روایتی شوہر یا غیر رسمی محب۔۔۔صائمہ نسیم بانو

آپ یا تو مظلوم ہوا کرتے ہیں یا پھر نہیں، بالکل اسی طرح آپ یا تو محب ہیں یا پھر نہیں ہیں ۔
خلیل الرحمن قمر صاحب نے اپنے ڈرامے “میرے پاس تم ہو” کے ہیرو دانش کو محض ایک شوہر ہی نہیں بلکہ محب بھی دکھایا ہے۔ ایک ایسا محب جس کی بیوی اپنی خوشگوار شادی شدہ زندگی میں اس وقت گھٹن کا شکار ہو جاتی ہے جب اسے اپنے شوہر سے کہیں زیادہ امیر و رئیس شخص اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس ڈرامے میں مہوش ایک ایسی بیوی دکھائی گئی ہے جو شادی کے رشتے میں بندھے ہونے کے باوجود خیانت کی مرتکب ہوتی ہے, دانش اپنی بیوی کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر دیکھتا ہے لیکن مہوش اپنی پہلی شادی کے بندھن سے ہر حالت میں چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی روایتی شوہر کا شدّت بھرا ری ایکشن فطری کہلائے گا اور وہ یقیناً اپنی سچی محبت, اخلاص اور اَن کنڈیشنل کمٹمنٹ کی بے حرمتی پر جھنجھلا کر رہ جائے گا, شاید غصے کی کیفیت میں وہ سخت سُست بھی سنا دے گا۔ لیکن اس ڈرامے میں جناب خلیل صاحب نے اپنے ہیرو دانش کو شوہر ہی نہیں بلکہ محب بھی پوٹرے کیا ہے تو ایسی صورت میں دانش کا اپنی بیوی کو “دو ٹکے کی عورت” کہنا اس کے اپنے ہی کردار کی پرسونیفیکیشن کو جسٹیفائی نہیں کر رہا۔

خلیل صاحب کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا دانش ایک روایتی شوہر ہے یا پھر وہ ایک غیر روایتی محب ہے۔ اگر تو وہ ایک یکسو محب ہے تو “دو ٹکے کی عورت” والا جملہ اس کے کردار کو کمپلیمنٹ کرتا ہے اور نہ ہی اس کی ڈیفینیشن کے عین مطابق ہے۔ ہاں اگر وہ ایک روایتی مرد ہے تو اپنے رَد کیے جانے، بیوی کی جانب سے شادی کے بندھن کو غیر معتبر بنانے اور ایک ننھے بچے کو محض دنیاوی چمک دمک کے لیے اپنی گود سے نکال پھینکنے پر وہ اپنے رد ِعمل کی مَد میں کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔

اب اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ مہوش کیوں شادی جیسے انسٹیٹیوشن کی لیگیسی کو ڈگنٹی کے ساتھ کیری نہیں کر پائی، اس نے کیوں اپنے جان نثار کرنے والے شوہر کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا ،جو اس کی پہلی محبت تھا، تو اس ضمن میں اگر ہم اسلامی پوائنٹ آف ویو سے جائزہ لیں تو طلاق یا خلع کا آپشن اسی لیے ہے کہ اگر عورت یا مرد میں سے کوئی ایک فریق بھی شادی کے بندھن میں بندھا رہنا نہ چاہے تو دونوں میں سے جو چاہے وہی موو آن کر سکے، بھلے وجوہات کچھ بھی رہی ہوں، خلع اور طلاق کا حق قانون اور مذہب دونوں ہی عطا کرتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ معروف اخلاقی تقاضے اور سماجی ضابطے ہمیں کچھ ایسی حدود و قیود اور فرائض و حقوق کی فصیلوں میں قید کرتے ہیں جہاں ایک جانب اولاد کی اذہان و شخصیت سازی اور دوجی جانب سماج میں خاندان کی اکائی کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانا دونوں فریقین پر واجب ہو رہتا ہے۔اگرچہ شادی کا کانٹریکٹ ختم کرنا اسلامی، اخلاقی، سماجی اور انسانی بنیادوں پر صحت مند عمل نہیں سمجھا جاتا بلکہ عمومی نظریہ یہ ہے کہ طلاق یا خلع کی آپشن سماج اور رواج کی نیو کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے تاہم یہ ایک جائز عمل ہے اور فریقین کا مذہبی, قانونی اور انسانی حق ہے۔

حکمت سے اس معاملے کی پرتیں کھولی جائیں تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ اگر ایک فریق کسی اَن چاہے رشتے کو گھسیٹتے گھسیٹتے بالکل ہی تھک جائے تو چور دروازوں سے اپنی تمناؤں میں رنگ بھرنے سے کہیں بہتر ہے کہ طلاق اور خلع کے حق کو استعمال کیا جائے۔ گو کہ احسن تو یہی ہے کہ شادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی لیکن شادی میں رہ کر خیانت کرنا بھی مناسب عمل نہیں  کہلائے گا۔ لہذا ناجائز طریقوں سے جائز تمناؤں کی آبیاری کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ سچ کا سامنا کرتے ہوئے قانون و مذہب کے عطا کردہ حقوق سے استفادہ حاصل کیا جائے, اور جانے والے فریق کو اس کا ساتھی خوش دلی اور اعلیٰ  ظرفی سے آگے بڑھنے اور نئی زندگی شروع کرنے کی اجازت دے ڈالے۔

جناب خلیل الرحمٰن قمر صاحب ایک خاص بیک گراؤنڈ سے آ رہے ہیں۔ وہ ایک پسماندہ گاؤں میں پلے بڑھے اور نہاہت ہی موڈسٹ اور ہمبل فیملی میں پروان چڑھے۔ جہاں انہوں نے اپنی زندگی سے جڑی دو اہم خواتین یا دو اہم رشتوں کو شادی جیسا بندھن بچاتے اور برباد کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان دو عورتوں کی ٹگ آ وار میں بڑا ہونے والا بچہ اگر عورت کے لئے منفی اور مثبت ہر دو طرح کے جذبات رکھتا ہے تو کیا غلط کرتا ہے؟۔۔ دنیا کے ماڈرن ترین ملک کا ایک بڑا پرفارمر، فنکار, گلوکار ایلوس پریسلے جب اپنی بیوی کے ایکسٹرا میریٹل افئیر کے بعد خود کو اس سے ڈیٹیچڈ کر لیتا ہے اور اندرونی شکست و ریخت کے ہاتھوں نفسیاتی طور پر ایسا کمزور پڑ جاتا ہے کہ اپنی شادی کو مزید چلا پانے کا اہل نہیں رہتا تو ایسے میں ہمیں خلیل صاحب کو بھی کچھ رعایت دینی چاہیے۔ سیگمنڈ فرائیڈ صاحب کے پیش کردہ میڈونا اینڈ ہور سینڈروم کا شکار اگر ہپ ہوپ آئیکون ایلوس پریسلے ہو سکتا ہے تو خلیل الرحمٰن قمر کیوں نہیں؟۔

میرے پاس تم ہو کا ہیرو  دانش بطور ایک روایتی شوہر اپنی بے وفا بیوی کو بنا شرمائے اور بنا کسی ہچکچاہٹ, دو ٹکے کی عورت کہنے کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے تاہم عاشقِ صادق کی دعویداری کرنے والا دانش ایسی جرات کبھی نہیں کر سکتا بلکہ وہ یکسو, یک جہت اور حنیف ہی رہے گا۔ بھلے اس کی بیوی اس کے اعتبار، مان، محبت، قربانیوں اور ایثار کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دے تب بھی وہ اُف تک نہیں کہے گا۔
جناب خلیل الرحمٰن قمر صاحب اپنے ڈرامے کے کرداروں کو جب تک اپنی ہی ذات کا قیدی بنائے رکھیں گے ،ان کا لکھا کوئی بھی کردار پردۂ سکرین پر اپنے درست جوہر کے ساتھ اُبھر نہ پائے گا۔ خلیل صاحب کو اپنے کرداروں کو اپنے خیال کے عقوبت خانے میں محبوس کرنے کے بجائے اپنے کرداروں کے وجود میں گھل کر نئی سمتوں اور منزلوں کی جانب پرواز بھرنا ہو گی ورنہ یکسانیت کسی ٹھہرے ہوئے تالاب کے پانی کی طرح گدلی ہو کر گہری تو دِکھ سکتی ہے لیکن بدبو چھوڑ دیا کرتی ہے، شاید اسی لیے نطشے نے کہا تھا کہ “یہ لکھاری بھی اپنا پانی گدلا کرتے ہیں تا کہ گہرا دکھائی دے۔” سچ کہیے تو لفاظی شاید وہی کائی ہے جو تالاب کو سمندر جیسا گہرا دکھانے پر قادر ہے جبکہ افکار کی رفعتوں کی جانب پرواز ایسی غواصی ہے جو ایک مکرم اظہار کا سر چشمہ ہوا کرتی ہے۔

خلیل الرحمن قمر صاحب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے میرے پاس تم ہو کے ہیرو دانش کو اپنی ذات کے کلبوت سے رہائی دے کر ایک یکسو محب کی صورت میں ڈھالنا ہے یا پھر خود اپنی ہی ذات کے تابوت میں قید رہتے ہوئے، اپنے ہی خیال کی تجسیم سازی کرتے ہوئے ،اپنے ہی جیسے ڈھیروں صنم تراشتے چلے جانا ہے ۔

صائمہ نسیم بانو
صائمہ نسیم بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”روایتی شوہر یا غیر رسمی محب۔۔۔صائمہ نسیم بانو

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *