہ چاچا کے حالات بھی مخدوش ہی تھے۔
کند جنس باہم جنس پرواز
چند دن بعد میراتھن دوڑ میں شرکت کی تو
ہمارے سکول کے لڑکے جو “ سرکاری ادارے” کے آفیسرز کے بچے تھے۔
کچھ دیر دوڑتے تھے اور پھر باپ کی بائیک پر بیٹھ کر میراتھن میں شرکت کرتے تھے ۔ یا کسی گاڑی سے لٹکے ہوئے ہنستے قہقہے لگاتے ہم سے آگے نکل رہے ہوتے تھے۔
پوری دیانت اور ایمانداری سے دوڑتے ہوئے سوچا ۔۔
یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟
ان کو تو دوڑنا چاہیے ۔۔بس اتنا ذہن میں آیا کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں غلط کر رہے ہیں۔
ایبٹ آباد آرمی کی چھاؤنی میں “ گول “ کیا اور “میس”میں کھانا کھایا تھا۔
پھر میراتھن کے شرکاء میں “ میڈل “ کی تقسیم کی تقریب ہوئی تو
ہم بھی دھڑکتے دل “ ملنے “ والے “میڈل” کا اشتیاق سے انتظار کرنے لگے۔
سب کا نام باری باری پکارا جانے لگا۔۔
ہمارے نام کی آواز کہیں سے نہ  آئی اور “ تقسیم “ کی تقریب ختم ہوگئی ۔
کچھ پریشان ہراساں ہو کر اپنے “ بچگانہ” دل کے ساتھ ایک “ تقسیم “ کرنے والے صاحب سے منمناتی آواز سے کہا کہ
میرا میڈل مجھے نہیں ملا۔۔۔
ان صاحب نے بھی میری مدقوق شکل اور لاغر وجود پر حقارت سے نظر ڈالی
اور نرم لہجے میں بولے
“ میڈل”مُک گئے ہیں!!۔
دوسرے دن اخبارات میں میراتھن میں شریک طالب علموں کے نام اور فوٹو لگے ہوئے تھے
میرا اور ایک دو دوسرے لڑکوں کا کہیں نام نہیں تھا۔
اب “سپورٹ شوز “ روڈ رن اور ٹریل رن کیلئے علیحدہ علیحدہ خرید لیتا ہوں۔۔
اور قیمت کبھی مہنگی محسوس نہیں ہوتی اور کبھی وہ “ لنڈے” کے جاگر ملنے کی خوشی بھی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی چاچے کی شکل بھولتی ہے۔۔
اور “ میڈلز” کا ڈھیر “رُل “ رہا ہے۔
بیگم ہر چند دن بعد چنگھاڑنے ہوئے کہتی ہے اس کچرے کو کسی ڈبے میں ڈال۔
لیکن
جنابو ۔۔۔۔۔۔معلوم ہے کیا۔۔۔
وہ بد عنوانی وہ بد دیانتی وہ “اُن” لوگوں” کی “ خیانت” بھی نہیں بھولتی ۔
ڈنڈی مارنے سے آپ کی نسل “خودغرض” ہوجائے گی۔
یہ اچھی بات ہے یا بری ؟
ہم رائے نہیں دیتے۔
لیکن اتناضرور پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں۔
لنڈے بازار کےریڑھی والے اجنبی چاچاکاچہرہ دماغ کے پردےپر گھوم کرمجھے اکثر رحمدلی پر مجبور کردیتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *