صرف بیویوں کے لیے۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

زندگی کے سیاہ سحاب میں محبت واحد قوس قزح ہے، یہ صبح اور شام کا ستارہ ہے، یہ بچے پر چمکتی ہے اور اپنی شعائیں خاموش مقبرے پر بکھیرتی ہے، یہ فن کی ماں ہے یہ شاعر، محب وطن اور فلاسفر کو جذبہ عطا کرتی ہے، یہ ہر دل کی روشنی ہے، ہر گھر کی معمار ہے اور ہر آتش دان میں آگ روشن کرنے والی قوت ہے، یہ حیات جاوداں کی نوید ہے، یہ دنیا کو ترنم سے بھر دیتی ہے کیوں کہ موسیقی محبت کی آواز ہے، محبت ایک ایسا جادو ہے، ایک ایسا طلسم ہے جو بیکار چیزوں کو شادمانی میں بدل دیتی ہے اور عام افراد کو بادشاہوں کے مقام پر فائز کر دیتی ہے۔

عزیزانِ من! ایک عظیم امریکی دانشور کی کلاسیک انداز میں کی ہوئی محبت کی تشریح آپ نے ملاحظہ کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ محبت کی تشریح اگر ایک جملہ میں بیان ہو سکتی ہے تو وہ کچھ یوں ہوگی کہ” محبت انسان کی روحانی فطرت کا بیرونی اظہار ہے” جس محبت کی میں بات کر رہا ہوں براہِ کرم اس کو جنسی جذبات کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے۔ جنسی فعل اگر چہ حیاتیاتی عمل ہے لیکن یہ زمین پر رینگنے والی معمولی مخلوق سے لیکر انسان جیسی اعلیٰ ترین مخلوق تک تخلیقی سرگرمیوں کا سرچشمہ ہے۔ جس محبت کی میں بات کر رہا ہوں وہ تو زندگی عطا کرتی ہے اور اس کی کوکھ سے وہ تخلیقی جدوجہد جنم لیتی ہے  جس نے انسان کو اس کے موجودہ شائستگی اور تہذیب کے مقام تک پہنچایا۔ محبت ایک ایسا عنصر ہے جو انسان اور اس سے نیچے دنیا کی تمام تر مخلوق کے درمیان ایک خط امتیاز کھینچتا ہے۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ہر انسان اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں کے دلوں میں کتنی جگہ پاسکتا ہے۔ محبت تمام انسانیت کو ایک رشتے میں باندھ دیتی ہے۔ یہ خودغرضی، لالچ، حسد اور بغض کا خاتمہ کرتی ہے اور ادنیٰ ترین انسان کو براہِ راست بادشاہ کے منصب پر فائز کر دیتی ہے۔ جہاں محبت کا وجود نہ ہو وہاں حقیقی عظمت نظر نہیں آسکتی۔ یہ محبت ہی تو ہے جو ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچوں اور دوست و احباب کے ساتھ تعلق کو مضبوط بناتاہے۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کیجیے کہ ہمارے معاشرے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ماں باپ، بہن بھائی اور اعزہ و اقارب کی محبت کو رشتے کے تقدس کا نتیجہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے بر خلاف بیوی اور خاوند کی محبت کو خالص جنسی تعلق کے مرہونِ منّت مانا جاتا ہے۔ یعنی یہ صرف جنسی تعلق ہی ہے جو بیوی اور خاوند کی محبت کا محور ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہےبیوی اور خاوند کے رشتے کو وجود بخشنے والا عمل شادی تو ہے لیکن شادی کا یہ عمل صرف اس لیے نہیں بنایا گیا کہ دو بدن باہم ایک دوسرے سے تسکین حاصل کریں ،بلکہ شادی ایک “عظیم اتحاد” ہے۔ جس کا تجربہ کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں کرتا ہے۔ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی، روحانی اور مالی طور پر بھی اہمیت کا حامل ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو ان سب کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے شریک حیات کا انتخاب دانشمندی سے کرتاہے اور اگر وہ شخص معاشی طور پر بھی دانش مند ہو تو وہ اپنی بیوی کو اس عظیم اتحاد کے برابر کی حصہ دار تسلیم کرتا ہے۔ شادی شدہ مرد جس کے تعلقات اپنی بیوی کے ساتھ بہت اچھے ہو ں اور یہ تعلقات مکمل ہم آہنگی، افہام و تفہیم، ہمدردی اور مقصد کی وحدانیت پر مبنی ہو ں تو یہ اس کے لیے بہت بڑا اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو اس کی ذاتی کامیابیوں کے لیے ضروری ہے۔

آج میری اس تحریر کا روئے سخن صرف بیویوں کی طرف ہے۔ میں ایک تجویز صرف بیویوں کے لیے پیش کرنا چاہوں گا اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے تو تو زندگی بھر کی غربت، زندگی بھر کی  فروانی میں بدل سکتی ہے۔ بیوی کا اپنے خاوند پر کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کا اپنے خاوند پر برتر اثر اس وقت ہوتا ہے جب اس نے اپنے خاوند سے اچھے تعلقات قائم کیے ہوں۔ کیوں کہ خاوند نے اسے دوسری تمام خواتین میں سے منتخب کیا ہوتا ہے۔جو اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ اسے اس کی محبت اور اعتماد حاصل ہے۔ لیکن بدبخت بیویاں تو وہ ہوتی ہیں ،جو مرتے دم تک اس کشمکش میں مبتلا رہتی ہیں  کہ اسے اس کی محبت اور اعتماد حاصل ہے کہ نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خاوند کے دل میں جانے کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔ لہٰذا کھانے کا دورانیہ بیوی کے لیے ایک بہترین وقت ہوتا ہے کہ وہ مرد کے دل میں اتر کر وہاں کسی خواہش یا خیال کا بیچ بو سکے۔ لیکن دل تک یہ رسائی نقص تلاش کرنے یا سرزنش کرنے جیسی منفی عادات کے بجائے محبت اور مروّت کے جذبات پر مبنی ہونی چاہیے۔ اکثر خاندانی تعلقات اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں جب سب مل جل کر بیٹھے کھانا کھا رہے ہوتے ہیں کیوں کہ ان لمحات میں اکثر خاندانی اختلافات حل کرنے یا بچوں کی تادیب و تربیت کے مسائل کے بارے میں بات چیت ہوتی ہے۔

ایک دانش مند بیوی کو اپنے خاوند کے پیشے میں گہری دلچسپی لینی چاہیے۔ اسے اس کے ہر پہلو سے بخوبی آگاہ ہونا چاہیے۔ ایک دانش مند بیوی کو ان بیویوں میں سے نہیں ہونا چاہیے جو اپنے خاوندوں کو الفاظ سے نہ سہی بلکہ اپنے رویے سے یہ بات کہتی ہیں کہ تم رقم گھر لاتے رہو اور میں خرچ کرتی رہوں گی۔ لیکن مجھے خرچ کی تفصیل پوچھ کر   پریشان نہ کیا کرو ۔ تم پیسے کیسے کماتے ہو مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر بیوی یہ رویہ اپنا لیتی ہے تو پھر وہ وقت بھی جلدی آجاتا ہے کہ اس کے خاوند کو اس بات میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی کہ وہ گھر کتنی رقم لے کر آتا ہے اور یا کچھ بھی نہیں لاتا۔

مجھے امید ہے کہ عقلمند بیویاں سمجھ چکی ہوں گی کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ جب ایک عورت عظیم اتحاد قبول کرتی ہے یعنی شادی کرتی ہے تو اس عظیم اتحاد کی  بدولت وہ فرم کے اکثریتی حصص کی مالک بن جاتی ہے۔ اور عقلمند بیوی وہ ہوتی ہے جو احتیاط سے تیار کیے گئے بجٹ کے تحت اس فرم کو چلاتی ہے اور خیال رکھتی ہے کہ آمدنی سے زیادہ خرچ نہ کرے۔ بہت سی شادیاں اس لیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے کیوں کہ سرمایہ کی کمی کی وجہ سے ہی فرم دیوالیہ ہوا کرتی ہے۔

جب غربت صدر دروازے پر دستک دیتی ہے تو محبت پچھلے دروازے سے نکل کر سرپٹ دوڑ لگا دیتی ہے۔ محبت کو بھی مادی جسم کی طرح پروان چڑھنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت لا تعلقی جھاڑ جھنکار  اور نقائص کی تلاش جیسے منفی رویوں میں قائم نہیں رہ سکتی۔ محبت اس جگہ پھلتی پھولتی ہے جہاں خاوند اور بیوی اسے مقصد کی وحدانیت سے تقویت مہیا کرتے ہیں۔ ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے جب اس کا خاوند کار انڈسٹری کی اصطلاح میں نئے ماڈل کے لیے اسے تبدیل کرلے۔ بیوی کو یہ اہتمام کرنا چاہیےکہ کم از کم خاوند کے گھر ایک ایسی جگہ ہو جہاں وہ اپنی کاروباری ذمہ داریوں اور پریشانیوں سے آزاد ہو کر کیف و سرور کے چند لمحات گزار سکے جو کہ صرف بیوی کی محبت و پیار اور مفاہمتی رویے سے ہی میسر آسکتے ہیں۔ اور سب سے ضروری بات جو میں تمام بیویوں کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ ازراہِ کرم اپنے مادری جذبے سے مغلوب ہو کر اپنے خاوند کے حصے کے پیار کو کبھی اپنے بچوں کی طرف منتقل کرنے کی غلطی نہ کریں۔ اس غلطی نے ہزاروں گھرانے برباد کیے ہیں اور یہ ہر اس گھر کو برباد کرے گی جس میں یہ غلطی دہرائی جائے گی۔ اگر میں درست کہتا ہوں تو عورت میں تو محبت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خاوند دونوں پر برابر نچھاور کر سکتی ہے۔

وہ مشہور کلمہ جو   زبان زدِ عام ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، بجا ہے۔ کیوں کہ اہل بصیرت بارہا اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں ۔ اگر آپ تاریخ کے اوراق پیچھے کی طرف پلٹیں تو آپ کو ایک غیر مسلم فاتح ” نپولین بوناپارٹ” ماں کے کردار کا اعتراف ان الفاظ کے ساتھ کرتا ہوا نظر آئے گا کہ ” مجھے اچھی ماں دے دو میں پوری دنیا کو فتح کر کے دکھا دوں گا” مصطفی کمال کبھی اتاترک نہ بن پاتے اگر ان کے پیچھے ان کی ماں ” زبیدہ خاتون” کا کردار نمایا ں نہ ہوتا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو بابائے قوم بنانے میں ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کا بھرپور کردار تھا۔ اور تاریخ نسواں کا سب سے عظیم کردار تو” سیدہ خدیجہ” کا ہے جنہوں  نے سب سے پہلے سرورِ کائنات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی اور قدم قدم پر رسول خدا کو تسلی دیتی رہیں  اور آخر دم تک اپنی جان ومال نبوت پر قربان کرتی رہیں۔ عورت کے ان لازوال کرداروں کو دیکھ کر اقبال مرحوم بھی کیا خوب فرماتے ہیں کہ

” وجودِ  زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں “

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *