• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تشدد کی نئی لہراورشہریوں کی مشکلات۔۔۔اسلم اعوان

تشدد کی نئی لہراورشہریوں کی مشکلات۔۔۔اسلم اعوان

مختصر وقفے کے بعد شہر بے نوا میں اُٹھنے والی تشدد کی نئی لہر نے پولیس افسرسمیت دوشہریوں کی جان لے لی،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دس مہینوں میں دہشتگردوں نے ٹیچنگ ہسپتال کے ٹراما سنٹر پہ خودکش حملہ سمیت پولیس فورس پہ دس جان لیوا حملے کیے،جن میں دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد گیارہ ہو گئی۔23 اکتوبرکی شام سی ٹی ڈی پولیس کو ڈیرہ اسماعیل خان کے رمک ٹاؤن میں کھیارہ گروپ کے دو مطلوب دہشتگردوں ابرارمعاویہ اور اسرارمعاویہ کی موجودگی کی اطلاع ملی،اِسی شب انسپکٹر دمسازکی قیادت میں سٹی ڈی پولیس نے مناسب تیاری یاکسی دفاعی کورکے بغیر دہشتگردوں کے ٹھکانہ پہ چھاپہ زنی کی،تین افراد پہ مشتمل پولیس پارٹی جونہی اس مکان میں داخل ہوئی،جہاں دہشتگرد موجود تھے،پہلے سے الرٹ دہشتگردوں نے مزاحمت کرکے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالدارنورولی کو شہید اورکانسٹیبل جہانگیر کو زخمی کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ تربیت یافتہ دہشتگردوں کو پکڑنے کی ناقص سکیم ہی جواں سال پولیس اہلکار کی موت کا سبب بنی لیکن افسوس کہ ایسے واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی تحقیقات کی کوئی روایت موجود نہیں۔تین دن بعد 26 اکتوبر کی صبح ہتھالہ کے قریب پولیس موبائل پہ ریموٹ کنٹرول بم حملہ کر کے ایک اہلکار کو زخمی کر دیا گیا،ان علاقوں میں پولیس کچھ نہیں کرتی بلکہ دہشتگرد پولیس کا تعاقب کرنے میں بیباک نظر آتے ہیں،27 اکتوبر کی عصر درابن خورد کے قریب نامعلوم دہشتگردوں نے سر میں گولیاں مار کے معروف قانون دان ملک اقبال کھیارہ ایڈوکیٹ کی جان لے لی۔

28 اکتوبر کی شام ٹارگٹ کلرز نے ڈار سٹی میں اسماعیل راجپوت نامی الیکٹریشن کو سر میں گولیاں مار کے ابدی نیند سلا دیا،30 اکتوبر کو درابن خورد میں کھلونا بم پھٹنے سے تین بچے جاں بحق ہو گئے۔دہشتگردوں کے خلاف کوئی موثر کاروائی کرنے کی بجائے ہمیشہ کی طرح اب بھی نئی چیک پوسٹوں کی تعمیر کے ذریعے شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا عمل دہرایا گیا،اگر اتھارٹی کا طرز عمل یہی رہی تو رفتہ رفتہ پولیس اورمعاشرے دونوں اُجڑ جائیں گے۔پتہ نہیں،ہمارے ارباب بست و کشاد نے معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی پولیس جیسی لوکل فورس کو عالمی دہشتگردی کی آگ میں کیوں جھونکا،حیرت ہے،اپنے اختیارات و مرعات کےلئے آخری حد تک مزاحمت کرنے والے پی ایس پی افسران نے جانتے بوجھتے ہوئے ایککرائم فائٹنگ فورس کو جنگ دہشتگردی میں بروکار لانے کی تباہ کن پالیسی کیوں قبول کر لی؟۔ہمارا مخمصہ یہ بھی ہے کہ تشدد کی اس مہیب لہر میں اگرچہ ستر ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق،ہزاروں زخمی اور سینکڑوں عمر بھر کےلئے اپاہج ہوئے لیکن یہ ساری ٹریجیڈی تو سماج کی فطری لچک میں تحلیل ہو گئی اوردہشتگردوں کے ہاتھوں مرنے والے مظلوم شہریوں کے صرف اعداد و شمار ہی باقی رہ گئے لیکن پولیس کے شہدا کے ایام منانے اور چوکوں و چورہاہوں پہ سجی قدآدم تصاویر کے ذریعے فورسیز کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کی رسم ہر روز ہمیں خوف کی پرستش کی ترغیب دلاتی رہے گی۔بلاشبہ کوئی بھی شہری مرنے کے لئے پولیس میں بھرتی نہیں ہوتا،دنیا بھر کی پولیس کا ماٹو یہی ہے کہ معاشرے کی خدمت کے لئے زندہ رہو۔اگرچہ پولیس افسران خود بھی یہ کہتے ہیں کہ معاشرہ اگر مدد نہ کرے تو پولیس کامیاب نہیں ہو سکتی لیکن پھر بھی ہمارے پالسی ساز دہشتگردی کے تدارک کی بجائے پولیس فورس کو معاشرے کے خلاف صف آراءکر کے ریاستی طاقت کے سارے دباوکا رخ عوام کی طرف موڑکے پولیس اور سماج کے مابین تفریق بڑھانے سے گریز نہیں کرتے،جب بھی شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی واردات ہو لوگ سہم جاتے ہےں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پولیس،دہشتگردوں کا تعاقب کرنے بجائے چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا کے شہریوں کو ہراساں کرنے کا دائرہ مزید وسیع کردے گی۔

ہرچند کہ ہمارے ارباب حل و عقد جانتے ہیں کہ فوج کے بغیر دہشتگردی کا قلع قمع ممکن نہیں،تو پھر فرنٹ لائن پہ رکھ کے پولیس والوں کوقربانی کا بکرا بنانے کا مقصد کیا ہے۔امر واقعہ بھی یہی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پولیس اہلکار کسی موثر مزاحمت کے بغیر دہشتگردوں کے ہاتھوں جس بے چارگی کی موت مر رہے ہیں،اس نے فورس کے مورال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،دہشتگردی کے خوف کی وجہ سے پولیس کی توجہ اسٹریٹ کرائم سے ہٹی تو سماجی جرائم میں غیرمعمولی اضافہ ہونے کے علاوہ تفتیش کا معیار گرتا چلا گیا،جس کی وجہ سے عدالتوں کےلئے ملزموں کو سزا دینا دشوار ہوگیا،اگرچہ سرکاری سطح پہ خیبر پختون خوا پولیس کی ساکھ کو بڑھاو دینے کی درجنوں تشہیری مہمات چلائی گئیں لیکن افسوس کے اس(Myth)میتّھ کے برسرزمین آثار دیکھائی نہیں دیتے،کامل دو سال گزر جانے کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان کی شریفاں بی بی بے حرمتی کیس کے مرکزی ملزم سجاول کی عدم گرفتاری پر اعلی عدالتیں آج بھی برہمی کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر فرقہ وارانہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی انتظامات کے دوران پولیس کی طرف سے فرسودہ طور طریقوں کو آزمانے کی مشق ستم کیش شہریوں کو بنیادی آزادیوں سے محروم کر کے پولیس اور سوسائٹی کے درمیان خلیج بڑھا رہی ہے،پولیس کی اعلی کمانڈ کو اس امرکا احساس ضرور ہو گا کہ شہر کی تفریح گاہوں اور مصروف ترین شاہراہوں پر قائم ان درجنوں چیک پوسٹوں پہ ہر روز عورتوں،بچوں اور باعزت شہریوں کی تذلیل کاکلچر پروان چڑھانا نہایت ناگوار عمل ہے۔

پچھلے دو تین سالوں کے دوران ملک بھر سے چیک پوسٹیں ہٹائی گئیں لیکن اس بدقسمت ضلع کے طول و ارض میں چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔انتہائی مصروف ترین سرکلر روڈ پر ٹیچنگ ہسپتال سے لیکر اسلامیہ سکول تک صرف آدھ کلو میٹر فاصلہ کے اندر آٹھ چیک پوسٹوں کا قیام عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتا ہے۔لوگ پوچھتے ہیں جن چیک پوسٹوں پہ شہریوں کو شب و روز رسوا ہونا پڑتا ہے،پولیس نے وہاں کبھی کسی دہشتگرد کو بھی پکڑا ؟حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کی حفاظت کے ان فرسودہ طریقوں نے ماحول میں ایسی گھٹن پیدا کر دی جو اس بے مقصد جبریت کو کسی ناگہانی حادثہ سے دوچار کر کے سماجی تشدد میں بدل دے گی۔پچھلے بیس سالوں میں جنگ دہشتگردی کے خلاف مزاحمت کے دوران پولیس افسران نے لاشعوری قربانیوں کے عوض غیر معمولی مرعات اور لامحدود اختیارات تو سمیٹے لیکن ان اذیناک تجربات سے سیکھا کچھ نہیں جو سینکڑوں انسانوں کو نگل گئے،پولیس اپنے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کرکے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے سیکورٹی کا کوئی ایسا میکنزم تشکیل دے سکتی تھی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کئے بغیر فرائض کی انجام دہی ممکن بنائی جاتی،لیکن بوجوہ پولیس کمانڈ ایسا نہ کر سکی،دنیا بھر میں پولیس اور سیکورٹی ادارے شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے دن رات کام کرتے ہیں لیکن وہ عوام کے بنیادی حقوق سلب کرتے ہیں نہ شہری آزادیوں کو محدود کرنے پہ اصرار کرتے ہیں،ہمارے ذیشان پولیس افسران نے اپنی حفاظت کےلئے شہر کی اہم ترین شاہراہوں کو دس سالوں سے مستقلاً بند کر کے نقل و حمل کی آزادیوں کو محدود کر رکھا ہے،ہائی کورٹ کے حکم پر چار وناچار پولیس لائن روڈکھولی گئی،مگر ڈی پی او آفس کے تحفط کی خاطر سرکٹ ہاوس کی تینوں خوبصورت سڑکوں میں پختہ دیواریں چن کے راستے بلاک رکھے ہوئے ہیں۔ اعلی افسران کو اگر اپنی جانیں اتنی عزیز ہیں تو وہ ان پولیس اہلکاروں کو بھی ایسی ہی سیکیورٹی دیں جو لونی،ہتھالہ اور رمک جیسے دور افتادہ علاقوں کی چیک پوسٹوں پہ ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔یاد رکھیں،انسان کی انفرادی جبلتیں ریاست کے اس قانونی نظام سے زیادہ طاقتور ہیں جو ہمارے معاشرے کی حرکیات پہ محیط ہیں،اگر افسران اپنی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی خاطر شہر کو قید خانہ میں بدل دیں گے تو فطری جبلتیں مقہورمعاشروںکو مزاحمت پہ مجبور کریں گی۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *