بلوچ بیٹیوں کے جلتے پلّو مت بجھاؤ۔۔۔محمد خان داؤد

SHOPPING

بلوچستان یونیورسٹی حراساں کیس کی گونج اسلام آباد میں بھی سنائی دی پھر طویل خاموشی!
سینٹ کے چئیر مین صادق سنجرانی سے وزیر اعظم نے اس اشو کو سنا محسوس کیا بات کی کمیٹی بنائی اور پھر طویل خاموشی!
کراچی میں بیٹھے سینٹر میر حاصل بزنجو نے اس کیس کو دیکھا پڑھا،سنا شور کیا اور پھر اپنی بیما ری کی میڈیسن لے کر سو گیا!
اس اشو نےBSO کے پنکچر ٹائر میں ہوا بھری میر عبداللہ روڈوں پر نظر آئے پھر وہ خود ہی پنکچر ہوگئے!
اس اشو نے کراچی میں بسنے والے بلوچوں کو کچھ سوچنے پر مجبور کیا اور پھر دوسرے دن اپنے جدید موبائل فون سے علی ظفر کا،،لیلا او لیلا،، سنااور اس غم کو غارت کیا!
اس حراساں کیس کا سن کر کراچی میں پڑھتے بلوچ بچے ایک جگہ جمع ہوائے ایک دوسرے کو دیکھا حال احوال کیا سیلفی بنائی ایک دوسرے کو چائے کی صلاح کی اور پھر کوئی کہاں؟کوئی کہاں؟
اس اشو نے ماضی کے مزاروں جیسی سوشل ایکٹوسٹوں کو کچھ دیر کے لیے زندہ کیا انہوں نے اپنے اچھے دن یاد کیے میک اپ کیا اپنے ہاتھوں میں موبائل تھامے پریس کلب پونچھی،پھر کہاں گئیں؟
جلیلہ حیدر آئی اس نے دیکھا نیا وی لوگ بنایا اور چلی گئی!
کراچی سے جبران ناصر آیا اپنی شائستہ اردو میں تقریر کی اور گلابی اردو میں تقریر سنی اور چلا گیا!
کسی نے تقریریں کیں،کسی نے کالم لکھے پر کوئی بھی یہ نہ دیکھ پایا کہ ان بچیوں کے دوپٹے کے پلوں کتنے جلے ہیں؟کس نے جلائے ہیں؟اور کیوں جلے ہیں؟
جو بلوچستان یونیورسٹی میں ایسی آکر چیختی ہیں چلا تی ہیں اور مظاہرہ کرتی ہیں جیسے وہ کوئی شوپین کی دہن ہوں بہت تیز!بہت سُریلی،بہت میٹھی!بہت غمگین!بہت اداس!
جن کے لیے فیض صاحب نے لکھا تھا کہ
،،شوپین کا نغمہ بجتا ہے
اک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں
آکاش کی نیلی راہوں میں
اک چیل زور سے جھپٹا ہے
شوپین کو نغمہ بجتا ہے!،،
بہت سی سکھیاں انہیں چھوڑ کر چلی گئیں اور وہ کونج جیسی بہادر بلوچ بیٹیاں وہی رہ گئیں
اسی احاطے میں!اسی احتجاج میں!اسی کاریڈور میں!
وی سی آفیس سے احتجاج!اور احتجاج سے ان کمیٹیوں کے سامنے جو کہاں ہیں کچھ نہیں معلوم۔
وہ شوپین کی دہن جیسی بلوچ بھادر سکھیاں کھلے آکاش میں اکیلی ر ہ گئی ہیں اور وہ سب جو اپنے اپنے پنکچر ٹائروں میں ہوا بھر آئے تھے اب تلاشنے پر بھی نہیں ملتے۔
بلوچستان یونیورسٹی حراساں کیس،کانوں سے ہوتا دل تک پونچھا،دل سے ہوتا میڈیا کی زینت بنا،میڈیا سے ہوتا،پارلیمان تک پونچھا،پارلیمان سے ہوتا سرداروں تک پونچھا اور پھر طویل خاموشی!
بلوچستان یونیورسٹی حراساں کیس شالہ کے بلند و بالا پہاڑوں سے ہوتا ان شہروں تک پونچھا جہاں کی جوان لڑکیاں جدید ریسٹورینٹوں میں بیٹھک کرتی ہیں شیشہ پیتی ہیں انگریزی میں سوچتی ہیں پنجابی میں غصہ کرتی ہیں اور اپنے دوستوں سے گلابی اردو میں کل ملنے کا واعدہ کر کے رات گئے گھروں کو لوٹ آتی ہیں۔جب ان کے کانوں نے بھی بلوچستان میں لڑکیوں کا حراساں ہونا سنا تو ان کے گلابی چھیرے بھی سُرخ ہو گئے تھے۔
بلوچستان یونیورسٹی کیس کو لیکر کوئٹہ ہی دکھی نہیں ہوا تھا پر وہ گلگت بھی شرمسار ہوا تھا جہاں کی پڑھی لکھی ناریاں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیتوں میں ان کا ساتھ بٹاتی نظر آتی ہیں۔
جب برقی لہروں کی توسط سے یہ خبر عام ہوئی کہ بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھے لکھے جاہل پروفیسر وہاں کی بچیوں کو حراساں کرتے ہیں تو بس بلوچستان یونیورسٹی کے دروازے ہی بند نہیں ہو ئے تھے۔بس بلوچستان یونیورسٹی کے شاگرد ہی سراپا احتجاج نہیں ہوئے تھے،پر لاہور سے لیکر سندھ کی سندھ یونیورسٹی کے دروازے بھی نہیں کھلے تھے پر سب شاگرد اپنے ہاتھوں میں لکھے بینر لیے روڈوں پر تھے کہ شالہ کی بہنیں اکیلی نہیں!بلوچستان کی بھادر بیٹیاں اکیلی نہیں۔پڑھتی بچیاں ڈرتی بچیاں اکیلی نہیں۔
بلوچستان یونیورسٹی کے لوہی دروازے شاگردوں نے اپنے ہاتھوں سے بند کیے،پھر کھولے پر کچھ نہیں ہوا
بلوچستان یونیورسٹی کے روتی بچیوں،چیختی چلا تی بیٹیوں کی وڈیو،احتجاج،ریلیاں،ملک بھر میں وائرل ہوئے پھر طویل خاموشی!
وڈیو حراساں کیس کوئٹہ سے ہوتا ہوا سینٹ تک جا پونچھا،ٹاک شوز کے پرائم ٹائم میں اس کا ذکر ہوا پھر طویل خاموشی!
وڈیو حراساں کیس میں جام کمال کی لب افشائی سے لیکر صادق سنجرانی کے بولوں تک پھر طویل خاموشی!
وڈیو حراساں کیس میں کمیٹیوں کا بننا،کمیٹیوں کے اُوپر پھر کمیٹیوں کا بننا اور پھر خاموشی!
کوئٹہ میں جلیلہ حیدر کا احتجاج کرنا لوگوں کا نکلنا اور پھر طویل خاموشی!
کراچی سے جبران ناصر کا کوئٹہ آنا بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ پر احتجاج کرنا اور پھر طویل خاموشی!
بلوچستان یونیورسٹی کیس پورے ملک میں وائرل ہوچکا ہے۔پر پھر بھی بلوچستان خاموش ہے۔
بلوچستان کے وہ لوگ کہاں ہیں جو سوچتے ہیں جو شعور رکھتے ہیں جو دردِ دل رکھتے ہیں؟
بلوچستان کے وہ لوگ کہاں ہیں جو ہم سے ووٹ لیکر صوبائی اسمبلیوں سے لیکر قومی اسمبیلی تک جا پونچھے ہیں؟
بلوچستان کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو ہما رے اعتماد سے سینٹ کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں وہ سب کہاں ہیں جب کہ بلوچستان میں احتجاج کی گرد بیٹھ رہی ہے وہ سب لوگ کہاں ہیں جب کئی ہاتھ اس کیس کو غیر موثر کرنا چاہتے ہیں؟اس کیس کو دبانا چاہتے ہیں۔اس آگ کو بھجانا چاہتے ہیں جو آگ خود نہیں لگی جسے لگایا گیا تھا جس آگ سے غیرت مند بلوچ بچیوں کے پلو جلتے جلتے بچ گئے اب جب وہ بچیاں اس آگ میں ایسی لکڑیاں ڈال رہی ہیں کہ یہ آگ ان سب بے غیرتوں کو جلا دے جو بے شرم بلوچ بیٹیوں کو پڑھنے نہیں دیتے جو ان کے آگے بڑھنے کے دشمن ہیں جو ان سے علم کا ہتھیار چھینا چاہتے ہیں جو انہیں گھروں کی چار دیواری میں قید کرنا چاہتے ہیں جو انہیں معاشرے کی نظر میں گرانا چاہتے ہیں جو انہیں تعلیمی اداروں سے خارج کرانا چاہتے ہیں جو ان کے لیے وہ سب دروازے بند کرانا چاہتے ہیں جو دروازے علم کے دروازے ہیں جو دروازے ترقی کے دروازے ہیں جو دروازے شعور کے در ہیں جو در آگے بڑھنے کے در ہیں جو در وازے شان سے چلنے کے در ہیں جو دروازے سر اُونچا کر کے آگے بڑھ جانے کے در ہیں جو در اپنوں کا ہاتھ پکڑ کر شعور کے دروازے میں داخل کروانے در ہیں جو دروازے خوداعتما دی کے دروازے ہیں۔جو دروازے کچھ کر جانے کے در ہیں جو در بھا دری کے در ہیں جو در ماں کا سر فخر سے اُونچا کرنے کا در ہیں جو در بھائی کا سینا اور چوڑا کرنے کا در ہیں جو در بوڑھے والد کے کاندھوں کو تھامنے کا در ہیں۔پر بہت سے بلوچ مخالف قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ یہ بلوچ بیٹیاں آگے نہ بڑھیں یہ ان ہی پہاڑوں کے بیچ غیرت کے نام پر دفن ہو تی رہیں۔اگر یہ بلوچ بیٹیاں پڑھ لکھ کر آگے بڑھ جائیں گے تو یہ وہم سے وہ سوالات کریں گی جو سوالات ابھی تن وہ لب تلاش رہے ہیں کہ وہ ان لبوں پر سوار ہو کر وہاں جائیں جہاں ان کو جانا تھا جہاں ان کو اپنے جوابوں کی تلاش تھی۔
اس لیے وہ مکروہ ہاتھ۔وہ مکروہ سوچ۔وہ مکرو ہ چھیرے۔وہ مکروہ لوگ یہ نہیں چاہتے کہ بلوچ بیٹیاں پڑھیں۔
وہ چھپتی آگ،وہ جلتی آگ جس آگ نے بلوچ بیٹیوں کے پلوں کو جلانا تھا جس سے سب بھائی غیرت
میں آکر ان بلوچ بہنوں بیٹیوں کے لیے علم کے در بند کر دیتے اس سے پہلے بلوچستان کی بہادر بیٹیوں نے اس مکروہ سازش کو ناکام کیا اور بس بلوچستان ہی کیا پر پو رے ملک کو بتادیا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے گھٹیا اساتذہ کیا کر رہے ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں۔بلوچ بیٹیوں نے اس آگ سے اپنے پلوں کو جلانے سے بچا لیا اور اس آگ کا رخُ اس طرف کر دیا جہاں بے غیرت،بے حیا،بد معاش اساتذہ ہما ری بچیوں نے اپنی ناجائز فرمائشیں پو ری کرنے کی ضد کر تے تھے۔انہیں حراساں کرتے تھے۔انہیں ڈراتے تھے۔انہیں دھمکاتے تھے۔جس سے بلوچستان کی بیٹیاں سہم سی جا تی تھیں۔
اب جب بلوچ بیٹیوں نے اپنے جلتے پلوں کو پرچم بنا کر اس آگ میں جھونک دیے ہیں جس سے انصاف کی آگ اور تیز ہوچکی ہے تو کیوں اس کیس کو غیر موثر کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے؟
کہاں گئے وہ سب لوگ جو پرائم ٹائم میں انصاف کی بات کرتے تھے؟
کہاں گئے وہ لوگ جو اسیمبیلی فلور پر زور دار تقاریر کیا کرتے تھے؟
کہاں گئے وہ لوگ کو اس بات کا اعادہ کرتے تھے کہ وہ انصاف لیے بغیر گھروں کو نہیں لوٹے گے؟
کہاں گیا جام کمال؟
کہاں گیا سردار اختر مینگل؟
کہاں گئی بلوچستان کی سول سوسائیٹی؟
کہا گئے بلوچستان کے سوچتے دماغ لکھتے ہاتھ؟
کہاں گئے بلوچستان سے منتخب میمبرانِ پارلیمان؟
ان بھادر بچیوں کے کیس کو غیر موثر مت کرو
جو اپنے جلتے پلوں کو پرچم بنا کر سب سے یہ کہہ رہی ہیں کہ
اے بے شرمو!بے حیاؤ!گیدڑو،بے غیرتو،ڈرتے لومڑو،سہمے لیڈرو
بلوچ بیٹیوں کے جلتے پلو مت بجھاؤ!
یہ جلتے پلو
انصاف کا عَلَم ہے
یہ مشعلِ دید ہے!
،،جو پاؤں اُٹھ گئے،وہی اُن کا عَلَم ہوئے!،،
اور اب تو جلیلہ حیدر سے بھی یہ شکایت نہیں کہ
،،جلیلہ تم بھی انہیں چھوڑ گئی ہو؟!،،

SHOPPING

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *