دلدار پرویز بھٹی،کچھ باتیں ،کچھ یادیں ۔۔توفیق بٹ

میری شادی کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے۔ اس شادی کے سارے انتظامات دلدار بھٹی نے کیے تھے، ولیمے پر لالے عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے گانے ”قمیض تیری کالی“ پر وہ ایسے رقص کررہا تھا جیسے یہ اس کے سگے چھوٹے بھائی یا بیٹے کی شادی ہو، وہ بہت خوش تھا، تب میاں منظور احمد وٹو پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، وہ بھی ولیمے میں موجود تھے۔ تب میں کالم وغیرہ نہیں لکھتا تھا، چنانچہ جو ”لفافہ “ بطور ”سلامی“ انہوں نے مجھے دیا، دلدار بھٹی کے کہنے پر وہ میں نے بخوشی قبول کرلیا۔ ایک لفافہ انہوں نے دلدار بھٹی کو بھی دیا، دلدار نے پوچھا ” میاں صاحب مجھے کیوں دے رہے ہیں؟ ۔میاں صاحب بولے ”آپ کو میں اس لیے دے رہا ہوں کہ آج آپ بھی دلہے ہی لگ رہے ہیں، جس پر دلدار بھٹی بولا ”شکر ہے میاں صاحب میں ”دلہن “ نہیں لگ رہا ورنہ آپ مجھے ساتھ لے جاتے، اس پر ایک زبردست قہقہہ پڑا۔

میاں منظور احمد وٹو آج بھی جہاں کہیں ملیں دلدار بھٹی کی یہ بات یاد کرتے ہیں، وہ جب سپیکر پنجاب اسمبلی تھے ہمیں اپنے ساتھ ایران بھی لے گئے تھے۔ دلدار بھٹی کی موجودگی میں یہ سفر زندگی کا یادگار سفر بن گیا ۔۔۔۔ کل میں مرحوم کے بارے میں اپنے بیٹے کو بتارہا تھا، ہمارے گھر میں اکثر اس کی باتیں ہوتی ہیں، بلکہ میری کوئی بات اس کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی، کہیں نہ کہیں اس کا ذکر، اس کا حوالہ، اس کا کوئی لطیفہ، کوئی واقعہ، کوئی نہ کوئی منفرد یاد میری باتوں میری گفتگو میں شامل ہوتی ہے، بلکہ اکثر میری تحریروں میں بھی شامل ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی کئی خوبصورت باتوں اور جملوں کو میں خود سے منسوب کرکے اس کا کریڈٹ لیتا ہوں، وہ کمال کا انسان تھا، اپنی کوئی پریشانی کسی پر کبھی نہ ظاہر کرنے اور دوسروں کو ہرحال میں خوش رکھنے کے فن کا وہ بادشاہ تھا۔

ہم بچپن سے ایک محاورہ سنتے آئے ہیں ”انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا“ ۔۔۔۔ دلدار بھٹی کے حوالے سے یہ محاورہ ہمیشہ غلط ثابت ہوا، وہ ہرحال میں خوش رہنے والا انسان نہیں شاید فرشتہ تھا، ایسے لوگ اس معاشرے میں اب خال خال ہی ملتے ہیں، اللہ نے اسے کئی حیثیتیں عطا کررکھی تھیں، اتنی خوبیاں کسی ایک انسان میں موجود ہوں یہ اس پر اللہ کا خاص کرم ہوتا ہے، وہ پنجابی زبان کا کمپیئر تھا، اردو کا کالم نگار تھا، اور انگریزی ادب کا ایسا استاد تھا میں نے ایک بار انگریزی میں استادوں کے استاد پروفیسر جیلانی کامران مرحوم جو نامور ادیب بھی تھے کو یہ کہتے ہوئے سنا ” دلدار بھٹی سے بہتر انگریزی کوئی نہیں پڑھا سکتا“ ۔۔۔۔انگریزی میں اس نے شاعری بھی کی ، اس کی بڑی خواہش تھی اس کی انگریزی شاعری کی کوئی کتاب شائع ہو، یہ حسرت وہ دل میں لے کر چلے گیا، اس کی وفات کے بعد اس کی انگریزی شاعری ڈھونڈنے کی میں نے بہت کوشش کی ، صرف چند نظمیں ہی مل سکیں جن کی کتاب نہیں بنتی تھی، شاید اخلاق احمد تارڑ سیکرٹری ایکسائز پنجاب ہوتے تھے۔ ایک بار دلدار بھٹی کے ایک دوست نے اس سے کہا ”سیکرٹری ایکسائز نے میرے بہنوئی کو رشوت لینے کے الزام میں معطل کر دیا ہے آپ میرے ساتھ چلیں اور سیکرٹری صاحب سے سفارش کریں  اسے بحال کردیں“۔۔۔۔دلداربھٹی اپنے اس دوست کے ساتھ چلے گیا، سیکرٹری ایکسائز سے کہنے لگا ” سر جسے آپ نے معطل کیا ہے وہ ہمارا بہنوئی ہے، ازرہ کرم اسے بحال کر دیں“۔۔۔۔ سیکرٹری صاحب بولے ” دلدار تمہیں پتہ ہے کہ وہ بہت رشوت لیتا ہے؟۔۔۔۔ دلدار بولا ”سر وہ ہم سے بہن لے گیا ہے، آپ رشوت کی بات کر رہے ہیں“۔۔۔۔ سیکرٹری صاحب نے ایک زبردست قہقہہ اس کی یہ بات سن کر لگایا اور فرمایا” تمہارے اس خوبصورت جملے کے صدقے میں، میں اسے بحال کرتا ہوں“۔۔۔۔

جی ہاں! 30 اکتوبر 1993ءکی نصف شب میں آج تک نہیں بھولا۔ میرے بیڈ روم کے سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ میں عموماً رات کو ریسیور فون سے الگ رکھ دیتا تھا۔ اس روز مگر بھول گیا۔ آدھی رات کو فون کی گھنٹی خطرے کا الارم ہی ہوتی ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ریسیور اٹھایا۔ دوسری طرف عقیدہ بھابی (بیگم دلدار پرویز بھٹی ) تھیں۔ بڑی گھبرائی ہوئی آواز میں انہوں نے بتایا ”ابھی امریکہ سے عارف لوہار (گلوکار) کا فون آیا ہے۔ وہ بتا رہا ہے دلدار کے دماغ کی نس پھٹ گئی ہے۔ وہ بے ہوش ہے اس کی زندگی خطرے میں ہے“۔۔۔۔ (یاد رہے دلدار بھٹی ان دنوں عمران خان کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کرنے امریکہ گیا ہوا تھا)۔ میں نے عقیدہ بھابی سے کہا میں ابھی آ رہا ہوں۔ میں بیگم کو ساتھ لے کر وہاں پہنچا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا یہ رات شاید ہی ختم ہو گی۔ پھر دلدار بھٹی کی موت کی خبر آ گئی۔ وہ رات ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ ایک ایسا شخص ہمیں چھوڑ کر چلا  گیا جس کی ہمیں بڑی ضرورت تھی۔ یہ ضرورت اب تک محسوس ہو رہی ہے ۔ جب دل اداس ہوتا ہے اور کوئی آس پاس نہیں ہوتا۔ جب کوئی مشکل ہوتی ہے اور کوئی حل مل نہیں رہا ہوتا۔ جب کسی مخلصانہ مشورے کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی یاد نہیں آ رہا ہوتا۔ جب ایسے ہی رونے کو جی چاہتا ہے اور کوئی کاندھا نہیں مل رہا ہوتا۔۔۔۔ جب سردیوں کی شاموں میں دل کی دھڑکن قابو ہونے لگتی ہے۔۔۔۔ جب کوئی پھول کھلا ہوا دیکھتا ہوں اور احساس ہوتا ہے چند لمحوں بعد یہ مرجھا جائے گا۔۔۔۔۔
یقین آتا نہیں ہے اب ملے گا یار تجھ جیسا
کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں گے دلدار تجھ جیسا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *