من کہ مسّمی منیر نسیم۔۔۔محمد اقبال دیوان/چوتھی،آخری قسط

زیر اشاعت کہانی مشہور و موقر ادبی جریدے سویرا کے حالیہ شمارے نمبر۔99 میں شائع ہوئی۔۔ہمارے دیوان صاحب ایک طویل عرصے تک کراچی کی انتظامی عدلیہ سے منسلک رہے۔بشری زیدی کے حادثے کے دن سے کراچی کے بگاڑ کے عینی گواہ، ایک طویل عرصے تک مجسٹریٹ اور ایک مختصر عرصے تک جیل خانہ جات کے آئی جی اور سندھ حکومت کے کئی محکموں کے سیکرٹری کے علاوہ سندھ سول سروسز اکیڈیمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔کراچی پولیس اور عدالتی نظام اور ہوم ڈیپارٹمنٹ سے سن اسّی سے براہ راست وابستگی کے تجربات اور مشاہدے سے کشید کی گئی یہ کہانی کا عرصہ کارزار سن 1980-90 کی دہائی پر محیط ہے۔۔۔۔۔ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا

تیسری قسط کا آخری حصہ

عباس خان کی بیٹی رفیقہاسے چابی دیتی تو وہ یہ سوزوکی لے کر کام پر چلاجاتا۔چابی کی اس لین دین میں سلیمان رفیقہ سے کچھ معاملہ سیٹ ہوگیا۔دونوں ہی بے حد خوب صورت تھے۔سلیمان خان تو بالکل بھارتی اداکار رنبیر کپور لگتا تھا اور آپ رفیقہ کو بھی اس کی کزن کرینہ کپور ہی سمجھ لیں۔
علی اشرف کو اس افئیر کا علم   مسجد میں ہوا۔میانوالی کے کئی لوگ وہاں مسجد میں آتے تھے۔رفیقہ کے چچا نے اسے بتایا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔اس کا ملازم یعنی زرینہ کا بھائی سلیمان اس کی بھتیجی پر ڈورے ڈال رہا ہے۔علی اشرف نے پہلو بچایا کہ وہ اس کا ملازم ضرور ہے مگر اس سے زیادہ اس کے معاملات میں وہ کوئی مداخلت کرنے سے قاصر ہے پھر بھی وہ موقع  دیکھ کر سلیمان کو ضرور سمجھائے گا۔وہ اگر ناخوش ہیں تو وہ سوزوکی کہیں اور کھڑی کر لے گا۔
 چوتھی اور آخری قسط
چلیے اس قصے کو تھوڑی دیر کے لیے یہاں روک دیتے ہیں۔من کہ  مسمّی منیر نسیم کی معطلی اور بحالی کا معاملہ ہم نے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔علی اشرف سے میرا رابطہ کوئی سال بھر سے منقطع تھا۔لین دین پر کوئی چھوٹی سی بدمزگی ہوگئی تھی۔مجھے کسی نے بتایا کہ مزار کے متولی موسی کے فلانی طوائف سے بہت اچھے مراسم ہیں۔موسی کے پارٹی میں بہت گہرے تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم صاحبہ اکثر دعا مانگنے اس مزار پرIncognito رات گئے آتی ہیں۔صاحب مزار سے انہیں بہت گہری عقیدت ہے۔خاکسار کچھ عرصے کے لیے تھانہ نپئیر پر بھی ڈیوٹی دے چکا تھا۔طوائف جیناں سے ملاقات ہوئی تو اس کے اپنے مسائل تھے۔اس کا بھائی لیاری میں کسی میانوالی کے سودی کاروبار کرنے والے سے الجھ پڑا تھا۔وہ اسے مارنے کے درپے تھے۔اصل رقم تو پچاس ہزار ہی تھی مگر دو لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد بھی وہ مزید رقم مانگتے تھے۔

لیاری
لیاری کی دنیا
لیاری کی گینگ وار
لیاری کی گینگ وار
لیاری کی گینگ وار
لیاری گینگ کا اہم کردار بابا لاڈلا
شبلان

خاکسار نے بہت  سمجھاکہ علی اشرف سے رابطہ کرکے اس معاملے کو سلجھادے۔وہ میانوالی والوں میں بہت معتبر سمجھا جاتا تھا۔ملاقات کے لیے مزار کو بہتر ہی سمجھا گیا۔علی اشرف کے سمجھانے پر میانوالی والا سود خور مان گیا اور اصل زر یعنی پچاس ہزار میں معاملہ  نمٹ گیا۔پچیس ہزار ہم دونوں دوستوں نے اور اتنے ہی جیناں نے ادا کیے تو موسی کی مداخلت پر سی ایم ہاؤس سے فون آیا اور خاکسار کو بحال کرکے تھانہ کلاکوٹ میں تقرری کردی گئی۔یہ وہی علاقہ تھا جہاں علی اشرف کی راج دھانی تھی۔

میری بحالی کو پورے تین ماہ ہوچلے تھے کہ علی اشرف نے بتایا کہ اس کے ملازم سلیمان کا علاقے میں رہنے ولے میانوالی کے چند لڑکوں سے جھگڑا ہوگیا ہے۔میرا مشورہ یہ تھا کہ وہ اس جھگڑے سے پرے ہی رہے تو بہتر ہے۔وہ ایک کاروباری آدمی ہے۔علاقے کے مزاج سے بخوبی واقف ہے۔یہ سب لوگ کراچی ضرور آگئے ہیں مگر ان کا دل اور دماغ اب بھی اپنے علاقے کی رسم و رواج کی قیود سے آزاد نہیں ہوا۔یہ کم بخت سب چاہتے ہیں کہ کراچی ان کے میانوالی ۔بونیر، چیچہ وطنی اور کھپرو جیسا ہوجائے یہ ٹس سے مس ہوکر کراچی جیسے نہ ہوں۔ خاکسار بھلے سے سرگودھا کا ڈھگا ہے مگر جانتا ہے کہ کراچی میں رہنے کے آداب ہیں۔اللہ بخشے ہمارے ایس ایچ او جعفر نقوی مرحوم کہا کرتے تھے۔۔۔
جیناں صاحب نے کراچی کو جب دار الحکومت بنایا تو ان سے بڑی غلطی ہوئی۔ بیس صوبے بنادیتے۔ عربی کو قومی زبان اور کراچی میں داخلے کا ورک پرمٹ صرف میٹرک پاس کو ملے گا۔
چار دن بعد مجھے معلوم ہوا کہ سلیمان کو لڑکی کے رشتہ دار لڑکوں نے قتل کردیا ہے۔وہ موٹر سائیکل پر سوار کہیں جارہا تھا کہ پیچھے سے جیپ نے ایسی ٹکر ماری کہ کافی دور تک اسے روندتی ہوئی چلی گئی۔چار لڑکے اس جیپ میں سوار تھے۔

بات یہاں سے شروع ہوئی کہ لڑکی کے ایک قریبی رشتہ دار لڑکے گلریز نے سلیمان کو کہا ہے کہ رفیقہ اس سے سیٹ ہے۔وہ اس سے کنارہ کرلے۔سلیمان جسے لیار ی میں رہ کر یہ احساس کچھ زیادہ ہی شدت سے ہوگیا تھا کہ اس کا شمار علاقے کے خوبرو ترین مردوں میں ہوتا ہے۔اس نے گل ریز کو کہا کہ ایسا کرتے ہیں رفیقہ سے پوچھ لیتے ہیں کہ اس کا دل ہم دونوں میں سے کس کی جانب مائل
ہے۔دوسرا فریق اس کے جواب کے بعد خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا۔گلریز کہنے لگا کہ ہماری طرف کی لڑکی دوسری قوم کے مردسے پیار تو کیا وہ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔سلیمان نے یہ طعنہ سن کر اسے گھٹیا جواب دیا کہ رفیقہ تو اس کے پیار میں پاگل ہے ہی، وہ ذرا اپنی بہن ندا کی خبر لے،کیوں کہ وہ بھی اس پر جان نچھاور کرتی ہے۔ممکن ہے لڑکا    پرانی دوستی کے چکر میں یہ طعنہ برداشت کرلیتا مگر رفیقہ کا ایک تایا ہیبت خان اس وقت وہاں موجود تھا۔اس نے یہ بات سنی تو اس کو پرانا میانوالی یاد آگیا۔اسی نے لڑکے کو طیش دلایا۔ ہاتھا پائی ہوگئی مگر اس تکا فضیحتی میں تایا بھی دھکالگنے سے زمین پر گرگیا اور اس کی وجہ سے اشتعال پھیل گیا۔سلیمان کے پاس کسی دوست کی موٹر سائیکل تھی وہ ماڑی پور روڈ پر نکل گیا۔ یہ لڑکے جمع ہوئے اور جب یہ ایک جگہ رُکا ہوا تھا اس کے پاس پہنچ گئے۔انہیں دیکھ کر سلیمان آگے بڑھ گیا مگر لڑکوں کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ انہوں نے سلیمان کو جیپ سے روند ڈالا۔

سلیمان کی موت سے زرینہ پریشان ہوگئی۔ مقتول سلیمان کے پختون بڑوں نے فیصلہ کیا کہ پولیس کو اس کیس سے دور ہی رکھا جائے گا۔وہ خود ہی بدلہ لیں گے۔جن لڑکوں نے قتل عمد کی اس واردات میں حصہ لیا،ان سب کو جواباً قتل کیا جائے گا۔تدفین کے لیے سلیمان کی لاش شبلان لے جائی گی۔

میانوالی والوں کی جانب سے جرگے کی پیشکش ہوئی۔میں نے تو علی اشرف کو کہا کہ وہ اس جرگے سے کنارہ کشی اختیار کرے مگر مقتول کے لواحقین کا اس کی شمولیت پر اصرار تھا۔ مقتول چونکہ اس کا ملازم تھا لہذا انہیں یقین تھا کہ اس کی شمولیت شاید دونوں پارٹیوں کے درمیان مخاصمت کی فضا کم کردے گی۔مقتول سلیمان کے گروپ نے دو زیادتیاں یہ کیں کہ ایک تو جرگے کی کاروائی کے دوران ہی واردات میں شامل قاتل پارٹی کے ایک لڑکے کے چھوٹے بھائی کواغوا کرلیا۔دوسرے   کہیں سے ایک میلا مقامی بدمعاش رہنما شاہ میر کو بھی شامل کرلیا جس کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے بھی تھا۔علی اشرف نے محسوس کیا کہ دونوں جانب سے اس ناپسندیدہ شخص کی شمولیت سے بد اعتمادی کو فروغ ملا۔

لواحقین بمشکل راضی نامے پر متفق ہوئے مگر ان کی جانب سے شرائط کافی کڑی تجویز کی گئیں۔ ان کا ایک مطالبہ تو یہ تھا کہ میانوالی والوں کی تین لڑکیاں بطور مائترے مقتول کے لواحقین کے حوالے کریں گے جن کی شادی وہ اپنی مرضی سے کریں گے۔میانوالی کسی طور اپنی شرم غیر قوم کے افراد کے حوالے کرنے پر رضامند نہ تھے۔مائترے میں مانگی جانے والی لڑکیوں میں رفیقہ بھی شامل تھی جس کا سلیمان سے چکر تھا اور جس کی وجہ سے فساد برپا ہوا۔اس کے علاوہ ایک کروڑ روپے بھی مانگے گئے۔پچاس لاکھ وہ غنڈہ سیاست دان خود گھٹکانے کے موڈ میں تھا۔۔

تھانے کی طرف سے تفتیش مجھ اے ایس آئی منیر نسیم کو تفویض ہوئی۔ عام طور پر قتل کی تفتیش سب انسپکٹر لیول کے پولیس افسر کو دی جاتی ہے مگر ایک تو ہمارے ہاں سب انسپکٹر صاحبان لا ء اینڈ آرڈر کی وجہ سے کبھی رینجرر تو کبھی آئی جی آفس کی خدمت میں ہلکان رہتے تھے۔ دوسرے گانٹھ کے پورے یہ گھاگ افسر بخوبی جانتے کہ جو محنت اور توجہ وہ اس کیس پر لگائیں گے وہ ان کے لیے کچھ زیادہ بار آور ثابت نہ ہوگی کیوں کہ اس کا نتیجہ بالآخر کمپرومائز یعنی راضی نامہ نکلے گا اس سے کہیں زیادہ منافع بخش کام تو یہ ہے کہ وہ گینگ وار والوں کا ایک آدھا کنسائنمنٹ مقام مقصود تک آر پار کرادیں۔

دھوبی گھاٹ ،لیاری
باجوڑ ایجنسی
انگور اڈہ
جزیرہ شمس پیر

ایس ایچ او صاحب کو علم تھا کہ خاکسار کے مراسم علی اشرف سے بہت گہرے ہیں۔مجھ ہیچ مدانی (حقیر) کو تفتیش کی سپردگی کے وقت اس افسر عالی مقام کی واحد ہدایت یہ تھی کہ قاتل پارٹی سے رقم اینٹھنی ہے۔مقدمہ کی کاروائی کچی رکھنی ہے۔کیوں کہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ جرگہ ہی کرے گا،عدالت نہیں۔

رقم اینٹھنے کے لیے میں نے علی اشرف کو مشورہ دیا کہ وہ شارٹ ہوجائے۔جرگے کے معاملات سے ذرا لا تعلق رہے۔ مقامی بدمعاش رہنما شاہ میر جو مقتول پارٹی کی جانب سے آرہا تھا،اس کا
مطالبہ ہے کہ جرگے کے فیصلے میں ملنے والی رقم میں سے پچاس لاکھ روپے اسے ادا کیے جائیں۔میانوالی والوں کی قاتل پارٹی کا جو لڑکا اغوا ہوا تھا۔مجھے لگا کہ اس میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔لیاری سے آگے نکلیں تو ماڑی پور روڈ کراس کرتے ہی سائٹ کا علاقہ آتا ہے۔یہاں شاہ میر کا کافی ہولڈ تھا۔ خاکسار نے اس قتل کو بقول چینیوں کے، ایک جلتا ہوا گھر سمجھ کر لوٹنے کی مکمل منصوبہ بندی کی ۔اس سیاسی بستہ بے کے بدمعاش شاہ میر کو پیغام دیا کہ پیچھے ہی دھوبی گھاٹ ہے۔یہاں ان کی مخالف پارٹی کا ایسا زور ہے کہ لیاری والے بھی کان پکڑتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ یہ گھات لگا کر ایک دن اس کو ٹپکادیں اور شہر میں لسانی فسادات کی نئی رو چل پڑے۔

اسے اس مہاجروں کی پارٹی کی انتقام پسندی اور اپنے لڑکوں پر کنٹرول کا بخوبی اندازہ تھا۔منشیات اور اسلحے کے کام جوئے کے دو اڈّّوں اور ایک منی بس اسٹینڈکے لیے ان علاقوں میں جہاں یہ مہاجر لڑکے حاوی تھے۔ وہ ا پنی مجرمانہ سرگر میوں کے لئے ا ن کی مناسب معاوضے پر مدد لیتا رہتا تھا۔جب اسے علاقے سے دور رہنے کا پیغام ملا تو بات خود ہی سامنے آگئی کہ وہ پچاس نہ سہی کم از کم پچیس لاکھ کا تو حقدار ہے کیوں کہ مقتول پارٹی محض اس کی وجہ سے ابھی تک قاتل لڑکوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا رہی۔ورنہ ان کا منصوبہ تو دس بارہ لڑکوں کو ڈھیر کرنے کا ہے۔خاکسار نے بہت آہستگی سے اسے یہ باور کرایا کہ یہ باجوڑ یا انگور اڈہ نہیں کراچی ہے۔یہ نہ ہو کہ میانوالی والے اس کی یہ بات سن کر اسے اغوا کرکے کسی ڈرم میں بند کر اوپر سے سیمنٹ بھرکر سیل کردیں۔اپنے کسی فش ٹرالر پر اسے لاد کر یہ ڈرم کراچی کے  جزیرے شمش آباد سے آگے بیچ سمندر میں ایسے ڈبودیں کہ قیامت کے دن اس کی اینٹری میدان حشر میں تلاش بسیار کے بعد سب سے آخر میں ہو۔بزدل تھا،ڈر گیا۔

آئس کا نشہ
آئس کا نشہ

میں نے ہی علی اشرف کو بتایا کہ ہماری ٹیم کا ایک سپاہی کنڈیاں،میانوالی کا ہے۔ وہ خبر نکال کر لایا ہے کہ قاتل پارٹی کے لوگوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ایک تو رقم بہت زیادہ مانگی جارہی ہے۔دوسرے رشتہ یا مائترہ بھی تین لڑکیوں کا مانگ رہے ہیں۔بہتر یہ ہو گا کہ رقم آدھی ہوجائے اور مائترہ بھی رفیقہ کو چھوڑ کر دو بیوہ یا طلاق یافتہ عورتوں کا ہو اور شادی بھی ان کی منظوری سے کی جائے۔تین کنواریاں اور ایک کروڑ زیادہ ہے۔

ان کے دماغ میں بھی یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اس معاملے کے چند اہم پہلو ،پولیس اور عدالت، جرگے کے لیے لازم ہوگا کہ وہ فیصلہ صادر کرتے وقت ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھیں۔
خاکسار یعنی من کہ مسمی منیر نسیم نے اس دوران قاتل پارٹی پر دباؤ بڑھائے رکھا کہ آئی جی صاحب پر مقتول پارٹی کی پختون قومیت والی مشہور سیاسی جماعت اور پھل اور ٹرانسپورٹ انجمنوں کا بہت دباؤ ہے کہ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور پولیس شیشہ(آئس لیاری سے شہر بھر میں سپلائی کیا جانے والا میتھامیفاٹامائن کا نشہ جسے کرسٹل،میتھ،شابو کہتے ہیں اور جسے تمباکو۔ سونگھ کر یا سرنج کے ذریعے لیے جاتا ہے) چڑھا کر سو رہی ہے۔

میں نے سوچا کہ قاتل پارٹی کے ہوش اڑانے اور ان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک جھوٹی موٹی خبر اخبار میں  ڈال دیتے ہیں۔میڈیا اور چینل والوں سے ایک آدھ فون ڈی آئی جی صاحب کے دفتر کھڑکا دیتے ہیں مگر ایس۔ ایچ۔ او صاحب کہنے لگے پہلے ہی کیک چھوٹا ہے۔ مقتول پارٹی بھی اوپر سے ایک کروڑ کا منہ  کھول کر بیٹھی ہے۔ڈی آئی جی آفس والے بھی ہیجڑوں کی طرح تالی پیٹتے نیگ بٹورنے آجائیں گے۔

انڈہ برگر
افغانی تکہ
افغانی نان
چپلی کباب

سچ ہے پولیس اور فوج میں کندھے پر چاند، ستارے اور لہراتی تلواریں سجتی ہیں تب ہی مال بنانے اوردنیا داری کی صحیح سمجھ آتی ہے۔ ابا جی کا قول یاد آگیا کہ فوج اور پولیس میں عقل کا تعلق رینک سے ہے علم اور تجربے سے نہیں۔ اب مجھ ایک ستارہ ،ٹلا طیارہ، رنڈیوں اور مزار کے متولیوں سے تعیناتی کی بھیک مانگنے والے۔ اے۔ایس۔ آئی منیر نسیم کو کیا خبر کہ ڈی آئی جی آفس والے اور یہ میڈیا والے بھی کتنے بڑے پیدا گیر ہیں۔یہ تو آپ کو یاد ہے نا کہ خاکسار کا تعلق ٹُلّا برادری سے ہے۔ ہم چھج دو آبہ کے جٹوں کی ایک شاخ ہیں۔

آج کل ٹی وی چینلوں پرجو ایک وارننگ آتی ہے کہ بچے اور کمزور دل کے افراد اس ویڈیو کلپ کے مناظر کی وجہ سے یا تو چینل بدل لیں،یا ٹی وی بند کردیں تو میری درخواست ہے کہ اب اس کہانی میں ایک مقتل سجنے کو ہے لہذا جی دار قارئین اپنے سیٹ بیلٹ باندھ لیں۔ کمزور دل افراد اس کہانی کو یہاں چھوڑ کر ساحر لودھی کا کوئی چھچھورا پروگرام یا   شبیر تو دیکھے گا یااس پولیسٹر جیمز بونڈ کا کریمنل موسٹ وانٹنک پروگرام دیکھ کر اپنے خون کی تحریک کو مناسب انداز میں گرم رکھ سکتے ہیں۔ جان لیں کہ زندگی کے بارے میں جو کچھ میڈیا دکھاتا ہے زندگی اس سے بہت ہی گھناؤنی، بے رحم اور سفاک ہے۔

زرینہ بھائی کے بعد شبلان سے تدفین کے بعد واپس آگئی تو اس کے ساتھ اس کا ایک ماموں درمان خان بھی تھا۔ علی اشرف کو لگا کہ یہ ماموں اس کے بھائی سلیمان سے مرنے سے پہلے حاصل شدہ بریفنگز کی بنیاد پر آیا تھا۔زرینہ کو علاقے میں اٹھنے بیٹھنے والے اپنے مقتول بھائی سلیمان اور خود علی اشرف کی وجہ سے گینگ کی کاروائیوں اور لمبی رقموں کا بہت پتہ تھا۔درمان خان کے افغانستان اور بلوچستان کے منشیات کے اسلحہ کے اسمگلروں سے تعلقات تھے۔اسی وجہ سے اسے ہمارے علاقے کی مشہور لیاری گینگ نے کھلے ہاتھوں سے خوش آمدید کہا۔

زرینہ کی شبلان سے واپسی کے کچھ دن بعد میری علی اشرف سے ملاقات ہوئی تو وہ کچھ افسردہ اور بے لطف دکھائی دیا کریدنے پر اس نے بتایا کہ زرینہ اور درمان کے تعلقات ماموں بھانجی سے زیادہ ہیں۔میں نے علی اشرف سے پوچھا کہ اس نے خود اس طرح کی کوئی حرکت دیکھی تو وہ کہنے لگا کہ یہ کوئی ورلڈ کپ فٹ بال کا فائنل تو ہے نہیں کی اسے دنیا کا میڈیا براہ راست نشر کرے۔ نہ ہی ٹوئیٹر اور فیس بک پر اسے ایسے کوئی اشارے   ملے۔ نہ واٹس ایپ پر ان کا کوئی ایم ایم ایس یا ویڈیو کلپ وائرل ہوا ہے۔ اسے البتہ یہ سو فیصد یقین ہے کہ ایسا ہی کوئی چکر ہے کیوں کہ ایک تو اب زرینہ اسے بہت کم قریب آنے دیتی ہے۔سال بھر سے اوپر ہونے آیا اس نے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا۔

اسلحہ کی کھیپ
آوان بم
نائن ایم ایم کا پستول

ایک دن اچانک زرینہ کی مہربانی کے بادل ٹوٹ کر برسے۔اس کی ضد تھی علی اشرف اسے نئے گھر کے لیے ایک فرج خرید دے ۔پرانا کرایہ معاف کردے۔پیار اور سپردگی کے ایسے ہی لمحات تھے کہ اس نے علی اشرف کو کہا ہم پختون اپنے پختونوں میں ایسے ہی خوش رہتے ہیں جیسے پھول گلستان اور مچھلی دریا میں رہتی ہے۔تمہارا پیار ہم کو انڈہ برگر جیسا لگتا ہے جب کہ ہم کو ہمیشہ سے نان، پیاز،افغانی تکہ اور چپلی کباب پسند ہے۔

علی اشرف نے اس لمحات سپردگی میں تھوڑے کو بہت سمجھا اور زرینہ کو بہت خوش اسلوبی سے جانے دیا۔وہ شاہ میر کی داشتہ بن کر ضیا کالونی سائٹ کے علاقے میں شفٹ ہو گئی۔
جرگے کی بیٹھک میں دونوں طرف کے بڑے بیٹھے مگر شاہ میر کو جب بلانے پر ضد کی گئی تو کسی نے بتایا کہ پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اس  علاقے میں اُسے یہاں آنے سے منع کردیا ہے کیوں کہ یہ قدم شہر کے امن و امان کے تناظر میں بہتر سمجھا گیا۔علی اشرف نے بتایا کہ اب اس کی جگہ درمان خان نمائندگی کرے گا۔جرگے کی یہ بیٹھکیں طویل ہوگئیں۔ روزانہ قاتل پارٹی کی جانب سے مطالبات میں کانٹ چھانٹ کی جاتی تھی تو مقتول پارٹی کی جانب سے اغواء، بدلے اور قتل کی دھمکیوں کا از سر ِنو اجرا ہوجاتا تھا۔

اس دوران قتل و غارت گری کی ایک اور اہم واردات ہوئی۔ہمارے لیاری کے ارد گرد جو بڑے تجارتی علاقے تھے وہاں ایک مذہبی جماعت اور ایک سیاسی جماعت میں اکثر بہت تناؤ رہتا تھا۔معاملہ بھتے کا تھا۔نظریات کا کوئی تصادم نہ تھا۔ ان پارٹیوں کے بارے میں خفیہ اداروں میں یہ تاثر عام تھا کہ دونوں پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ تھا۔ان سے ان کا چاہنے والا یہ بات کرتا تو وہ کہتے تھے کہ الذوالفقار،شاہ بندر اور طیارے کے اغوا کے ہم پر تو کوئی الزام نہ تھے۔سکھوں کی لسٹیں ہم نے تو راجیو گاندھی کو نہیں دیں تھیں۔ ہماری شوگر ملوں میں تو بھارتی جاسوس ملازم نہیں ہوتے تھے۔مودی اور اس کے سو سے زائد ساتھیوں کو نواسی کی شادی پر بغیر ویزہ ہم نے تو پاکستان نہیں بلایا تھا۔ ان جماعتوں کے بڑے یہ جوابی بیانیہ دیتے رہتے تھے کہ ملک کی اہم خفیہ ایجنسیوں میں سپاہی اللہ دتہ قسم کے کارندے جو تھڑوں پر بیٹھ کر رپورٹیں بنادیتے ہیں وہ ان کے نیم خواندہ بڑے افسرانگریزی کا تڑکا لگا کرکے اسلام آباد اور پنڈی بھیج دیتے ہیں۔پنجاب میں ان کو یہ سب کچھ نہیں دکھائی دیتا۔

نوپلکس سنیما
نوپلکس سنیما

لیاری گینگ والوں سے اسی مذہبی جماعت نے اسلحے کے چھ کریٹس خریدے،مختلف قسم کا اسلحہ۔ٹینس کے گیند جیسے بم جنہیں ایوان کہتے ہیں،نائن ایم ایم کے پستول اور بلٹ پروف جیکٹیں۔
درمان خان کو فہرست دیکھ کر حیرت ہوئی۔ وہ پہاڑوں کی گوریلا جنگ کے اسلحے کے استعمال کے تناظر میں کراچی کی دہشت گردی کو دیکھ رہا تھا۔نائن ایم ایم کا پستول اور ایوان بم اس کو بہت زنانہ ہتھیار لگے۔
اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ لڑکوں کے کرکٹ بیگ میں پڑے یہ بم بادی النظر میں سرخ ٹیپ سے بندھی گیند لگتے تھے اور نائن۔ایم۔ایم پستول اب کراچی کے ٹارگیٹ کلرز اور مسلح ڈکیتی کرنے والوں کا من پسند ہتھیار یعنی Weapon of Choice تھا۔

سودے کی ترسیل میں کسی اور سیاسی دہشت گرد گروپ نے مال بھی لوٹا اور لڑکے جو سودا لے کر اپنے علاقے کی طرف جارہے تھے ان کو مار بھی دیا گیا۔عام حالت میں یہ کوئی فکر کی بات نہ تھی مگر
گینگ والوں کو سودا خریدنے والوں کی شکایت موصول ہوئی کہ اسلحہ کی لوٹ مار اور ان کے تین لڑکوں کی ہلاکت میں اس امر کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ مخبری لیاری کے اندر ان کے کسی کارندے نے ہی کی ہو تو انہوں نے سندھ پولیس کی طرح اسے ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالا۔

مافیا والے اس معاملے میں بہت حساس اور فکر مند رہتے ہیں۔ یہ ان کی بقا سے براہ راست جڑا مسئلہ ہوتا ہے ۔انہوں نے بہت آہستگی سے گینگ کے اسلحہ فروخت کرنے والے آپریشن کی نگرانی کرنے والے  اپنے خفیہ ایجنسی کے دوستوں کے ذریعے پتہ چلایا کہ درمان خان کے سیل فون سے اسلحہ کی ترسیل کے وقت کس کس کو فون ہوئے تھے۔درمان خان کی دھوکہ دہی کی اطلاع گینگ والوں نے جماعت کو دی۔وہ اس دھوکہ دہی کی تلافی کے طور پر ایوان بم کا ایک کریٹ اور بیس نائن ایم ایم پستول دینے پر راضی ہوگئے تھے۔ درمان خان کا کام انہی  مذہبی جماعت والے لڑکوں نے ضیا کالونی میں اس وقت اتارا جب وہ جمعہ کی مسجد پڑھ کر باہر نکل رہا تھا۔زرینہ سج دھج کر اس کے لیے بیٹھی تھی۔وہ اسے نو پلیکس سینما فیز ایٹ میں فلم دکھانے لے جانے والا تھا،مگر فلم سے پہلے لطف و کرم کے دیگر سلسلے دراز ہونے تھے کہ اب تک زرینہ نے میک اپ تو کررکھا تھا مگر کپڑے نہیں تبدیل کیے تھے۔

درمان خان کی موت کا شبہ بھی میاں والی گروپ کی طرف گیا۔جس کے نتیجے میں سر شام ہی ان کے دو لڑکے اغوا ہوگئے۔بہت آہستگی سے مقتول پارٹی کو سمجھایا گیا کہ اس میں قاتل گروپ کا کوئی قصور نہ تھا۔درمان خان کو مذہبی جماعت والوں نے مخبری اور اپنے لڑکوں کے قتل میں معاونت کے الزام میں مارا تھا۔مزید مذاکرات کے نتیجے میں یہ بات جب مقتول پارٹی تک پہنچی تو وہ جان گئے کہ درمان خان کا مسئلہ گینگ وار سے منسلک تھا۔سلیمان کے قتل سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔اس بات کے عام ہوتے ہی مغوی لڑکے بنِا کوئی آزار اٹھا ئے واپس آگئے۔

سلیمان کے قتل سے جڑی مخاصمت اور باہمی دشمنی کے معاملات نمٹانے کے لیے،حالات جلد نارمل کرنے کے لیے،جرگہ از سر نو گرم ہوا۔یہ مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔مقتول پارٹی خود بھی ذرا ڈھل مل تھی ان کا درمان خان بھی مارا گیا۔زرینہ ایک دفعہ پھر لاش کے ساتھ شبلان گئی ہوئی تھی۔ اس قتل کا معاملہ سلیمان کے قتل سے بہت جداگانہ نوعیت کا تھا۔ان کی قوم کے افراد جانتے تھے کہ درمان خان نے غداری کا ثبوت دیا اور کراچی کی مافیا،سیاسی جماعتوں سب کا منترہ ایک ہی ہے کہ قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔

دوسری طرف تھانہ کلاکوٹ کے موجودہ ایس ایچ او مظفر گڑھ کے سہیل جلبانی صاحب تھے، انہیں اس بات کا خدشہ ہوچلا تھا کہ بدین سے یہاں ایک پولیس افسر کراچی رینج میں آیا تھا۔سال بھر سے وہ ہوم منسٹر صاحب کے ساتھ سکیورٹی ڈیوٹی میں شامل تھا۔اسی وجہ سے ہمارے علاقے کی طاقتور ترین حکومتی گینگ کے بڑوں سے رابطے میں آگیا تھا اور کوئی دن جاتے ہیں کہ وہ کلاکوٹ تھانے کا ایس ایچ او لگ جائے گا۔

خاکسار ہی نے جلبانی انسپکٹر کو یہ ترکیب سجھائی کہ وہ علاقے کی گینگ کے کسی اہم فرد کے ذریعے کے پی کے کسی اہم فرد سے رابطہ کریں جو اپنی ہم زبان مقتول پارٹی پر دباؤ ڈالے کہ وہ ہماری طے کردہ شرائط مان لیں۔ گینگ اپنی جانب سے علاقے کے جس معزز یا پولیس افسر کا نام بتائے اسے مقتول پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اس معاملے کی نگرانی سونپ دیں۔گینگ کا سودا شاہ میر کی وجہ سے خراب ہوا۔اس نے پرائے جھگڑے میں جو دو پارٹیوں کا تھا۔جس کا ہمارے لیاری کے علاقے سے کوئی تعلق بھی نہ تھا ان کے پھڈے میں ٹانگ اڑا کر  بلاوجہ کی چراند (معاملہ کا بگڑ جانا) کردی۔ اس وجہ سے کراچی کی دو بڑی پارٹیوں کی ٹھوں ٹھاں میں ہمارا بھی رول بن گیا۔

لیاری جنرل ہسپتال

خاکسار کا منصوبہ تھا کہ ایک دفعہ یہ کلئیرنس خیبر پختون خوا  سے آگئی تو وہ علی اشرف کو آگے کردے گا۔رقم اور لڑکیاں دونوں ہی علی اشرف کے ذریعے ہاتھ آجائیں گے۔دو دن  کے  بعد ایس ایچ او صاحب نے مجھے وہاں گینگ والوں کے پاس بھجوادیا۔ان کے پاس کرم ایجنسی کے کچھ معززین بیٹھے تھے انہوں نے کہا اگر ایک کروڑ روپے میں جرگہ نمٹ جائے تو اچھا ہے۔شکر ہے گینگ والے سمجھدار تھے انہوں نے کہا تیس لاکھ اس میں پولیس کا ہوگا۔پچاس لاکھ مقتول کی بہن کو ملے گا اور دس لاکھ شاہ میر اور دس لاکھ دعوت کا۔شرائط اس کمرے سے باہر کہیں نہیں جائیں گی۔قاتل پارٹی سے پولیس کا مقرر کردہ نمائندہ جو بھی شرائط طے کرے گا اسے مقتول پارٹی کی جانب سے فائنل مطالبات سمجھا جائے گا۔

ساٹھ سال کی وہسکی
بیکڈ الاسکا
آئس کریم اور سویّاں

تمام معاملات تین سے چار دن میں طے ہوں گے۔ پچاس لاکھ کی رقم شاہ میر یا اگر زرینہ اصرار کرے تو علی اشرف کے ذریعے اسے ادا کی جائے گی۔
خاکسار نے جب علی اشرف کو مقتول پارٹی کی جانب سے ایس ایچ اوسہیل جلبانی کی منظوری سے نمائندہ مقرر کیا تو ظالم نے رفیقہ اور ارم کے سنے ہوئے سراپے ایسے بیان کیے کہ اہم اہل درد کو چکوالیوں نے لوٹ لیا۔ہم نے طے کیا کہ میں ارم کو اور علی اشرف رفیقہ کو بیوی بنالے گا۔ایک کروڑ روپے کے ساتھ اب ارم اور رفیقہ کی بات بھی ڈال دی گئی۔تابش خان کی بیوی مرچکی تھی ارم اس کی بیٹی تھی اور رفیقہ کی بیوہ ماں بمشکل رضامند ہوئی مگر وہ تین لاکھ روپے نقد اور اپنی بیٹی کی شادی اپنے مخالف غیر ذات کے کسی غریب لڑکے سے بیاہنے کی بجائے میرے دوست علی اشرف سے جو سدوال کازمین دار تھا،بیاہنے پر راضی ہوگئی تو ہم نے ہیڈکانسٹیبل منان کی مدد سے اسی طرح رفیقہ کو نکالا جس طرح سپر ہائی وے سے نوراں کو غائب کیا تھا۔

وہی ایمبولنس، لیاری جنرل ہسپتال وہ درد کی شکایت لے کر ماں کے معالجے کے لیے ساتھ گئی تھی۔اندر کھڑی ایمبولنس میں وہ ماں سے گلے لگ کر سوار ہوئی اور یہ جا وہ جا،تین دن بعد وہ عبدالمنان کے سرجانی والے گھر پر علی اشرف کی بیوی بن گئی۔علی اشرف اسے کراچی سے سکھر ریل میں وہاں سے اسلام آباد ہوائی جہاز میں اور سدوال کرائے کی ٹیکسی میں لے گیا۔ہفتے بھر بعد وہ جب واپس کراچی آیا تو اعلان یہ ہوا کہ اس کے تایا کا گاؤں کوٹ عیسی میں انتقال ہوگیا تھا۔اس لیے وہ گاؤں گیا تھا۔چہلم پر شاید وہ واپس جائے۔

مقتول پارٹی کو جس طرح علی اشرف نے جی جان سے منایا اور جتنی جاں فشانی سے وہ واپس زرینہ کو لاکر اپنے ایک گودام کے عیش کدے میں اس ڈھیلے ڈھالے انتظام کے تحت دوبارہ بسایا کہ وہ بہ یک وقت شاہ میر اور اس کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مکسڈ ڈبل کھیلتی تھی۔

چکوال سے آٹھ کلومیٹر دور سدوال میں رفیقہ سے علی اشرف نے محبت کے کئی سومنات سر کیے۔لطف و حجاب کے کئی سنہرے بت اپنی ضرب وحشت سے توڑ ڈالے۔ وہ اور رفیقہ جب رات کے درمیاں پہر میں عریاں اور بے جھجک ایک دوسرے کو دستیاب ہوتے تو علی اشرف کو بستر میں ایسا لگتا تھا کہ دیہاتی کوکھ سے جنم لینے والی مگر شہر کی بے باک فضا میں پلنے بڑھنے والی اسم بامسمی(اپنے نام جیسی)رفیقہ ایسا چکن پیٹیز ہے جسے وہ املی اور پودینے کے ساتھ کھارہا ہے۔ بکری کی ایک ایسی تندوری ٹانگ ہے جسے وہ ساٹھ سال پرانی Macallan کمپنی کی وہسکی کے ساتھ وہ لالیک کرسٹل ڈی کینٹر بوتل سے جرعہ جرعہ کرکے پی رہا ہے یا وہ ایسا بیکڈ الاسکا (وہ کیک جس پر آئس کریم انڈیل کر اس کے ساتھ انڈہ پھینٹ کر چینی،لیموں،یا کسی اور فروٹ کا Meringue(میرانگ) پھیلادیا جاتا ہے ) ہے جس پر وہ گرما گرم دیسی گھی سے بنی ہوئی سوئیاں انڈیل کر اس کا بکلاوا بنا کر گھٹکائے چلا جاتا ہے۔

اولیں رفاقت کی طغیانی ء سرور میں ماہانہ وقفہ آیا تو وہ اپنی نوراں سے ملنے چلا گیا جو کوٹ عیسی شاہ میں آباد تھی۔علی اشرف کا خیال تھا کہ ساڑھے تین گھنٹے اور پونے دو سو کلومیٹرکی مسافت گاؤں کی عورت کے لیے بہت ہوتی ہے اسے سوتن رفیقہ کی آمد کی اطلاع نہ ہوگی۔اسے اطلاع تو فوراً ہی مل گئی تھی۔اس دن علی اشرف کا کزن کامل حسین سدوال میں تھا۔ نوراں میں کامل حسین کو اپنی بیوی کی موت کے بعد ہی دل چسپی ہوچلی تھی۔اسی نے علی اشرف کی زمینداری سدوال میں سنبھال رکھی تھی۔نوراں اپنے دو بچوں کے ساتھ کامل حسین کی دو بیٹیوں کو بھی پال پوس رہی تھی۔
علی اشرف کا خیال تھا کہ نوراں کراچی میں اس کے غیر ازدواجی معمولات و تعلقات سے بے خبر ہوگی۔ایسا نہیں تھا۔ایزی لوڈ کی وجہ سے نوراں نے اپنا ایک جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرلیا تھا۔زرینہ سے لے کر حرم سرا کی دیگر بستر زادیوں کے بارے میں وہ بڑی با خبر تھی۔ذہین عورت تھی۔جانتی تھی کہ جس دن اسے کراچی سے یہاں کوٹ عیسی لاکر بسایا اس کی شادی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا تھا۔کراچی میں  پڑوسنیں اسے کہتی تھیں کہ پانچ سال بعد میاں بیوی بھائی بہن بن جاتے ہیں۔وہ اپنے جسم کے نشیب و فراز، دلفریب گولائیوں اور چمکتی چکناہٹ پر نگاہ ڈالتی تو اسے یاد پڑتا تھا کہ کم از کم اس کے دس سال قیام کے دوران علی اشرف نے اسے بستر یا باہر بہن نہیں سمجھا۔قیمتی رکھیل کی طرح ہی برتا۔معاملہ اس وقت بگڑا جب یہاں رفیقہ آگئی۔

چالاک عورت نے فیصلہ کیا کہ علی اشرف کو مارنے سے زمین مل جائے گی اور رفیقہ کو مارنے سے سوتن سے چھٹکارا ہوجائے گا۔۔وہ اور کامل بہت دن تک مختلف منصوبے بناتے رہے کہ کیا رفیقہ کو مارنے کا کوئی فائدہ ہے۔کم سن ہونے کے ناطے بس ایک خوف دامن گیر رہتا تھا کہیں اس کی ماں جائداد میں حصہ نہ مانگ لے مگر یہاں سدوال اور چکوال میں میاں والی والوں کو کسی دفتر میں رسائی نہ تھی۔وراثت کا معاملہ بھی کمزور تھا کہ علی اشرف کو اسے لائے ہوئے بمشکل تین ماہ ہوئے تھے۔بہتر ہوگا کہ اس کو زندہ چھوڑ دیا جائے۔وہ بھاگ جائے گی۔بلکہ ممکن ہوا تو وہ اور کامل اسے خود اس کی ماں  کے پاس کراچی چھوڑ آٗئیں گے۔

علی اشرف کو رجھانے کا نیا سوانگ رچایا گیا۔نوراں نے کامل کو سمجھا کر دوری اختیار کی۔میلہ آنے کو تھا۔علی اشرف کو اب دو بدن میسر تھے۔موبائیل پر دیکھی پورن موویز کی جزئیات پر عمل درآمد کا بھر پور موقع ملا۔دن میلے کا تھا،کھانے اور دیگر تام جھام،نوارں نے ڈھول بھی بجایا اور علی اشرف کو سامنے کھڑکی میں بٹھا کر دیگر عورتوں کے سامنے ناچی بھی۔رات کے پہلے پہر جب تینوں ادھ موئے تھے رفیقہ کو بے ہوش کیا گیا۔علی اشرف کا کام دودھ میں ملے اس زہر نے پہلے ہی پورا کردیا تھا جو وصال کے بعد ایک ہی سانس میں گھٹکا گیا۔برہنہ رفیقہ کو وہ اپنے سینے سے چپکائے بہت دیر سوئی رہی پھر اسے ایک طرف کرکے کلوروفارم والا رومال منہ  پر رکھ کر بے ہوش کردیا۔ وہی سامنے کمرے سے نکل کر یہ رومال لایا تھا ۔کلورو فارم بھی کامل لایا تھا اور علی اشرف کے منہ  پر تکیہ رکھ کر بھی اسی نے دبایا۔

ارم اب بھی میری بیوی ہے۔میری ترقی ہوگئی ہے۔رفیقہ کی شادی البتہ منان سے ہوگئی۔وہ ان دنوں دوبارہ حاملہ ہے۔ایک بچہ بھی ہے۔مجھے شک ہے یہ میرے دوست علی اشرف کی نشانی ہے۔
ختم شُد!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *