آسیب زدہ ریاست۔۔۔محمد منیب خان

یوں تو فکر کا پیٹ بھرنے کو سوچ کے سارے در واء  ہیں اور نظاروں کا ایک اژدھام ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں ان نظاروں کو دیکھتے ہوئےحیرت سے پھیلتی جا رہی ہیں۔ خیال کے آنگن میں عوام کے مستقبل سے وابستہ کسی امید کا کوئی پھول کھلنے لگتا ہے تو حقیت کی ضرب سے مسلا جاتا ہے۔ ریاست کا آسیب زدہ ماضی عوام کو آسیب کی طرح چمٹا ہوا ہے۔ جبکہ حال۔۔۔ حال کا تو پوچھیے ہی مت،  آسیب زدہماضی  سارے شہر کے عاملوں کے تعویذ سے بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ عوام کا حال کس قدر بے حال ہے۔ یہاں اندھیرا ہی نہیں روشنی بھی آسیب زدہ ہے۔ یہاں کامیابیاں بھی آسیب زدہ ہیں اور ناکامی تو ہے ہی آسیب زدہ۔ یہاں قبرستان ہی نہیں شہر بھی آسیب زدہ ہیں۔ وہ شہر جو آپ کے اور میرے وجود سے بسے ہوئے ہیں۔ وہ شہر جس کی فضاؤں میں میریاور آپ کی سانسیں ہیں، آسیب زدہ ہے۔

اس شہر آسیب کی ایک محافظ ریاست ہے۔ گویا ریاست کا تو روز اوّل سے ہی یہی کام ہونا چاہیے کہ وہ آسیب سے ہماری جان چھڑوائے۔چند ایک ایسے نیک پارسا لوگوں کو جمع کرے جن کی دعا اور عبادت کی قبولیت سے میرے شہر سے آسیب کا سایہ چلا جائے لیکن ریاست تو خود آسیب زدہ ہو چکی ہے۔ نہیں یقین آتا تو فہرست بنائیں ان  واقعات کی جو منظروں سے بھرپور ہیں اور جن کا اژدھام لگاہوا ہے۔ وہی واقعات کہ جن کے رونما ہونے کی وجہ سے ہر آنکھ اشک بار ہوئی۔ اتنے آنسو نکلے کہ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ اب بینائی اتنی جا چکی ہے کہ ریاست بھی نظر نہیں آ رہی۔ میں کہاں سے واقعات دہرانا شروع کروں؟ خیالات چرخہ کاٹتی مائی کاسوت بن چکے ہیں۔ ایک سرا الجھا ہے اب سلجھانا کیسے ہے یہ سمجھ نہیں آ رہی۔

شہریوں کی بے چینی اور پریشانی کی قصور وار  ریاست نہیں، ریاست پہ تو خود آسیب کا سایہ ہے۔ اسی آسیب کی وجہ سے ریاست ماں کے جیسی بنتے بنتے سوتیلی ماں بن گئی۔ لوگوں کے جمہوری حق کو نہایت مہذب انداز میں ایک آسیب زدہ رات میں  آر ٹی ایسسسٹم بیٹھا کر  چھینا گیا۔ فاطمہ جناح کے ریفرنڈم کے بعد سے الیکشن بھی آسیب زدہ ہوتا گیا۔ سو اب بھلا اتنے پرانے آسیب سےکون مقابلہ کرتا ،لوگ انگلیوں دانتوں میں دبائے بیٹھے رہے۔ اور بیٹھے بیٹھے سال بیت گیا۔

اسی گزارے ایک سال کے دوران ایک آسیب زدہ دن ایک آسیب زدہ  شہر کے نواح میں دن دیہاڑے والدین کو بچوں کے سامنے لقمہ اجل بنا دیا۔یوں توشہر آسیبکے حکمرانو ں نے بلند و بانگ دعوے کیے کہ اب میرے شہر پہ آسیب نہیں رہا اور اب سب کو اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا لیکن کیسے ممکن تھا کہ شہر آسیب میں کچھ بہتر ہوتا؟ آسیب زدہ عدالتوں سے ویسا ہی فیصلہ آیا جیسا گزشتہ دو سال میں واٹس ایپ کے ذریعے پہنچایا جاتا رہا ہے۔ عدالتوں کو تو چار دہائیاں قبل ہی نظریہ ضرورت کے آسیب نے آ لیا تھا۔ ہزار ہا کوشش کے باوجود بھی عدالتیں اس آسیب کے اثر سے نہیں نکل سکیں۔

گزشتہ چند ماہ سے بالخصوص اور گزشتہ دو سال سے بالعمول بہت سے سیاستدان اس آسیب سے چھٹکارا پانے کی سعی کر رہےہیں۔ اسی آسیب سے جنگ لڑتے ہوئے ایک لیڈر کئی ماہ سے زنداں میں ہے۔ سیاستدان کے خلاف آسیب زدہ عدالت سے سزائیں سنانےوالے جج تک کونوں میں چھپ چھپ کر بتاتے ہیں کہ جبجنمیرے اندر آتا ہے تو میرا خود پر سے اختیار ختم ہو جاتا ہے اور میں وہی کچھ لکھتا اور بولتا ہوں جوجنکہتا ہے۔ کسی منصف نے اگر اس آسیب سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی تو کوہ قاف سےایسے ایسے جن اور چڑیلیں نئے جنتر اور منتر لے کر آئے کہ وہ منصف بھی حیرت سے آنکھیں گھماتے، گھومتے منظر کو دیکھ رہےہیں۔

اب شہر آسیب میں زبان بندی بھی معمولی بات ٹھہری ہے۔جنجسم میں گھس کر قابض ہوتا ہے اس کو اذیت اور تکلیف پہنچاتا ہےاور پھر یہ توقع بھی رکھی جا رہی ہے کہ متاثرہ شخص بولے گا نہیں، آہ و زاری نہیں کرے گا۔ ادھر آسیب نکالنے کے لیے سیاسی پیردم درود پڑھنا شروع کرتا ہے آسیب کو  اذیت ہوتی ہے وہ تکلیف جسم کو پہنچاتا ہے لیکن وہ جسم والا انسان حرف شکایت لب پہ نہیں لا سکتا۔ اسے آسیب کی اذیت سہنا ہوگی خاموشی سے۔ کوئی اُف تک نہ کہے۔

ایک سیاستدان کو زنداں میں ڈالنے کے بعد اب ایک دوسرے باریش سیاستدان نے ٹھان لی ہے کہ اپنے شہر کو آسیب سے چھٹکارا دلاکر ہی چین کی نیند سوئے گا۔ گو اس قسم کے دعوئے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے لیکن اس باریش بزرگ کیسیاسی و دینیقوت باقیوں سے مختلف ہے۔ وہ اور زنداں میں پڑا بیمار سیاستدان اس بار آسیب سے چھٹکارا پائے بنا واپس نہیں مڑنا چاہتے۔ اور شایدعوام بھی اب بہت گھبرا چکے ہیں۔ شہریوں اور آسیب زدہ ریاست میں خلیج اس قدر گہری ہو گئی ہے کہ اب ہر شخص آسیب پہ تبراکر رہا ہے۔ یہ مقام ہر چند سال بعد ضرور آتا ہے لیکنجن اور چڑیلوںکو اس کا اثر نہیں ہوتا۔ چند سال بہتر اور بھلائی سے گزرنےلگتے ہیں کہ آسیب پوری طاقت سے لوٹ آتا ہے۔ لازمی نہیں کہ اب کی بار یہ فیصلہ کُن جنگ ہو لیکن یہ بہت اہم جنگ ہے۔ اب یا توخلیج کو پُر کریں، آسیب سے چھٹکارا پائیں یا پھر نتائج کی ذمہ داری اٹھائیں۔ آخر کب تک گھٹ گھٹ کے قتل ہوتے رہیں؟ کب تک پابندسلاسل رہیں؟ کب تک اذیت میں بھی  زبان بند رکھیں؟

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *