• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا اور اُسے سنبھالنے والے اناڑی (قسط1) ۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا اور اُسے سنبھالنے والے اناڑی (قسط1) ۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

جمعیت علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر طرف انارکی پھیلی ہوئی ہے۔ مہنگائی  آسمان سے باتیں کررہی ہے، بے روزگاری عروج پر ہے۔ صحافیوں کی  آواز کو دبانے کی کوششیں ہورہی ہیں، میڈیا پر مارشل لاء کے دور سے بھی زیادہ پابندیاں ہیں ۔ معیشت کے پاؤں ڈگمگارہے ہیں۔ روپیہ کی قیمت مسلسل گررہی ہے ۔ ملک پر نااہل ٹولہ مسلط ہے۔ ان تمام بدترین حالات میں تمام پولیٹکل پارٹیز حکومت ہٹانے کے لئے ایک صف میں متحد ہوچکی ہیں جس کے لئے جلد یا بدیر انہیں جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے اعلان کردہ 27 اکتوبر کے ’’ آزادی مارچ مع  دھرنے‘‘ کی حمایت کرنی پڑے گی۔ مگر دوسری طرف یہ خبریں ہیں کہ ابھی تک پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نون، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر ہم خیال اپوزیشن جماعتوں میں احتجاجی دھرنے اور لانگ مارچ کے لئے مشترکہ لائحہ عمل طے نہیں ہو سکا۔ مشترکہ ایجنڈے پر اب تک جتنے بھی نقاط سامنے آئے ہیں، اُن کا خلاصہ یہ ہے:۔

1- آئین و قانون، پارلیمان اور جمہوری نظام کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

2- ہر حالت میں 18ویں آئینی ترمیم کو برقرار رکھا جائے۔

3- ایسی احتسابی اصلاحات لائی جائیں جن کے تحت بلاامتیاز کارروائی ہو۔

4- ایسی جامع عدالتی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے، جن کے تحت میثاق جمہوریت کے حوالے سے دستوری عدالتوں کا بھی قیام ہو۔

5- آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کو یقینی بنایا جائے۔

6- غیرآئینی الیکشن کمشنرز کی تقرری کے معاملے کو بھی اٹھایا جائے۔

7- انتخابی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے۔

بظاہر تو یہ وہ مطالبات ہیں جن پر اپوزیشن میں موجود ہر پارٹی حمایت کرتی ہے لیکن مسئلہ یہاں شروع ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کسی بھی حالت میں عمران خان  کے استعفیٰ اور اسمبلیاں توڑنے سے کم پر راضی نہیں ہیں۔ مسلم لیگ نون بھی ان مطالبات میں اُن کی ہمنوا ہے۔ راقم کے دوست عامرہزاروی کہتے ہیں کہ عمران خان خوش نصیب ہیں ، انہوں نے جو چاہا وہ انہیں ملا ، ایک کرکٹر کا وزیر اعظم بننا معمولی بات نہیں۔ پھر اس دیس میں کسی وزیر اعظم کو کام نہیں کرنے دیا گیا ، کسی کے راستے میں فوجی رکاوٹ بنے ، کسی کے راستے میں عدلیہ رکاوٹ بنی ، کسی کے راستے میں مولوی و میڈیا رکاوٹ بنے، کسی کے راستے میں اپوزیشن نے رکاوٹیں کھڑی کیں ۔ عمران خان اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ فوج ان کے ساتھ ہے ، اپوزیشن ساری جیل میں ہے، میڈیا چھ ماہ تک مثبت خبریں چلاتا رہا اور اب بھی دبے دبے لفظوں میں تنقید کرتا ہے ، عدلیہ نے انہیں نہیں چھیڑا ۔ سوائے مولانا فضل الرحمن کے اکثر نامی گرامی مولوی عمران خان کے مدح سرا ہیں ۔ اس ملک کے سب سے بڑے داعی (مولانا طارق جمیل) کی زبان ہر وقت عمران خان کی تعریف سے تر رہتی ہے ، وہ چار، چھ ووٹوں کے بل بوتے پر حکومت کر رہے ہیں ، انہوں نے جو چاہا وہ مل گیا ۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ شخص چھکے چوکے لگاتا ، ملک کو بہتری کی طرف لاتا ، حالات ٹھیک کرتا ، اس کے لئے میدان خالی تھا ، یہ خالی میدان میں ہونے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر پا رہا ۔ ان کے ایک اہم وزیر بیان دیتے ہیں کہ ہم نوکریاں نہیں دے سکتے ، نوکریاں دیں گے تو معیشت بیٹھ جائے گی ، ہم چار سو ادارے بیچنے جا رہے ہیں لوگ حکومت کی طرف نہ دیکھیں ۔ یہ اعلان شکست ہے ، یہ نا اہلی کا اعلان ہے ،اب تبدیلی کا دفاع ممکن نہیں رہا ۔ یہ خوش نصیب عمر کے آخری حصے میں گالیاں سمیٹ رہا ہے ، لوگوں کی بدعائیں لے رہا ہے ، یہ وقت خوابوں کے ٹوٹنے کا ہے۔ اب خواب ٹوٹ رہے ہیں ، کاش خوابوں کے ٹوٹنے کی کوئی سزا ہو ، عمران خان کو شکست مان لینی چاہیے، اس لئے کہ داعیوں کی تعریف، میڈیا کی حمایت ، فوج و عدلیہ کی پشت پناہی سے اگر کوئی بہتری نہیں آ سکی تو کل اس حمایت کے بغیر ایک قدم اٹھانا بھی نا ممکن ہو گا۔ یہی سفر جاری رہا تو حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھی کمزور ہو گا۔ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ایک ہینڈ سم اور صاف ستھرا لیڈر کرپٹ اور پرچی دیکھ کر تقریر کرنے والوں سے زیادہ نا اہل نکلا ۔ اب اس دھرنے کے نتیجہ میں اگر عمران خان  حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس میں سب سے بڑی قباحت یہ ہوگی کہ عمران خاں کو مظلومیت کا کارڈ مل جائے گا۔ وہ اگلا الیکشن عوام میں اس بنیا دپر لڑیں گے کہ اُن کی حکومت کو وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا جس کی وجہ سے وہ عوام سے کیے گئے اپنے وعدے پورے نہ کر سکے۔

اس دھرنے کے لئے درکار مقتدر حلقوں کی حمایت کے حوالہ سے حکومت میں براجمان لوگ اگر سمجھ سکیں تو تھوڑا غور کر لینے میں حرج نہیں ہے کہ اچانک عمران خان کے حامی اینکر مخالف ہو گئے ہیں۔ سٹوڈیو میں بیٹھ کر پروگرام کرنے والے نازک مزاج اینکر میدان میں نکل کر لوگوں سے پوچھ رہے ہیں حکومت کو گرنا چاہیے  یا نہیں ؟ لوگوں کے جذبات دکھائے جا رہے ہیں ، حکومت کی نا اہلی بتائی جا رہی ہے۔ میڈیا بھی جمعیت علمائے اسلام کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی میڈیا ہے جس نے مولانا فضل الرحمنٰ کے انٹرویو نشر ہونے سے روک دئیے تھے۔ اب جمعیت کے دوسرے قائدین کو بھی بھرپور کوریج مل رہی ہے ۔ میڈیا پر آزادی مارچ کی خبریں نمایاں ہیں، قومی میڈیا پر ہر چینل پر مولانا ہی مولانا ہو رہی ہے۔ اسے کہتے ہیں ایمپائیر کی انگلی۔ ہم دیکھ رہے ہیں اگرچہ بصیرت سے عاری لوگوں کو یہ انگلی دکھائی نہیں دے رہی۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاست اور مزاج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ مولانا جذباتی فیصلے کرتے ہیں اور نہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں کہ جس سے ان کی سیاست پر حرف آئے یا کوئی بے نتیجہ تحریک کا طعنہ ان کے حصے میں آئے۔ ماضی میں بھی مولانا نے جذباتی سیاست نہیں کی اور نہ ابھی کر رہے ہیں۔ جمعیت کے حلقوں کے مطابق اسلام آباد آنے سے قبل ایک برس تک انتہائی منظم اور سنجیدہ انداز میں بلوچستان سے گلگت ، بلتستان کے آخری کونے تک ایک ایک کارکن سے مولانا اور قیادت کی مشاورت ہوئی، ایک ایک کارکن کو تحریک کے نشیب و فراز اور مشکلات سے آگاہ کیا گیا اور تیاری کی گئی۔ ملک کے بڑے شہروں میں لاکھوں لوگوں پر مشتمل درجن سے زائد ملین مارچ کیے گئے، پھر ایک برس بعد اسلام آباد آنے کا اعلان کیا گیا۔ اس حوالہ سے بڑے بڑے سیاسی تجزیہ کار اور سیاسی زعما بھی مولانا کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے اور نہ ہی اب کسی کو ان کی اصل طاقت کا اندازہ ہے۔

مولانا کو اس حد تک لانے میں کوئی ایک سبب نہیں بلکہ کئی اسباب اور غلطیاں کار فرما ہیں۔ جمعیت کا دعویٰ ہے کہ سب سے پہلے سیاسی نظام میں نا معلوم قوتوں کی مداخلت اور مداخلت بھی ایسی کہ جو ایک بچے کو بھی نظر آئے، والی پالیسی بھی جمعیت کے اس سخت فیصلہ کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے پیار اور محبت میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں اور دینی قوتوں کو سیاسی نظام سے باہر رکھنا، جس کو ملک کے لئے مسیحا بنا کر آگے لایا گیا اس کاملک کی معاشی ابتری کا سبب بننا جیسے وہ دیگر عوامل ہیں، جن کی بنیاد پر مولانا نے یہ حتمی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ تو خیر ماننا پڑے گا کہ اگرچہ مولانا فضل الرحمن کی پارلیمنٹ میں سیاسی طاقت کم ہی سہی لیکن ان کی شخصیت کا یہ کمال ہے کہ ملک کی بڑی چھوٹی اکثر سیاسی جماعتیں انہیں اپنا سیاسی امام تصور کر چکیں ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمنٰ کو نزدیک سے جاننے والے سیاسی مبصرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ مولانا اسلام آباد میں نہ تو علامہ طاہر القادری کی طرح قبریں کھودیں گے اور نہ ہی عمران خان کی طرح میو زک کنسرٹ کریں گے بلکہ وہ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تشکیل کردہ سیاسی نظام کی نماز جنازہ کی امامت کریں گے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *