احتساب کا ڈرامہ اور نکمی حکومت۔۔۔عامر کاکازئی

عبداللہ طارق سہیل صاحب نے اپنی تحریر میں یہ انکشاف کیا ہے کہ مولانہ کا مارچ روکنے کے لیے پختون خوا کی صوبا ئی  حکومت نے جے یوآئی کے عہداداروں اور ان کے لیڈرز کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے دھرنےمیں شرکت کی تو نیب کے  ذریعے ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بے نامی قرار دے کر ضبط کر لی جائے گی۔

اس سے بے نامی کے ڈرامے کا راز بھی کھل گیا کہ پچھلے کچھ مہینوں سے پکوڑے والا ، شربت والا، سموسے والا اور فالودے والے کی بے نامی جائیدادوں کا جو شور اٹھا تھا ، اس کی حقیقت کیا ہے۔ یہ سب آپریشن انصافی کا حصہ تھا کہ باز آ جاؤ انصافی کے بچے بن جاؤورنہ۔۔۔۔ بے نامی ہو جاؤ گے۔
اگر دیکھا جائے تو برآمدگی ٹکے  کی نہیں مگر خبر اربوں کھربوں کی.۔

طارق صاحب نے اسی سلسلے کی ایک مثال اور بھی دی ہے۔ یہ ہے احد چیمہ اور فواد حسن کا کیس۔ ایک سال سے ان دونوں کو پکڑا ہوا ہے بغیر کسی ثبوت کے۔ صرف شریف خاندان کو تنگ کرنے کے لیے۔ ایک سال سے کیس کی ایک انچ کی کاروائی  نہیں ہوئی  ،خبر یہ ہے کہ کیس میں کوئی  جان نہیں ہے اور اس کیس پر کوئی  کاروائی  بھی نہیں ہو گی، بس سنی دیول کی فلم دامنی کے ڈائیلاگ کے مطابق تاریخ پر تاریخ، تاریخ پر تاریخ ڈالی جائے گی اور اسی فارمولے پر کیس کو لٹکایا جائے گا۔

دوسری طرف زرداری سے بھی بیس ارب مانگے ہیں مگر بقول زرداری، کہ پیسے کوئی  درختوں پر اُگتے ہیں کہ توڑ کر دے دوں۔ نیب اربوں روپوں سے اب صرف تقریباً 1.5ارب پر آگئی  ہے۔ زرداری کے ساتھ بھی مسئلہ یہ ہے کہ کیس میں جان نہیں، ثبوت نہیں، معمول کی عدالتی کاروائی  سے آنہ نہیں ملنا۔ اب بے چاری حکومت کیا کرے کیسے پیسے ریکور کرے؟ زرداری صاحب نے بھی ضمانت لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس نام نہاد احتساب کے سلسلے میں نکمی حکومت نے ہٹلر بننے کا اشارہ دیا ہے۔

اسی سلسلے میں جناب زرداری کی بہن فریال تالپور کو بھی جیل حکام کورٹ سے واپس جیل لے کر جانا بھول گئی ۔ وہ خود اپنی گاڑی میں جیل پہنچی اور اپنے اپ کو خود پیش کیا۔ان کے خلاف بھی کیس میں جان نہیں ہے۔

چوتھی طرف ملک کے سابق وزیراعظم عباسی صاحب کے ساتھ بھی ڈرامہ چل رہا ہے کبھی ان کو نیب کے چیئرمین سلیکٹ کرنے پر کیس کرتے ہیں کبھی ایل این جی کیس پر، کبھی گاڑی کے استعمال پر۔ حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمہ بنایا جائے۔ جبکہ ان کے خلاف کوئی  کیس ہے ہی نہیں۔ ایل این جی کیس کے اہم فریق قطر حکومت ہے جس نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سعاد علی خابی جو کہ قطر کے انرجی کے منسٹر ہیں، اور قطر پیٹرولیم کے سی ای او ہیں، عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد ان کو کھلے الفاظ میں یہ  دھمکی  دی  اور کہا کہ اگر ایل این جی لینا ہے تو لو ورنہ کنٹریکٹ کینسل کرو۔ اس کو سیاسی نہ کرو۔اپنی گندی سیاست میں ہمارا یعنی قطر کا نام نہ اچھالو ورنہ ہم دیکھیں گے کہ دنیا میں کون تمہیں گیس دیتا ہے۔کیس بند ہو جاتا ہے۔
پھر عباسی صاحب پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اینگرو سے رشوت لے کر اسے یہ پراجیکٹ دیا گیا۔ عباسی صاحب نے سادہ سی بات کی ،اگر رشوت لی ہے تو انگرو کو بلاؤ اور ان سے پوچھو کہ رشوت کب،کیسے اور کیوں دی؟
کیس بند ہو جاتا ہے۔

پھر ایک نیا کیس بنایا جاتا ہے کہ بجائے انگرو کو کنٹریکٹ دینے کے حکومت خود بناتی  یہ ٹرمینل۔ اس کے جواب میں ان کا سادہ سا جواب ہوتا ہے کہ یہ ٹرمینل اتنا پیچیدہ ہے کہ  آپ  ذرا اس کی ڈرائینگ ہی بنا دو تو میں مان جاؤں گا۔ یہ ٹرمینل صرف گیارہ ماہ میں بنا،جبکہ انڈیا نے سات سال میں، بنگلہ دیش نے پانچ سال میں بنایا ہے۔ ہمارا ٹرمینل پوری دنیا میں واحد ٹرمینل ہے جو اپنی سو فیصد استعداد کے ساتھ پہلے دن سے چل رہا ہے۔ اور چار سال سے چل رہا ہے۔ اس کے ریگیسیفکیشن چارجز پوری دنیا کے مقابلےمیں کم ہیں۔ کیس بند ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد عباسی صاجب کو اس بات پر گرفتار کیا جاتا ہے کہ فارن آفس کی گاڑی کیوں استعمال کی؟ انہوں نے طنزیہ کہا کہ پہلے بتا دیتے میں اوبر  بُلا لیتا۔ پھر یہ الزام لگا دیا کہ او جی ڈیس کا چیئرمین کیوں نہیں لگایا؟ جواب ملا کہ نیب کے ڈر سے کوئی  چیئرمین بننے کو تیار نہیں تھا۔

عباسی صاحب ابھی بھی پھانسی کی کوٹھڑی میں بند ہیں۔ ان کو گرفتار کرنے کا مقصد صرف اور صرف سیاست دانوں کو ذلیل کرنا ہے۔
ہم پر نکموں کا ایک ٹولہ مسلط ہو گیا ہے جس کو نہ ملک کی عزت کی پروا ہ ہے نہ ہی یہ پتہ کہ ملک کیسے چلانا ہے۔ بس اس ملک کی سلامتی کی دعا کریں کہ ہمارا ملک ان نکموں کے ٹولے سے بچ جائے ۔

اس مضمون کی تیاری میں جناب عبداللہ طارق سہیل اور دی نیوز کی ایک رپورٹ سے مدد لی گئی ہے۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *