• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آزادی مارچ کواب پُرامن واپس ہونا چاہیے۔۔۔سلیم جاوید

آزادی مارچ کواب پُرامن واپس ہونا چاہیے۔۔۔سلیم جاوید

پاکستان میں فوج کے کردارسے صَرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت فوج کا کیا کردار ہے؟۔
مندرجہ ذیل تین پہلو سے بات کرلیتے ہیں۔
1۔ کیا فوج کا کوئی مضبوط دھڑا، اندرخانے عمران خان کو ہٹانا چاہتا ہے؟۔
اگر ایسا ہے تومارچ کے شرکاء کی تعداداہمیت نہیں رکھتی۔ یہ کام ہوہی جائے گا اور جب ہوجائے گا تو اس ملک کے بچےبچے کا معلوم ہوجائے گا کہ کس برتے پہ ہواہے۔ مگر یہ کام ہوبھی گیا تو مولانا اوردیگر نو پارٹیوں کیلئے ہمیشہ کیلئے کلنک کا ٹیکہ بنا رہے گا۔۔میرا نہیں خیال کہ متحدہ اپوزیشن کوئی  ایسا سودا کرے گی۔ چنانچہ، یہ آپشن غیرمنطقی لگتا ہے۔
2۔ کیا فوج نے تہیہ کرلیا ہے کہ ہرصورت عمران خان کا ساتھ دینا ہے؟۔
اگر ایسا ہے تو فوج کو شکست دینے کیلئے مولانا کو کم ازکم 7 لاکھ مسلح رضاکار بمع ٹینک وفضائیہ چاہیئں۔ ایک منظم فوجی طاقت کا مقابلہ آسان ہوتا تو بشار الاسد کوا ب تک ہٹایا جاچکا ہوتا۔مجھے یہ آپشن اس لئے  بھی غیرمنطقی لگتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ مارچ، پہلے ہی دن روک دیا گیا ہوتا۔
3۔ کیا فوج نے اس مارچ میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے؟۔

اگر ایسا ہے تواسکا مطلب ہے اب سول حکمرانوں نے پولیس اوردیگر محکمہ جات کو استعمال کرنا ہے جس میں بلدیہ کو استعمال کرنا(پانی وبجلی بند کرنا)، اور حکومتی مراعات سے اپوزیشن میں انتشار پھیلانا شامل ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت یہی صورتحال ہے اور ایسے میں بھی سول حکومت کومارچ کے ذریعہ ہٹانا ناممکن بات ہے۔نواز حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے تب بھی اسے مارچ وغیرہ کے ذریعہ نہیں ہتایا جاسکا تو اب بھی یہ ممکن نہیں ہے۔

چنانچہ، میراتجزیہ یہ ہے کہ مولانا کا مارچ ، کامیاب ہوچکا ہے اور اب پُرامن واپسی ہونا چاہیے۔

کامیاب کیسے ہوچکا ہے؟ اس بارے اپنا تجزیہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
دیکھیے، تجزیہ میں انصاف اور غیرجانبداری کے دعوے کے باجود، خاکسار کو تسلیم ہے کہ میرا ذاتی لگاؤ مولانا فضل الرحمان کی طرف ہے۔ خدا کا شکرہے کہ میری فرینڈ لسٹ میں بھی عمران خان سے محبت کرنے والے ایسے سنجیدہ لوگ موجود ہیں جو تجزیہ اور تبصرہ میں متوازن رہتے ہیں۔ کسی سے ذاتی لگاؤ ہونا ایک فطری چیز ہے، ہرایک کواسکا حق ملنا چاہیے۔
پی ٹی آئی  کے ایسے ہی سنجیدہ تبصرہ نگاروں نے آزادی مارچ پراب تک جو تبصرے کیے  ہیں، ان کا حاصل تین باتیں ہیں۔
1۔ چونکہ پی ٹی آئی  نے مولانا کی مسلسل تضحیک کی ہے تو مولانا صرف ذاتی انتقام کیلئے عوام کوابھار رہا ہے۔
2۔مولانا فضل الرحمان، کرسی کیلئے بے چین ہے اور اسکے لئے مذہب کارڈ کو استعمال کررہا ہے۔
3۔ زردای اور نواز شریف جیسے چور، مولانا فضل الرحمان ، کو استعمال کررہے ہیں۔

ہرپارٹی میں چھچھورے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ان سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر آپ سنجیدہ انصافی لکھاریوں کے تجزیے پڑھیں تو مندرجہ بالا تین باتیں ہی دہرائی  گئی ہوں گی۔
یعنی مذکورہ تبصروں میں اب ڈیزل چوری، ملٹری لینڈ سکینڈل کی بات نہیں کی جارہی ہے۔ یعنی مولانا کی ذات پرجو مالی خیانت کا پروپیگنڈہ تھا ، وہ اب دھل گیا اور دوست دشمن سب کو معلوم ہوگیا کہ اگر مولانا پرکوئی  مالی کرپشن کا کیس ہوتا تو کم از کم اس موقع پرپی ٹی آئی  حکومت ضرورہاتھ ڈالتی۔دوسرایہ داغ بھی دھل گیا کہ مولانا ہرحکومت میں شامل ہوتا ہے۔ اب چاہے عمران خان سے ذاتی دشمنی ہی سہی مگریہ تو معلوم ہوگیا کہ مولانا “ہرقیمت” پر اقتدار نہیں چاہتا (ورنہ یہ تو بچہ بھی سمجھتا ہے کہ مولانا کو پرانی مراعات سے زیادہ کی آفر کی گئی ہوگی)۔
رہی یہ بات کہ مولانا نے اپنی ذاتی تضحیک کا انتقام لیا ہے تو مجھے اس تبصرے سے اتفاق نہیں ہے لیکن ایسا ہو بھی تویہ فطری بات ہے اور ہرنارمل آدمی کو ایسا کرنا چاہیئے۔ میرا یہ خیال ہے کہ دیگرمقاصد کے علاوہ، اصل ہدف مولانا نے یہ حاصل کرلیا کہ عوامی طور پرقومی اپوزیشن یعنی متبادل قومی لیڈر شپ کا منصب ایگرپارٹیوں سے چھین لیا ہے جو کم بات نہیں ہے۔
سب سے اہم چیز جو مولانا نے اس مارچ کے ذریعہ حاصل کی ہے وہ ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو ننگا کرنا۔ پاکستان کے جمہوریت پسندوں کوان دونوں پارٹیوں سے قربانی اور حیرت پسندی کی جو جھوٹی توقع تھی، مولانا نے اسکا پردہ چاک کردیا۔ مولانا اورعمران خان کی اس جنگ میں اگر کوئی  طبقہ ہارا ہے تو بیچارے لبرل ہیں۔ کیونکہ اب پاکستان کی عوامی سیاست میں دوہی بڑے مدمقابل سامنے آئے ہیں۔ ایک عمران خان اور دوسرا مولانا – یعنی ایک طرف ریاست مدینہ اور دوسری طرف نظام مصطفی۔ ان دعوں میں کون سچا یا جھوٹا ہے مگر اس مارچ نے پاکستان میں لبرل ایجنڈے کی تدفین کردی ہے۔

اسکے علاوہ، مولانا نے اس مارچ سے ایک بڑا مقصد اور بھی حاصل کیا ہے کہ دنیا کے سامنے مولوی طبقہ کا نظم وضبط اورپرامن وجمہوری چہرہ پیش کردیا ہے۔ اتنا کافی ہے۔مارچ میں جولوگ آئے ان کو بھی اطمینان ہونا چاہیے کہ انکی قربانی کی وجہ سے عالمی میڈیا پرمسلمان مظاہرین کا پرامن اور منظم روپ آشکار ہوا ہے۔
اب اس مارچ کا واپس کرنا چاہیے۔
اس میں کوئی  فتح وشکست کا مسئلہ نہیں ہے۔ عمران خان نے بھی دو بار دھرنا دیا اور دونوں بار دھرنے سے حکومت کو کچھ نہیں ہوا۔ (نوازحکومت گئی تو عدالت وغیرہ کے ذریعہ)۔ اگر عمران خان کوکسی نے طعنہ نہیں دیا تو آپ کو بھی کوئی  طعنہ نہیں دے گا۔ آپ کی ہمت ، بصیرت اور استقامت تاریخ میں ریکارڈ ہوگئی ہے –باقی یہ جمہوری نطام ہے، کوئی  دوملکوں کی جنگ نہیں ہے کہ ایک کوضرور شکست دینا ہے۔

آخر میں، یہ خاکسار مولانا فضل الرحمان صاحب کا ذاتی طور پرشکرگذار ہے۔۔۔کوئی  تین برس سے میرا اصرار رہا کہ مولانا کو ایک جارحانہ سیاسی اقدام کرنا چاہیے۔ اس لئے نہیں کہ اس سے حکومت حاصل کی جاسکتی ہے۔ حکومت ہی مقصود ہوتا تو جس لانڈری سے پاکستان کی غلاظت دھل کرکرسی حاصل کرچکی ہے، اس دکان سے مولانا کو سب سے پہلے آفر ہوئی  تھی( اور یہ آفر اب بھی برقرار ہے)—میراصرار اس لئے تھا کہ میں نے مولانا کو مالی طور پرشفاف آدمی پایا ہے۔ مگر جس تواتر سے میڈیا میں مولانا پرمالی بدعنوانی کا طومار باندھا گیا، اس سے جمیع علمائے دیوبند کی عزت کو داغ لگ رہا تھا اور میرے خیال میں اسکا حل یہی تھا کہ آزادی مارچ جیسا ایک جارحانہ اقدام کیا جائے۔ اپنی اس رائے کی بنا پرخاکسار نے خود مولانا سے احتجاج بھی کیا، اختلاف بھی کیا اور جب مولانا نے “دیرآید، درست آید” پرعمل کرلیا تو پوری سپورٹ بھی کی ہے۔

اب میری گزراش مگر یہ ہے کہ آپکا احتجاج بھرپور طریقے  سے ریکارڈ ہوچکاہے تو اب واپسی ہونا چاہیے۔
دیکھیے ہم سب جانتے ہیں کہ الیکشن میں دھندلی ہوئی  ہے۔ مگروہ دھاندلی بیلٹ بیکس میں بہت کم ہوئی  تھی اور اصل میں پری۔الیکشن دھاندلی زیادہ ہوئی  تھی۔ ( یہ پری۔الیکشن دھاندلی فوج کیسے کراتی ہے؟ اسکی بہترین تشریح” پرانے” عمران خان کے ایک انٹریو میں موجود ہے)۔ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہے۔ اس سلسلے میں پہل آپ نے کرلی اور خود کو وفاقی طور پر اصل اپوزیشن لیڈر منوا لیا۔اس میں بھی شک نہیں کہ مہنگائی وبے روزگاری سے عوام تنگ ہیں۔ عوام کے مسائل پر دبنگ سٹینڈ لینے کیلئے ہی اپوزیشن پارٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ وہ سٹینڈ بھی آپ نے لے لیا ہے۔ ایک سیاسی پارٹی پر عوام کا جو حق ہوتا ہے، وہ حق آپ نے ادا کردیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ کافی سے بھی زیادہ ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *