مذہب بیزار اور روشن خیال لبرل۔۔۔امجد اسلام

وہ بھی ایک سوشل گروپ تھا،
لیکن پورا گروپ تقریباً مذہب بیزاروں پر مشتمل تھا۔

مذہب بیزار.۔۔

وہی جو نماز پڑھتے نہیں، روزہ رکھنے کی ہمت نہیں جن میں، حج اور عمرہ ادا کرنے کے اہل تو ہیں  لیکن ادا کرتے نہیں، مسجد کو کاہلوں کی جگہ یعنی محنت سے حاصل کرنے کے بجائے مسجد میں خدا سے مانگنے والوں کی جگہ ماننے والے آسان الفاظ میں خود کو مذہب بیزار پکارتے ہیں۔

مختصر، خدا کے وجود پر سوالات، قرآنی احکامات پر اعتراضات، مولویوں سے نفرت، داڑھی والوں سے بغض، ذکر و اذکار سے الجھنوں والا گروپ تھا وہ۔

پھر وہاں میں نے ایک پوسٹ کی، پوسٹ کا متن کچھ یوں تھا۔۔

“معاشی، سماجی اور گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر خودکشی کو آخری حل ہی سمجھ بیٹھا تھا، پھر مجھے ایک دوست، کسی  بزرگ مولوی کے پاس لے گئے، مولوی صاحب نے میرے مسائل سن کر مجھے نماز پڑھنے کی تاکید کی اور ایک آسان سا وظیفہ عطا کیا،
نماز تو میں پہلے بھی پڑھتا تھا لیکن وظیفہ شروع کیے ہوئے ابھی کچھ ہی ہفتے ہوئے تھے کہ میری زندگی میں آسانیاں آنی شروع ہو گئی ہیں ،
بڑے بھائی کی سسرال والوں سے صلح ہو گئی، یوں اُن کا گھر آباد ہوا پھر سے،
میرا شروع کیا ہوا کاروبار آئے روز بہتر ہو رہا ہے، خاندان والے پھر سے تعلقات بڑھانے لگے ہیں،
اور تو اور گھر میں کئی سال سے پڑا پرائز بانڈ بھی نکل آیا اس دفعہ کی قرعہ اندازی میں”۔

پوسٹ کے بعد انباکس میسجز کا نہ  ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا، ہر کوئی دو ہی باتیں جاننے کے لئے بے چین تھا کہ”بیٹا، بھائی۔۔۔ مولانا صاحب کا پتہ دے دیں، گھر میں بہت سے مسائل ہیں۔وظیفہ کیا ہے، ہم بھی پڑھنا چاہتے ہیں۔

کمال کی بات یہ تھی کہ جس سوالی کی آئی  ڈی کھولتا، تو داخلی دروازے پر عبارت کا مفہوم ہوتا۔۔

“میں ایک مذہب بیزار، میں ایک روشن خیال لبرل”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *