موت ایکسپریس۔۔رمشا تبسم

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب آگ لگ گئی۔انتہائی افسوناک واقعہ ہے۔اللہ پاک زخمیوں کو صحت عطا کرے ۔وفات پانے والوں کے درجات بلند کرے۔اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائیں ، آمین۔

وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق ناشتا بنانے کے لئے تبلیغی جماعت والوں نے سلنڈر جلایا اور سلنڈر پھٹنے سے بوگیوں میں آگ لگ گئی۔۔شیخ صاحب مختلف ٹی وی انٹرویوز میں کافی برہم نظر آئے۔اور ہر صورت آگ کی وجہ سلنڈر اور تبلیغی جماعت کو ٹھہراتے نظر آئے۔ان کے  مطابق کسی کو ناشتا کرنے کی آگ لگی تھی لہذا اپنے ناشتے کے چکر میں مسافر نے خود کو اور دوسروں کو مشکل میں ڈال دیا۔

شیخ صاحب نے کہا ہے میں ہر صورت تبلیغی جماعت والوں سے رابطہ کروں گا اور کہوں گا کہ ایسی سرگرمیاں بند کی جائیں یا کم کی جائیں اور ممکن ہو تو ٹرین استعمال نہ کی جائے۔شیخ صاحب حادثے کے مقام پر موجود نہ ہوتے ہوئے ہر صورت سلنڈر کو آگ کی وجہ بتاتے رہے اور حادثے کی جگہ پہنچ کر بھی ملبہ سلنڈر اور چولہے پر ڈالتے رہے ۔جبکہ دکھائے جانے والے سلنڈر پھٹے نہیں ،وہ ٹھیک حالت میں  ہیں اور ان کی باڈی جل ضرور گئی  مگر وہ ثابت ہیں۔آگ لگنے اور 70 کے قریب لوگوں کے جھلس جانے کے باوجود سلنڈر کا ثابت رہنا شیخ رشید کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق   کسی قسم کا  دھماکہ سنائی نہیں دیا بس ایک دم آگ بھڑک اُٹھی۔ٹرین کو رکوانے کے لئے چین کھینچی گئی  ،جو  کام نہیں کر رہی تھی۔ لہذا لوگوں نے چھلانگیں لگا کر جان بچانے کی کوشش کی۔جس میں وہ زخمی ہوئے اور آگ لگنے کے بعد بھی دھماکہ سنائی نہ دیا۔بوگیوں میں سے ملے ہوئے سلنڈر ضرور نکالے گئے مگر وہ پھٹے ہوئے نہیں تھے۔بغیر کسی تفتیش کے اور چھان بین کے  شیخ رشید صاحب کو گھر بیٹھے ہی علم ہو گیا تھا کہ حادثہ ایک سلنڈر اور چولہا پھٹنے سے ہوا بالکل ایسے ہی جیسے 2010 میں ائیر بلیو پلین کریش میں رحمان ملک صاحب کو گھر بیٹھے علم تھا کہ تمام مسافر ٹھیک ہیں اور جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ اس کریش میں 152 مسافر جاں  بحق ہوئے تھے۔شیخ رشید کی  زبان پر  لفظ “تبلیغی جماعت” کسی طنز کی صورت نظر آ رہا ہے۔اور انکے مطابق یہ سب تبلیغی جماعت کے لوگوں سے غلطی ہوئی۔

یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ  ہر مذہبی فرقہ یا سیاسی جماعت کسی نہ کسی صورت جلسے اجتماع کرتے نظر آتے ہیں اور ہر قسم کی ٹرانسپورٹ استعمال کی جاتی ہے۔ایسے میں بار بار تبلیغی جماعت کا نام لے کر ان کو تنقید کا نشانہ بنانا، سراسر غلط ہے۔شیخ رشید بار بار تبلیغی جماعت کا ذکر کر کے ہر صورت اس کو مذہبی دھماکہ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں۔اتنی زندگیوں کا خاتمہ لمحے میں ہو گیا اور شیخ صاحب پریس کانفرنس کے دوران ہنستے نظر آئے اور رپورٹرز کے سوالات کو ذاتی نشانہ قرار دے کر کہتے رہے کہ میرے دور میں سب سے کم حادثات ہوئے ہیں۔ یعنی حادثات کی دوڑ میں شیخ صاحب سب سے آگے نکلنے کی جدو جہد میں مسلسل مصروف ہیں۔

ہم اگر مان بھی لیں سلنڈر پھٹنے سے حادثہ ہوا تو ٹرین میں سلنڈر کا ہونا ہی وزیر ریلوے شیخ رشید کی ناکام پالیسوں اور کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔اسکے علاوہ ٹرین کی چین کا کام نہ کرنا ایک الگ ناکامی ہے۔
اب ٹرین ایک ذرائع آمدرفت نہیں بلکہ موت کا ایک بھیانک ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔جہاں آپ کو ایک طرح سے باندھ کر موت کی طرف سفر شروع کروا دیا جاتا ہے۔آپ ٹرین میں جل کر, ٹرین کے آپس میں ٹکراؤ ,ٹرین کا پٹڑی سے اترنا اور غلط ٹریک پر ہونے سے کامیابی سے موت کی وادی میں جا سکتے ہیں۔ اور یہی ریلوے کی کامیابی ہے کہ کامیابی سے آپ کا موت کی طرف سفر طے کروایا جائے اور مرنے کے بعد پانچ لاکھ آپ کے اہل خانہ کو دے کر آپ کی جان کی قیمت ادا کر دی جائے گی۔لہذا لاکھ پتی بننے کے اس طریقے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے کسی قسم کی کوشش اور جدو جہد کی ضرورت نہیں صرف موجودہ  دور میں ناکام ریلوے کی ناکام ٹرینوں میں موت کی طرف کامیاب سفر کریں اور گھر والوں کو امیر ہونے کا موقع دیں۔کیونکہ شیخ رشید کے  مطابق موجودہ دور میں بہت کم حادثات ہوئے ہیں لہذا ابھی کامیابی سے موت کی طرف ٹرین کا سفر جاری ہے۔ہم عوام تو ہر صورت مرنے کے لئے ہیں چاہے بم دھماکوں یا غربت سے۔ اور ہماری موت کا ایک کامیاب ذریعہ ریلوے ہی سہی۔
مگر ریلوے کو ایک مشورہ ہے تیز گام,ذکریا ایکسپریس وغیرہ نام ہٹا کر ریلوے کا نام “موت کی دنیا” اور ٹرینوں کا نام “موت ایکسپریس” رکھ دیا جائے ۔تاکہ نام اور کام دونوں بخوبی پہچانے جائیں۔کیونکہ موجودہ خونی ریلوے نام ہے موت کا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *