اب دھرنے کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔مختار پارس

اب آپ بتائیں کہ دھرنے کا کیا کرنا ہے ۔ دھرنے والوں نے تو دھر لیا ہے۔ اور جو دھر لیے گئے ہیں وہ ہکا بکا دیکھا کیے ہیں کہ بھئی یہ ہو کیا رہا ہے ۔مزے کی بات یہ کہ دھرنا دینے والوں کو بھی خبر نہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔ اگر ان کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوتا تو کیا وہ رادھا کو نو من تیل کی خاطر اتوار بازار میں نچواتے۔ اب رادھا کو سرسوں کا تیل تو کہاں، ڈیزل بھی نہیں ملے گا، مگر پھر بھی رادھا ناچے گی۔ لطف یہ کہ بازار حسن میں بیٹھ کر داد عیش دینے والوں کو بھی معلوم نہیں کہ وہ یہ رقص و سرور کیوں دیکھ رہے ہیں۔ اس محفل میں صرف پروانے کو پتہ ہے کہ بے نیازی کتنی ضروری ہوتی ہے۔ وہ پروانہ ہے، کوئی بیگانہ نہیں کہ بھڑکتی شمع کی لرزتی لو سے دل لگا کر اپنے پروں کو بھسم کر دے۔

سوال یہ کہ دھرنے کا ڈھٹائی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا آسان نہیں۔ دھرنے کا ڈھٹائی سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مُلا کا چٹائی سے اور استاد کا پٹائی سے۔ مُلا اگر بڑا ہے تو اسے بڑی چٹائی چاہیے ۔ مُلا اگر بہت بڑا ہے تو اس کیلئے تو افغانی قالین بھی چھوٹا ہے ۔ اور مُلا کا گھیراؤ ناقابل پیمائش ہو تو پھر تو پورے ملک کی بساط بھی ان کی مسند نشینی کےلئے ناکافی ہے۔ ایسی صورت میں استادوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اگر واسطہ مُلادوپیازہ سے بھی پڑ جاتا ہے تو نکے سےنکا ماسٹر بھی اس سے نبٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ مُلا سے ماسٹر تک کے سفر کو طریقت کہتے ہیں ۔ طریقے سے چلیں گے تو مُلا اور ماسٹر میں من و تُو کا فرق مٹ ختم ہو سکتا ہے اور اگر مُلا نے معرفت کی باتیں شروع کر دیں تو پھر اس کا عرق ہی ختم ہو سکتا ہے

دھرنے میں اب ہو گا کیا ۔ کچھ بھی نہیں۔ ۔مجھے تو بس یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ سب لوگوں کی دعائیں سمیٹنے کا بہانہ ہے ۔ کام چور سرکاری اہلکار دفتروں کا رخ نہیں کر سکیں گے، وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں دیں گے ۔ان کی باتونی بیویوں کی دعائیں الگ ہونگی۔ عام شہری سجدہ ء شکر بجا لائیں گے کہ کچھ دن تو دفتروں میں بازار بند رہے گا۔ پولیس والوں کو تین ٹائم مفت کھانا ملے گا تو اپنی توندیں بجا کر شکر ادا کریں گے ۔سڑکوں پر ہفتوں صفائی نہیں ہو سکے گی، بھنگی بھی بھنگڑے ڈالیں گے ۔ پکوڑے اور چپس بنانے والوں کی چاندی ہو جائے گی۔ چینلوں پر بیٹھے ہوئے عجیب و غریب لوگوں کی بھس بھری باتوں میں چنگاریاں بھڑک اٹھیں گی۔ چاول، چاندی اور چنگاریاں، سب دعائیں کریں گے ۔ کس کو کریں گے ؟ یہ پتہ نہیں ۔ کیوں کریں گے؟ یہ بھی پتہ نہیں ۔

اس ہجوم نے پاکستان کو کتنا تنہا کر دیا ہے ۔ ہم سب کتنے اکیلے رہ گئے ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کوئی ہمیں سر راہ چھوڑ کر چلا گیا ہو۔ بات صرف احساس کرنے کی ہے ۔ اگر کوئی گدھا سڑک کے بیچوں بیچ رک جائے تو ٹریفک کو کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔ اگر کوئی ٹرک والا بھی سڑک پر کھڑے گدھے کو ہارن مارے گا اور کھڑکی میں سے سر نکال کر، اپنی مونچھیں کھول کر، ان کے اندر سے ایک سلگتا ہوا پھکڑ بھی اس راہ روک گدھے کے سر پر دے مارے گا، تو بھی بیچارے گدھے کو سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ وہاں پر کیوں کھڑا ہے اور اسے کدھر کو جانا ہے۔ اس کے پاس صرف دو آپشن ہیں۔ یا تو وہ اپنی مسحورکن آواز سے اپنے گردو پیش میں موجود سامعین کو ششدر کر دے یا پھر دائیں بائیں گزرتی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں پر دولتیوں کی بارش کر دے۔ گدھے کو البتہ دھیان رکھنا چاہیے کہ راہ عشق میں قربانی کے چکر میں وہ کسی لاہور کے قصائی کے ہتھے لگ گیا تو عالم ارواح میں وہ بکروں کے دبستان سے برآمد ہو گا۔

نہ کوئی پھول، نہ چراغ اور نہ کوئی دلربا، یہ قوم ہے یا نور جہاں کا مرقد؟ کیسا قحط الرجال ہے کہ لوگ تعفن کو سونگھ سونگھ کر واہ واہ کر رہےہیں ۔جن کی باتوں میں نہ تسلسل ہے اور نہ تعقل، انہیں ہم نے منبر پر بٹھا دیا ہے۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ عقل کی بات کرنا ہجوم کے بس کی بات نہیں ۔ اس سے بہتر بات تو کوئی حجام کر لے گا کیوں کہ وہ ایک ذمہ دار فرد ہے۔ جس کے ہاتھ میں استرا ہے اور اسے پتہ ہے کہ اس نے اس ہتھیار سے گلا نہیں کاٹنا ۔ اگر ایک فرد کو خدا نے روشنی نہیں دی تو وہ مرد بھی نہیں ۔ فرد اگر حلوے کی پلیٹ پر بک جاتا ہے تو پھر سورج کی کرنیں بھی اس کے گرد حائل اندھیروں کو دور نہیں کر سکتیں ۔ پوری کائنات کو روشن کر دینے والا سورج ایک فرد کی جہالت کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے کیونکہ روشن کر دینے والے کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کی آنکھوں پر سے پٹیاں بھی اتارے۔

کیا آزادی یوں ڈنڈے اٹھا کر لوگوں کو محصور کر دینے سے ملتی ہے۔ بازار حسن سے خریدی گئی محبت میں وفا ڈھونڈنا فضول ہے۔ محبت کے نام پر نفرت بانٹنے کا ہنر عروج پر ہے۔ جو کہا جا رہا ہے، اس کے پیچھے کہانی کوئی اور ہے۔ مجھے صرف ڈر اتنا ہے کہ کوئی ساقی کسی کی شراب میں کچھ ملا نہ دے۔ ایک لاکھ ڈنڈا بردار جتھہ حلوہ کھا کر اگر بیمار پڑ گیا تو اس جگہ کی صفائی کےلئے ٹھیکہ کسی چینی کمپنی کو دینا پڑے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *