بعدازخرابی بسیار۔۔۔اسلم اعوان

طویل ردّ و کد کے بعد بلآخر حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت کےلئے وزیر دفاع،پرویز خٹک،کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی بنا دی،مگر اس مرحلہ پہ مولانا کےلئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پہ بیٹھنا ممکن نہیں ہو گا،چنانچہ جے یو آئی نے بلاتاخیر مذاکرات کی حکومتی پیشکش مستردکر کے اپنی پیشقدمی جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔گورنمنٹ اور اسکی بیدارایجنسیوں کو یقین تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی طرح شہبازشریف کی وساطت سے نواز لیگ کو بھی آزادی مارچ کی حمایت سے روک کے مولانا فضل الرحمٰن کو تنہا کردیں گی لیکن حکمراں اشرافیہ نے نواز لیگ کی سیاسی مہارت اور مزاحمتی قوت کا صحیح اندازہ لگانے میں غلطی کی۔اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ خوف و ترغیب کے سارے حربے آزمانے کے باوجود بھی ریاستی اتھارٹی نواز لیگ کو حکومت مخالف تحریک میں شمولیت روک نہیں پائے گی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ حکومت کو اصل خطرہ مولانا فضل الرحمٰن سے نہیں بلکہ پنجاب جیسے بڑے صوبہ میں وسیع عوامی حمایت رکھنے والی نواز لیگ کی مزاحمت سے تھا جسے قومی و صوبائی اسمبلی میں بھی قابل لحاظ نمائندگی حاصل ہے،چنانچہ جس دن نوازشریف کی طرف سے دھرنا اور آزادی مارچ میں شمولیت کا حتمی اعلان ہوا،اسی دن سے حکومتی زعماءکے اوسان خطا ہیں۔یہ نواز لیگ جیسی بھاری بھرکم جماعت کا دباو تھا،جس سے گھبرا کے گورنمنٹ نے بلا سوچے سمجھے مولانا فضل الرحمٰن کو مذاکرت کی پیشکش کر ڈالی،ورنہ اس سے پہلے تو عمران خان سمیت حکمراں اشرافیہ کا سارے کارندے جے یو آئی کے آزادی مارچ اور دھرنا کا مذاق اڑاتے رہے لیکن افسوس کہ اس وقت معاملات مذاکرات سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن ذہنی اور سیاسی طور پہ اس مقام تک پہنچ ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی،اس وقت مولانا کی عمر بھر کی سیاسی کمائی کے علاوہ جے یو آئی کا مستقبل داؤ پہ لگا ہوا ہے اگر وہ پسپا ہوئے تو جماعت سمیت انکا پورا خاندانی شکوہ خاک میں مل جائے گی ،لہذا اس نازک مرحلہ پہ مولانا جیسے بالغ النظر اور موقع شناس رہنماسے سودے بازی کی توقع رکھنا حماقت ہو گی۔

لاریب نواز لیگ کی کہنہ مشق قیادت نے بساط سیاست پہ انتہائی محتاط چالیں چل کے طاقت کے مراکزکو حیران اور پی ٹی آئی کی قیادت کو چاروں شانے چت کر دیا۔نون لیگ،جسے ریاستی اداروں کے شدید دباؤ اور نیب کے کڑے احتساب کا سامنا ہے،پالیسی امور میں انکی پارٹی بظاہرگہرے اختلافات میں بٹی دکھائی دیتی ہے اور قومی دھارے کے میڈیا سمیت درجنوں حکومتی ترجمان اس مشبہ ذہنی تقسیم کو بڑھا چڑھا کے پیش کرنے میں لذت محسوس کرتے رہے،لیکن اب پتہ چلا کہ یہ ساری نظری تفریق دراصل انکی تزویری حکمت عملی کا کیموفلاج تھی۔نوازشریف سمیت صف اول کی لیگی قیادت نے الیکشن سے قبل ہی مزاحمت کا تہیہ کر لیا تھا لیکن اس معرکہ کےلئے وہ کسی موافق وقت اور اپنی مرضی کے میدان کی تلاش میں احتیاط کے ساتھ کرلنگ کرتی رہی،ریاستی اداروں کو مسلم لیگ کی مزاحمت بارے اندیشہ ضرور تھا لیکن وہ نوازشریف کی حکمت عملی اور طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔

گورنمنٹ کا خیال تھا کہ پارٹی کی اعلی قیادت کے خلاف تادیبی کاروائیوں کا دباو بڑھنے کے بعد شریف خاندان سرنڈر کرنے پہ تیار ہو جائے گا اورلامتناہی مقدمات کی آہنی زنجیروں میں جکڑے مسلم لیگ کے وفادار اور فعال اراکین باآسانی رام کر لئے جائیں گے یا پھر انہیں مقدمات کے جال میں پھنسا کے کم ازکم غیر موثر ضرور بنا لیا جائے گا لیکن اقتدار سے علیحدگی اور کرپشن کے مقدمات کی سختیاں لیگی قیادت کی خاموش مزاحمت (Passive resistance )کوکند بنانے میںکارگر ثابت نہ ہو سکیں۔

آپ ذرا اپنی سیاسی ثقافت اور مزاحمتی تاریخ کوسامنے رکھ کے غور کیجئے، نوازشریف آگے بڑھ کے اگر خود حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں پہل کاری کرتے تو اسے چھوٹی جماعتوں بالخصوص جے یو آئی کو ہمنوا بنانے کی کتنی قیمت ادا کرنا پڑتی؟یہ سارے پاپڑ بیلنے کے باوجود بھی وہ چھوٹے گروہوں کی سچی حمایت اور ایک طاقتور مذہبی گروہ کی یقینی مدد حاصل کرنے کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے،کیونکہ آغازشباب میں ہی میاں نوازشریف کو پیپلزپارٹی کے خلاف سیاسی جدوجہد کے دوران جماعت اسلامی اور جے یو آئی کی حمایت پانے کے نہایت تلخ تجربات حاصل ہوئے تھے،اسی لئے انہوں نے بہتر حکمت عملی اپناتے ہوئے پہلے ان چھوٹی اپوزیشن جماعتوں کوسر پہ کفن باندھ کے صف آراءہونے کا پورا موقع  دیا،جنہیں حکومت کوئی خاص اہمیت نہیں دیتی تھی اور دوسری جانب حکومتی کارکردگی کی پوری آزمائش اور عمران خان کی مقبولیت کا سحر ٹوٹنے کا انتظار کر کے قومی سیاست کے مجموعی ماحول کو اپنی مزاحمتی جدوجہد کے لئے سازگار بنا لیا۔

شہباز شریف سمیت مصالحتی گروپ نے مقتدرہ کو انگیج رکھنے کی خاطر نہایت ہوشیاری کے ساتھ اس تاثر کوگہرا کیا کہ نواز لیگ کی قیادت مزاحمت کے فیصلہ پہ کبھی متفق نہیں ہو پائے گی لیکن جب رموز حکمرانی سے ناواقف نیب نے تاجروںکو ہراساں کر کے معاشی سرگرمیوں کو مفلوج اوربیوروکریسی کی تذلیل کے ذریعے گورننس کی نازکتوں کو مسل ڈالا اورناتجربہ کار حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں ہوشربا مہنگائی،غیر محدود بے روزگاری اور انتظامی بحرانوں نے شہریوں کو مضطرب کر کے پی ٹی آئی گورنمنٹ سے پوری طرح مایوس کردیا تو عین اسی لمحہ میاں نوازشریف نے آگے بڑھ کر خود دھرنے اور آزادی مارچ کی حمایت کی کال دیکرشبہاز شریف سمیت پورے مصالحتی گروپ کو پارٹی سیاست سے لاتعلق بنا دیا۔اگر نواز لیگ پہلے دن سے کھل کے مولانا کے دھرنا کی حمایت کرتی تو مقتدرہ کو مولانا کو رام کرنے کی مہلت مل جاتی،مگر ایک ماہر جنگجو کی مانند نوازشریف نے اپنی حکمت عملی کو خفیہ رکھ کے گورنمنٹ سمیت سیاسی حریف،پیپلزپارٹی،کو بھی اپنے اصل عزائم سے بے خبر رکھا،کوٹ لکھپت جیل میں نوازشریف سے ملاقات اور بعدازاں رائیونڈ میں مریم نوازکے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کے خوشگوارانداز میں ملنے ملانے کا مقصد بھی دراصل نواز لیگ کی مزاحمتی حکمت عملی کو جانچنے کی کوشش تھی لیکن نواز لیگ کی پختہ کار قیادت نے پیپلزپارٹی کو بھی اپنے اصل ارادوں کی بھنک نہیں پڑنے دی۔

بلاشبہ اس بندوبست کی سب سے بڑی بینیفشری ہونے کے ناطے اس وقت دھرنوں کی بازگشت،حکومت سے زیادہ پیپلزپارٹی کےلئے پریشانی کا باعث ہو گی،جو کسی بھی صورت موجود بندوبست کی بساط لپٹنے کی متحمل نہیں ہو سکتی،پچھلے چودہ ماہ سے پیپلزپارٹی گورنمنٹ کے ساتھ نورا کشتی کے ذریعے اپوزیشن کو انگیج رکھنے کی آزمودہ پالیسی پہ عمل پیرا تھی۔لیکن نواز لیگ کی قیادت نہ صرف پیپلزپارٹی کے اصل عزائم سے واقف تھی بلکہ اس کے مخفی مقاصد کی رخ گردانی کی بھی پوری صلاحیت رکھتی تھی۔بیشک،اس لمحہ موجود میں صرف نوازشریف ہی وہ لیڈر ہےں جو جیل میں ہونے کے باوجود حکومت مخالف تحریک کے روح رواں اور اس کشمکش کا مین بینفشری ہیں،مولانا فضل الرحمٰن نے جس انتہا پہ جا کرحکومت کے خلاف پوزیشن لی،وہاں سے واپس پلٹا ان کےلئے سیاسی موت کے مترادف ہو گا لیکن نوازشریف آج بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ موجودہ بندوبست کو بچا سکتے ہیں،چنانچہ ریاستی مقتدرہ کو مولانا فضل الرحمن کی بجائے نوازشریف سے بات چیت کرنا پڑے گی، ہو سکتا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل سے نکال کے نیب کے عقوبت خانہ تک منتقلی کا اصل مقصد بھی ایک بار پھر نوازشریف سے سلسلہ جنیبانی استوار کرنے کی کوشش ہو۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *