افغانستان، پشتونستان اور وزیرستان۔۔۔ ہارون وزیر/قسط2

SHOPPING

گزشہ سے پیوستہ:

وزیروں نے یہ سن کر آپس میں مشورہ  کیا۔ اور داوڑ لشکر سے کہا کہ ہم وزیر اپنا اختیار (واک) داوڑوں کو دیتے ہیں۔ آپ جو فیصلہ کریں گے ہم اسے تسلیم کریں گے۔
داوڑ ملک اٹھا۔ اور کہا کہ اے لوگو ہمیں نادر چچا سے کچھ نہیں چاہیے۔ چلیں بسم اللہ کرتے ہیں۔ بچہ سقہ کو ہم دیکھ لیں گے۔
داوڑ ملک نے نادر خان کی طرف کر مڑ کر دیکھا اور کہا کہ نادر چچا اپنے آنسو پونچھ لو۔ ابھی تو می اپنی بیوی کے آنسو نہیں بھولا ہوں جو جنگ کیلئے آتے وقت اس کی آنکھوں میں تھے۔
ڈھول بجے۔ لشکر اٹھا۔ اور پہلے ہی ہلے میں کابل فتح کر لیا۔ اسی لئے سر اولف کیرو نے وزیرستانیوں کو کنگ میکر کہا ہے۔ اس فتح کے بعد نادر خان وزیرستانیوں سے وعدہ خلافی کرکے خود بادشاہ بن گیا۔
1941 میں جب داوڑ قوم کا ایک قبیلہ انگریزوں کی بمباریوں اور حملوں سے ناک تک آ گیا۔ تو اس ایک قبیلے نے افغانستان ہجرت کی۔ لیکن انہیں اس احسان فراموش افغان حکومت نے زبردستی واپس بے یار و مددگار واپس بھیج دیا۔
یہ پاکستان بننے سے پہلے کی افغانستان حکومت کی بے وفائیوں کی داستان تھی۔ قیام پاکستان کے وقت اور بعد میں افغان حکومت کی سازشوں کی کہانی الگ ہے۔ جس پھر کبھی بات کریں گے۔ پشتونستان کا قصہ ابھی رہتا ہے۔

کالم نگار:ہارون وزیر

دوسری قسط
1823ء میں بارکزئی قبیلے کے گورنر پشاور یار محمد خان نے رنجیت سنگھ کو چالیس ہزار نقد اور کچھ انتہائی قیمتی گھوڑے خراج کے طور پر دیے۔ اس پر کابل کا حکمران اعظم خان طیش میں آ گیا۔ اعظم خان نے اپنی فوج کے ساتھ پشاور کا رخ کیا۔ یار محمد خان پشاور سے بھاگ گیا۔ اعظم خان نے پشاور کے مقامی قبائل سے جہاد کے نام پر مدد مانگی۔ جس پر پشاور کے یوسفزئی، خٹک اور دیگر قبائل نے لبیک کہا۔ نوشہرہ کے مقام پر افغان اور سکھ فوجیں آمنے سامنے آگئیں۔ ایک طرف سکھ فوج کھڑی تھی جبکہ دوسری طرف پشاور کے مقامی قبائل کے ہتھیار بند سپاہی کھڑے تھے۔ جبکہ کابل کا اعظم خان اپنی فوج سمیت تین میل پیچھے سے میدان جنگ کا نظارہ کر رہا تھا۔ جنگ شروع ہوئی۔ گھمسان کا رن پڑا۔ لڑائی دو سے تین دن تک جاری رہی۔ پشاور کے قبائلی بڑی بہادری کے ساتھ لڑے۔ ایک وقت پر انہوں نے اتنی زبردست یلغار کی کہ سکھوں کی   فوج کے پاؤں اُکھڑ گئے۔ سکھ فوج پسپا ہونے والی ہی تھی کہ رنجیت سنگھ کی   ایک گورکھا بٹالین موقع پر پہنچ گئی۔ جنہوں نے قبائل کو مؤثر طریقے سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جب تین میل پیچھے کھڑے اعظم خان کو صورتحال کا ادراک ہوا تو وہ اسی شام پسپا ہوکر کابل پہنچ گیا۔ اگر اس موقع پر اعظم خان تماشا  دیکھنے کی بجائے جنگ میں شامل ہوجاتا تو رنجیت سنگھ کو ہمیشہ کیلئے وہ دریائے سندھ کے پیچھے تک دھکیل سکتا تھا۔ یہ بارک زئی خاندان کی ایسی بزدلی تھی کہ پشاور کے قبائل اسے کبھی نہیں بھول سکے۔

اس لڑائی کے تقریباً دس سال بعد رنجیت سنگھ نے پشاور پر کسی طفیلی گورنر کے ذریعے حکومت کرنے کی بجائے براہ راست قبضہ کر لیا۔ پشاور کا گورنر سلطان محمد جو قبل ازیں رنجیت سنگھ کے دربار لاہور کا باج گزار تھا بھاگ کر اپنے بھائی دوست محمد کے پاس پہنچ گیا۔ دوست محمد اپنی فوج سمیت 1935 میں پشاور پہنچ گیا۔ دوسرے علاقوں کے سرداران کے ساتھ ساتھ مقامی قبائل بھی دوست محمد کے ہمراہ تھے۔ دوست محمد اور سلطان محمد نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ ایک دوسرے کے وفادار رہیں گے۔ لیکن بے غیرت سلطان محمد کے دل میں کھوٹ تھی۔ اسے پتہ تھا کہ فتح کی صورت میں اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اس لئے وہ رنجیت سنگھ سے چوری چھپے معاہدہ کرکے لڑائی سے ایک دن پہلے اپنے لشکر سمیت اس سے جا ملا۔ اس سے افغان فوج کے مورال پر بہت بُرا اثر پڑا۔ سکھ فوج نے اس کے بعد دوست محمد خان کی فوج کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ صورت حال کی نزاکت کا احساس کرکے دوست محمد راتوں رات فرار ہو گیا۔ وہ جس رفتار سے پشاور آیا تھا اس سے دوگنی رفتار سے واپس کابل پہنچ گیا۔

شجرہ نسب

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سلطان محمد کون تھا؟
سلطان محمد بارک زئی خاندان کے اعظم خان اور دوست محمد خان کا بھائی، شاہ نادر خان کا دادا جبکہ ظاہر شاہ اور سردار داؤد کا پڑدادا تھا۔ سلطان محمد وہ غدار تھا جس نے تخت اور مالی منفعت کی خاطر سکھوں کے ساتھ پشاور کا سودا کیا تھا۔ اور تو اور اس نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنے بھائی دوست محمد کے ساتھ بھی دھوکہ کیا تھا۔ اسی دھوکے کے باعث پشاور مکمل طور پر رنجیت سنگھ کی جھولی میں پکے آم کی طرح گر گیا تھا۔ بالکل ایسے ہی ایک مرتبہ اسی سلطان محمد کے پوتے شاہ نادر خان نے وزیرستان کے قبائل کو دھوکہ دیا تھا۔ جب اس نے قرآن پاک پر قسم کھا کر کہا کہ جب میں آپ کی مدد سے بچہ سقہ سے تخت واپس چھین لوں گا تو میں اسے امان اللہ خان کے حوالے کروں گا۔ لیکن وہ اس وعدے سے مکر گیا اور فتح کے بعد تخت پر خود بیٹھ گیا۔ پختونخوا کے لوگوں کی افغان حکمرانوں پر بد اعتمادی کی وجہ یہی غداریاں، بے وفائیاں اور وعدہ خلافیاں ہیں۔

پختونستان
متحدہ ہندوستان کی تقسیم کا جب اعلان کیا گیا تو ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے برطانوی حکومت کو منصوبہ بھیجا گیا جو وہاں سے منظور ہو کر واپس آیا۔ اس میں ہر صوبے کو تین چوائس دی گئیں  تھیں۔ یہ کہ ہندوستان میں شامل ہو جاؤ یا پاکستان میں شامل ہو یا ایک آزاد خودمختار ریاست بن جائے۔ اس منصوبے پر کانگریس نے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ نہرو نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستان بلقان کی ریاست کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ جبکہ جناح کو اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ انہوں نے سہروردی کو اس سلسلے میں پورا اختیار دیا تھا۔ کانگریس کے شدید ردعمل کے بعد برطانوی کابینہ کو آزاد رہنے کی  تیسری چوائس ختم کرنا پڑا۔
منصوبے کی منظوری کے وقت صوبہ سرحد میں کانگریس کے ڈاکٹر خان کی حکومت تھی۔ اس وقت تک صوبہ سرحد میں فرقہ وارانہ (ہندو مسلم) فسادات ہو چکے تھے۔ جس کو دیکھتے ہوئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ صوبہ سرحد کے مستقبل کا فیصلہ عوامی رائے عامہ کے از سر ِنو تعین کے بعد کیا جائے یا ریفرنڈم کا رستہ اختیار کیا جائے۔ عام انتخابات کے لئے ضروری تھا کہ موجودہ اسمبلیاں توڑ کر نئے سرے سے الیکشن کرائے جائیں تاکہ کانگریس یا مسلم لیگ میں سے جس کو بھی زیادہ ووٹ ملیں صوبہ سرحد اسی کے ساتھ شامل ہو جائے۔ انہی انتخابات کیلئے مسلم لیگ نے صوبہ سرحد میں سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع کر رکھی تھی۔ لیکن کانگریس اسمبلیوں کی تحلیل اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف تھی۔ تاہم اسمبلی اور وزارت کو چھیڑے بغیر ریفرنڈم کرانے پر کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ چنانچہ ریفرنڈم کا رستہ اختیار کیا گیا۔

جس وقت ریفرنڈم کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو صوبہ سرحد جہاں پر بھاری اکثریت مسلمان تھی وہاں پر ہندوستان سے الحاق کا تصور بھی محال تھا۔ اس کی بڑی وجہ حالیہ ہندو مسلم فسادات تھے۔ 1946 میں کلکتہ اور بہار  میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے لرزہ خیز واقعات دکھانے کیلئے مسلم لیگ، صوبہ سرحد اور قبائلی اضلاع کے پختونوں کا ایک وفد لے کر گیا تھا۔ کلکتہ میں دس ہزار اور بہار میں پچاس ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ جن میں مردوں کے علاوہ خواتین،بچے اور بوڑھے سبھی شامل تھے۔ ہزاروں مسلمان جوان لڑکیاں جبراً ہندو بنائی گئی تھیں۔ قرآن پاک کے نسخے جلائے گئے جبکہ مسجدوں کو مسمار کیا گیا تھا۔ یہ سب دیکھنے کے بعد صوبہ سرحد کے مسلمانوں کا باچا خان اور ڈاکٹر خان کے کہنے پر ہندوستان میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ صوبہ سرحد کے مسلمانوں کا عمومی تاثر اور رجحان دیکھ کر باچا خان اور گاندھی نے ریفرنڈم میں ہندوستان یا پاکستان میں شمولیت کے ساتھ علیحدہ ریاست پختونستان کے آپشن کے اضافے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ جب ماؤنٹ بیٹن نے جناح کے سامنے کانگریس کا یہ مطالبہ رکھا تو جناح نے سوال کیا کہ کانگریس ہندوستان اور پاکستان سے الگ ہونے کا موقع صرف صوبہ سرحد کو دینا چاہتی ہے یا ہندوستان کے باقی صوبوں کو بھی اس قسم کا موقع دینے پر راضی ہے۔ ماؤنٹ بیٹن نے جلدی سے کہا کہ میں کانگریسی لیڈروں کی توجہ اس جانب دلا چکا ہوں۔ انہوں نے یہ تجویز رد کر دی ہے۔ اس پر جناح نے یہ تبصرہ کیا کہ ہندوؤں کی مشکل یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایک روپے کے عوض سترہ آنے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

پختونستان کے مطالبے سے چند ماہ پیشتر جب اولف کیرو نے ڈاکٹر خان کو یہ مشورہ دیا تھا، کہ آپ پٹھان نیشنلزم کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں تو ڈاکٹر خان نے اولف کیرو کی اس تجویز کو انڈین نیشنلزم کے نام پر رَد کر دیا تھا۔ بعد میں جب ان سرخپوشوں کو یقین ہو گیا کہ ہندوستان کے ساتھ کسی بھی طور الحاق ممکن نہیں ہے تو انہوں نے یکا یک پختون نیشنلزم کا نعرہ لگایا۔ اس سے پہلے نہ تو کسی افغان حکمران نے پختونستان کی بات کی تھی اور نہ ہی ہمارا یہ سرخپوش خاندان اس کا حامی تھا۔

حکومت افغانستان نے بھی اس سے ایک سال پہلے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اب جبکہ انگریز جا رہا ہے تو صوبہ سرحد کو افغانستان سے ملاپ کی اجازت دی جائے (یاد رہے یہ پختونستان کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ افغانستان میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کی شمولیت کا مطالبہ تھا)۔ اس پر نہرو کے محکمہ خارجہ کا سرکاری موقف یہ تھا کہ اگر ہندوستان اور افغانستان کی سرحد کے مستقبل کا تعین ماضی کی تاریخ کی بنیاد پر ہی ہونا ہے تو پھر نئی سرحد ڈیورنڈ لائن کے کافی دور مغرب میں مقرر کی جائے گی۔

کتابیات

The pathhans by Haroon Rashid The pathan by Sir Olaf Caroe Waziristan by Laiq Shah Darpa khel Tuzk e Babri by Zaheer uddin Babur Encyclopedia brittanica An ever present danger by Matt M. Matthews One man against empire مہاراجہ رنجیت سنگھ ـ نریندر کرشنا سنہا پختون مسئلہ خودمختاری کا آغاز از زاہد چودھری

SHOPPING

جاری ہے!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *