دوسری بیوی۔۔۔حبیب شیخ

شروع شروع میں سونیا کو نعمان بہت بُرا لگتا تھا۔ پھر وہ اس سے اتنا متاثر ہوئی کہ اسی کے بارے میں دن رات سوچنے لگ گئی تھی۔ جب نعمان نے سونیا کو بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اسے دوسری بیوی بنانا چاہتا ہے تو سونیا کو شدید دھچکا لگا تھا۔ اس کی سہیلی ریما نے سونیا کو سخت الفاظ میں منع کیا تھاکہ وہ کبھی بھی دوسری بیوی بننے کے لیے نہ سوچے۔
آ ج سونیا جذبات کے رولر کوسٹر سے نکل نہیں پا رہی تھی۔ محبت، نفرت، غصہ، دوستی سب ایک دوسرے پر حاوی ہو رہے تھے اور اسے کسی جگہ بھی ٹکنے نہیں دیتے تھے۔ ابھی فون پر اسی سہیلی نے بتایا تھاکہ وہ عنقریب ایک شادی شدہ مرد سے نکاح کرنے والی ہے اور اس کی دوسری بیوی بننے کے لئے تیار ہے۔

سونیا نابینا بچوں کے اسکول کو دس سال سے چلا رہی تھی۔ اس کو اندھے بچوں سے بہت ہمدردی تھی۔ بچپن میں سونیا کو گلے  کوما کی بیماری لگ گئی تھی۔ کافی زیادہ امکان تھا کہ وہ دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گی۔ بیماری کے دِنوں میں وہ یہی سوچتی رہتی کہ اب اس کی تعلیم کا کیا ہو گا۔ لیکن کچھ کشمکش اور علاج کے بعد سونیا بہتر ہو گئی اور دوبارہ اسکول جانے لگ گئی۔ تب اس نے یہ فیصلہ کیا تھاکہ بڑے ہو کر وہ اندھے بچوں کی مدد کرے گی۔
یونیورسٹی میں سونیا نے سماجیات کے پروگرام میں داخلہ لیا اور بچوں کی معذوری کے بارے میں ہی زیادہ کورسز لئے۔ ایم اے کا پروگرام مکمل کرنے کے بعد اس نے کچھ عرصے ایک سماجی تنظیم میں کام کیا اور پھر نابینا بچوں کے لئے  سکول کھولنے کے لئے کام شروع کر دیا۔ کئی لوگ اس کی مدد کو آئے۔ نعمان خان نے اپنی بلڈنگ جو ایک گودام کی جگہ تھی  سکول کو کم کرائے پر دے دی۔ نعمان کو اس خدمت کے عوض  سکول کے بورڈ کا رکن بنا دیا گیا۔ آزاد نے یونیفارم سستے داموں فراہم کر دیے تو اس کو بھی بورڈ میں شامل کر لیا گیا۔ تین اور لوگوں نے کچھ خاطر خواہ رقم چندے میں دی تو وہ بھی بورڈ کے رکن بن گئے۔ اس طرح یہ  سکول چلنا شروع ہو گیا۔ یہ  سکول ایک غریب علاقے میں تھا اس لئے اساتذہ بھی کم تنخواہوں پر مل گئے۔ دو چھوٹی بسیں بچوں کو لانے اور واپس گھر چھوڑ نے کے لئے خریدی گئیں۔ سونیا کو  سکول رجسٹر کروانے میں کئی مشکلات پیش آئیں لیکن نعمان کی مدد سے یہ کام کچھ ہفتوں کے اندر ہی ہو گیا۔

یہ  سکول کیا تھا، سونیا کے خواب کی تعبیر تھی۔ اس نے اساتذہ کی تربیت اور بچّوں کی تعلیم میں دن رات ایک کر دیا۔ شادی کے بعد بھی اس کا تعلق  سکول سے زیادہ تھا اور شاہد سے کم۔ شاہد نے گاہے بہ گاہے اس پر اعتراض بھی کیا لیکن شاید وہ دکھاوے کے لئے تھا۔ وہ شاموں کو اپنی آوارہ گردی میں مصروف رہتا۔ بڑی کشمکش کے بعد سونیا کے والدين نے یہ شادی ختم کروا دی۔

سونیا کا یہ پودا آہستہ آہستہ بڑا ہو رہا تھا۔ اب  سکول کا نظام بھی بہتر ہو گیا تھا۔ نعمان خان ہر ایک دو مہینوں کے بعد کسی نہ کسی سیاستدان یا سرکاری عہدیدار کو  سکول دکھانے کے لئے لے آتا اور ان کے ساتھ تصاویر بنواتا جو اگلے روز اخبارات میں چھپتیں۔ وہ یہی تاثر دیتا جیسے یہ  سکول اسی کی وجہ سے چل رہا تھا۔ سونیا کو نعمان کی ذاتی اشتہار بازی کی وجہ سے کچھ نفرت سی ہو گئی تھی۔ ویسے بھی اس کو نعمان کا کھلنڈرا انداز چبھتا تھا ۔ کبھی کبھی نعمان سونیا کو تاڑنے والے انداز سے دیکھتا تو وہ نگاہیں نیچے کر لیتی۔
کئی سال ایسے ہی گزر گئے۔ ایک دن نعمان سونیا کے دفتر آیا اور کچھ کرختگی سے بولا۔
“مجھے گودام کے لئے اس عمارت کی سخت ضرورت ہے۔ آپ لوگ یہ بلڈنگ دو مہینے میں خالی کر دیں۔”
“آپ سکول کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں! آپ تو خود بورڈ کے رکن ہیں۔ کسی دوسری عمارت کو ڈھونڈنے اور وہاں  سکول بسانے میں ایک سال لگ جائے گا۔”
ایک کوری آواز نے سونیا کے دل کو بٹھا دیا۔ “مجھے پہلے اپنے کاروبار کو دیکھنا ہے اور پھر  سکول کو۔ ” وہ انخلاء کا نوٹس سونیا کی میز پر رکھ کر چلا گیا۔

اگلے روز ہی سونیا نے بورڈ کا ہنگامی اجلاس بلا لیا۔ نعمان نے اجلاس میں آنے کی زحمت ہی نہ کی۔ کچھ ڈائریکٹروں نے نعمان کو فون بھی کیے مگر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ سونیا ایک بورڈ ممبر کے ساتھ تھانیدار سے ملنے گئی، یہ وہی تھانیدار تھا جو نعمان کے ساتھ کئی مرتبہ  سکول آچکا تھا۔ وہ تو نعمان کا نمک خوار تھا۔ “خان صاحب جب مجسٹریٹ سے آرڈر لے آئیں گے تو میں فوراً عمارت کو تالا لگوا دوں گا اور آپ لوگ وہاں سے کچھ بھی نہیں لے جا سکتے۔”

سونیا اور ایک دو لوگوں کی بھاگ دوڑ کے بعد ایک زیرِ تعمیرعمارت کرائے پر مل گئی۔ چھت، دیواریں، سیڑھیاں سب کچھ نا مکمل تھا اور کرایہ پہلے سے بھی دوگنا۔ جلدی جلدی  سکول کو نئی جگہ منتقل کیا گیا۔  سکول تو پہلے ہی مالی بحران کا شکار رہتا تھا، اب تو ہنگامی حالات تھے۔ کرایہ دینے کے بعد اساتذہ کی تنخواہوں کے لئے پیسہ نہیں بچتا تھا۔ نتیجتاً کچھ اساتذہ نے آنا چھوڑ دیا۔ پانچ ماہ کے بعد  سکول کے پاس کرائے کے لئے رقم نہیں تھی۔ عمارت کے مالک نے تنگ کرنا شروع کر دیا اور نوٹس بھیجنے شروع کر دیے۔ ایک دن جب سونیا صبح  سکول پہنچی تو دیکھا کہ بچے اور اساتذہ باہر ہی کھڑے ہوئے تھے۔  سکول کے گیٹ پر موٹا تالا لگا ہوا تھا اور ایک نوٹس گیٹ پر چسپاں تھا۔ سونیا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ بارہ سال کا سینچا ہوا درخت بالکل سوکھ گیا تھا اس کے سارے پتے جھڑ گئے تھے بلکہ نعمان نے اس درخت کو جڑ سے ہی اکھاڑ دیا تھا۔
شام کو فون کی گھنٹی بجی تو سونیا نے ریسیور اٹھایا ۔ “ہیلو۔”
“ہیلو، میں نعمان خان بات کر رہا ہوں۔”
سونیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“میں  سکول کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ کل شام ساڑھے سات بجے میں آپ کے پاس آؤں گا اور قریب میں کسی کافی ہاؤس میں بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے۔ ”
“آپ نے تو یہ مسئلہ پیدا کیا ہے اور اب حل ڈھونڈ کر چیمپئن بننا چاہتے ہیں۔” سونیا نے بیزاری سے جواب دیا۔
“جی۔ وہ میری غلطی تھی۔ میں کل ہی چار ماہ کے کرائے کے پیسے بھجوا دوں گا۔ کل میں آپ کے پاس اس سلسلے میں بات کرنے آؤں گا۔”
سونیا انکار نہ کر سکی۔ “وہ چار ماہ کا کرایہ دینے کے لئے تیار ہے۔ لیکن وہ مجھ سے ملنا کیوں چاہتا ہے؟”

پورے ساڑھے سات بجے نعمان نے سونیا کے فلیٹ کی گھنٹی بجائی۔ وہ پہلے سے تیار تھی، سادہ کپڑوں میں ملبوس ہمیشہ کی طرح۔ بناؤسنگھار سے اسے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ نعمان حسب معمول اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ بال سلیقے سے بنائے ہوئے اور پرفیوم کی ہلکی ہلکی خوشبو۔ دونوں اسی عمارت کے نیچے کافی ہاؤس میں چلے گئے۔ نعمان نے کافی اور اطالوی پیسٹریز منگوائیں اور سونیا نے چائے کی فرمائش کی۔

کچھ رسمی باتوں کے بعد سونیا نے دبی آواز میں پوچھا۔ “آپ کس طرح اسکول کی مدد کر سکتے ہیں؟”
نعمان نے مسکرا کر سونیا کو غور سے دیکھا ۔ سونیا کو محسوس ہوا کہ وہ اس کی مسکراہٹ سے پگھل رہی تھی۔

“میں نے  سکول کے بارے میں دو پروپوزل تیار کیے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ  سکول اتنی مالی مشکلات کا شکار ہو کہ اس کو بند کرنا پڑے۔ میں نے مجبوراً  سکول کو اپنی بلڈنگ سے نکالا تھا۔ اور اس کے لئے میں معافی مانگ چکا ہوں۔”

سونیا کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس کی باتوں پر یقین کرے یا نہیں۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ یقین کرنے سے اس کی گھبراہٹ کم ہو جائے گی۔
“میں یہ پروپوزل لکھ کر اگلے ہفتے آپ کو دوں گا۔”
سونیا خاموش ہی رہی ۔ نعمان کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔ چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہی سونیا بولی۔
“آپ کا شکریہ۔ اب مجھے واپس جانا ہے۔”
“اگلے ہفتے میں پروپوزل لے کر آؤں گا تا کہ اسکول کی بات آگے بڑھائی جائے۔”
نعمان نے یہ اتنی خود اعتمادی سے کہا کہ سونیا نے محسوس کیا کہ اس کے پاس ہاں کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

فلیٹ واپس آ کر سونیا بڑبڑا رہی تھی۔
“میں اس کے سامنے اتنی کیوں کمزور پڑ گئی کہ فوراً ہی دوبارہ ملنے کے لئے مان گئی۔ اور اگر اس کے پاس کوئی پروپوزل تیار نہیں تھا تو کیوں ملنے کے لئے آیا!”
“اور میں بھی کتنی بدھو ہوں کہ اس کے پروپوزل کے بارے میں کچھ پوچھا ہی نہیں۔ کیا سوچ رہا ہو گا کہ سونیا کتنی بے وقوف ہے۔ نجانے آج میرا ذہن کیوں ماؤف ہو گیا!”
بستر پر جب کچھ دیر تک سونیا کو نیند نہیں آئی تو آہستہ سے بولی۔ “اگلی مرتبہ اسے بتاؤں گی کہ سونیا کتنی ہوشیار ہے”
سونیا صبح اٹھی تو نعمان کی شکل اس کے سامنے تھی۔ وہ اس کو پسند کرنے کے خیال سے گھبرا گئی ۔ “میں پاگل تو نہيں ہوں جو ایک مختصر ملاقات کے بعد اس کی محبت ميں گرفتار ہو جاؤں، لیکن مجھے کیا ہو گیاہے کہ ہر طرف اسی کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آتا ہے۔”
” اگر وہ مجھے پسند کرتا ہے تو ضرورمجھے ایک دو دن ميں فون کرے گا۔”
جب نعمان کا کچھ دنوں تک فون نہيں آیا تو سونیاکو کچھ مایوسی ہوئی کہ کیا وہ اس کے قابل نہيں ہے لیکن دوسری طرف اسے کچھ اطمینان سا ہوا۔ “میں ان چکروں سے بچ گئی پتا نہيں اس کہانی کا کیا انجام ہوتا”
پانچ روز کے بعد نعمان کا فون آیا۔ سونیااس کے سلام کے جواب ميں کپکپی آواز ميں جی کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکی۔ “میں نے  سکول کےلئے ایک پروپوزل تیارکیاہے، اس بارے میں آپ سے ٹھیک ساڑھے سات بجے ملنے آؤں گا۔ میں اگلے ہفتے چند ماہ کے لئے شہداد پور جا رہا ہوں وہاں مجھے اپنا کاروبار صحیح کرنے کے لئے کئی مہینے رہنا پڑے گا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جانے سے پہلے سکول کے بارےمیں کوئی حتمی فیصلہ کر لیں۔”
سونیا فون رکھ کر پھر خیالوں میں کھو گئی۔
“اس نے مجھے پسند کرنے کا کوئی اشارہ نہيں دیا، میں نے خود ہی یوسف اور زلیخا کی کہانی اپنے لئےبنا لی۔ ایک دفعہ اس کے ساتھ تھو ڑی دیر کے لئے کافی ہاؤس میں کیا بیٹھ گئی تو اپنے ذہن میں بالی ووڈ کی ایک فلم بنا ڈالی۔”

“اب وہ  سکول کے بارے میں اتناسنجیدہ ہے، پہلے اسی نے  سکول بند کروا دیا تھا۔ یہ کوئی اچھا انسان نہیں ہو سکتا۔ مجھے ہر حال میں اس سے دور رہنا ہے۔”
سونیا سات بجے ہی تیار ہو گئی تھی، اس نے ہلکے فالسے  رنگ کا شلوار قمیض کا سوٹ پہنا ہووا تھا اور خلافِ معمول لپ اسٹک بھی لگائی تھی ۔ پھر وہ خود کو آئینے  میں کتنی دیر تک غور سے دیکھتی رہی۔ “میں آج کتنی اچھی لگ رہی ہوں! لیکن کیا میں یہ سب اس کے لئے کر رہی ہوں یا اپنے لئے؟ ہاں! ہاں! میں یہ صرف اپنے لئے کررہی ہوں۔”

تھوڑی دیر بعد سونیا پھر نعمان کے ساتھ اسی کافی ہاؤس میں بیٹھی ہوئی تھی۔ ایک دو بار سونیا نے نعمان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا اور پھر سوچنے لگ گئی۔ “یہ آج مجھے اتنا اچھا کیوں لگ رہا ہے؟ میں کتنی کمزور ہو گئی ہوں کہ اس کے ظاہری پن سے متاثر ہو کر دیوانی ہو گئی ہوں!”

نعمان  سکول کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ لیکن سونیاکو کچھ نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ سونیا کو خود پر غصہ بھی آرہا تھا اور رحم بھی۔ “شاید میں نے شاہد سے طلاق کے بعد کسی مرد کے اتنے پاس بیٹھ کر بات چیت نہیں کی۔ میں نے خود کو مردوں کی دنیا سے دور کر لیا، یہ سوچ کر کہ میں طلاق یافتہ ہوں، مجھ سے کون شادی کرے گا۔ اپنے ارد گرد ایک فصیل بنا لی۔ یہ فصیل عبور کر کے میرے سامنے آ گیا ہے تو میرے ضبط کا بند ٹوٹ گیا ہے۔ اس کمبخت کی شخصیت، گرومنگ، بات چیت کرنے کا انداز کسی بھی عورت کو اس کا دیوانہ کر دے گا۔”
کافی کا آخری گھونٹ لے کر نعمان نے سونیا کو مسکرا کر دیکھا۔ سونیا بالکل گھبرا سی گئی اور بے خودی میں ہاتھ میز کے نیچے کر لئے۔
“آپ ایک نیک دل اور خوبصورت خاتون ہیں۔ اور مجھے پتا ہے کہ آپ غیر شادی شدہ ہیں۔ کیا میں آپ سے شادی کر سکتا ہوں؟”
سونیا بالکل منجمد ہو گئی جس طرح کسی نے اسے زمین میں دھنسا  دیا یا شاید زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا ہو۔
نعمان نے اپنے چہرے کو  ذرا آگے کیا اور بہت رازداری سے بولا۔ “میری بیوی گاؤں میں رہتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ جیسی عورت سے ایک اور شادی کروں جو میرے ساتھ شہر میں رہے۔ مجھے اس بڑے شہر میں ایک جیون ساتھی کی ضرورت ہے۔”

سونیا اس طرح کی بات چیت کے لئے بالکل تیار نہیں تھی۔ اس نے خود پر قابو پایا لیکن دو آنسو پھر بھی اس کے رخساروں پر بہہ گئے۔
“مجھے واپس جانا ہے۔” اور وہ نظریں ملائے بغیر اٹھ کر چل دی۔
پیچھے سے نعمان کی آواز آئی۔ “شب بخیر۔”
سونیا گھر آ کر بستر پر لیٹ گئی۔ اسے غصہ تھا کہ نعمان کو ہمت کیسے ہوئی کہ اس کو دوسری بیوی بنانے کی پیشکش کرے۔ “کیا سوچا اس نے کہ میری پہلی شادی ناکام ہوگئی تو میں فوراً اس کی دوسری بیوی بننے کی حامی بھر لوں گی!”
جب اس کا غصہ کچھ کم ہو گیا تو وہ خیالوں کی منجدھار میں ڈوبتی چلی گئی ۔
“کیا واقعی مجھے نعمان اتنا پسند ہے کہ اس کی دوسری بیوی بننے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں؟”
“کیا میں اس کی بیوی کو اپنے راستے سے ہٹا سکتی ہوں۔ میں کتنی گری ہوئی عورت ہوں جو اس طرح کی باتیں سوچ رہی ہوں۔”
“جب سے نعمان سے کافی ہاوس میں پہلی ملاقات ہوئی ہے مجھے اندھے بچوں کا خیال کم ہو گیا ہے اور اپنے بارے میں زیادہ سوچنے لگ گئی ہوں ۔ کیا میں اتنی سنگدل ہو گئی ہوں!”
“کیا مجھ پر نعمان کا جنون طاری ہو گیا ہے؟”
اگلی صبح سونیا نے اپنی ماں کو فون کیا۔ “سونیا، میری بیٹی، اگر وہ اچھا انسان ہے تو دوسری بیوی بننے میں کیا حرج ہے۔ ہمارے پاس تمہارے لئے کون سے رشتے آرہے ہیں۔ تمہیں پتا ہے کہ مرد طلاق یافتہ عورت کے بارے ميں کیا کیا باتیں کرتے ہیں۔”
ماں سے بات کر کے سونیا نے اپنی گہری سہیلی ریما کو فون کیا۔
“اے لڑکی ہرگز یہ شادی نہیں کرنا۔ جب اس نے تجھے دوسری بیوی بننے کے لئے کہا توَ تو نے اس کے منہ پر چانٹا کیوں نہیں مارا؟ مجھے دیکھو میں تمہاری عمر کی ہوں، میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی تو اس میں کون سی پریشانی کی بات ہے۔”

سونیا صبح اٹھ کر  سکول چلی گئی اور شام ڈھلے  سکول میں کام کرتی رہی۔ اس نے شام کو دیر تک  سکول ميں کام کرنےکامعمول بنالیا۔ اس طرح اس نے نعمان کا بھوت اپنے ذہن سے اتار دیا۔ اس کو خود پر کتنا ناز تھا کہ کیسے اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا تھا!
ایک دن جب وہ شام کو دیرگئے گھر آئی تو فون کی گھنٹی بج رہی تھی اس نے لپک کر ریسیور اٹھایا۔
“ہیلو”
“تم کہاں ہو؟ کیا اس کے ساتھ باہر گھومنے چلی گئی تھی؟ دو تین روز سے تمہیں شام کو فون کر رہی ہوں۔”
“بد تمیز، خبر دار، اس کا نام لیا۔ آج کل اسکول میں کام بہت زیادہ ہے۔ ”
“تم نے تو مجھے اس کا نام ہی نہیں بتایا تھا۔ ویسے پچھلی مرتبہ تم سےبات کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر مرد اچھا ہو تو دوسری بیوی بننے میں کیا حرج ہے!”
“یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں تو سوچ ہی نہیں سکتی کہ تم جیسی عورتوں کے حقوق کی علمبردار  بھی اس طرح کی بات کر سکتی ہے۔”
“اچھا اب بکواس بند کرو۔ تمہيں ایک اچھی خبر سنانی ہے۔ کراچی سے ایک بزنس مین آج کل اپنے کاروبار کے سلسلے میں یہاں آیا ہوا ہے۔ سونیا، کیا بتاؤں کہ کتنا  سمارٹ ہے! میری شادی کی بات اس سے طے ہو گئی ہے۔”
“چھپی رستم! جلدی بتا کہ شادی کب ہے۔ میں تو ایک ہفتہ پہلے ہی آجاؤں گی۔”
“اے پگلی! پوری بات تو سن۔ اس کی ایک بیوی گاؤں میں بھی ہے لیکن مجھے کیا فرق پڑتا ہے، میں تو اس کے ساتھ شہر میں رہوں گی۔ ”
سونیا نے ریسیور ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ ریما کی ہلکی ہلکی آواز فون سےکچھ دیر تک آتی رہی۔ پھر ایک بھیانک سنّاٹا چھا گیا۔ سونیا ناجانے کتنی دیر تک لٹکتے ہوئے ریسیور کو دیکھتی رہی۔
“کیا میں بھی اسی کی طرح قسمت کی تار سے لٹکی ہوئی ہوں؟”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *