ہمارا تعلیمی نظام اور معصوم بچے۔۔۔مائرہ علی

پچھلے دنوں ایک طالبعلم کی امتحان میں ناکامی کے باعث خودکشی اور ایک طالبعلم کی گھر سے غائب ہونے کی خبریں سنیں تو دل تڑپ سا گیا۔۔ یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے اور آئے روز ایسے واقعات کا سامنے آنا کس طرف اشارہ کرتا ہے۔وہ ماں جس کا لختِ جگر پچھلے بیس دنوں سے امتحان میں ناکامی کے خوف سے گھر سے چلے جانے کے بعد سے اب تک غائب ہے اور تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا, کس حال میں ہوگی اور اس کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟۔اس کا قصوروار کون ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ اس سلسلے میں میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتی ہوں جو انتہائی اہم ہیں۔۔

میرے نزدیک اس کا ذمہ دار ہمارے تعلیمی نظام کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ ہم نمبروں کی جس دوڑ میں بھاگ رہے ہیں اس کا کوئی انت نہیں ہے اور یہ ہمارے بچوں میں احساسِ کمتری پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو محض تین چار سال بعد اسے سکول مافیا کے سپرد کردیا جاتا ہے جو اس پر اس کی طاقت سے کہیں زیادہ بوجھ لاد دیتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ چار پانچ سالہ بچے پر اس کے وزن سے زیادہ کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے اور اسے ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ کا حصہ بنادیا جائے۔صبح سکول, واپس آکر ٹیوشن اور رات کو ہوم ورک کرنے والے بچے کی تربیت کیونکر اور کیسے ہوگی؟ ۔۔ذرا سوچیے کہ اگر پانچ سال کا بچہ دن کے دس گھنٹے کتابوں کو رٹا لگانے میں گزار دے گا تو اس کی ذہنی و جسمانی نشوونما کیسے ہوپائے گی؟۔ خیر سکول کا وقت اگر وہ کسی طرح اچھے نمبر لے کر گزار بھی لے تو آگے اصل مصیبت انٹر میڈیٹ کی شکل میں سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔

ہمارا انٹرمیڈیٹ لیول کا تعلیمی نظام سب سے بوسیدہ اور بچوں کےلیے زہرِ قاتل ہے۔ نمبروں کی ایک دوڑ ہے جو اس مرحلے میں لگی ہوتی ہے اور بچے کو بے پناہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ عمر جو زندگی کا رخ متعین کرنے اور اعتماد حاصل کرنے کی ہوتی ہے, کتابیں رٹنے اور اچھے نمبر حاصل کرنے کی بےسود دوڑ میں بسر ہوجاتی ہے۔ تعلیمی نظام پریشر ککر کا کام کرتے ہوئے معصوم بچوں پر اس قدر دباؤ ڈالتا ہے کہ بہت کم بچے ہی اس دباؤ کو جھیل پاتے ہیں اور باقی احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے وہ عمر بھر نہیں نکل پاتے۔ کچھ زیادہ حساس بچے جب اس مرحلے پر والدین کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے تو وہ خوف میں ایسے انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں جو نا صرف ان کی زندگی اجیرن کردیتا ہے بلکہ ان کے والدین کی بقیہ زندگی بھی برباد کردیتا ہے۔ اور اگر وہ اس مرحلے کو پار کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو آگے ایک مزید ذہنی دباؤ سے بھرپور تعلیمی نظام ان کا منتظر ہوتا ہے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ ہماری جامعات میں خودکشیوں کا رجحان سب سے زیادہ ہے اور آئے دن کسی نہ کسی طالب علم کی خودکشی کی خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں اور ہم محض رو دھو کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ گویا پہلی کلاس سے لے کر اعلی تعلیم تک ہر مرحلے پر بچے کو بے پناہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے۔

دنیا میں ہم شاید وہ واحد ملک ہوں گے جہاں بچے ڈاکٹر اور انجینئر نہ بن پانے کے خوف سے خودکشیاں کرتے ہیں اور گھر سے بھاگتے ہیں۔۔ اور یہ گھمبیر صورتحال انتہائی خطرناک ہے جس کا سدِ باب بہت ضروری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ ہر شخص میں کچھ نہ کچھ خدا داد صلاحیتیں ہوتی ہیں اور وہ انہی مخصوص شعبوں میں ہی بہترین کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں ترجیحی بنیادوں پر اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانی چاہئیں، تاکہ ہمارا تعلیمی نظام بچے میں چھپی خداداد صلاحیتوں کو پہچاننے کے قابل ہو سکے۔ اس سلسلے میں ہم بہت سے مغربی ممالک میں رائج نظام تعلیم سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں جس میں بچے کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھتے ہوئے اس کے کیریئر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا تعلیمی نظام ترتیب دینا چاہیے جس میں پہلی کلاسوں میں بچے کی پسند اور ناپسند دیکھی جائے اور پھر اس کے بعد اس پسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ اگر کوئی بچہ آرٹس کے شعبے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے تو اس کو آرٹس کی تعلیم ہی دینی چاہیے نا کہ زبردستی سائنس کی تعلیم۔ اگر آپ ایک ایسے بچے کو زبردستی ڈاکٹر بنا بھی دیں گے جس کو قدرت نے ڈاکٹر بننے کے لیے پیدا نہیں کیا تو وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکے گا اور زندگی بھر ایک عجیب سی پریشانی کا شکار رہے گا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ایک ایسا نظام تخلیق کیا جائے جس میں بچے کی پسند ناپسند کا لحاظ کرتے ہوئے اس کو شعبے کے انتخاب میں مکمل آزادی حاصل ہو اور وہ اپنی تعلیم اپنی مرضی کے مطابق جاری رکھ سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے بچوں کو شعبے کے انتخاب میں آزادی دیں اور ان کو اپنی مرضی سے اپنی ترجیحات متعین کرنے دیں تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ کامیاب انسان بن سکیں بلکہ وہ خوش گوار زندگی بھی گزار سکیں۔ یاد رکھیے کامیاب زندگی کی ضمانت دولت کبھی بھی نہیں دے سکتی۔ خوشگوار زندگی کا راز صرف خوشی میں ہی پنہاں ہے اور خوشی تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب کوئی انسان اپنی پسند کے مطابق زندگی گزار سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ہمارا تعلیمی نظام اور معصوم بچے۔۔۔مائرہ علی

  1. بہترین تحریر ہے. اور اس کے ساتھ ہی مدثر بھائی کے چھوٹے بھائی کے لئے بھی دعا ہے کے جلد از جالد گھر والوں کو آ ملے. مائرا آج بہت ہی اچھا موضوع چنا ہے آپ نے. اس پر. مزید بھی لکھنے کی ضرورت ہے.

  2. سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر نا ختم ہونے والا مقابلے کا زہر بھر دیا جاتا ہے
    پھر ہمارے والدین اپنے بچوں کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے ہے تو یہ بھی سب سے بڑا ظلم ہے
    پھر بچے کی پسند یا نا پسند گئی گھاس چرنے بس بچہ وہ بنے جو اسکے والدین چاہتے
    میں چاہتا ہوں کہ آپ بابا جی اشفاق احمد کا ڈراما”عارف اور سکندر”کا لازمی پڑھے اُس سے ہمارے تعلیمی نظام کا سارا بوسیدہ نظام سمجھ آتا ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *