گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(9)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

طیبہ کل رات تین بجے تک جاگتی رہی تھی۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ سوئے گی ہی نہیں اور صبح فریش ہو کے تین، چار کپ چائے چڑھا کے ایگزامینش ہال پہ  چڑھائی کر دے گی۔ مگر جلد ہی اس کی آنکھیں خشک ہو گئیں اور کاجل غائب ہو چکا تھا۔ اس نے سوچا”چلو ابھی تہجد پڑھ کے 2 گھنٹے سو جاتی ہوں، پھر 5 بجے فٹافٹ اٹھ جاؤں گی اور Past papers دیکھ لوں گی اچھی طرح سے”

طیبہ نے تہجد ادا کی، Mini Katzung کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا، سینے سے لگایا اور نم آنکھوں کے ساتھ الماری میں بند کر دیا۔ کتاب رکھتے وقت وہ سارے ٹاپکس یاد آنے لگے جو اس نے Skip کر دیے  تھے۔ طیبہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ اس نے خواہش کی کہ کاش فارما کے پیپر میں چند گھنٹوں کی بجائے تین، چار دن اور مل جاتے تو وہ سارے ٹاپکس cover کر لیتی اور اس کی Distinction آسکتی تھی۔ پر اب تین بج چکے تھے اور نو بجے فارما کا پیپر اس کے ہاتھ میں ہونا تھا۔ اسے کتاب بند کرنا پڑی۔

طیبہ نے Key To UHS کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے اٹھایا، اس کو چومتے ہوئے ماتھے سے لگایا۔ اسے Key To UHS پہ بڑا پیار آرہا تھا۔ حنان کےبعد ایک یہی تو تھی جس سے اسے دیوانوں جیسی محبت تھی۔ اس نے سبز اور پرپل رنگ کے Pointers اور زرد کلر کا Highlighter اٹھا کے Key To UHS کے Chemotherapy والے حصے میں رکھ دیا۔ اس نے سوچا 5 بجے اٹھتے ہی وہ Chemo سے شروع کرے گی اور CNS سے ہوتے ہوئے براستہ ANS جنرل فارما کے بھی پاسٹ پیپرز دیکھ لے گی۔

طیبہ نے آیت الکرسی پڑھی، دل ہی دل میں دعائیں مانگیں اور انتہائی نفاست اور قرینے سے Key To UHS کو اپنے تکیے کے ساتھ رکھا۔ اس نے الارم پھر سے چیک کیا، لائٹس آف کیں، اپنا ایک نورانی ہاتھ Key To UHS پہ رکھا اور دوسرا اپنے سر کے نیچے۔ طیبہ سو گئی۔

سوتے میں ایسے لگ رہاتھا جیسے طیبہ کسی معصوم، پیارے، شیرخوار بچے کو محبت سے ساتھ سلائے ہوئے ہو !

ایک جھٹکے کے ساتھ طیبہ کی آنکھ کھلی۔ اس کی ماما اسے کوس رہی تھیں۔ طیبہ نے موبائل پہ  ٹائم دیکھا۔ آنکھوں کو ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اس نے دوبارہ دیکھا۔ کچھ دیر کے لیے اس پہ  سکتہ طاری ہو گیا۔ ساڑھے سات بجنے والے تھے۔ ایک بار تو اس کا دل کیا کہ کمبل اوڑھ کر پھر سے سو جائے، بھاڑ میں جائے فارما اور بھاڑ میں جائے UHS !

لیکن اس وقتی غصے پر  اس کا خوف حاوی ہوا۔ وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ Key to UHS پہ اس کی نظر پڑی۔ پھر Katzung یاد آئی، پھر وہ رہ جانے والے سارے ٹاپکس دماغ میں دوڑنے لگے۔ اسے لگا وہ تھوڑی دیر میں پاگل ہو جائے گی۔ اس نے اپنے سر کو پانچ، چھے بار زور سے جھٹکا۔ اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ اس نے جلدی جلدی نہانے میں عافیت سمجھی۔ نہا کے آئی، شیشے کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور خشک کرنے کے باوجود ان سے پانی بہہ رہا تھا۔ اس کے بال بے ڈھنگے  سے بکھرے ہوئے   تھے۔ اور بھنویں اوپر نیچے ہوچکی تھیں۔ اس نے تیزی سے جیسے تیسے بال بنائے، بھنوؤں کو اپنی اپنی جگہ پر پہنچایا۔ مسکرانے کی بالکل ناکام کوشش کی۔ الٹا اپنی پھیکی ہنسی دیکھ کے اسے شدید مایوسی ہوئی۔ اس نے فوراً چائے ی، دوتین بسکٹس چلتے بھاگتے حلق سے اتارے۔

طیبہ نے پاؤچ اٹھایا، اس میں دو بال پوائنٹ،مارکرز چیک کیے، ایک اور پنسل ڈالی، پھر لیڈ پنسل بھی ڈالی کہ شاید کوئی گراف بنانا پڑ جائے۔ وہ جانے لگی تھی۔ اس نے ایک بار بے خیالی میں Kazung اٹھائی، صفحے آگے پیچھے کیے۔ شاید  کوئی ایک اہم نقطہ ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نے جھنجھلاہٹ میں کتاب کو دور بستر پر پھینکا۔ طیبہ نے تکیے کے ساتھ رکھی key to uhs پر ایک آہ بھری نظر ڈالی اور پلٹ کے نکل پڑی۔

ایگزامنیشن ہال کے باہر طلبا کے رول نمبرز کی لسٹیں لگی ہوئی تھیں جن کے مطابق انہوں نے مقررہ نشستوں پر بیٹھنا تھا۔ طیبہ نے لڑکیوں کے بیچ میں سے گھستے ہوئے اپنے رول نمبر کو تلاش کیا۔ اس نے اوپر نیچے نظریں دڑائیں۔ اچانک کسی نے اس کا بازو پکڑا۔ یہ انعم تھی۔

“طیبہ! تمہارا اور میرا اسی ہال B میں ہی ہے۔ آؤچل کے بیٹھیں جلدی سے۔ ٹائم ہو گیا۔”

طیبہ اس کے ساتھ چل پڑی اس کا رول نمبر تیسری قطار میں ساتویں، آٹھویں نمبر پے تھا۔ لیکن وہ مسلسل ادھر ادھر حواس باختہ چکر کاٹے جارہی تھی۔ اس کو اس حال میں دیکھ کر ایگزامینر نے خود پوچھ لیا:

“بچے، کیا مسئلہ ہے؟”

“سر سیٹ نہیں مل رہی۔”

“کیا رول نمبر ہے؟”

“کون سا رولنمبر؟” طیبہ نےسوچا۔

حواس بحال کرتے ہوئے اس نے تیزی سےسلپ نکالی اور رول نمبر بتایا۔

ایگزامینر نے چند قدم دور پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
“وہ ہے آپ کا رول نمبر۔۔۔۔جہاں سے آپ تقریباً ابھی چوتھی بار ہو کے گزری ہیں۔”

طیبہ کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ فوراً جا کر اپنے سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اس نے سب سے پہلے درود شریف پڑھا، پھر آیت الکرسی پڑھی اور چپکے سے ایگزامینر کی طرف منہ کر کے پھونک ماری۔اس ایک آن لائن پیرنی نے یہ امتحان میں کامیابی کا یہ نسخہ بتایا تھا۔ وہ خاموشی میں ورد کرتی رہی۔

نو بجنے والے تھے۔ ایگزامنیشن ہال میں کپکپا دینے والی خاموشی طاری ہو چکی تھی۔ اچانک طیبہ کو کچھ یاد آیا۔ “حنان۔۔۔۔۔ اوہ میرا حنان کدھر بیٹھا ہے؟”
(جاری ہے)

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(8)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *