جہاد کا احیاء اور علمائے دیوبند

وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، “مجاہدین اسلام” کو لگتا ہے کہ میں اینٹی جہاد ہوگیا ہوں اور علمائے دیوبند نے 80 کی دہائی میں جہاد کا جو احیاء کیا تھا اس سے بغاوت کرچکا ہوں۔ دیکھئے یہ بات آپ جتنی جلدی سمجھ جائیں گے اتنے فائدے میں رہیں گے کہ جہاد کے احیاء کے حوالے سے علمائے دیوبند کے شاندار کارنامے قیام پاکستان کے اُس پار پڑے ہیں اِس پار نہیں۔ افغانستان، پاکستان اور کشمیر میں جہاد کے احیاء کی یک و تنہاء ذمہ دار آئی ایس آئی ہے اور مجھ میں اتنی غیرت ہے کہ یہ اعتراف کر سکوں کہ جس جہاد میں شریک رہا وہ کسی حضرت مولانا فلاں قدس سرہ نے نہیں بلکہ جنرل ضیاء اور جنرل اختر عبدالرحمن نے شروع کیا تھا۔ آپ کو وقت کے بڑے بڑے شیخ الحدیثوں نے یہ کہہ کر “بیوقوف” بنایا کہ اس کا احیاء ہم نے کیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ؟ مجھے بنفس نفیس یہ شرف بھی حاصل ہے کہ فضل الرحمن خلیل اور فاروق کشمیری دونوں کے ساتھ سیف ہاؤسز سے بوریوں میں بھر بھر کر وہ رقم لایا جو آپ بطور “وظیفہ” وصول کرتے تو ساتھ ہی اس کی خیر و برکت کی قسمیں بھی کھاتے۔ آپ تو شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ آپ کے “امیر صاحب” (تمام جماعتوں کے امراء) کو دس لاکھ روپے صوابدیدی فنڈ بھی ملا کرتا تھا جو سیدھا ان سب کی جیبوں میں جاتا تھا۔ “صوابدید” کا اس سے بہتر استعمال اور کیا ہوسکتا تھا۔

اب ایک مزے کی بات اور بھی سن لیں، جب نائن الیون کے بعد کشمیر جہاد کو آئی ایس آئی کے کباڑ خانے میں پارک کیا گیا تو چند ہفتوں بعد ان تنظیموں کی اعلیٰ قیادت نے اسلام آباد کے ایک سیف ہاؤس کے باہر دھرنا دیا۔ جس پر انہیں یقین دلایا گیا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ جہاد کے غم میں نہیں مرے جارہے بلکہ فنڈز کی بندش نے آپ کے ہوش اڑا رکھے ہیں سو ہم آپ کو گزر بسر کے لیے فنڈز مہیا کرتے رہیں گے اب آپ گھر جا کر آرام فرمائیں، وہ دن ہے یہ دن ہے ہر امیر صاحب کے گھر میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ آپ کو لگتا تھا کہ فضل الرحمن خلیل، حافظ سعید، سید صلاح الدین، گلزمین اور مسعود اظہر وغیرہ “امیر الجہاد” تھے جبکہ فی الحقیقت 80 اور نوے کی دہائی کے تمام ڈی جی آئی ایس آئی امیر الجہاد تھے۔ جب یہ جہاد شروع آئی ایس آئی نے کیا تھا تو یہ اسی کی پراپرٹی ہے، آپ اسے علمائے دیوبند کے کھاتے میں فٹ کرنے کی کوشش نہ ہی فرمائیں تو بہتر ہے۔ آج کی تاریخ میں آپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں یا تو میری طرح تسلیم کریں کہ ہم نے قومی سلامتی کے اس ادارے کے ساتھ مل کر جہادی حوالے سے “وطن کی خدمت” کی یا پھر یہ مان لیں کہ ہم معصوم دیوبندی “بیوقوف” بنے اور ہمیں ہمارے بڑے بڑے اکابر نے یہ کہہ کر بیوقوف بنایا کہ علمائے دیوبند نے جہاد کا احیاء فرما دیا ہے !

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جہاد کا احیاء اور علمائے دیوبند

  1. فاروقی صاحب کو اس موضوع پر کتاب لکھنا چاہیے۔ جہاد فوج نے شروع کیا تھا اور فوج ہی نے بند کیا ہے۔اور وہی حاصل نتائج کی ذمہ دار ہے۔اس سے نئی نسل کنفیوژن سے باہر آ سکتی ہے۔خلافت کے خواب فروخت کرنے والوں نے عام آدمی کو بڑا پریشان کیا ہے۔ گھر کے بھیدی کو لنکا ڈھانے میں ہچکچاہٹ کیسی؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *