تحریک نظام مصطفی سے تحریک آزادی مارچ تک۔۔بسم اللہ خان

تاریخ خود دوسری مرتبہ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔حقیقت میں بدقسمتی سے پاکستان کی تمام سیاسی مذہبی پارٹیاں عالمی سامراج کے مفادات کے لئے کسی نہ کسی شکل میں کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ سامراج کے مفادات کے لئے کبھی اکھٹی ہو جاتی ہیں اور کبھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آتی ہیں۔ 1977 کی بات ہے کہ بھٹو کو سمجھ آگئی تھی کہ بنگلہ دیش کے حوالے سے امریکہ نے ہمارے ساتھ بڑی گیم کھیلی ہے۔ اس لئے بھٹو نے علاقائی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر کام شروع کر دیا۔لہذا آپ نے انڈیا روس چین کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کیلئے اقدامات کیے۔امریکہ کب اس بات کو گوارہ کرسکتا تھا۔اس لئے مذہبی کارڈ استعمال کیا گیا۔اور اتفاقاً اس وقت بھی 9 پارٹیوں کا اتحاد تھا ،اور اب آزادی مارچ میں 9 پارٹیاں شامل ہیں۔ لہذا تحریک نظام مصطفٰی کے نام سے تحریک شروع ہوگئی ۔ مذہبی نام اس لیے دیا گیا کہ مستقبل میں عالمی ساہوکاروں کو جہاد کے نام پر مذہب کو استعمال کرنا تھا۔لہذا ایک جھنڈا بنایا گیا جس پر 9 ستارے بنائے گئے۔جو 9 پارٹیوں کے اتحاد کی علامت تھے۔بدقسمتی سے مفتی محمود صاحب بھی جماعت اسلامی کے دھوکے میں آگئے۔اور جمیعت کو توڑ کر اس میں شامل ہوگئے۔پورے ملک میں تحریک چلائی گئی۔جس کا اختتام بھٹو کی حکومت کے خاتمے پر ہوا۔اور ایک ڈکٹیٹر نے حکومت سنبھالی۔جماعت اسلامی نے یہ کہہ کر کہ اسلامی خلیفہ آگیا ہے اصلاحی کام میں مصروف ہوگئی ۔ اور خونریز لڑائی کا جہاد کے نام پر آغاز ہوا۔ جس میں اب تک 30 لاکھ سے زیادہ انسانوں کا قتل عام ہوا اور جس کا خمیازہ ابھی تک دہشت گردی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔جس نے نہ بازاروں کو چھوڑا نہ مسجدوں کو نہ عوامی اجتماعات کے حجروں کو، ہر جگہ پر بے دریغ انسانوں کو قتل کیا گیا۔کتنی گودوں کو اجاڑا گیا۔کتنی عورتوں کے سروں سے دوپٹہ چھینا گیا کتنے بچوں کے سروں سے سایہ چھینا گیا۔ لیکن بے شعوری کا یہ عالم ہے کہ ہم پچھلی باتوں کو بھول جاتے ہیں۔ اور اب ایک نئے نعروں سے تحریک شروع ہوئی ہے۔

حیرانگی کی بات یہ ہے اگر یہ حکومت ختم کی جاتی ہے،اور نئے انتخابات ہوتے ہیں تو کیا مولانا کی پارٹی برسر اقتدار آسکتی ہے؟ ظاہری  بات ہے کہ اس طرح ممکن نہیں ہے۔ پھر مسلم لیگ نواز اور پی پی پی کی حکومت بنے گی۔خود مولانا کے پاس کتنے ایسے لوگ ہیں،جو نظام چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب کے پی کے میں متحدہ مجلس عمل کی اکثریت بنی تو آپ نے وزیر اعلی کے لئے ایک غیر عالم کا انتخاب کیا۔کیونکہ مولانا بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے پارٹیوں کے مولویوں میں سیاسی بصیرت نہیں ہے۔اس حوالے سے موجودہ مارچ کے نتائج بھی ماضی کے نتائج سے مختلف نہ ہونگے۔ نتیجہ ملکی کمزوری اور انتشار کی  شکل میں نکلے گا۔لہذا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تبدیلی لوگوں کے ہجوم سے نہیں بلکہ ایک باشعور اور منظم اور تربیت یافتہ جماعت کے ذریعے سے آتی ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *