بھٹو کا قتل اور جنرل ضیا۔۔۔عامر کاکازئی

ہمارے آج کل کے نوجوان سمجھتے ہیں کہ بھٹو نے ملک توڑا اور جنرل ضیا نے بھٹو کو اس کے گناہ پر پھانسی پر چڑھایا۔ ان سب کے لیے جنرل اسلم بیگ کا انٹرویو سننا بہت ضروری ہے جو ایک نجی چینل اے آر وائی نے لیا تھا اور یو ٹیوب پر موجود ہے ۔

جنرل اسلم بیگ 1988 میں وائس آف آرمی سٹاف تھے اور جنرل ضیا کے جہاز کریش میں مرنے کے بعد چیف  آف  آرمی سٹاف مقرر ہوئے۔

جنرل اسلم بیگ نے وسیم بادامی کے اے آر وائی  کے پروگرام eleventh hour میں کہا کہ جنرل ضیا نے بھٹو کو اپنے خدا امریکہ کے کہنے پر پھانسی پر چڑھایا۔

جب بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی  گئی  تو جنرل ضیا کو سعودیہ کے کنگ خالد نے بلایا ،ان کے ساتھ اس وقت یاسر عرفات بھی تھے۔ تینوں کی میٹنگ خانہ کعبہ میں ہوئی ۔ گنگ خالد اور یاسر عرفات نے کہا کہ بھٹو تمہارے لیے بُرا ہوگا، مگر یہ ایک اچھا انسان ہےاگر تمھیں اس سے کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں دے دو۔ جنرل ضیا نے خانہ کعبہ کے سامنے وعدہ لیا کہ وہ بھٹو کو پھانسی نہیں دے گا۔ مگر واپس پہنچتے ہی بھٹو کو دار پر لٹکا دیا ہر وقت وضو میں رہنے والا شخص، جس نے تحجد کی نماز بھی نہ چھوڑی ہو، جو ہر وقت ختم نبوت پر بات کرنے والا ہو، اسی انسان نے منافقت کی انتہا کر دی تھی۔ خانہ کعبہ کے سامنے، اللہ کو حاضر ناظر جان کر وعدہ کیا اور خدا کے سامنے کیا ہوا وعدہ توڑ دیا اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا۔

جنرل مرزا اسلم بیگ نے مزید کہا کہ جنرل ضیا نے خدا کے اوپر کسی (امریکہ) اور کو خدا بنایا ہوا تھا اور وہ اسی خدا کی مانتا تھا ۔

اگر بھٹو نے ملک توڑا ہوتا تو سب سے پہلے جنرل ضیا بھٹو پر ملک توڑنے کا مقدمہ چلاتا اور اسے پھا لگواتا۔ مگر اس نے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر، جھوٹے گواہ بنا کر اور اپنے خدا (امریکہ) کے کہنے پر اسے دنیا سے ہی رخصت کر دیا۔ جنرل ضیا کا مارشل لا ء اور بھٹو کی پھانسی ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے اور وہ تھا سپر پاورز کا پلان کہ رشیا کو افغانستان میں لا کر اسے پھنسانا اور اس کے خلاف پراکسی وار کرنا تھا۔ بھٹو یا کوئی  بھی جمہوری حکومت ہوتی تو کبھی بھی پروکسی وار میں نہ پڑتی۔ یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ ہمیشہ فوجی حکومت نے ہی پاکستان کو پراکسی وار میں پھنسایا اور ملک کو تباہ کروایا۔

بھٹو کا قتل پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کی ساکھ پر بھی بہت بڑا سوال ہے۔

پوری دنیا کو پتہ تھا کہ بھٹو نے نہ تو ملک توڑا اور نہ ہی کوئی  قتل کیا۔ مگر   کچھ لوگ اس بات کو منانے سے انکاری ہیں تو ان کے لیے خاص طور پر ایک آرمی چیف کا اعتراف ِگناہ حاضرِ خدمت ہے)۔آج کے بعد جو بھی بھٹو پر الزام لگائےتو اس کو جنرل اسلم بیگ کا انٹرویو پیش کر دیں)۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”بھٹو کا قتل اور جنرل ضیا۔۔۔عامر کاکازئی

  1. تحریر اچھی ہے مگر ضیاء کے خلاف اور بھٹو کے حق میں تعصب کچھ زیادہ تو نہیں عامر بھائ؟
    بھٹو اور ضیاء دونوں انسان تھے اور انسان خطا و محاسن کا مجموعہ ہوتا ہے۔ پیغمبروں کی طرح کوئ دوسرا مجسم خیر ہوتا ہے اور نہ شیطان کی طرح مجسم شر۔
    مارشل لاء تو دونوں نے نہیں لگایا تھا ایک نے فوجی اور دوسرے نے سویلین مارشل لاء۔؟ البتہ کئ امور مثلاََ قابلیت میں بھٹو ضیاء سے بہت آگے تھا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *