بلونگڑہ۔۔۔سلیم مرزا

بڑے بھیا کو شرط لگا کر کلائی پکڑنے کا شوق تھا، لوہار کی گرفت اتنی سخت کہ جس کی کلائی پکڑی، چھڑا نہ پایا،مقابل کی چیخیں نکل جاتیں،جب چھوڑتے تو نشان رہ جاتا۔۔۔”پھر ایک مرمریں ہاتھ چھوٹ گیا”۔
سارا مغلاپہ دھرے کا دھرا رہ گیا،دوسروں کی کلائیوں پہ نشان چھوڑنے والے کے دل پہ داغ پڑ گیا،پھر کسی کو چیلنج نہیں کیا۔
خاتون عزیز ہونے سے پہلے بھی اپنی عزیزہ تھی۔کمال کی خوبصورت،روائتی طور پہ دونوں والدین کے فرمانبردار۔۔بزرگوں میں بات رہ گئی ،کسی تیسرے کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں کہاں، کیا کیا ٹوٹ گیا۔پھر جہاں ماں باپ نے بیاہ دیا ،دونوں چپ چاپ بندھ گئے۔
شادی کے بعد بھیا جی بہترین شوہر ثابت ہوئے ۔ماشاءاللہ یکے بہ دیگرے چار بچے ہوئے ۔کانوں کان کسی کو ان کی چاہت کی خبر نہ تھی،کہ کہاں کیا کھویا اور کہاں ڈھونڈھ رہے ہیں ۔
لیکن مجھے پتہ تھا۔۔
بہت سارے سالوں بعد میں ایک بار اس خاتون کے گھر گیا، اس کی کوئی اولاد نہیں تھی، میاں بیوی معاشی طور پہ خوشحال تھے،اس کا شوہر بہت خوش ہوا مجھے مل کر، زبردستی رات بھر روک لیا۔
صبح جب میں جاگا، تو وہ آفس جا چکا تھا،گھر اچھا خاصا بڑا تھا،وہ صحن میں بیٹھی بلیوں کو کچھ کِھلا رہی تھی،میں بھی پاس بیٹھ گیا۔۔
آپ کو بلیاں اچھی لگتی ہیں؟
ہاں، پہلے یہ چھوٹی سی تھی، اس نے ایک موٹی بلی کی طرف اشارہ کیا ،یہ خود ہی کہیں سے آگئی،یہ باقی سب اس کے بچے ہیں۔
اس نے بچوں کو اتنے پیار سے دیکھا، جیسے اس کے بچے ہوں۔
پہلےجب وہ آفس جاتے تو، گھر میں کوئی رونق ہی نہیں تھی ، سُونا سُونا لگتا تھا۔۔
اب ان کی وجہ سے مجھ اکیلی کا دن گزر جاتا ہے۔
وہ بولتی رہیں، اور میں ان کے چہرے پہ قوس قزح کے رنگ بدلتی مامتا کو دیکھتا رہا۔۔
اگر یہ میری بھاِبھی ہوتیں تو ؟
دل نے بڑے درد سے سوچا۔۔۔۔تو کیا وہی چار بچے!
میں پھر ان سے دوبارہ ملنے نہیں گیا،محبت شاید چھوت کا مرض ہے،نجانے کب ان کے دلوں کو چھو گیا تھا ۔
میرے خاندان میں اس کا دوسرا شکار میں ہوا۔۔۔مجھے اندازہ بھی نہیں ہوا کب عشق ہوگیا۔
میں بڑے بھیا جتنا اعلی ظرف نہیں تھا۔۔برداشت کی کمی تھی،اپنی محبت کا خوب ڈھنڈورا پیِٹا،پہلے اپسے کھو دیا ۔۔پھر خود کو،
اس کے ہجر میں اندھیرا کرکے بیٹھا رہتا، دیواروں پہ اس کی شبیہہ بناتا۔
ا س سے باتیں کرتا ،ریل کی پٹڑی پہ میلوں پیدل چلتے جانا،خود سے باتیں کرنا،یہ میں تھا۔۔۔۔اکیلا ،تنہا!
ایک دن اس پٹڑی پہ بڑے بھیا نے میرا ہاتھ تھام لیا، دوسری لائن پہ میرے ساتھ میلوں ساتھ چل کر، کبھی سہارا دیکر مجھے اس دکھ کے خالی ٹریک پہ چلنا سکھایا،میری خودکلامیوں کا جواب دیا۔
اور پتہ نہیں کب میری شادی کر دی۔۔انہیں شاید یہی ایک حل آتا تھا ۔
اب کتنے سارے سال بیت گئے۔۔۔بھیا کے بچے بڑے ہوگئے۔
میرے میرے جتنے بڑے ۔مجھے چاچو نہیں یار سمجھتے ہیں ۔میری محبوبہ کے بھی تین بچے ہیں،پاس کے شہر میں رہتی ہے، خوشی غمی میں ملاقات ہوتی ہے۔اپنے گھر خوش وخرم ہے۔
خود میری بیوی بہت اچھی ہے، میرا اتنا خیال رکھتی ہے کہ بس۔۔
چڑ ہونے لگتی ہے۔۔لیکن آج جب میں کام پہ جانے کیلئے نکلنے لگا، تو اس نے آواز دیکر روک لیا
ایک بات پوچھنی تھی۔۔
وہ ڈیوڑھی تک پیچھے چلی آئی،
پوچھو۔۔
آپ کو پتہ ہے؟ ساتھ والی کی بلی نے بچے دیے ہیں۔؟
اس نے مجھے خوشخبری سنائی ۔میں نے حیرت سے اسے دیکھا
اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو ایک ہم لے آئیں؟
آپ کے جانے کے بعد میں اکیلی بور ہی جاتی ہوں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *