کیڈٹ کالج کا لوگو۔۔۔۔سلیم جاوید

حال کی الجھنیں بڑھ جائیں تو ہم ماضی کا لحاف اوڑھ لیا کرتے ہیں- آیئے آپکو بھی شریک کریں-

کیڈٹ کالج کوہاٹ کا Logo، ہمیں اب بھی اتنا پسند ہے کہ اپنےپرائیوٹ کالج( فاطمیہ کالج DIK)، کےlogo میں” من الظلمات الی النور” والی آیت بطور خاص لکھوائی ہے۔لیکن، کیڈٹ کالج کے زمانے میں کچھ عرصے کیلئے ہم اس لوگو پہ معترض رہے تھے اور ہر ایک سے کہتے پھرتے تھے کہ کم از کم ” شولڈربیج ” پر اس آیت کو کندہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسکی بے حرمتی ہوتی ہے۔اس وقت تو اس کایا پلٹ کی وجہ بتانے سے احتراز تھا لیکن۔۔۔30 سال بعد تو CIA بھی اپنے راز آؤٹ کر دیتی ہے نا۔

ہوا یوں کہ ہمیں، کوہاٹ کی آرمی فائرنگ رینج میں،G3 کی شوٹنگ کیلئے لے جانا تھا۔ہمیں،فائرنگ سے زیادہ، کلاسیں چھوڑنے اور کالج سے نکلنے کی خوشی تھی۔بس روانگی کےلئے تیار تھی اور ہم اکیڈمک بلاک کی اوپر والی منزل سے دوڑتے ہوئے نیچے اترے۔ اسمبلی ہال کے پہلو میں جو سیڑھیاں اترتی ہیں، ان کی   ریلنگ پر لکڑی کا گارڈ ریل لگا تھا جو برس ہا برس کے انسانی ہاتھوں کے مَس سے بہت smooth ہو چکا تھا۔ہماری عادت تھی کہ کبھی کبھار،تیزی سے اترنے کیلئے، اس گارڈ ریل پر سلائیڈ لیا کرتے تھے۔(خدا معاف کرے کہ پھسلنے کی عادت اب تک نہیں گئی۔)

شومئی قسمت کہ اس تاریک دن، کہ جب دوسری منزل سے لینڈگ سٹارٹ کی، تو سفر کے درمیان انکشاف ہوا کہ ریلنگ پرایک چھوٹی سی کیل کا سِرا باہر تھا۔خیر، اس میں زیادہ قصور کیڈٹ کالج کے درزی کا تھا۔اگر وہ کم بخت ،پکے ٹانکے لگا سکتا تو اس معمولی کیل کی یہ سکت نہ تھی کہ خاکی وردی کے احترام کو بٹہ لگاتی۔لڑکوں نے چونکہ بہت شور مچایا ہوا تھا لہذا، پینٹ کی وہ مریل سی چررر کی آوازنقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ فوراً باتھ روم بھاگے۔صد شکر کہ انڈر وئیر سلامت تھا( اور اسکی برکت سے فاٹا کا علاقہ بھی)،یعنی ساری تخریب کاری بندوبستی علاقے میں ہوئی تھی۔بہر حال،اس ایمرجنسی میں،ہمارے ذہنِ رسا نے فوری حل یہ نکالا کہ بازو والا “بیج “اتار کر ،پینٹ کے اندر کی طرف پن لگاکر جوڑ برابر کر دیا۔(اب آپ سمجھ گئے ہونگے کہ ہم اس آیت کو بیج پر لکھنے کے کیوں خلاف تھے)۔

آگے سُنیے۔ جس خوبی سے ہم نے اپنا مورچہ کیمو فلاج کیا تھا،دوران سفر تو کسی کو اس کا پتہ نہ چلا۔منزل پر پہنچے ، چاند ماری شروع ہوئی  تو باری باری ہر لڑکے کو چھ چھ فائر کرنے تھے۔چونکہ G3 کے فائر سے کندھے پر زور سے جھٹکا لگتا ہے تو ہر لڑکے کو لیٹ کر (الٹا ہوکر)، نشانہ لینا تھا۔اپنی باری پر ہم ابھی لیٹے ہی تھے کہ حوالدار شیر علی خٹک( استاد جی )پاس آیا اور سر گوشی میں بتایا کہ تمہارا “بیج “شاید غیر مناسب علاقے میں گر گیا ہے۔

تقدیسِ مشرق کو سرِبازار رسوا ہوتے دیکھ کر ہم بے بسی سے منمنائے”استاد جی، وہ ذراپینٹ ادھڑ گئی تھی۔۔اچانک”-

“کیسے؟” یہ اگلا گستا خانہ سوال تھا۔

“جی، وہ فائر کی وجہ سے” ا پنی طرف سے ہم نے Best Possible Answerدیا۔

“بچیا۔چنے کا دال کم کھایا کرو نا”شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ مشورہ موصول ہوا( اس لئے کہتے ہیں اِن نان کمیشنڈ افسروں کے منہ نہیں لگنا چاہیے)-

شیر علی استاد جی نے جس ” فائر” کی طرف اشارہ کیا تھا، یقین کیجیے، کلاچی سے تعلق رکھنے والے کسی نوجوان کو اسکی بجائے سچ مچ G3 کا فائر مار دیا جائے تو بہتر ہے۔بھائی، کلاچی میں، بچپن سے، اس “فائر ” کی قباحت بارے ہماری وہ ذہن سازی کی گئی ہے کہ ، عمر کے اس حصے میں، گلوبل ورلڈ کے اس دور میں، اپنے باتھ روم کی تنہائی میں بھی،” آزادئی اظہار رائے “کے حق کو استعمال کرنے سے کتراتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *