دو دن کا الٹی میٹم ۔۔ اور اسکے بعد ؟/اطہر شہزاد

حضرت علی نےہمیشہ کی طرح ٹھیک ہی کہا تھا، ” اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے”
لیکن ہماری مذہبی قیادت کو پھرکیا ہوجاتا ہے ؟ جس بات پر اپنا اختیار ہی نہ ہو، اور ایسا فیصلہ جس پر کم وپیش 26 اقسام کے  سٹیک ہولڈر ہوں، ہوا کے رُخ پر چلنے والے، وہ آپ کا رُخ بھی تبدیل کردینےپر قادر ہیں ، پھربھی آپ نے کہا ” دو دن دیتا ہوں، وزیر اعظم استعفی دیں ، ورنہ۔۔
ورنہ کچھ بھی نہیں، لیکن رکیں ، مجھے تاریخ کا ایک ورق پلٹنا ہے، نگاہوں کو خیرہ کردینے والا ورق۔۔

یہ پہلی جنگ عظیم کے بعد کی پہلی دہائی ہے، اتحادی قوتوں نے جس کی تمام تباہ کاریوں کا ذمہ دار ہٹلر کو قرار دیا۔۔ متعدد طویل گفت وشیند کے بعد جرمنی کی قیادت میں محوری گروپ کو جنگ کی تمام تباہ کاری کا ذمہ دار قرار دے کر ہٹلر پر ذلت آمیز شرائط عائد کردی گئیں۔ تجارتی اور سیاسی پابندیاں، اسلحہ کے معاملہ میں اسے بے دست و پاء کردیا گیا۔ ہٹلر نے مجبوراً ان ذلت آمیز شرائط کو تسلیم تو کرلیا ، لیکن ساتھ ہی ایک تاریخی جملہ بھی کہا۔۔” 20 سال۔ صرف بیس سال کے اندر اندار ہم اپنی قومی بے توقیری کا بدلہ لیں گے ۔

پہلی جنگ عظیم 1919 کو ختم ہوئی تھی، اور ٹھیک 20 سال بعد یعنی 1939 کو دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔۔تاریخ بتاتی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کی شروعات ہٹلر نے کی تھی۔ ٹھیک 20 سال بعد، ہٹلر نے اپنی بات پوری کردی تھی ۔آج ہم ہٹلر کو بہت بُرا جانتے ہیں، لیکن زبان کی لاج رکھنا تو انسان کسی سے بھی سیکھ سکتا ہے۔ ہٹلر نے دی گئی مدت کے اندر اندر اپنے  دیے  گئے الٹی میٹم پر عمل کرلیا تھا۔

دو دن کی مہلت دیتا ہوں، کل تک کی مہلت دیتا ہوں، کفن لے کر کھڑا ہوں، پانچ منٹ کے اندر لائٹ آجانی چاہیے۔ یہ جملے جانے پہچانے سے لگتے ہیں، طاہر القادری بھی ایسی ہی گیدر بھبھکیاں دیا کرتے تھے۔۔دکھ ہوتا ہے، اہل مذہب کی اس بے توقیری پر دل خون کے آنسو روتا ہے، دو دن بھی گزر گئے، بیس مہینے بھی گزر جائیں گے، حصرت علی نے ہمیشہ کی طرح بالکل ٹھیک ہی کہا تھا ” اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے “۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *