آزادی مارچ:استعفٰی یا ڈیل؟۔۔۔منان صمد بلوچ

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) 2018 کے عام انتخابات میں اپنے مخالفین کو مات دینے میں کامیاب ہوگئی اور مرکز سمیت پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں بھی اتحادی حکومت بنانے میں فاتح حاصل کی-

دریں اثناء حکومت کی جانب سے سو دن کا ایجنڈا پیش کیا گیا اور اس پر پورا اُترنے کی یقین دہانی بھی کی گئی جس میں ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، ایک بلین درخت لگانے کے علاوہ معیشت کی بحالی، شعبہِ تعلیم اور صحت میں اصلاحات، زرعی ترقی اور پانی کی تحفط، سماجی خدمات میں انقلاب، پاکستان کی قومی سلامتی کی ضمانت وغیرہ شامل ہیں۔

جب تبدیلی سرکار نے سو دن کا ایجنڈا کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تو وہ بُری طرح ناکام ہوگئ کیونکہ خزانہ خالی تھا، ادارے کرپٹ تھے اور ملک کو چلانے کیلئے پیسے نہیں تھے-

عمران خان نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ٹھان لی لیکن اُس نے آئی ایم ایف کے لون پیکج کی کڑی شرائط اور اثرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لیا اور اپنے دوست ممالک کے پاس دورے کا بہانہ بناکر بڑے اور چھوٹے پیکج مانگتے رہے-

ایک سال گزرنے کے بعد حالات جوں کے توں تھے- مخالفین حکومت کو آڑے ہاتھوں لیے ہوئے تھے- میڈیا واویلہ کررہا تھا اور عوام کی طرف سے سوالوں کا سیلاب تھا- تبدیلی سرکار اس سیلاب میں ڈوبنے سے بچنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر متفق ہوگئی-

حکومت نے ملک کی گھمبیر صورتحال دیکھ کر ناچاہتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا اور 6 بلین ڈالر کا معاہدہ طے کیا اور حکومت کو آئی ایم ایف کے سخت شرائط نگلنی پڑی اور حکومت کو آئی ایم ایف کے اکنامک ایٹ مین بھی ملک پر مسلط کرنے پڑے- آئی ایم ایف نے ہرچیز پر ٹیکس لاگو کرنے کیلئے حکومت کو سرزنش کی اور تبدیلی سرکار ہاں کہنے پر مجبور ہوگئی- آئی ایم ایف کے لون پیکیج سے اسٹاک مارکیٹ میں روپے کی قدر گرنے لگی اور ڈالر آسمان سے باتیں کرنے لگی جس سے مہنگائی کا سمندر اُمڈ آیا- انڈسٹریاں بند ہونے لگیں- تاجر برادری سڑکوں پر نکل آئیں- اپوزیشن کی تنقید نے زور پکڑ لی- میڈیا میں اس کا چرچا یونے لگا- ہر طرف چیخ و پکار کا فضا سماء ہوگیا- ٹیکس سسٹم کے نفاذ سے پورے ملک میں ہلچل مچ گئی-

جب ملکی صورتحال مخدوش ہوتے گئے تو جی یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کیا- آزادی مارچ کا واحد مقصد یہ ہے کہ وزیراعظم بالفور استعفی دیں- پارلیمنٹ تحلیل کی جائے اور نئے انتخابات کیے جائیں-

لیکن میں یہ بات واضح کرتا چلا جاؤں کہ ملکی تاریخ میں دھرنوں سے حکومتیں کبھی نہیں گریں لیکن لگتا ہے کہ مولانا میں دم ہے کہ وہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کروائے یا کسی حتمی نتیجے پر آجائے-

آزادی مارچ 27 اکتوبر میں کراچی سے نکل کر 31 اکتوبر میں اسلام آباد کو پہنچی ہے اور پارٹی کا اٹل دعوی ہے کہ اگر وزیراعظم استعفی نہیں دینگے اور ہم واپس نہیں جائیں گے لیکن وزیراعظم بضد ہیں کہ چاہے جو کچھ بھی ہوجائے، وہ استعفی نہیں دینگے تو ظاہر سی بات ہے کہ معاملہ بگڑ جائے گی- پُرامن جیالے منتشر ہوں گے- ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور حکومت ایکشن میں آئی گی- دونوں جانب تصادم کا خدشہ ہوگا اگر بات تصادم پہ پہنچی تو بات توڈ پھوڑ اور افراتفری پہ بھی آسکتی ہے- اس لئے دونوں جانب بروقت مذاکرات ناگزیر ہے-

لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف سمیت دیگر سیاسی لیڑران، تجزیہ کار اور میڈیا مولانا کے آزادی مارچ کے پیچھے اصل مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں- کسی کو نہیں معلوم کہ وہ دراصل کیا کرنا چاہتے ہیں اور آزادی مارچ کس نتیجے پہ آکر رُکی گی لیکن بظاہر مولانا رُکنے کا نام نہیں لے رہا- لگتا ہے کہ مولانا کسی اچھے موڑ کا انتظار کررہے ہیں اور وہ حالات کا بغور جائزہ لےکر فیصلہ کرنے پر آمادہ ہوں گے اور پھر معاہدے یا ڈیل پر اُتریں گے-

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *