عارضی تعلق۔۔۔ہُما

وہ ایک عارضی سا تعلق،رُوح کی دھجیاں اُڑا گیا
دور جدید کی سب سے خطرناک ایجاد عارضی تعلق ہیں۔۔۔
یہ سطر نظر سے گزری  تو کچھ پل کو   بہت سے تعلق ذہن میں گھومنے لگے۔۔۔پہلے وقتوں میں انسان کیلئے اس کے خونی رشتے ہی سب کچھ ہوا کرتے تھے، لاکھ اختلافات ہوں لیکن پھر اس بات پر مل بیٹھتے تھے کہ انسان کو دنیا کی ہر نعمت دوبارہ مل جائے گی لیکن خونی رشتے نہیں ۔
آج انسان اپنے سگے رشتوں سے  نالاں رہتا ہے کیونکہ دور جدید اسے دوسری آپشن فراہم کررہا ہے کہ چھوڑو نئے رشتے بناؤ۔پھر جب وہ پرانے رشتوں سے  گھبراجاتا ہے تو جدت تلاش کرنے سوشل میڈیا پر نکل آتا ہے۔
سوشل میڈیا جو آج کل انسانوں کی منڈی بن چکا ہے، جہاں ہر کسی کے ذوق اور پسند کے مطابق ہر وضع کے لوگ موجود ہیں،لوگ اپنی سوشل رشتہ داریاں بڑھاتے ہوئے دوسروں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں،یہ دوستیاں جب تک ایک دوسرے سے باہمی تعاون کی بنیاد پر ہوں تب تک تو بہت اچھا رہتا ہے،باہمی تعاون دنیا کو سمجھنے کیلئے دنیا سے باخبر رہنے کیلئے ایکدوسرے سے تبادلہ خیال یا شیئرنگ لیکن جونہی ان تعلقات میں وہ امید وہ آس پیدا ہوجائے جیسے کہ کوئی میرا سگا بھائی بن جائے، سگی بہن بن جائے، سگا باپ بن جائے، سگی ماں یا سگا دوست تو بگاڑ شروع ہوجاتا ہے۔
کبھی کبھی لوگ اپنی ذاتی ساکھ بہتر بنانے کیلئے ایسی ایسی باتیں لکھتے ہیں کہ لوگ اسے انسان دوست، ہمدرد، غم گسار سمجھنے لگتے ہیں،
کچھ لوگ ایسے لوگوں سے دوستیاں اور مراسم اس لئے بڑھانا چاہتے ہیں کہ ان کی صورت میں انہیں ایک اچھا دوست، ساتھی، بھائی، بہن یا کوئی اور رشتہ مل جائے
جس سے وہ اپنی تمام خوشیاں، دکھ، غم سب کچھ بانٹ   سکیں۔
ضروری نہیں دوسرا فرد بھی ایسا ہی تعلق رکھنا چاہ رہا ہو اسے صرف اور صرف مروت میں آپ سے بات کرنی پڑ رہی ہو۔
یقین جانئے ہمارے معاشرے میں ہر ایک ذاتی طور پر اس قدر مسائل کا شکار ہے کہ وہ دوسرے سے بہت کم قریب ہونا چاہتا ہے،آپ کسی اچھے فرد سے ایک بار اپنی پریشانی بانٹیں ،ہوسکتا ہے وہ ہمدردی میں توجہ سے سن لے اور پھر آپکو مفید مشورے بھی دے ڈالے،لیکن پھر آپ اس کی ہمدردی اور مشوروں کو بھاڑ میں جھونک  کر کہیں کہ اے میرے غمگسار بھائی، بہن یا دوست جو بھی مجھے بس تم سے باتیں کرنی ہیں،میں دنیا کا سب سے غمگین شخص یا خاتون ہوں اگر تم نے مجھ سے باتیں کرکے میری دلجوئی نہ کی تو میں موت کو گلے لگالوں گا یا لگالوں گی۔

تو خدارا ٹھہر جائیے، جس سے امید باندھ رہے ہیں وہ آپکا کوئی سگا یا سگی نہیں کہ آپ کے اس دنیا میں ہونے یا نہ ہونے سے اسے کوئی فرق پڑے گا،اگر بالفرض کوئی بہت عرصے تک انسانیت کے تحت آپ کی غم زدہ کہانیاں سننے کیلئے تیار ہو بھی جائے تو یہ تو سوچیں کہ آپ اس کی ذہنی صحت کو کس بری طرح متاثر کرنے پر تلے ہوئے ہیں،پھر اگر کوئی آپکی باتیں نظرانداز کرنے لگے صرف اپنی ذاتی پریشانیوں اور مصروفیات کے پیش نظر تو وہ آپ کیلئے انتہائی مغرور ور کم ظرف ٹھہرے،تو جب کبھی کسی بھی ڈیجیٹل رشتے سے توقعات گہری ہونے لگیں تو رک کر سوچیے ڈیجیٹل ورلڈ میں پائیداری کی کوئی ضمانت نہیں ۔

یہ بات سو فیصد درست ہے، عارضی لمحات میں کوئی بھی آپکو خوش رکھ سکتا ہے، ان لمحوں میں ہر رشتے سے بیگانہ کرسکتا ہے
لیکن یہ تعلق دائمی نہیں ہو سکتا،اس لئے اپنے اردگرد خونی رشتوں میں وہ اعتماد اور محبت پیدا کیجئے کہ آپ کو دوسرا آپشن سوچنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *