گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(10)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اس نے فورا نظریں جھکائیں، کچھ پڑھا اور پھر آنکھیں کھول دیں مگر حنان اس کے آگے یا پیچھے نہیں بیٹھا تھا۔ وہ اس کا Pp یعنی Professional Exams Partner نہیں تھا۔ اسے پیرنی پر غصہ آیا۔ اس نےسوچا آج واپس جا کر سب سے پہلے اس پیرنی کو بلاک کرے گی جو حنان کو اس کا Pp تک نہ بنا سکی۔

اس نے تیزی سے نظریں دوڑائیں، پھر سے دوڑائیں۔ اچانک اسے ان بے نور لوگوں میں ایک دمکتا ہوا ستارہ نظر آیا۔ حنان کو دیکھتے ہی طیبہ کے حسیں لبوں پہ دھیمی مسکراہٹ پھیل گئی۔ حنان تین لائنیں چھوڑ کے، کافی پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ طیبہ نے “حنان! حنان! ” کہہ کر اسے پکارا۔ مگر حنان تک اس کی آواز نہ پہنچ سکی.

حنان سر نیچے کر کے “حق ہو، حق ہو” کی ضربیں لگائے جا رہا تھا۔ آج اس معصوم فرشتے کی جان پے بنی ہوئی تھی۔ آج اسے اپنے سارے گناہ یاد آرہے تھے۔ اسے یاد آیا کیسے اس نے اور طیبہ نے نشتر پوائنٹ سے سموسے کھائے تھے اور کبھی پیسے نہیں دیئے تھے۔ اسے یاد آیا کہ کیسے اس نے ایک جونیئر سے پیسے ادھار لیے تھے، ڈکار گیا اور کبھی واپس نہ کیے۔ Mini Katzung اس کے ذہن میں Background میوزک کی طرح چل رہی تھی۔

اور یہ وہی ہوا جس کا کب سے انتظار تھا۔ حنان اور طیبہ کی آنکھیں دو چار ہوئیں، نور سے نور ٹکرایا، ایگزامینینش ہال میں نور کی گھٹا چھا گئی۔ سارے طلبا خوشگوار حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایگزامینرز بھی شش و پنج ہو کے رہ گئے۔ مٹیالے رنگ کے کپڑے پہنے ایک ایگزامینر تو چپکے سے ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ! ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کو ہال میں پھیلی نورانیت کا راز پتا چل گیا ہوا !

طیبہ اورحنان نے دور ہی دور سے ایک دوسرے کو ڈھیروں دعائیں اور ڈھیرسارا پیار دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مخصوص اشارہ کیا اور ایک ساتھ کچھ دہرایا، پھر ایک ساتھ ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر پھونک مارتے ہوئے دٙم ختم کیا۔

طبل جنگ بج چکا تھا۔ رولنمبر لکھے جا چکے تھے۔ ہلکے ہلکےشور کے ساتھ MCQs تقسیم ہونے لگے۔ طیبہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ اس کو MCQs پیپر تھمایا گیا۔ اس نے کچھ دیکھنے سے پہلے ایک بار پھر درودشریف پڑھا۔ اور پیپر حل کرنا شروع کیا۔

پہلا MCQ دیکھا، تھوڑا مشکل لگا، Skip کر کے اگلے پہ نظر دوڑائی، دوسرا تھوڑا سا عجیب لگا۔ چھوڑ دیا گیا۔ تیسرے پہ پہنچی، حل کرنے لگی، آپشنز کو دیکھا۔ طیبہ نے ایک بار پھر غور سے سےتیسرا MCQ پڑھا۔ اورآپشنز کو کھنگالا۔ذہن پہ اچھا خاصا دباو ڈالا۔ طیبہ کو لگ رہا تھا سارے آپشنز ٹھیک ہیں۔ مگر All of the above والا آپشن بھی کہیں نہیں تھا۔ دل کے دھڑکن تیزہوئی۔ کوئی جواب نہ بن پایا۔ بادل نخواستہ طیبہ کو تیسرا MCQ چھوڑنا پڑا۔ چوتھے MCQ پہ پنچ کے طیبہ نے بریک لگائی اور جیسے تیسے زبردستی کرکے آپشن C لگا دیا۔ پانچواں MCQ نہیں آتا !
طیبہ نے سوچا:
“پیپر بنانے والےنے سارے مشکل MCQs شروع میں ڈال دیے ہیں۔ چلو میں آخر سے شروع کرتی ہوں۔”
طیبہ نے اطمینان سے MCQ نمبر 65 دیکھا، نہیں آتا تھا. 64 پڑھا، وہ بھی نہیں آتا تھا۔ 63,62,61,60…
“چلو درمیان میں سے دیکھتی ہوں، ادھر یقیناً سارے آسان ہوں گے۔”

درمیان میں سے دیکھنے لگی۔ جو MCQ نظر آیا، وہ پڑھا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ جھٹ سے حل کیا۔طیبہ نے سکھ کا سانس لیا۔ پھر اگلے دیکھنے لگے۔ آگلا MCQ بہت مشکل تھا، اس سے اگلا اس سے زیادہ مشکل، اس سے اگلا بھی، اگلا بھی، اگلا بھی، اگلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا ہورہا تھا؟ طیبہ نے سائیڈز پہ دیکھا، پھر پیپر کو دیکھا، پھر پیچھے دیکھا، آگے دیکھا۔ ہر کوئی انہماک لے ساتھ پیپر کرنے میں مصروف تھا۔ طیبہ کو ہجوم میں تنہائی کا احساس ہوا۔ اس نے حنان کو دیکھا۔ اس کی سیٹ خالی تھی۔ وہ واش روم گیا ہوا تھا شاید۔

انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ ہر MCQ سے پہلے ایک بار کلمہ، ایک بار درود شریف، تین بار آیت الکرسی پڑھے گی اور اس کے بعد ہی MCQ اٹیمپٹ کرے گی !

وہ حل کرتی گئی، آنکھیں بند کر کے نشانہ لگاتی رہی، وقت گزرتا رہا۔ آخری پندرہ منٹ آپہہنچے تھے۔ ہال میں دبی دبی آوازیں ابھرنے لگیں۔ نگران ان آوازوں کو دباتے رہے تھے۔ طیبہ نے دیکھا کہ حنان ایک نگران سے واش روم جانے کی منت سماجت کر رہا تھا۔

“یار ابھی ایک گھنٹہ نہیں ہوا اور آپ چوتھی بار واش روم جانا چاہ رہے ہو۔۔۔ خالی بہانہ بنایا ہوا ہے،” نگران انکار کر رہا تھا۔

آس پاس کے اسٹوڈنٹس نے نگران کی طرف دیکھا، پھر پیپر دیکھا، پھر حنان کی طرف دیکھا۔ پورا ہال MCQ پیپر پہ حلف اٹھا کے اس بات کی گواہی دےسکتا تھا کہ حنان کو لوز موشنز لگے ہوئے تھے !

(جاری ہے)

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *