اختلاف اور اتفاق , محبت اور بغض.بلال شوکت آزاد

کسی شخصیت سے سیاسی اختلاف رکھنے والا باشعور اور مدبر و باتہذیب اور نظریاتی انسان ہوتا ہے جبکہ ذاتی بغض اور عناد رکھنے والا فقط جاہل, بھیڑ چال چلنے والا اور کند ذہن مخلوق  ہوتا ہے۔آج کل ذاتی محبت اور ذاتی عناد و بغض کے پیروکار ہی عام ہیں جو سیاست و جمہوریت کا بیڑا غرق تو کرہی رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کی بدولت عوام قومی تشخص اور بھائی چارے سے بھی ہاتھ دھو رہی ہے۔جبکہ اخلاقی و شخصی گرواٹ اوپر سے الگ بونس مل رہا ہے عوام کو۔اس محبت اور بغض کی جنگ نے ہم سے عقیدے اور نظریے تک چھین لیئے ہیں۔سیاسی بلوغت کا لیبل لگا کر ہم بداخلاقی کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔گالی کلچر نے روایت کا درجہ اپنا لیا ہے۔تعریف فقط من پسند لوگوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ تنقید ہر متضاد اور ناپسند کے حصے میں رہ گئی ہے ۔

اگر ہم صرف اختلاف اور اتفاق تک محدود رہیں اور شخصی محبت یا بغض کا شکار نا ہوں تو بھی اس ملک کا نظام چل سکتا ہے بلکہ بہتر انداز میں چل سکتا ہے۔اختلاف یا اتفاق ہمیں کسی سے بھی ہو سکتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں تعریف یا تنقید حسب موقع کرنے کی راہیں کھلی رہیں گی۔لیکن ذاتی محبت یا بغض رکھ کر ہم سب سے پہلے کھلے دل ودماغ سے تعریف اور تنقید کرنے کا اختیار اور حق گنوا دیتے ہیں۔ذاتیات اور اخلاقیات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔مجھے محمد علی جناح سے لے کر شاہد خاقان عباسی تک سب سیاست دانوں اور حکمرانوں سے اختلاف بھی ہے اور اتفاق بھی لیکن شدید محبت اور بغض کسی ایک سے بھی نہیں ہے۔

tripako tours pakistan

یہی وہ خوبی وہ عادت ہے جو مجھے باقی لوگوں سے الگ کرتی ہے۔ (ایسا میں سمجھتا ہوں کسی اور کا اس پر متفق ہونا ضروری نہیں)۔یعنی اختلاف رائے اور اتفاق رائے ہی اصل آزادی رائے اظہار ہے ناکہ محبت اور بغض کے جذبات۔اس لیے جب جب مجھے کسی سے اختلاف ہوتو میں اس کی اس وقت کی بات یا حرکت پر اختلاف کرتا ہوں نا کہ اس کی ذات سے۔اسی طرح اتفاق کا دائرہ بھی میرا کسی کی ذات سے مستقل جڑا ہوا نہیں۔جہاں ایسی بات یا حرکت نظر آئے جس سے میں متفق ہوں تو بے دریغ تعریف کرتا ہوں اور دل میں مثبت جذبات رکھتا ہوں۔بے لوث محبت اور بے لوث بغض جیسی خرافات نے معاشرے کا اخلاق بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔تنقید اور تعریف کے پیمانے بدل دیے ہیں۔عدم برداشت کا رویہ پروان چڑھایا ہے۔اور سب سے بڑھ کر احتساب کے عمل کو نقصان پہچایا ہے۔

جمہوریت کی بنیادی تعریف کوگڈمڈ کردیا ہے اس محبت اور بغض والے رویے نے۔من حیث القوم گرواٹ اور بد اخلاقی و بدتہذیبی کی طرف گامزن کردیا ہے۔آپ لوگ نظریوں اور عقائد کے ساتھ متعلقہ شخصیات سے اختلاف یا اتفاق رکھیں مگر خدارا محبت اور بغض کی موذی و لاعلاج بیماری سے بچنے کی کوشش ضرور کریں ورنہ تقلید اور پیروی کرتے کرتے انہی جیسے ہوجائیں گے جن سے محبت یا بغض ہوگا۔آپ کی اپنی ذاتی شخصیت کا قتل آپ خود کرلیں گے اور آپ کو معلوم بھی نہیں پڑے گا کہ آپ نے کیا کردیا ہے۔اس لیے  اختلاف و اتفاق اور محبت و بغض میں فرق کریں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *