نیلم تم شرمندہ کیوں ہو؟۔۔۔عاطف جاوید

ہم بڑے شرمندہ شرمندہ سے بڑی جھکی جھکی نظروالے بڑے خوفزدہ خوفزدہ سے رہتے ہیں،ہم بڑے مذہبی مذہبی سے بڑے محب وطن سے ہوتے ہیں،ہم بیک وقت بڑے لبرل لبرل سے ہوتے ہیں اور بڑے قدامت پرست بھی ہوتے ہیں۔

ہم بطور معاشرہ ،روایات، اقدار، حب الوطنی اور مذہب کو لے کر منافقت کی اس معراج پر موجود ہیں جس کی مثال شاید ہی تاریخ میں ملتی ہو،ہمارے کام دیکھ کر کوفی شاید ہم سے شرمسار ہو جائیں،شاید منافقین مکہ و مدینہ ہم سے دوبارہ تربیت پانے کے لیے عرش سے فرش تک کا سفر طے کریں۔

ہم سر سے پیر تک منافقت میں لتھڑے ہوئے ہیں،ہمارا کوئی  یار بیلی ڈیٹ مارنا چاہ رہا ہو تو بڑا شرمسار سا ہو کر جگہ کا پوچھتا ہے،پر جب اسی یار کو کوئی  بات کہے کہ جنسی آزادی ہونی چاہیے تو وہ آپ پر فحاشی اور عریانی کا لٹھ لے کر چڑھ دوڑے گا۔

ہم میں سے کوئی پینا پلانا کرتا ہے تو محفل می‍ں نمازی سے لے کر زانی تک شریک ہوتے ہیں پر کوئی کہہ دے کہ یار شراب لیگل ہو جانی چاہیے تو ہم پر مذہب کا لٹھ مار دیا جاتا ہے۔

ہماری اکثریت اس ملک سے بھاگنے کو تیار بیٹھی ہے بس ویزہ لگنے کی دیر ہے پر جب یہ کہا جائے کہ یہ ملک جہنم ہے تو ہماری کمر میں حب الوطنی کا سوٹا مار دیا جاتا ہے۔

بھئ ہم انڈیا کے آئٹم سانگ کو دیکھ دیکھ کر سنی لیون کی تصویریں اپنی وال پر شئیر کرتے ہیں پر جب ماہرہ خان یا نیلم منیر یا صبا قمر ایسا کام کریں تو ہم کو مشرقیت یاد آ جاتی ہے۔

پر جب سنی لیون آیٹم سانگ کرے یا اپنے پورے جسم کو سکرین کی زینت بنا دے تو وہ ایسے ٹویٹس بھی نہیں کرتی،ملائکہ شراوت جب بکنی شوٹ کرے تو بعد میں دوپٹہ لے کر بھجن نہیں گاتی۔
پر وینا ملک یہ سب کر کے رمضان ٹرانسمیشن میں گناہ کے عذاب بھی بتاتی ہے اور نیلم منیر بے چاری کو اپنے ٹھمکے وطن کی پاسبانی اور سر بلندی سے جوڑنے پڑتے ہیں۔

ویسے انڈیا کے فوجی افسران کبھی یہ نہیں کہتے ہوں گے کہ معاشرے میں مذہبی اصول ہونے چاہئیں عورت کا تقدس چادر چار دیواری ہے۔ یا ہم فلم بنا رہے ہیں جس میں ایٹم سانگ ڈالنا مجبوری ہے ورنہ دیکھے گا کون۔۔

پر ہماری بریگیڈ اللہ اللہ بھی کرتی ہے۔۔ ملک پر مدینے کے اصول لاگو کرنا چاہتی ہے اس کے بعد فلم بنا کر اس پر اپنا ٹیگ بھی لگاتی ہے اور بعد میں ان ٹھمکوں کو حلال اور جائز ٹھہرائے جانے کا جواز بھی ڈھونڈ رہی ہوتی ہے۔

ایسی ہزاروں منافقانہ قسم کی مثالیں ہمارے ارد گرد بھری پڑی ہیں۔۔

محترمہ پیاری پیاری حسین حسین نیلم منیر صاحبہ ایسا کونسا احساس گناہ آپ کو لے کر بیٹھ گیا ہے کہ آپ کو یہ کہنا پڑا کہ یہ آپ کی زندگی کا پہلا اور آخری آئٹم سانگ ہے۔۔ایسا کونسا خوف تھا کہ آپ کو مجبوراً ایک آئٹم سانگ کرنا پڑ گیا؟؟آپ کی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کتنے جبر کے بعد یا شاید منتوں سماجتوں کے بعد آپ نے ملک کے وسیع تر مفاد میں یہ ٹھمکے لگانے جیسی عجیب و غریب حرکت کی ہوگی اور اپنی پاکیزگی ،تقدس اور مشرقیت کو ملکی دفاع کی خاطر قربان کر دیا ،کیا پاکستان واقعی ایسی نازک صورت حال میں ہے کہ رقص کی ضرورت پڑ گئی،ویسے ایسا وظیفہ نہ پہلے سنا نہ دیکھا۔۔اگر ایسا ہے تو کیوں نہ اس ملک کی ہر خاتون سے ایک ایک آئٹم سانگ کروا لیا جائے؟
آپ نے کہا ،آپ نے جو کیا اس کو اون کرتی ہیں۔۔ بھئ ایسا نہ کہیں، دیکھیں آپ نے اس کو اون کیا ہوتا تو ایک آئٹم  سانگ کو آئی  ایس پی آر یا وطن کی خاطر قربانی نہ کہا ہوتا۔

ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے ہم اون کرنا ہی نہیں جانتے۔ ہم جب بھی کچھ انسانی قسم کا کام کرتے ہیں تو اس کو اون کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ہمارے لیے، کیوں کہ نیلم منیر جی! اس معاشرے کو غیر انسانی بنانے میں ہمارا اپنا بہت بڑا کردار ہے۔

آئٹم سانگ کو اتنی حقیر یا بے ہودہ شئے مت سمجھیے،یہ آپ کا پروفیشن ہے یہ آپ کا کام ہے اور یقین مانیے آپ کا آئٹم سانگ بہت کمال کا ہے۔۔پر یہ بالکل بھی اچھی بات نہیں  کہ آپ اپنے پیشے پر شرمندہ ہوں۔
اب بھلا جن کا پیشہ ملک کا دفاع اور سرحدوں کی حفاظت ہو وہ فلمیں بنا کر کبھی شرمندہ ہوئے ہیں؟ تو آپ کس پچھتاوے میں ڈال رہی ہیں خود کو۔

دیکھیے بہت سے لوگ آپ کے حسن و جوانی کے ساتھ ساتھ آپ کی بات کے بھی شیدائی  ہوں گے شاید۔۔ آپ کے الفاظ کے بھی دیوانے ہوں گے،تو جب رقص و سرور سے ہٹ کر منہ سے بات کرنی ہی ہے تو نیلم جی کچھ ایسا کہیے نا کہ اس حبس زدہ ماحول میں کوئی  ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلے،کہیے نہ کہ یہ میرا پیشہ ہے میں اپنے پیشے سے مخلص ہوں اور بھاری معاوضے کے عوض میں نے آفر ملنے پر گانے پر کچھ بھڑکیلا سا رقص کر لیا۔۔کہیے نا کہ مجھے اس پر کوئی احساس ندامت نہیں۔۔میرے اس رقص سے ملکی مفاد اور حب الوطنی کا دور دور تک لینا دینا نہیں۔

کہہ دیجیے نا کہ جو کام کرنے کا کریڈٹ میں اپنے سر لے رہی ہوں وہ کام ان کا ہے جنہوں نے اس فلم پر پیسہ لگایا اور میرے ٹھمکوں کو وطن کی سالمیت کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا۔

یقین مانیے آپ نے آئٹم سانگ کر کے کچھ غلط نہیں  کیا تھا۔۔پر یہ ٹویٹ کر کے سب کچرا کر دیا آپ نے۔۔

خدارا یہ بیان واپس لے لیجیے اور کہہ دیجیے نا کہ یہ آپ کا پہلا آئٹم سانگ ضرور ہے پر آخری نہیں۔

کیا پتہ آپ کی اس ہمت و جرات کو دیکھ کر طبل و علم کے والی و وارث اپنے رویے پر غور کر کے منافقانہ شرمندگی کی بجائے حقیقی شرمندہ ہو جائیں۔ تھوڑی آبرو مندانہ ندامت کا شکار ہو جائیں شاید۔۔ اور اعلان کر دیں کہ اب سے فلمز صرف فن و تخلیق سے متعلقہ لوگ ہی بنائیں گے۔۔ ہم اپنا فرض پورا کریں گے۔۔ اس ملک کے آئین کی پاسداری کریں گے۔اپنی حد میں رہ کر اس ملک کے دفاع و سالمیت کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

دیکھیے گا آپ کا اپنا دل کرے گا دوبارہ آئٹم سانگ کرنے کا اور اگلے گانے میں آپ پر ملکی سالمیت کا بوجھ نہیں ہوگا بلکہ حسن و جوانی کی چنچل ادائیں ہوں گی۔جن اداؤں میں آپ بے مثال ہیں بے نظیر ہیں ۔

atifjaved
atifjaved
ایک ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ۔ سول انجنیئرنگ اور .بزنس ایڈمنسٹریشن گریجویٹ ۔ اسلام ،حالات حاضرہ اور اصلاح معاشرہ پہ آپکی تحریریں اچھوتی اور دل موہ لینے والی ہوتی ہیں ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *