• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ”دھرنا “ گندہ ہے پر دھندا ہے ۔۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تو/شفیق زادہ

”دھرنا “ گندہ ہے پر دھندا ہے ۔۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تو/شفیق زادہ

SHOPPING

(2014 کی ایک مدفون تحریر جس میں یادوں کے گڑے مردے خود کو اُکھاڑنے پر تُلے ہیں)
جدید تاریخ میں دھرنے کی ابتداء 1939 میں امریکہ میں ہوئی لیکن اس کو دوام 1964 کی سول رائٹس موومنٹ میں ملا۔ دھرنوں کی وجہ سے ہی امریکہ میں سول رائٹس موومنٹ کامیاب ہوئی  اور گورے کالے کے درمیان خطِ تفریق ختم کرنے میں مدد ملی۔ انہی دھرنوں کے نتیجے میں ہی بلا تفریق رنگ و نسل عام امریکی کو آئین کے تحت دیئے گئے حقوق حاصل ہوئے۔ دھرنے دینے کے دوران یہ عام بات ہے کہ دھرنا گزار اہم مقامات کو بند کردیتے ہیں جس سے کاروبار اور روز مرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ حتٰی کہ بعض صورتوں میں مکمل بند بھی ہو جاتے ہیں۔ امریکی دھرنے اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ ان کا بپا کیا جانا بہر حال اپنے منطقی انجام تک پہنچا اور مطلوبہ مقاصد حاصل ہوئے۔ پھر مطالبات کو منوانے کے لیے دھرنے کے ’ دھندہ‘ فیشن میں شامل ہوگیا۔ کہیں یہ کامیاب رہا اور بارہا اسے چین کے تیان من اسکوائر جیسی سفّاکی اور بربریت جھیلنی پڑی۔ مصر کا تحریر اسکوائر تو دھرنے کے معاملے میں عالمی شہرت رکھتا ہے جدھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسیوں کے خلاف 1977 کی ’روٹی دو ‘ کی خونی تحریک سے لے کر 2009 میں ملک کے آمر اور پھر 2011 میں منتخب صدر کو ہٹانے کے لیے خوں ریز دھرنے ہوئے ۔

ملک عزیز بھی پچھلے چار مہینوں سے ایسے  ہی دھرنوں کا مارا ہوا ہے جن کے مقاصد کچھ بھی ہوں لیکن نتیجہ’بند‘ ہے۔ ہر فریق اپنے اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایک دوسرے کی چال پر آنکھ میچے نظر رکھے ہوئے ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اکھاڑے میں دو پہلوان لنگوٹ کسے ایک دوسرے سے محفوظ فاصلے پر کھڑے آنکھوں میں آنکھوں ڈالے مونچھوںکو تاؤ دیئے بازو پھیلائے ایک دوسرے پر حملہ’ نہ ‘کرنے کے وعدے پرقائم ہیں۔ ایک نے گھریلو اسمبلی نہیں توڑنی اور دوسرے نے استعفٰی کا پنڈولم لٹکا ئے رکھنا ہے۔ ان کی دشمنی نما دوستی سے بے خبر شائقین اور متعلقین دم سادھے اس ہونی کے منتطر ہیں جو کہ انہونی ہے۔ اسی طرح پُلوں کے نیچے اور ارمانوں کے اوپر گھڑوں پانی پِھر جائے گا اور حالات و معاملات یونہی چلتے رہیں گے۔ دنیا میں اگر کچھ نہ بھی بدلے وقت تو بدلتا ہی ہے، سو ملک عزیز میں لمحہ بہ لمحہ وقت بدل رہا ہے لیکن کیا حالات بھی بدل رہے ہیں ، کیا معاملات بھی بدل رہے ہیں، کیا طریقت، معیشت اور معاشرت بھی بدل رہے ہیں؟۔ کیا کرتا دھرتاؤں کے جن جغرافیائی علاقوں پر مکمل عملداری ہے کیا ادھر تبدیلی ، بہتری اور بحالی کے کوئی اثار ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی شعبدہ باز کی طرح یہ سب بھی کوئی  شعبدہ یا ہاتھ کی صفائی ہے، کہیں پہ نگاہیں ، کہیں پہ نشانہ۔ یہ مخالفین اور متفقین کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس راہ کے مسافر ہیں اور ان کی اولاد کے سامنے کون سا سفر درپیش ہے، انگریزی والا یا اردو والا۔ شہرِ یتاماں کراچی میں بھی اسی دوران کیا جانے والا 28 مقاماتی دھرنا اگر اوپر بیان کی گئی  تعریف کے پیمانے پر دیکھا جائے تو بھرپور ’ کامیا ب ‘ہوا۔ حاصل کردہ مطلوبہ نتائج کے مطابق سڑک بند ، سفر بند، سودا سلف بند اور پھر ٹائراتی آتشزدگی کے دھویں کی وجہ سے سانس بند۔ ان تمام ’بند‘ و ’ بس ‘ کی وجہ سے عوام کے ’ حساس ‘ مقامات کا بھی یہی حال، کہ سمجھ نہیں آتا کہ سانس کہاں سے لیں اور کھانسے کہاں سے کہ ہمہ وقت منہ اور ناک پر رومال رکھ کر ہر دو بند ۔ ایک عام شہری کے ناطے میری دل چسپی صرف اس امر میں ہے کہ شہر کی اٹھائیس اہم شاہراہوں کو بند کر کے شہر کو ایک وسیع ’ لیبرنتھ‘( گھن چکر) میں تبدیل کرنے سے کسی کو کیا فائدہ ہوا؟ یا ایسی ہی بہت ساری ہڑتالوں اور یوم سوگ و احتجاجوں سے کسی نے آج تک کیا فائدہ اٹھایا؟ ایک نفرت انگیز عمل سے بیزار پشتینی غلام عوام اب دوسری دلکش غلامی کے اسیر ہونے جار ہے ہیں جس کا جال بھی وہی پرانا اور شکار بھی یعنی عوامی مفاد کے لارے لپے اور عوام ۔ اس بلاگ کے ذریعے اس شہر کے مجبور اور اسیر شہریوں کی توجہ اس امر کی طرف دلانی مقصود ہے کہ بقول شاعر
؏ دل کو تم نے کراچی سمجھ رکھا ہے
آتے ہو ،جلاتے ہو، چلے جاتے ہو!

مینجمنٹ کا ایک اصول’سینیریو پلاننگ ‘ ہے جس میں مختلف اور ممکنہ پیش آسکنے والے حالات کو ذہن میں رکھ کر پلاننگ کی جاتی ہے۔ پلاننگ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”اگر آپ پلاننگ کرنے میں ناکام ہیں تو آپ ناکام ہونے کے لیے پلاننگ کر چکے ہیں”۔ جس شہر میں قدم قدم پر دھماکوں، حادثوں اور بد نصیبی کا ڈیرہ ہو اس کی شہ رگ شاہراہوں کو بند کردیا جائے اور پھر کوئی ظالم لمحہ کوئی  اندہوناک حادثہ جنم دے تو کیا ہو۔ سائٹ کی کسی فیکٹری میں آگ، اسٹیل مل میں کوئی حادثہ، جناح ٹرمینل پر کوئی دہشت گرد حملہ، کراچی ائیر پورٹ پر کوئی کریش لینڈنگ ، سی ویو پر غرقابی، ملیر کے کسی قریشی کو دل کا دورہ، لانڈھی کے گل خان کا ایکسیڈنٹ، سرجانی کی  جمیلہ کی خود سوزی کی کوشش، یا پھر شہر میں کہیں بھی ٹارگٹ کلنگ یا چھینا جھپٹی کے مزاحم زخمی ومجبور سب کی پہلی منزل جناح ہسپتال ہی ہوتی ہے۔ آہ! وہی جناح ہسپتال جس تک پہنچنے کے تمام راستوں پر اس دن نیا پاکستان بنایا جارہا تھا،شہر بند کر کے۔ صرف یہی نہیں شہر کی شاہ رگ شاہراہیں تکنیکی طور سے اس طرح بند کی گئیں تھیں کہ کسی معمولی سے حادثے کی صورت میں بھی کوئی بھی کہیں سے بھی اسپتال نہ پہنچ سکے چاہے اوپر پہنچ جائے۔ کیا دھرنے کے کرتا دھرتاؤں نے اس بارے میں سوچا کہ اگر یوں ہو تو کیا ہوگا؟ اگر ایسا ہواتو کیا ہو سکتا ہے؟ وہ قیادت اور امامت ہی کیا جو دیوار کے آر پار اور وقت سے آگے نہ دیکھ سکے۔ یہ شہر تو ہے ہی شہرِ ِنا پُرساں، جس کا نہ کوئی والی ہے نہ وارث۔ اسی شہر کے بارے میں چالیس سال پہلے شاعرہ و بیوروکریٹ پروین شاکر نے اپنی کتاب ’ انکار ‘ میں دل گرفتگی سے کہا تھا کہ
”کراچی“
ایک ایسی بیسوا ہے
جس کے ساتھ
پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں سے آنے والا
ہر سائز کے بٹوے کا آدمی
رات گزارتا ہے
اور صبح اٹھتے ہی
اس کے داہنے رخسار پر
ایک تھپّڑ رسید کرتا ہے
اور دوسرے گال کی توقع کرتے ہوئے
کام پر نکل جاتا ہے
اگلی رات کے نشے میں سرشار !
شفیق زادہ ، نومبر 2014

SHOPPING

اس غیر مطبوعہ تحریر کو لکھے پانچ سال گزرگئے، لگتا ہے کل ہی کی بات ہے، استعفی دے دو، ٹھینگا لے لو، ٹی وی اسٹیشن پر حملہ ، عدالت عالیہ کی بے توقیری ، اُتری شلواروں کی نمائش ، خواتین سے دست د رازیاں ، کف اُڑاتے شعلہ بیاں مقرر، سول نافرمانی کی دھمکیاں،میڈیا دیوانگی، ہنڈی لین دین کی آوازیں، ٹیکس نا دہندگی کے احکامات اور نجانے کیا کیا، سب کچھ تازہ تازہ ہی لگ رہا ہے، سنا سنا سا، واقعی کل کی ہی بات جیسا۔ اس وقت بھی یہ نام نہاد ‘آزادی مارچ’ تھا اور آج بھی یہ آزادی مارچ ہی ہے۔
؏ ایک اور دھرنے کا سامنا تھا مجھ کو
جب میں ایک دھرنے کے پار اُترا
(منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ)
اب   پھر ایک اور دھرنا ہونے جا رہا ہے۔ پچھلے بار دھرنا ختم کرنے کے لیے 145 معصوم بچّے قربان ہوئے تھے۔ اس دفعہ دھرنا شروع ہونے سے پہلے ہی پچاس فیصد ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا ہے اور دھرنا ابھی باقی ہے یارو!

SHOPPING

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *